Web Analytics Made Easy - StatCounter
Aur Main Namdeeda Namdeeda

اور میں نم دیدہ نم دیدہ

محترمی ! سفر نامے سے دلچسپی ہے، ساتھ ہی ادب کی چاشنی چاہیے تو اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔ سرشار ہو جائیں گے، نہال ہو اٹھیں گے۔

قدوسی صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ مکتبہ (قدوسیہ) والے ہیں۔ بچپن سے کتابوں کے بیچ زندگی گزری ہے تو لازما کتابوں کی دنیا چھان آئے ہیں۔ سو اب ان کی تحریروں سے چھن چھن کے خالص زبان خوشبو بکھیرتی اور مسحور کرتی معرض وجود میں آتی ہے۔ “جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں ” کے نام سے اپنے خسر مکرم مولانا احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ پر سوانحی کتاب لکھے تو اس باب میں یکتائے زمانہ قرار پائے۔ صحابہ کی زندگی پر فکشن نما مگر مبنی بر واقع یوں تذکرہ چھیڑے کہ زمانہ بھر کی ہمنوائی اور داد و دہش سے شادکام ہویے۔ رشید ودود صاحب کی زبان میں ” ابو بکر قدوسی نے صحابہ کی زندگیوں پر جو مضامین لکھے ہیں وہ فکشن کے دائرے میں آتے ہیں، لیکن ان میں کوئی ملاوٹ نہیں وہ خالص ہیں۔ ان مضامین میں روایات کی بازیافت بھی ہے اور بازگشت بھی اور فکشن کا شعور بھی ہے۔۔۔”

سر دست جو مقصود تبصرہ ہے ،وہ سفر نامۂ حرمین “اور میں نم دیدہ نم دیدہ ” ہے۔ گزشتہ رات دوسری پہر کی ابتدا میں اسے پڑھ کر ختم کیا، ختم کیا کیا اپنی چین ہی ختم کر لی ، یہ دل مانگے مور (More) اور “ھل من مزید” کا زمزمہ خواں ہوں کہ اچانک سے کتاب نے اپنا دامن سمیٹ لیا تھا ۔ مزید کی طلب شدت اختیار کر گئی تو “جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں”، گوگل سے ڈاؤنلوڈ کر لیا ، فرط شوق سے ڈاؤنلوڈ کر تو لیا لیکن طبیعت ہی کچھ ایسی پائی ہے کہ موبائل سے پڑھنے میں کوئی لطف محسوس نہیں کرتی ،دل چند لمحے ہی میں اچٹ جاتا ہے، کیوں کہ روایتی انداز میں ہی پڑھنے کا خوگر ہے،سو پڑھنے سے رہا ،لیکن تشنگی باقی ہے ،اللہ کرے کتاب ہاتھ لگ جائے تو ہاتھ صاف کر لوں۔

اور ہاں لگے ہاتھ اسی وقت ایک عدد تبصرہ بھی لکھ کر تیار کر لیا تھا لیکن ویب سائٹ سے فیس بک چلانے کی وجہ سے سارے کیا کرائے پر پانی پھر گیا اور ہم جھنجھلا کر غصہ پی کر سو گیے۔ ایک بار کو خدشہ لگا تھا کہ کہیں ازخود حذف نہ ہوجائے، بعد میں وہی ہوا۔

خیر ،دوبارہ سے دل کو مہمیز لگا کر لکھنے بیٹھا ہوں۔ اب دیکھنا ہے کیا “گل” کھلاتا ہوں۔

جی محترم، سفر نامۂ حرمین “اور میں نم دیدہ نم دیدہ” میری نظر میں ان کتابوں میں سے ہے کہ جسے سفر نامہ ادبی رنگ ڈھنگ سے بھرا پورا چاہیے اسے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ یہ سفر نامۂ حرمین شریفین ہے، لہٰذا بڑی خوبصورتی سے قدوسی صاحب نے عمرہ کے ساتھ دیگر متعلقہ چیزوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر دی ہیں ،جس سے کتاب کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ قدوسی صاحب ایک ادیب ہیں سلیس اور جامع زبان کے مالک ہیں، چھوٹے چھوٹےجملے میں بڑی بڑی باتیں بآسانی کہہ جاتے ہیں، یہ کمال درجہ کی خوبی ہے۔ انھوں نے حرمین کی زیارت کے لیے ایک دھڑکتے دل کے احساسات و کیفیات کو ادیبانہ اور دلبرانہ انداز میں یوں الفاظ کا جاما پہنایا ہے کہ انسان مچل اٹھے، ان کے راگ سے ہم آہنگ ہو جائے،ایسا محسوس کرے کہ زبان قدوسی صاحب کی، لیکن احساسات میرے ہیں۔ حرمین سے ایک ادنی درجے کے مومن کو بھی والہانہ عقیدت و محبت ہوتی ہے۔ ان کے تذکرے سے دل کو سکون اور قلب کو اطمنان پہنچتا ہے۔ اسی عقیدت ومحبت کو قدوسی صاحب نے بڑے دل گداز پیرائے میں انتہائی جامعیت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ بلکہ یہ ادبی شان موقع بموقع بڑی رعنائی کے ساتھ جھلکتی اور مسحور کرتی ہے۔ بطور مثال ملاحظہ فرمائیں :

“۔۔۔ عشاق تھے کہ پروانوں کی مانند شمع کی جانب چلے آ رہے تھے۔۔۔” ص37

” یلا حاجی کے صوتی تازیانے ،اور کبھی پھول سماں نرم لہجے میں فرمائش نما فہمائش” ص37

“ساری کائنات اس باپ کے اٹھے ہاتھوں میں سمٹ آئی، دل کی ساری محبتیں ابراہیم علیہ السلام کے ہونٹوں پر پھول بن کر اترنے لگیں ” ص59

کون جانتا تھا کہ کبھی لہو کے ان قطروں سے محبت کے موتیوں کی مالا پروئی جائے گی اور ایمان کی صورت ارب ہا ارب لوگ اسے گلے کا ہار بنائیں گے” ص102

” یہ محبتوں کے معاملے بھی عجیب ہوتے ہیں، یوسف علیہ السلام مصر میں تھے، اور بھائی ان کے پاس غلہ لینے پہنچے۔ سب حکایتیں، سب حکایتیں ہو چکیں، قصہ ہائے غم سنائے جا چکے ،تو یوسف نے اپنی قمیص بھائیوں کو دی اور کہا کہ “ابا کے چہرے پہ ڈال دینا” مصر سے قمیص چلی اور ادھر کنعان میں بیٹھے یعقوب کہہ رہے ہیں: ” اگر مجھے دیوانہ نہ جانو تو آج برسوں بعد مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے” اور پاس بیٹھے گھر والے کہہ رہے ہیں : ” چھوڑیے ابا ! آپ تو پرانے محبتوں میں ابھی تک یوں میں مبتلا ہیں ” ان کو کیا معلوم محبت بھلا مرجھایا کرتی ہے ،یہ تو وقت گزرنے کے ساتھ اور تازہ ہوتی ہے اور انسان کو ہر دم اپنے گھیرے میں لیے رکھتی ہیں” ص125

“سامنے مسجد کی عمارت اور ادھر دل سمندر کہ جس میں لمحاتِ وصل کے نشاط میں بھی گزری جدائیوں کے طوفان اٹھ رہے تھے”ص133

میں کہ ڈیڑھ ہزار سال پیچھے جا چکا تھا۔ یہ بجلی کے قمقمے، یہ سنگ و آہن کی تعمیرات ،یہ سب خوبصورت طرز تعمیر ،انتہائی قیمتی غالیچے، سب وقت کی گردشوں میں کھو چکے تھے اور میں سب سے ماوراء وقت کی لہروں کے دوش پر سفر کرتا ہوا ڈیڑھ ہزار سال پیچھے ایک کچی مسجد میں جا بیٹھا تھا۔ مجھے اس ذوق و شوق کی تعمیر سے زیادہ اس کچی مسجد کی تلاش تھی ،وہ کچی مسجد کے جس میں کہیں بلال کے قدموں کی چاپ سنائی دے۔۔۔” ص 138

صفحہ نمبر 142 سے 145 تک میں آپ ﷺ کی زندگی کے آخری لمحات اور پھر عمرین رضی اللہ عنہما کی تدفین کے لیے قبر مبارک کے بازو میں جگہ پانے میں جو باتیں پیش آئیں، ان کرب ناک واقعات کو اس قدر جذباتی انداز میں لکھے ہیں کہ انسان کا پیمانۂ صبر چھلک اٹھے۔

ایک جگہ رقمطراز ہیں:

” کتنی دیر تک بیٹھے ہم یادوں کی ٹھنڈی ہوئی راکھ سے گزری محبتوں کی تپش تلاش کرتے رہے اور ہر ہر یاد سے کوئی کرن پھوٹ رہی تھی۔ ص191

Home Cart Wishlist Login