سیرت نگارانِ اعظم گڑھ ( اور ان کی تصانیف سیرتﷺ )
تعارف و تبصرہ : شکیل رشید
اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ہندوستان کے سب سے بڑے سیرت نگار اور اُن کی تصنیف کا نام بتائیں، تو جاننے والے جھٹ سے جواب دے دیں گے، علامہ شبلی نعمانی اور سیرت النبیﷺ ۔ لیکن کم ہی لوگ اس بات سے واقف ہونگے کہ علامہ شبلی سے پہلے بھی اعظم گڑھ نے بہترین سیرت نگار دیے ہیں، اور اُن کے بعد بھی ۔ ماہر شبلیات ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی نئی کتاب ’ سیرت نگارانِ اعظم گڑھ ( اور ان کی تصانیف سیرتﷺ ) کا موضوع یہی ہے ۔ اُنہوں نے اس کتاب میں علامہ شبلی سمیت اعظم گڑھ کے 63 سیرت نگاروں کا تذکرہ جمع کر دیا ہے ۔ جمع کا مطلب کوئی یہ نہ سمجھے، کہ جو کچھ اُن کے ہاتھ لگا، اسے کسی چھان پھٹک کے بغیر کتاب میں بھر دیا ۔ نہیں، اُنہوں نے تحقیق کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے، تمام 63 سیرت نگاروں کی تصانیف پر تنقیدی نظر بھی ڈالی، اور اُن کی حیات کے جو گوشے مخفی رہ گیے تھے، اُنہیں اُجاگر کرنے کی اپنی بھر سعی بھی کی ۔
ماہر شبلیات ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی، علامہ شبلی کی حیات و خدمات پر، درجنوں کتابیں شائع ہوکر اردو دنیا میں مقبول ہوچکی ہیں ۔ اُنہوں نے علامہ شبلی کی حیات کے ایسے گوشوں پر روشنی ڈالی ہے، جو پردۂ خفا میں تھے ۔ لیکن وہ صرف ماہر شبلیات ہی نہیں اعظم گڑھ کی ادبی دنیا کے، علم و ادب کے مورخ بھی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے علامہ شبلی سے ہٹ کر، اعظم گڑھ کی متعدد اہم شخصیات کی حیات و خدمات پر بھی قلم اٹھایا ہے، شعرائے اعظم گڑھ کے تذکرے بھی لکھے ہیں، ناموران اعظم گڑھ کی حیات، مضامین کی شکل میں بھی قرطاس پر اتاری ہے، اور کتاب کی شکل میں بھی ۔ اُن کی ایک کتاب ’ نقوش اعظم گڑھ ‘ حال ہی میں شائع ہوکر منظر عام پر آئی ہے، اُس میں بھی اعظم گڑھ کے ناموران کے، اُن کی خدمات اور اُن کے اثرات کے تذکرے ہیں ۔ لیکن یہ کام مذکورہ تمام ہی کاموں سے منفرد اور یادگار ہے ۔ ڈاکٹر صاحب ’ حرفِ آغاز ‘ میں اعظم گڑھ کی شخصیات پر لکھی گئی کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خوب ’’ مضامین و مقالات لکھے گیے، لیکن سیرت نگاران اعظم گڑھ کا تذکرہ اور اُن کی تصانیف سیرت کا ذکر و تعارف اب تک قلم بند نہیں کیا جا سکا ہے ۔ شاید اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے اِس ناچیز کا انتخاب فرمایا تھا ۔ زیرنظر مقالہ میں اُسی کمی کی تلافی کے لیے اعظم گڑھ کے اہلِ علم و قلم، علماء و فضلاء اور عاشقان رسول ﷺ کا اجمالی تذکرہ اور اُن کی کتب سیرت کا اجمالی تعارف و تجزیہ پیش کیا گیا ہے ۔‘‘ اس کے بعد وہ بجا طور پر لکھتے ہیں : ’’ سلسلہ تصانیف سیرت نبوی ﷺ میں شامل ہوجانا بلا مبالغہ انتہائی فخر و سعادت کی بات ہے ۔‘‘
ڈاکٹر صاحب نے اِس کتاب کو مرتب کرتے ہوئے ہر پہلو کو شامل کیا ہے۔ چاہے سیرت نگاروں کے تحقیقی مقالے ہوں ، کتاب، ترجمے،تعلیقات یا حواشی ہوں ۔ اُن شخصیات کے نام بھی شامل کیے ہیں جنہوں نے سیرت نبوی ﷺ کے کسی منصوبۂ تدوین و تالیف میں حصہ لیا ہے ۔ یہ کام ڈاکٹر صاحب نے ایک مقالہ لکھنے کی تمنا کی تکمیل کی غرض سے شروع کیا تھا، لیکن نیت اچھی تھی، کام خلوص کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، لہذا قطرہ قطرہ سمندر بنتا گیا، اور مقالہ نے کتاب کی شکل لے لی ۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے، کہ کتاب کو مرتب کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کوئی مسلکی تعصب روا نہیں رکھا، ہر مسلک کے سیرت نگاروں کو اس تذکرے میں جگہ دی، لیکن شیعہ اور بوہرہ مسلک چھوڑ کر، وہ بھی اس لیے کہ ان کے بقول : ’’ شیعہ اور بوہرہ مسلک جن کی اعظم گڑھ ضلع میں ایک قابل ذکر آبادی ہے، اُن کی کوئی کتاب دستیاب نہی ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُن کا ذکر نہیں آسکا ۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے ایک وضاحت مزید کی ہے : ’’ مخالفت یا تردید و تصحیح میں لکھی گئی کسی کتاب اور اُن کے مصنفین کو کتب سیرت اور سیرت نگار نہ تسلیم کرتے ہوئے اُن کا تذکرہ شامل نہیں کیا گیا ہے ۔‘‘
کتاب میں جن 63 سیرت نگاروں کا تذکرہ ہے، ان میں دو نام علامہ شبلی سے پہلے کے ہیں، مولانا شاہ محمد کامل نعمانی اور علامہ عنایت رسول عباسی چریا کوٹی ۔ اول الذکر کی دو کتابیں ہیں ’ ذکرِ عظیم معراج رسول ﷺ‘ اور ’ چراغِ جناں ‘ ۔ ایک معراج نبوی ﷺ پر ہندی میں رسالہ ہے، اور دوسری کتاب منظوم و منثور سیرت پاک ہے، یہ 2015 میں کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہے ۔ مولانا چریا کوٹی کی کتاب کا نام ’ بشری ‘ ہے، اس کا موضوع یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں میں بشارتِ نبوت ﷺ ہے ۔ چریا کوٹی کے بارے میں یہ حیرت انگیز معلومات دی گئی ہے، کہ وہ انگریزی، عبرانی اور سُریانی زبانیں بھی جانتے تھے ۔ علامہ شبلی نعمانی کا تذکرہ طویل ہے، اور ایک ماہرِ شبلیات کے طور پر ڈاکٹر صاحب نے علامہ شبلی کی سیرت نگاری کا بھرپور جائزہ لیا ہے ۔ تمام نام لکھنا ممکن نہیں ہے، لیکن چند سیرت نگاروں کے نام دینا ضروری ہیں، ملاحظہ کریں ؛ مولانا حافظ محمد اسلم جیراج پوری، مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمی، مولانا عبدالسلام ندوی، مولانا اقبال احمد سہیل، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا قاضی اطہر مبارک پوری، مولانا مجیب اللہ ندوی، مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری، مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی، پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی، ابوالاعلیٰ سید سبحانی وغیرہ ۔ صاحبِ کتاب ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے، انہوں نے مولانا سید سلیمان ندوی کی لاجواب کتاب ’ رحمتِ عالم ‘ کا ہندی ترجمہ کیا ہے ۔ ایک بات مجھے کچھ عجیب لگ رہی ہے، اِس کتاب میں مولانا سید سلیمان ندوی کا تذکرہ بھی شامل ہے، جبکہ وہ دسنہ ( بہار ) کے تھے ۔ شاید اِس کا سبب یہ ہو کہ مولانا مرحوم نے زندگی کا طویل رؤعرصہ دارالمصنفین میں بِتایا، اور علامہ شبلی کے انتقال کے بعد، اُن کی معرکے کی کتاب ’ سیرت النبی ﷺ ‘ کی باقی کی چھ جِلدوں کی تکمیل کی ۔
کتاب کا ’ مقدمہ ‘ معروف صحافی سہیل انجم نے تحریر کیا ہے، انتہائی وقیع اور بلیغ ’ مقدمہ ‘ ۔ وہ لکھتے ہیں : ’’ سیرت نگاروں پر مشتمل یہ کام بلا شبہ اُن کی ( ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی ) سعادت مندی کے خانے میں جائے گا ۔ اُن کے تحقیقی مزاج سے یہ توقع ہے کہ وی اعظم گڑھ کے دائرے سے باہر نکل کر مُلک گیر پیمانے پر نظر ڈالیں گے اور دیگر مقامات کے سیرت نگاروں کو بھی موضوعِ گفتگو بنائیں گے، حالانکہ یہ کام آسان نہیں ہے، لیکن آنجناب مشکل کام پہلے بھی کرتے رہے ہیں، اُمید ہے آئندہ بھی گے، ان شا اللہ ۔‘‘ خیر ڈاکٹر صاحب اس موضوع پر مزید کام کریں نہ کریں، مگر اتنا تو کہنا پڑے گا، کہ انہوں نے دیگر محققین کو ایک راہ دکھا دی ہے، اب دیکھنا ہے کہ کتنے اس راہ پر چلتے ہیں ۔




