Web Analytics Made Easy - StatCounter
Mardan e Sidq o Wafa

مردان صدق و صفا

مردان صدق و صفا

تالیف: مولانا اسجد عقابی قاسمی

استاذ دارالعلوم وقف دیوبند

صفحات: 424 اشاعت: 2024

#مردان صدق و صفا: عہد قدیم اور عصر جدید کے علماء، صلحا، بزرگان دین اور امت مسلمہ کی چند نابغہ روزگار شخصیات کے تذکرۂ جمیل کا حسین مرقع

تبصرہ نگار: غفران ساجد قاسمی

چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن

ڈائریکٹر بصیرت جرنلزم اینڈ لینگویج اکیڈمی ممبئی

مردان صدق و صفا نام سے ہی کتاب کا مکمل موضوع سمجھ میں آجاتا ہے، مزید کسی تعارف کی ضرورت باقی نہیں رہتی، یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں عزیز مکرم جناب مولانا محمد اسجد عقابی قاسمی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کہ انہوں نے آنے والی نسل کو اکابر و اسلاف سے جوڑے رکھنے اور ان کے تابندہ نقوش سے سبق حاصل کرنے کے لیے بہت بڑا مواد جمع کردیا ہے.

مردان صدق و صفا صرف ایک کتاب نہیں ہے بلکہ یہ نوجوان نسل کے لئے اسلام اور اسلامی تعلیمات کو سمجھنے، اسلام کے راستے میں مسائل و مشکلات کو برداشت کرنے، دین حنیف کی خدمت کے راستے میں جدوجہد کے مختلف گوشوں سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے یہ مشعل راہ ہے، یہ مصنف کے ان معلوماتی مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نے گذشتہ برسوں میں مختلف رسائل و جرائد کے لیے لکھے اور قارئین نے ان مضامین کو شوق و ذوق سے پڑھا اور مصنف کی اس کاوش کو سراہا، قارئین سے حوصلہ پاکر مصنف نے اسے یکجا کرکے کتاب کی صورت میں شائع کیا جو ایک بہترین مجموعے کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے..

کتاب مردان صدق و صفا عہد قدیم و عصر جدید کی معتبر و مستند شخصیات کی اجمالی سوانحی خاکہ ہے جسے منصف نے بہت ہی سلیس اور آسان زبان میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے. خانوادہ قاسمی کے جانشین، دارالعلوم وقف دیوبند کے باوقار مہتمم حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب مدظلہ العالی نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ : جناب مولانا اسجد عقابی صاحب قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند وقف کی زیر نظر تالیف مردان صدق و صفا میں عہد قدیم سے لے کر عصر جدید کی شریعت و طریقت بہر دو متجلی جہات سے تعلق رکھنے والی متعدد بلند پایہ شخصیات کی حیات اور ان کے افکار و نظریات کا اجمالی احاطہ کیا گیا ہے، امید ہے کہ متذکرہ باعظمت اشخاص کی حیات و مساعی سے با معنی واقفیت انشاءاللہ قارئین کے لیے فکر و عمل کی نئی سمتوں سے معرفت و آشنائی کا ذریعہ ثابت ہوگی، بارگاہ رب ذوالمجد والکرم میں مؤلف کی جہودوکاوش کی عنداللہ قبولیت اور عندالناس مقبولیت کے لیے دعا گو ہوں..

دارالعلوم دیوبند کے معروف استاذ جناب مولانا مفتی محمد اشرف عباس قاسمی صاحب نے اپنی وقیع تقریظ میں کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ :

اس کتاب میں فاضل مولف نے کل 43 شخصیات پر قلم اٹھایا ہے، جس میں سلسلہ چشتیہ صابریہ کے بزرگوں، دیوبند کی عظیم علمی شخصیات، اور ماضی قریب میں وفات پانے والے بافیض و بابصیرت علمائے کرام کے قیمتی و گراں قدر تذکرے خوش اسلوبی کے ساتھ شامل کئے گئے ہیں، اس میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کی پوری زندگی گوشہ گمنامی میں گذری، فاضل مصنف نے نے ان کا بھی ذکر خیر کیا ہے. سوانحی زندگی سے پہلے مضمون کے آغاز میں دنیا کی حقیقت اور موت کے فلسفہ کو بڑے انوکھے انداز میں پیش کیا ہے، جن بزرگوں کے اسما کے درمیان میں آئے ہیں ان کی اجمالی سوانحی جھلک حاشیہ میں درج کرکے بڑا قیمتی کام کیا ہے. متنوع اور مختلف میدان کی اہم شخصیات کا یہ قیمتی اثاثہ سرمایہ علم وادب اور مایہ افتخار ہے، بقول ڈپٹی نذیر احمد : کہ نایاب موتی ہیں اس کے مضامین…

مردان صدق و صفا کی معتبریت کے لیے یہ دو اقتباس ہی کافی ہیں، اس کے علاوہ دارالعلوم امدادیہ ممبئی کے شیخ الحدیث و صدرالمدرسین حضرت مولانا بدرالدین اعظمی صاحب مدظلہ العالی کی دعائیہ کلمات کے نام سے ایک تحریر ہے جوک ایک استاذ کی اپنے ہونہار شاگرد کے کارنامے پر مہر تصدیق کی حیثیت رکھتی ہے، اس کے علاوہ خانوادہ قاسمی کے چشم و چراغ، نوجوان، فعال و متحرک منتظم، دارالعلوم وقف دیوبند کے نائب مہتمم عزیز محترم مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے گراں قدر تاثرات بھی کتاب کی اہمیت و افادیت میں چار چاند لگاتی ہے..

اس کتاب میں عہد قدیم و عصر جدید کی کل 43 شخصیات کا ذکر جمیل ہے، کتاب کا آغاز اپنے وقت کے بادشاہ جو بعد میں مشہور صوفی بزرگ اور اہل علم حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے پہچانے گئے، جن کی زندگی کے تغیرات بعد کے لوگوں کے لیے مشعل راہ بنے اور ان کی زندگی کے نقوش سے سبق حاصل کرکے اپنی زندگی کی کاپا پلت کرلی، اور کتاب کا اختتام عصر جدید کے معروف عالم دین، مشہور قلمکار، صاحب طرز ادیب و انشا پرداز حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر صاحب رحمہ اللہ کی حیات کے عکس جمیل پر ہے.. اس کے علاوہ اس کتاب میں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت نظام الدین اولیاء، مخدوم الملک شیخ شرف الدین یحی منیری، مجددالف ثانی، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، مولانا مملوک علی نانوتوی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمد علی مونگیری، شیخ الہند، علامہ سید سلیمان ندوی، قاری صدیق باندوی، مولانا محمد سالم قاسمی، مفتی محمد ظفیرالدین مفتاحی، شیخ ثانی مولانا عبدالحق، مولانا محمد ولی رحمانی، قاری عثمان منصورپوری، مولانا وصی احمد صدیقی قاسمی، مولانا نورعالم خلیل امینی اور مفتی سعید احمد پالنپوری رحمھہم اللہ کی حیات و خدمات کا اجمالی تذکرہ شامل ہے، لکھنے کا انداز اتنا عمدہ اور دلنشیں ہے کہ پڑھنے والا کتاب ہاتھ میں لے تو بغیر رکے پڑھتا ہی چلا جائے، مصنف کو قارئین کو گھیرے رکھنے میں مہارت حاصل ہے.

یہ بھی عجیب بات ہے کہ مولانا محمد اسجد عقابی صاحب بنیادی طور پر انگریزی زبان و ادب کے استاد ہیں، دارالعلوم وقف دیوبند سے شائع ہونے والے سہ ماہی انگریزی مجلہ وائس آف دارالعلوم کی مجلس ادارت کے اہم ترین رکن ہیں، انگریزی کے مضامین بھی قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں اور شوق سے پڑھے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کا قلم اردو مضامین میں بہت تیز چلتا ہے اور اردو زبان کے معروف قلمکاروں میں ان کا شمار ہوتا ہے. یوں تو مولانا عقابی صاحب کے مضامین ملک کے مختلف رسائل و جرائد اور اخبارات و نیوزپورٹلس میں شائع ہوتے ہی ہیں، انہوں نے اپنے مضامین کی افادیت کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے لیے اپنی ویب سائٹ بھی بنا رکھی ہے جوکہ ماشاءاللہ بہت ہی مقبول ہے، مولانا اسجد عقابی صاحب ابتدا سے ہی بصیرت آن لائن کی مجلس ادارت میں شامل ہیں اور بصیرت کے مستقل کالم نگار ہیں.

مردان صدق و صفا اپنے موضوع کی اہمیت کے اعتبار سے ہر فرد کے لیے لائق مطالعہ ہے، بلکہ بلا کسی تمیز کے طلبہ و استاد، ائمہ و مصلحین ،سماجی کارکنان اور دین اسلام کی خدمت کرنے والے ہر فرد بشر خواہ وہ عورت ہو یا مرد ہر ایک کو اس کتاب کو اپنے مطالعے میں رکھنا چاہیے، انشاءاللہ یہ کتاب ہر فرد کی معلومات میں اضافہ کا باعث بنےگی..

مولانا اسجد عقابی صاحب دارالعلوم دیوبند کے ہونہار فاضل ہیں، مرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ممبئی سے انگریزی زبان و ادب میں ڈپلومہ کیا ہے، ان کا آبائی وطن دربھنگہ ضلع کا معروف گاؤں فتح پور ہے، گذشتہ کئی سالوں سے دارالعلوم وقف دیوبند میں انگریزی زبان و ادب کے ماہر استاد ہیں.

میں کوئی ماہر تبصرہ نگار نہیں ہوں، اس لیے اسے فنی تبصرہ نہ سمجھا جائے بلکہ کتاب کے مطالعے کے بعد دل میں آنے والے سرسری تاثرات ہیں جسے میں نے اپنے قارئین کے لیے یہاں رقم کردیا ہے..

Home Cart Wishlist Login