جہانِ دیدہ مفتی تقی عثمانی صاحب کے سفر ناموں کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں ان کے بیس ملکوں کے سفرنامے شامل ہیں۔ یہ کتاب تقریباً 668 صفحات پر مشتمل ہے۔ اندازِ بیاں سادہ اور دلکش ہے۔ غیر ضروری تفصیلات سے گریز کرتے ہوۓ انھوں نے جامع اور پراثر انداز میں باتیں لکھی ہے۔ جہاں کسی تاریخی واقعے یا جگہ کا ذکر آیا ہے وہاں انھوں نے اسکی تفصیل بھی ذکر دی ہے۔ زیادہ تر سفرنامے انکے علمی اسفار کے متعلق ہیں، مثلاً کسی علمی سیمینار یا کانفرنس میں شرکت کے لیے انھیں دعوت دی گئی تو اس ملک میں دورانِ قیام انھوں نے جن جگہوں کا وزٹ کیا اس کا حال قلمبند کیا۔ اس کتاب سے جہاں معلومات میں اضافہ ہوتا ہے وہیں دانائی کی باتیں بھی پڑھنے کو ملتی ہیں، یعنی علمی اور تحقیقی لحاظ سے یہ سفرنامے تہی دامن نہیں۔ ان سفرناموں کی ایک انفرادی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں قرونِ اولی کے چند عظیم اور جید علماء کا اجمالی تذکرہ بھی ہے جو دل کو فرحت اور ذہن کو تازگی بخشتا ہے۔ ایک اور بات، غمگین دہلوی نے کہا تھا کہ