واقعات رضویہ” رضوی لٹریچر کاایک درخشاں باب ![]()
واقعات و حکایات محض قصے کہانیاں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ تاریخ کے زندہ نقوش، تہذیب و تمدن کے آئینہ دار، کردار سازی کے مؤثر ذرائع اور علم و عمل کے روشن شواہد ہوتے ہیں۔ بسا اوقات ایک مختصر مگر مستند واقعہ وہ اثر پیدا کر دیتا ہے جو طویل وعظ و نصیحت سے بھی پیدا نہیں ہو پاتا، اسی بنا پر خطباء، واعظین، مصنفین اور اہلِ قلم ہر دور میں اپنے بیانات و تصنیفات کو مؤثر بنانے کے لیے واقعات سے استشہاد کرتے آئے ہیں۔ تاہم واقعات کی افادیت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب وہ معتبر، مستند اور صحیح مآخذ سے اخذ کیے گئے ہوں۔ورنہ بیان کرنے والے کو”کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ماسمع” کی زد میں لا کھڑا کرتی ہے ۔
امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ کی جلالتِ علمی، وسعتِ فضل اور ثقاہت و استنادی حیثیت محتاجِ تعارف نہیں بلکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کیونکہ آپ کے نوکِ قلم سے ایک ہزار سے زائد کتب و رسائل منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوئے، جن میں علوم و معارف دقائق وحقائق اسرار و حکم اور لطائف شریعت کے بے بہا خزانے محفوظ ہیں۔ انہی علمی خزانے کے درمیان جا بجا ایسے ایمان افروز، بصیرت آمیز معرفت آشنا اور فکر انگیز واقعات بھی مرقوم ہیں جو قلوبِ مردہ کو حیاتِ تابندگی، اذہانِ غافل کو شعورِ نو، ارواحِ پژمردہ کو حرارتِ ایمانی، سینوں میں شمعِ عشقِ رسول فروزاں ، افکار میں بیداری اور اعمال میں انقلاب برپا کر دینے والے ہیں۔
تاہم یہ واقعات اعلیٰ حضرت کی مختلف تصانیف میں بکھرے ہونے کے باعث ایک مستقل مجموعے کی صورت میں دستیاب نہ تھےجس کی وجہ سے عام قارئین، طلبہ، خطبا اور اہلِ علم کے لیے ان سے خاطر خواہ استفادہ دشوار تھا۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے استادِ محترم،خلیفۂ حضور تاج الشریعہ ماہر نحو حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ(استادومفتی جامعۃ الرضا بریلی شریف) نے نہایت عرق ریزی، دیانتِ علمی، حسنِ انتخاب کے ساتھ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی مختلف تصانیف میں منتشر ان ایمان افروز واقعات میں سے 313 واقعات کو یکجا کرکے “واقعاتِ رضویہ جلد اول” کے نام سے ایک مستقل اور نہایت مفید مجموعہ مرتب فرمایا ہے۔
استاذ محترم نے اس تالیف میں محض نقلِ واقعات پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ترتیب و تدوین میں ایسی خوش اسلوبی اختیار کی ہے کہ منتشر موتی ایک حسین ہار کی صورت میں نظر آرہی ہےجو قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں اور یہ احساس دلاتی ہے کہ تصانیف اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ میں مرقوم ہر واقعہ اپنے اندر علم، حکمت اور دعوت کا ایک مستقل باب رکھتا ہے۔
بلاشبہ “واقعاتِ رضویہ” رضویات کے ذخیرۂ علمی میں ایک گراں قدر اضافہ اور مؤلف کی علمی کاوشوں کا روشن مظہر ہے۔ یہ کتاب محققین، علماء، طلبا، خطبا اور رضوی لٹریچر سے شغف رکھنے والے تمام اہلِ ذوق کے لیے یکساں مفید ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس علمی خدمت کو شرفِ قبولیت سے سرفراز فرمائے، اور استاد محترم کے علم میں مزید برکتیں نازل فرمائے، اور اس کتاب کو عوام و خواص دونوں کے لیے نافع بنائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم : اسیر حضور تاج الشریعہ محمد عامر فضیل مرکزی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف ہند



