یہی وہ کتاب ہے جو 1884ء میں محفل میلاد کے خلاف جنم لے رہی فکر پر لاٹھی بن کر پڑھی تھی۔
یہ وہ وقت تھا جب دیوبندی فکر اپنے ابتدائی مرحلے میں محفل میلاد، عرس، ایصال ثواب اور فاتحہ وغیرہ جیسے معمولات اہل سنت کو ناجائز، بدعت و خرافات گردان رہی تھی۔
اس کتاب کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ محفل میلاد، فاتحہ اور ایصال ثواب کی اصل حدیث سے ہے۔ اسی بنیاد پر علمائے اہل سنت کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ محفل میلاد منعقد کیا کرتے تھے اور اس میں شریک بھی ہوا کرتے تھے۔ یہ مرحلہ صدیوں سے چلا آرہا کہ 1884ء میں سہارنپور اور اس کے قرب وجوار کے کچھ مولویوں نے اس معمولات اہل سنت کو بدعت و خرافات گردانا شروع کر دیا۔ چنانچہ کچھ اسلاف بیزارمولویوں نے محفل میلاد پر ایک سوال نامہ تیار کرکے دہلی کے وہابی مولویوں کے پاس بھیجا۔ جس کا چار ورقی جواب پہلی بار مطبع ہاشمی میرٹھ سے چھپا۔ اس فتویٰ پر دہلی کے تین وہابی مولویوں کے دستخط کے ساتھ مولوی محمد یعقوب صدر مدرس مدرسہ دیوبند، مولوی محمد محمود حسن مدرس مدرسہ دیوبند، مولوی محمد عبد الخالق دیوبندی، مولوی رشید احمد گنگوہی کے بھی تائیدی دستخط تھے۔ پھر کچھ دنوں بعد چوبیس صفحے کا دوسرا فتویٰ بھی شائع ہوا جس میں پہلا چار ورقی فتویٰ بھی شامل تھا۔ دونوں میں محفل میلاد کی خوب مذمت تھی۔ محفل میلاد، عرس، فاتحہ اور ایصال ثواب وغیرہ کے خلاف اب تک کا یہ پہلا فتویٰ تھا۔ اس سے پہلے کسی نے ان معمولات کی مخالفت نہیں کی تھی۔
ان فتووں نے جہاں مسلمانوں میں اختلاف وانتشارکی بیج ڈال دیا۔ وہیں دوسری طرف عوام اہل سنت والجماعت مضطرب اور متحیر تھے۔ سب جواب کے خواہاں تھے۔ اس علاقہ کے لوگ حاجی امداداللہ مہاجر مکی سے ارادت رکھتے تھے جو ابھی کچھ ہی دنوں پہلے ہندوستان سے مکہ مکرمہ جاکر بودوباش ہوگئے تھے۔ (دیوبندی فکر کے بانی نانوتوی، گنگوہی اور تھانوی وغیرہ بھی انہیں کے مریدوں میں سے ہیں)
یہاں ان کے خلیفہ مولانا محمد عبدالسمیع لوگوں کے معتمد ومرجع تھے۔ اس لئے حاجی صاحب کے مریدین و دیگر لوگوں نے آپ سے اصرار کیا کہ آپ اس کا جواب لکھیں اور قرآن و حدیث کی روشنی میں محفل میلاد، فاتحہ، عرس، ایصال ثواب ودیگر معمولات اہل سنت والجماعت کی صحیح شرعی حیثیت واضح کریں۔ مولانا نے قلم اٹھایا اور چند دنوں میں “انوار ساطعہ در بیان مولود و فاتحہ” نام سے ایک شاندار کتاب لکھ ڈالا۔ جس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں میلاد و فاتحہ وغیرہ کا جواز ثابت کیا۔ تائیدا سلف صالحین، فقہا و محدثین اور مشائخ طریقت کے اقوال و معمولات سے بھی اراستہ وپیراستہ کیا۔
جب یہ کتاب منظر عام پر آئی تو جہاں اہل سنت والجماعت میں مسرت وشادمانی کی لہر دوڑ گئی۔ وہیں وہابی و دیوبندی فکر کے لوگوں کو اپنے پیروں تلے زمین کھسکتی نظر آئی۔
اب “کھسیانی بلی کھمبا نو چے” کے مطابق مولوی رشید احمد گنگوہی نے لمباچو ڑا نام والی کتاب” البراہین القاطعۃ علی ظلام الانوار الساطعہ، الملقب بالدلائل الواضحۃ علی کراھۃ المروجۃ من المولود والفاتحۃ” لکھی۔ جسے اپنے مرید خاص خلیل احمد انبیٹھوی کے نام سے شائع کروایا۔
اس کتاب کو لکھتے وقت بد حواسی کا یہ عالم تھا کہ نہ صرف میلاد و فاتحہ اور عرس کو ناجائز و بدعت لکھا اور اسے کنہیا کے جنم جیسا کہہ ڈالا اور میلاد کرنے والے مسلمانوں کو کفار اور ہندوں سے بدتر۔ بلکہ یہ بھی لکھ مارا کہ
1 اللہ جھوٹ بول سکتا ہے۔
2 رسول اللہ ﷺ عام انسانوں کی طرح ایک بشر ہیں۔
3 سرکارکو اپنے خاتمے کا حال معلوم نہیں۔ انہیں دیوار کے پیچھے کا علم نہیں۔
4 سرکار نے اردو علمائے مدرسہ دیوبند سے سیکھی ۔
5 رسول اللہﷺ کا علم شیطان اور ملک الموت سے کہیں کم ہے۔شیطان کا علم نص قطعی سے ثابت ہے حضور کے علم کےلیے کوئی نص قطعی نہیں۔
اس کے علاوہ اپنے پیر بھائی مولانا محمد عبدالسمیع کے خلاف بھی مغلظات بکتے ہوئے لکھا کہ وہ قوت شہوانیہ سے محروم، کوڑمغز، پھکڑ باز، بے شرم، بے عقل، جاہل، تیلی کا بیل وغیرہ وغیرہ ہیں۔
گنگوہی نے اس کتاب میں اپنی گندی ذہنیت، بد اخلاقی اور بد لسانی کا پورا مظاہرہ کیا ہے۔
ادھر انوار ساطعہ جب حاجی امداداللہ صاحب کے پاس مکہ مکرمہ پہنچی تو اسے پڑھنے کے بعد آپ نے 1886ء میں ایک خط روانہ کیا۔ جس میں کتاب کی تعریف کی۔ ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ تیز قلمی اور غیظ نفسیاتی والی تحریر کو آئندہ ایڈیشن میں کتا ب سے ہٹا دیں۔ جس کی صاحب انوار ساطعہ نے تعمیل کی اور ایسا ہی ہوا۔
واضح رہے کہ صاحب انوار ساطعہ مولانا محمد عبد السمیع رامپوری اور بانئ دیوبندیت مولوی قاسم نانوتوی، مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی اشرف علی تھانوی سب حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے خلفاء میں سے تھے۔
اپنے خلفاء کے درمیان اختلاف کی اطلاع پاکر جھگڑا سلجھانے کے لئےحاجی صاحب نے “فیصلہ ہفت مسئلہ” نام سے ایک کتاب لکھی جس میں مولود شریف، فاتحہ، عرس و سماع، ندائے غیراللہ، جماعت ثانیہ، امکان نظیر، امکان کذب جیسے ساتوں مسائل ہیں۔ جو اہل سنت والجماعت کی حمایت میں ہے۔ یہ کتاب جب مولوی اشرف علی تھانوی تک پہنچی تو انہوں نے کچھ نسخہ مولوی رشید احمد گنگوہی کو بھیجوا یا تاکہ وہ اسے بٹوا دیں۔ لیکن انہوں نے کتاب کو خواجہ حسن نظامی کے ہاتھوں نذر آتش کروا دیا۔ اِس وقت تک مولوی اشرف علی تھانوی اپنے پیرومرشد حاجی امداداللہ کے مسلک سے کچھ قریب تھے بعد میں منحرف ہوگئے جب کہ مولوی رشید احمد تو شروع ہی سے اپنے پیرومرشد کے مسلک و معمولات کے خلاف رائے رکھتے تھے۔
بہرحال اس کتاب کے تاریخی پس منظر اور پیش منظر سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سنیت اور دیوبندیت کا اختلاف در اصل حاجی امداداللہ مہاجر مکی کےخلفاء کے درمیاں پیدا ہوا، اور انہیں کے درمیان پلا، بڑھا اور پروان چڑھا۔ اس میں دیگر علما ومشائخ نے بہت بعد میں حصہ لیا۔ لہذا یہ کہنا کہ سنیت اور دیوبندیت کا اختلاف مولانا احمد رضا بریلوی نے شروع کیا یہ ظلم و زیادتی اور بددیانتی کے ساتھ ساتھ تاریخ سے نادانی اور جہالت پر مبنی ہے۔
“براہین قاطعہ” کا ایک تاریخی پہلو یہ بھی ہے کہ جب یہ کتاب منظر عام پر آئی تو مولانا غلام دستگیر قصوری جن کا مولوی خلیل احمد انبیٹھوی سے دوستانہ تعلق تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے سخت مخالف ہوگئے۔ کتاب چونکہ انبیٹھوی صاحب کے نام سے چھپی تھی۔ جو اس زمانہ میں مدرسہ عربیہ ریاست بہاول پور(پاکستا) میں مدرس اول کے عہدہ پر فائز تھے۔ اب تک علمائے اہل سنت والجماعت کے تمام اعتقادی اور فکری تحریروں پر ان کی تائید اور تصدیق ہوتی تھی۔
“ابحاث فرید کوٹ” میں انبیٹھوی صاحب ان تمام اعتقادی مسائل پر تصدیقی مہر لگا چکے تھے جو علمائے اہل سنت کے اعتقادی نظریات پر مبنی تھے۔ اسی لئے مولانا غلام دستگیر قصوری حیرت زدہ تھے۔ اور وہ بنفس نفیس بہاول پور پہنچے۔ اور اپنے جگری دوست سے بذاتِ خود گفتگو کی اور صورت حال معلوم کی۔ سمجھانے کی کوشش کی لیکن انبیٹھوی صاحب کو اپنی ضد پر قائم دیکھ کر انہیں بہت صدمہ پہنچا۔ جب انہوں نےافہام و تفہیم کی تمام صورتیں ناکام دیکھا تو انہوں نے انبیٹھوی صاحب کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔
1889ء میں بمقام بہاول پور، نواب بہاول پور کی نگرانی میں ان مسائل پر مناظرہ ہوا جو “انوار ساطعہ” مصنفہ مولانا محمد عبدالسمیع رامپوری اور “براہین قاطعہ” مصنفہ مولوی رشید احمد گنگوہی منسوب مولوی خلیل احمد انبیٹھوی میں زیر بحث آچکے تھے۔ اس مناظرہ کے حَکم اور فیصل، والی ریاست بہاول پورکے پیرومرشد خواجہ غلام فرید، چاچڑاں شریف تھے۔ مناظرہ میں انبیٹھوی صاحب کی شکست ہوئی۔ فیصل مناظرہ نے فیصلہ دیا کہ انبیٹھوی اپنے حواریوں کے ساتھ وہابی اور گمراہ ہیں۔ اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں۔ اس کے بعد انبیٹھوی صاحب کو بہاول پور سے نکال دیا گیا۔
تحریر : محمد اسد اللہ مصباحی





