رات سے باقی ماندہ ناول پڑھنے کا تہیہ کیا اور ایک نشست میں ختم کرکے بیٹھا ہوں۔ میں آپ کا شکریہ شاید زندگی میں ادا کر پاؤں۔ مجھے یاد ہے کہ ندوے میں قیام کے دوران میں آپ نے مکتبے پر مجھے بغیر اجرت لیے گھنٹوں مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مجھے نہیں معلوم، آپ جس چیز کے سب سے پیسے لیا کرتے تھے، اس چیز کے پیسے مجھ سے کیوں نہیں لیے؟ مجھے آج بھی اس کی بابت کوئی علم نہیں۔ میں نے شاید تب بھی عام لوگوں کے بالمقابل آپ سے زیادہ رعایت حاصل کی، اور شاید ابھی بھی کرتا ہوں۔ آمدم بر سر مطلب کہ مجھے پاپولر فکشن/مقبولِ عام فکشن میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کی پہلی وجہ یہی ہے کہ اس میں سستی اخلاقیات کا بے موقع درس دینے سے کہیں بھی گریز نہیں کیا جاتا۔
یہ ناولیں شاید بہت سے اذہان کو سطحیت پر آمادہ کر سکتی ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اِن میں اس قدر مکالمے ہوتے ہیں گویا ایک عدالت لگی ہوئی ہے، ہر دو کٹہرے میں مجرمین کھڑے ہیں اور بس شنوائی ہوتی ہی چلی جا رہی ہے۔ منظر نگاری اور واقعہ نگاری اگر ہوتی بھی ہے، تو ہر جگہ یکساں سی۔ ایک ہی موسم، ایک ہی ماحول، ایک گرد و نواح کو ایک دو لفظ کے تغیر سے بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن آپ کے شائع کیے ہوئے ناول “چاند گگن اور چاندنی” میں اگرچہ یہ مکالمے ہیں، اور وہ چیزیں بھی ہیں جن کا ذکر بالا میں ہوا لیکن طبیعت پڑھتے ہوئے بوجھل نہیں ہوتی۔ ایک روانی سی ہے۔ اقرأ صغیر احمد کا نام ہی میں نے آپ کی زبان سے سنا، آپ کے ذوق کا قائل ہونے کی بنا پر یہ ناول خرید کر لایا اور پڑھ کر ٹھکانے لگایا۔ اس بات کی شکایت ہے کہ آپ نے پاپولر فکشن پڑھوایا، لیکن اس بات کے لیے مشکور ہوں کہ ایک نئے اسلوب سے آپ نے روشناس کروایا۔ کہانی کا مرکز اتنا زرخیز اور وسیع ہے کہ اس میں دس پندرہ ضخیم ناول اور لکھے جا سکتے ہیں۔ برفیلے اونچے اونچے پہاڑوں کی طرح عریض پلاٹ۔
شاید کسی کو ناول پڑھتے ہوئے یہ گمان گزرے کہ اس کہانی کا مرکز عورتوں کی تعلیم ہے، اور اگر کسی کا یہ گمان ہے تو سو فیصد غلط ہے۔ اس کہانی کا محور رشتوں کی نا تغیر پذیری ہے۔ وقت اور خون کا اصل حالت پر پلٹ آنا ہے۔ خمیر کا اپنی خاک سے عود کر مل جانا ہے۔ رشتوں میں کتنی چپقلشیں، بے ربطیاں، قطع رحمی اور انانیت سرایت کر جائے لیکن خون کے خلیوں میں کہیں بے ہوش غیرت کبھی کبھی انسان کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنی طنابوں سے جاکر اپنے آپ کو باندھ لے۔ خدا کا یہ قانون انسان و حیوان، ہر دو خلق میں کام کرتا ہے۔ بہرحال، اس ناول نے مجھے بہت سارے جملے دیے ہیں۔ جو شاید وقتِ ضرورت کام آ سکیں۔ ہماری ضرورتیں مشترکہ ہیں، شاید آپ بھی پیشتر میں یہ جملے بکار آید چست کر چکے ہوں۔ اِس ناول کا حاصِل محسن نقوی کی نظم “یہ عجیب فصلِ فراق ہے” ہے۔ عجیب و غریب کیفیات سے یہ نظم روبرو کرواتی ہے۔ ایک بار اور شکریہ
عبداللہ ثاقب





