Web Analytics Made Easy - StatCounter
Jahan e Deedah

 جہان دیدہ از مفتی محمد تقی عثمانی

 جہانِ دیدہ از مفتی محمد تقی عثمانی

عاصم رسول

زیر نظر کتاب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے اُن اسفار کی خوب صورت روداد ہے جو انہوں نے مختلف ممالک میں کیے۔ اس میں قریباً ۲۰ ممالک کے سفرنامے شامل کیے گئے ہیں۔ تقی عثمانی صاحب کا شمار بلا شبہ اس وقت عالم اسلام کے چوٹی کے علما میں ہوتا ہے۔ دینی، دعوتی و مشاورتی مقتضیات کے پیش نظر وہ دنیا کے یمین و یسار کا سفر کرتے رہتے ہیں۔ چوں کہ تقی صاحب صاحبِ بصیرت عالم دین ہیں یہی وجہ ہے ان کے مشاہدات نہایت گہرے، ذہن کشا اور اکسیرِ دل کا کام دیتے ہیں۔ دورانِ مطالعہ قاری کے قلب و ذہن پر عجیب کیفیات و برکات کے لازوال نقوش ثبت ہوتے ہیں۔

یہ کتاب معلومات کا خزانہ ہے۔ صاحبِ کتاب نے مختلف ممالک کے مذہبی، تہذیبی، تمدنی، ثقافتی، معاشرتی،سماجی، ترقیاتی، عسکری اور سیاسی تانے بانے کو دقتِ نظر سے دیکھا ہے۔ اور پھر دل موہ لینے والے اسلوب میں اس سفرنامے کو لکھا ہے۔ امرِ واقعہ ہے کہ اس سفرنامہ کا اندازِ تحریر اتنا دل کش ہے کہ باذوق قاری پڑھتے ہوئے دنیا و مافیھا سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ ایک بار ہاتھ میں لے کر دل چاہتا کہ ایک ہی نشست میں اسے مکمل پڑھ لیا جائے۔

قاری چشمِ تصور سے کبھی عراق کو دیکھتا ہے اور وہاں معروفِ کرخی، سری سقطی، جنید بغدادی، امام ابو یوسف اور امام اعظم ابو حنیفہ (رحمة اللہ علیھم اجمعین) کے مزارات پر فاتحہ کا تحفہ پیش کرتا ہے اور کبھی حذیفہ بن یمان اور عبد اللہ بن جابر (رضی اللہ عنھم) کی مبارک سیرتوں کو تازہ کرتا ہے۔ جہاں حجاز، مصر، الجزائر، ترکی، بنگلہ دیش جیسے مسلمان ممالک کی تاریخ، دشت و دریا، اماکن، مقامات، عمارات اور پُر شکوہ جگہوں سے آگاہی حاصل کرتا ہے وہیں امریکہ، یورپ، جنوبی افریقہ، سنگاپور اور چین جیسے غیر مسلم کے خیرہ کرنے والی ٹیکنالوجی، سائنسی ترقیات اور سہولیات سے واقف ہو جاتا ہے نیز ان کی روحانی اور اخلاقی بد حالی اور افلاس سے پردہ کشائی کے واقعات سامنے آتے ہیں۔

اس سفرنامے میں صحابہ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین، علماء، صلحاء، اتقاء، مفسرین، محدثین، مفکرین، مجتہدین، صوفیاء و اولیاء اور مجاہدین و فاتحینِ اسلام کی سیرتیں اور سرگزشتیں مختصر مگر جامع انداز سے رقم کی گئی ہیں۔ نیز مختلف ممالک کی تاریخ، پسِ منظر، نشیب و فراز، محل وقوع، جیوگرافیا اور اہم مقامات اور واقعات کے بارے میں سیرحاصل معلومات درج کی گئی ہیں۔ چند سفر ناموں کے آخر پر مفتی تقی عثمانی صاحب نے “مجموعی تاثرات” کے تحت جو کچھ لکھا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں تقی صاحب نے سفر کے مشاہدات کے ایجابی و سلبی پہلوؤں پر بصیرت افروز تبصرہ فرمایا ہے۔

بہ ہر حال جہانِ دیدہ کے عنوان سے ۶۰۰ صفحات پر مشتمل یہ کتاب معلومات کا بیش بہا دفینہ ہے۔ ادب کی اس صنف سے دل چسپی رکھنے والے احباب کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی تقی عثمانی صاحب کے دو اور مجموعہ ہائے سفرنامے بعنوان “دنیا مرے آگے” اور “سفر در سفر” بھی پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وما توفیقی الا باللہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login