سیرت نگاران اعظم گڑھ
ڈاکٹر الیا س الاعظمی کا قابل ذکر کارنامہ
سہیل انجم، نئی دہلی
ادب کی ایک صنف سیرت نگاری بھی ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں اس کی ایک توانا روایت موجود ہے۔ ہندوستان بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و صورت کا بیان ان کی حیات طیبہ ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ لوگ والہانہ انداز میں آپ کی شخصیت و سراپا کو بیان کرتے اور آپ کے کردار کا محبت آمیز انداز میں تذکرہ کرتے۔ جذبات و احساسات کا یہ اظہار منظم بھی ہوتا اور غیر منظم بھی۔ شعر میں بھی اور نثر میں بھی۔ جلیل القدر صحابی حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ کی شان میں اشعار کہتے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر سناتے۔ اللہ کے رسول اس سے بہت خوش ہوتے۔
سیرت نگاری کی باضابطہ کتابی شکل میں تصنیف و تالیف اپنی جگہ پر لیکن ٹکڑوں اور جزیات میں آپ کے سراپا کو بیان کرنا بھی سیرت نگاری کے زمرے میں آتا ہے۔ کتب احادیث کے مطابق جب دوسرے ملکوں سے آنے والے وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو وہ آپ کے سراپا کو لکھ لیتے اور جب واپس اپنے ملک جاتے تو وہاں اسے بیان کرتے۔ اس تسلسل میں اس تاریخی واقعے کا بھی حوالہ دیا جا سکتا ہے جو ہجرت کے وقت ام معبد کے خیمے میں پیش آیا۔ آپ صحرا میں واقع ان کے خیمے میں کچھ دیر کے لیے آرام فرما ہوئے تھے اور ایک مریل بکری سے دودھ دوہا تھا۔ ابو معبد اپنی بکریوں کو چرانے صحرا میں گئے ہوئے تھے۔ جب واپس آئے تو انھوں نے گھر میں دودھ سے بھرا ہوا برتن دیکھا۔ انھوں نے ام معبد سے پوچھا یہ کیسے؟ تو انھوں نے پورا واقعہ بیان کیا۔ اس صحرا نورد خزاعی قبیلے کی خاتون نے آپ کا جو سراپا بیان کیا وہ عربی ادب کا روشن نمونہ بن گیا۔ حالانکہ کچھ محققین نے اس پر کلام کیا ہے لیکن بیشتر محدثین و سیرت نگاران نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ام معبد نے والہانہ انداز میں آپ کے سراپے کا جو نقشہ کھینچا تھا اس کا خوبصورت، سلیس اور دلکش ترجمہ مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی کتاب ”الرحیق المختوم“ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باضابطہ اور کتابی شکل میں تعریف و ستائش کا آغاز منظوم پیرائے میں ہوا۔ متعدد عربی، فارسی، اردو اور دیگر زبانوں کے شعرا نے آپ کی نعتیں لکھیں اور آپ سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کیا۔ پھر یہ سلسلہ آگے بڑھا اور نثر میں آپ کی سیرت لکھنے کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے عربی ہی میں سیرت پاک لکھی گئی۔ محققین کے مطابق حضرت عمر بن عبد العزیز نے اپنے دور میں حدیث کی کتابوں کی تدوین کا حکم دیا۔ لہٰذا سیرت النبی پر جو پہلی کتاب لکھی گئی اس کا نام ”مغازی“ ہے اور اس کے مصنف عروہ بن زبیر ہیں۔ اس کتاب میں ”باب المغازی والسیر“ نامی ایک باب باندھا گیا ہے جس میں غزوات کی تفصیل کے ساتھ ساتھ آپ کی سیرت سے متعلق احادیث بھی شامل کی گئی ہیں۔ صحیح بخاری میں ایک باب ”کتاب المغازی“ ہے جس میں سیرت کے اہم واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اصحاب کرام نے بھی آپ کے چہرے مہرے اور سراپا کو بیان کیا۔ کتب احادیث کے مطابق ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پہلے شوہر کے بیٹے ہالہ نے بھی آپ کا خوبصورت انداز میں سراپا بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کا چہرہ چاند کی طرح چمکتا تھا اور آپ کی پیشانی روشن تھی۔ امام ترمذی نے ”شمائل ترمذی“ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ تابعین اور طبع تابعین کے دور میں بھی سیرت پاک لکھنے کا اہتمام کیا گیا۔
اگر ہم برصغیر کی بات کریں تو کتابوں کے حوالے بتاتے ہیں کہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒنے ہندوستان میں سب سے پہلے علم حدیث متعارف کرایا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی مصنف ”محاضرات سیرت“ نے انھیں برصغیر میں پہلا سیرت نگار قرار دیا ہے۔ دو جلدوں میں ان کی کتاب ”مدارج النبوة“ کو سیرت طیبہ پر پہلی مستند کتاب مانا جاتا ہے۔ بعد ازاں مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے نام آتے ہیں۔ مختلف کتب کی تفصیلات کے مطابق انیسویں صدی کے اواخر میں اردو میں سیر ت پر چند کتب تصنیف کی گئیں۔ اس کڑی میں مفتی عنایت کاکوری، سید احمد شہید کے تلامذہ میں سے ایک مولانا کرامت علی جونپوری، نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ، مولوی انشاءاللہ اور مولانا اسماعیل کاندھلوی کے نام لیے جا تے ہیں۔ اردو میں سیرت نگاری کے حوالے سے سرسید کا بھی نام آتا ہے۔ 1857 کی بغاوت کی ناکامی کے بعد عیسائی مشنریوں نے ہندوستان میں عیسائیت کی تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا جو بتدریج تیز ہوتا گیا۔ اسی دوران ایک انگریز مستشرق سر ولیم میور نے انگریزی میں سیرت پر ایک ضخیم کتاب لکھی جس کا نام Life of Muhammad (لائف آف محمد) ہے۔ اس میں غلط او ربے بنیاد تاویلات کی گئی تھیں اور اللہ کے رسول پر اعتراضات کیے گئے تھے۔ لہٰذا سرسید احمد خاں کے ذہن میں اس کا جواب دینے کا خیال آیا اور انھوں نے ”خطبات احمدیہ“ نامی کتاب لکھی۔ یہ کتاب بارہ خطبات کا مجموعہ ہے جس میں سر ولیم میور کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ اس کے بعد خواجہ الطاف حسین حالی نے سیرت پر منظوم و منثور کئی کتابیں تصنیف کیں۔ اسی دور میں مولانا عبد الحلیم شرر نے سیرت کے موضوع پر تین کتابیں تصنیف کیں: جویائے حق، خاتم المرسلین اور ولادت سرور عالم۔ جویائے حق ایک تاریخی ناول ہے جو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی پر مرکوز ہے لیکن اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ، عربوں کا طرز زندگی، نبی کریم کا حسن سلوک، فتح مکہ، آپ کی وفات اور دیگر تفصیلات بھی موجود ہیں۔
لیکن اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو اردو میں سیرت نگاری کا باضابطہ اور معیاری آغاز علامہ شبلی نعمانی کے سر جاتا ہے۔ اس حوالے سے ان کی شہرہ آفاق کتاب ”سیرة النبی“ کا بطور خاص ذکر کیا جاتا ہے۔ کتاب ہذا کے مصنف اور ماہر شبلیات ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے علامہ شبلی نعمانی پر اپنے تفصیلی مضمون میں اس پر خاصی گفتگو کی ہے۔ تاہم علامہ شبلی نعمانی اپنی زندگی میں اس سلسلے کو مکمل نہیں کر سکے لہٰذا ان کے شاگرد رشید مولانا سید سلیمان ندوی نے اس علمی کاوش کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ لہٰذا سیرت نگاروں میں سید سلیمان ندوی کا نام بڑے عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ اسی طرح سیرت نگاری کے حوالے سے قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری کا نام بھی سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے جنھوں نے سیرت پر کئی کتب تصنیف کیں: سید البشر، اسوہ ¿ حسنہ، مہر نبت اور رحمت اللعالمین۔ آخر الذکر کتاب سیرت پر لکھی جانے والی اولین کتب کے زمرے میں آتی ہے۔ (ہندوستان میں سیرت نگاروں کے بارے میں تفصیلی مضمون اس کتاب میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے)۔
ذہن میں خیال آتا ہے کہ جب بہت سارے سیرت نگاروں نے اس میدان میں اہم خدمات انجام دی ہیں تو ان کا تذکرہ بھی لکھا گیا ہوگا یا ان پر مضامین کے مجموعے شائع ہوئے ہوں گے۔ لیکن تحقیق کے بعد بھی ایسی کسی باضابطہ کتاب کا سراغ نہیں مل سکا جس میں اردو کے تمام سیرت نگاروں کا تذکرہ کیا گیا ہو۔ البتہ ڈاکٹر انور خالد محمود نے ہندوستان میں اردو سیرت نگاروں کے موضوع پر تحقیقی کام کیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے موجودہ امیر سید سعادت اللہ حسینی کی کتاب ”کتب سیرت ایک اجمالی جائزہ“ میں اردو کے اہم سیرت نگاروں جیسے علامہ شبلی نعمانی، قاضی سلیمان منصور پوری اور پروفیسر یاسین مظہر صدیقی کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔
اب اس میدان میں ایک اہم نام ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کا تیزی سے ابھر کر منظر عام پر آیا ہے۔ گوکہ انھوں نے اپنے دائرہ تحقیق میں صرف اعظم گڑھ ضلع کے سیرت نگاروں کو رکھا ہے تاہم انھوں نے جس طرح تلاش و جستجو کے ساتھ ان کے بارے میں تفصیلات جمع کی ہیں وہ انھیں اس میدان میں اولیت کا درجہ عطا کرتا ہے۔ الیاس الاعظمی عہد حاضر کے ایک ذی علم محقق، مصنف و مرتب ہیں۔ اب تک ان کی 70 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ وہ بہت بڑے شبلی شناس ہیں۔ بلکہ کہنا چاہیے کہ شبلی شناسی میں وہ سب سے آگے ہیں جس کا اعتراف علمی دنیا کرتی ہے۔ انھوں نے شبلیات کے علاوہ دیگر موضوعات کا بھی بھرپور مطالعہ کیا ہے اور ان پر بھی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ بالخصوص شخصیات کا ان کا مطالعہ بہت گہرا ہے۔ زیر تذکرہ کتاب اس لحاظ سے کافی اہم ہے کہ اعظم گڑھ ضلعے کا شاید ہی کوئی سیرت نگار ہو جس پر مضمون اس کتاب میں شامل نہ ہو۔
سیرت نگاروں کے تذکرے سے قبل ان کا ابتدائی مضمون بہت معلوماتی ہے جو فرزندان اعظم گڑھ کی علمی خدمات کا احاطہ کرتا ہے۔ کتاب پڑھنے سے اندازہ ہوا کہ تمام مضامین قابل مطالعہ ہیں۔ سب سے پہلا مضمون مولانا شاہ محمد کامل نعمانی پر ہے۔ یہ جان کر انتہائی مسرت ہوئی کہ وہ میرے آبائی ضلع بستی میں وکالت کرتے تھے۔ یہ خوشی اس وقت اور دوبالا ہو گئی جب یہ معلوم ہوا کہ شبلی نعمانی نے بھی ان کی سرپرستی میں بستی میں چند ماہ وکالت کی تھی۔ شبلی نعمانی سے متعلق طویل مضمون میں ان کی شخصیت و خدمات کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے سیرة النبی پر معاندانہ و غیر معاندانہ تنقیدوں کا بھی جائزہ لیا ہے جو کہ ان کی تصنیفی اخلاقیات کا ثبوت ہے۔ یہ مضمون دقت نظر کا نمونہ ہے اور یہ بتاتا ہے کہ مصنف نے کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا ہے۔ وہ یوں بھی عہد حاضر کے سب سے بڑے شبلی شناس ہیں لہٰذا ان سے کوئی پہلو چھوٹ بھی نہیں سکتا۔
مولانا حافظ محمد اسلم جیراجپوری کی علمی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے علمی کارنامے روز روشن کی مانند عیاں ہیں۔ کتاب میں ان کی ہمہ جہت خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے اور ان کی سیرت نگاری پر بطور خاص گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ان کی وابستگی کا بھی تذکرہ ہے۔ یہ بات باعث مسرت ہوئی کہ وہ ایک صحافی بھی رہے ہیں اور مشہور زمانہ اخبار ”زمیندار“ کے شعبہ ادارت سے وابستہ رہے۔ مضمون میں ان کی معرکہ آرا کتاب ”تاریخ الامت“ کا بطور خاص ذکر ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے وفات تک کے احوال قلم بند کیے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس کتاب کا ذیلی نام ”سیرة الرسول“ بھی ہے۔ البتہ عام طور پر لوگوں کو اس کا علم نہیں۔
مولانا عبدالسلام ندوی علامہ شبلی کے عزیز ترین شاگردوں میں ہیں۔ وہ ممتاز ادیب، انشاپرداز، مصنف، مولف اور مترجم ہیں۔ شبلی نعمانی کی وفات کے بعد جب اعظم گڑھ میں دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا تو انھیں کلکتہ سے بلا لیا گیا۔ اس مضمون سے علم ہوتا ہے کہ مولانا عبدالسلام ندوی مولانا آزاد کے اخبار ”الہلال“ کے شعبہ ادارت سے وابستے تھے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے جس کا علم بہت کم لوگوں کو ہوگا کہ جس روز شبلی نعمانی کی وفات ہوئی اسی روز اخبار الہلال بند ہوا۔ واضح رہے کہ شبلی نعمانی کے شاگرد مولانا سید سلیمان ندوی نے جہاں شبلی کے نامکمل کام سیرة النبی کی تکمیل کا فریضہ انجام دینا شروع کیا وہیں مولانا عبد السلام ندوی نے اسوہ صحابہ قلم بند کرنے کا آغاز کیا۔ گویا دونوں شخصیات نے بہت اہم خدمات انجام دیں ۔ مولانا عبد السلام ندوی کی متعدد تصانیف ہیں جن میں بقول مصنف ”شعر الہند“ اور ”اقبال کامل“ لاجواب کتابیں ہیں۔
مولانا سید سلیمان ندوی کے تعلق سے ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی لکھتے ہیں کہ ”مولانا سید سلیمان ندوی نے ایک موقع پر اپنے استاد علامہ شبلی نعمانی کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ علامہ شبلی کا مجھ پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ وہ تمام زندگی گزار کر جہاں پہنچے تھے مجھے روز اول وہاں پہنچایا اور سیرت نبوی کی تالیف کی وصیت فرمائی۔ چنانچہ علامہ شبلی کی وفات کے بعد مولانا سید سلیمان ندوی نے دکن کالج پونہ کی ڈھائی سو روپے ماہوار کی پروفیسر شپ چھوڑ کر دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ میں جدید سہولیات سے محرومی کے ساتھ بوریہ نشانی اختیار کی۔ اس کے باوجود معمولی مشاہرہ پر پہلے اپنے استاد مرحوم کی سیرة النبی کی ابتدائی جلدوں کی نوک پلک سدھار کر اہتمام سے شائع کرایا، پھر بقیہ پانچ جلدیں پایہ تکمیل تک پہنچائیں جو سیرت نگاری کی تاریخ کا نہایت عظیم الشان اور بے مثال کارنامہ ہے۔ البتہ سیرة النبی جلد ہفتم کو وہ بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے اور دنیا سے رخصت ہو گئے۔اس کا تکملہ عرصہ ہوا استاد گرامی مولانا مجیب اللہ ندوی بانی مدیر ماہنامہ الرشاد نے لکھا ہے مگر اب تک وہ کتابی صورت میں شائع نہیں ہو سکا“۔ اس مضمون میں ایسی بہت سی معلومات ہیں جن سے عام لوگ واقف نہیں ہیں۔
”دبستان شبلی کے بلا شرکت غیرے سب سے بڑے اور نہایت ممتاز اور معتبر شاعر“ مولانا اقبال احمد خاں سہیل پر مضمون میں نے خاصی دلچسپی سے پڑھا۔ دارالمصنفین کے سابق ناظم مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی نے اپنے ایک مضمون میں اس بات پر اظہار تاسف کیا ہے کہ مولانا اقبال سہیل نے جو کہ ایک جینیس تھے، اپنی ذہانت، ذکاوت اور علمی قابلیت سے وہ کام نہیں لیا جو وہ لے سکتے تھے۔ البتہ صرف شاعری کی شمع محفل بن کر رہ گئے۔ لیکن یہ بھی ہوا کہ انھو ںنے شاعری کو بھی مستقل مشغلہ نہیں بنایا۔ لیکن بہرحال اس کے باوجود ان کی شاعری اور بالخصوص نعتیہ شاعری مداحان رسول کے دلوں کو گرماتی ہے۔
مصنف نے اعظم گڑھ کے سیرت نگاروں کی جو تفاصیل پیش کی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ فرزندان اعظم گڑھ کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہیں۔ میں یہاں دیگر سیرت نگاروں کے سلسلے میں کچھ کہنے سے گریز کر رہا ہوں تاکہ کتاب کے قارئین پوری کتاب پڑھیں اور استفادہ کریں۔ البتہ اس حوالے سے چند اہم نام لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ جیسے کہ مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی، مولانا قاضی اطہر مبارکپوری، مولانا مجیب اللہ ندوی، مولانا وحید الدین خاں، مولانا اسیر ادروی، مولانا مختار احمد ندوی، ڈاکٹر محمد مصطفی الاعظمی، مولانا حکیم عبد المجید اصلاحی، مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن الاعظمی، مولانا ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری، مولانا صفی الرحمن مبارکپوری، مولانا ضیاءالرحمن اعظمی، مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی، پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی، پروفیسر ابو سفیان اصلاحی، مولانا محمد عمر اسلم اصلاحی، مولانا کلیم صفات اصلاحی اور ابوالاعلیٰ اسد سبحانی وغیرہ۔ یہ کتاب مکتبہ الفہیم، مﺅ ناتھ بھنجن سے رعایتی قیمت پر 350 روپے میں، مع ڈاک خرچ حاصل کی جا سکتی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے جہاں قدیم دور کے سیرت نگاروں کا تذکرہ کیا ہے وہیں انھوں نے عہد حاضر کے اور کم معروف شخصیات پر بھی قلم اٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے موضوع کو کسی مسلکی دائرے میں قید نہیں کیا بلکہ وسیع الظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر مکتب فکر کے سیرت نگاروں پر قلم اٹھایا ہے۔ میں اس انتہائی وقیع، تاریخی اور اولیت کی حامل کتاب کی تصنیف پر ان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ ان کی محبت ہے کہ انھوں نے مجھ جیسے نااہل کو اظہار خیال کا حکم دیا۔ میں اس کے لیے صمیم قلب سے ان کا شکر گزار ہوں۔ یوں بھی میرے اوپر ان کی عنایتیں رہتی ہیں اور وہ اپنی گراں قدر تصنیفات سے مجھے بھی بہرہ مند کرتے رہے ہیں۔ سیرت نگاروں پر مشتمل یہ کام بلا شبہ ان کی سعادت مندی کے خانے میں جائے گا۔ ان کے تحقیقی مزاج سے یہ توقع ہے کہ وہ اعظم گڑھ کے دائرے سے باہر نکل کر ملک گیر پیمانے پر نظر ڈالیں گے اور دیگر مقامات کے سیرت نگاروں کو بھی موضوع گفتگو بنائیں گے۔ حالانکہ یہ کام آسان نہیں لیکن آنجناب مشکل کام پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ امید ہے آئندہ بھی کریں گے۔






