یورپ میں چار ہفتے
تحریر/تبصرہ: حذیفہ ایوبی
مذہبی و سیاسی ذوقِ ادب کا حامل شاید ہی کوئی ایسا قاری ہو جو شورش کاشمیری کے نام سے ناآشنا ہو۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ’’چٹان‘‘ کی صورت میں جو آتشیں نگارشات قارئین تک پہنچائیں، اور متعدد تصانیف کے قالب میں جو شاندار ادبی اسلوب اردو ادب کو عطا کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
“یورپ میں چار ہفتے” بھی شورشی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
کتاب کا عنوان ہی اس کی صنف (سفرنامہ) کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو کہ اس طرح کے عنوانات کا خاصہ ہے۔ لیکن یاد رہے یہ کوئی باقاعدہ سفرنامہ نہیں، بلکہ ان خطوط کا مجموعہ ہے جو آغا شورش کاشمیری نے قیامِ یورپ کے دوران اپنے اعزہ و اقرباء کو وہاں کے احوال و کوائف، تاریخ و سیاست، رنگ و مزاج، آب و ہوا، ذوق و مذاق، اور تہذیب و معاشرت سے آگاہ کرنے کی غرض سے لکھے تھے۔
کتاب کا ابتدائیہ جو “خوانندگانِ محترم کے نام” کے زیرِ عنوان ہے، اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ واپسی پر دوستوں اور “چٹان” کے قارئین نے باقاعدہ سفرنامہ کا مطالبہ کیا، لیکن کثرتِ مشاغل کے باعث وہ اس کام سے عہدہ برآ نہ ہو سکے۔ تب انہوں نے اپنی بیٹی کے مشورے سے ان خطوط کو جمع کیا، اور جب انہیں ازسرِنو پڑھا تو یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ یہ خطوط بذاتِ خود ایک سفرنامے کے اجزا ہیں۔ چنانچہ جن جن متعلقین کو یہ خطوط لکھے گئے تھے، ان سے حاصل کر کے، حک و اضافے کے بعد انہیں مرتب کر دیا گیا۔
خلاصہ یہ کہ یہ خطوط کہانی بھی ہیں، رپورتاژ بھی اور روزنامچہ بھی۔
ان چار ہفتوں میں شورش کاشمیری نے یورپ کے سات ممالک کا جائزہ لیا، جن میں آسٹریا، فرانس، انگلینڈ، سوئٹزرلینڈ، اٹلی اور لبنان شامل ہیں۔
خطوط کا آغاز بیٹی کے نام سے کرتے ہوئے پہلے ہی خط میں وہ واضح کرتے ہیں:
“یورپ کے سیاسی زندگی کے مطالعہ کا چنداں شوق نہیں، آئے دن اس تعلق سے خبریں آتی رہتی ہیں۔ کوشش کروں گا یورپ کی روح معلوم ہو اور جو چیز نافع لگے اسے حافظے میں رکھ لوں۔ ہم نے اب تک یورپ کو کتابوں میں دیکھا، جنگوں میں جانچا اور اپنے ملک کے یورپ زدہ لوگوں کی صورتوں میں پڑھا ہے۔
میں یہ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کروں گا کہ وہ کون سے اوصاف ہیں جنہیں اختیار کرنے کے بعد یورپ تمام دنیا پر مادی و فکری فوقیت رکھتا ہے۔”
آغا شورش کاشمیری کا اسلوب سراپا جمال اور دل و نگاہ کو اسیر کرنے پر قادر ہے۔ ان کی تحریر میں نت نئی تعبیرات اور فقروں کا استعمال لاجواب ہے۔ برمحل اشعار کا بروقت استعمال اعشق آزادانہ کا نتیجہ ہے۔
منظر نگاری بھی ان کی تخلیقی قوت کا ایک نمایاں پہلو ہے؛ وہ محض منظر بیان نہیں کرتے بلکہ اسے قاری کے سامنے زندہ کر دیتے ہیں۔ زبان کی روانی، جملوں کی طلاقت، تاریخی حوالوں کی برجستگی اور ذاتی تاثرات کا امتزاج ایسا نقش قائم کرتا ہے جو قاری کی یادداشت میں دیر تک باقی رہتا ہے۔
ان کا تخلیقی مشاہدہ اپنے عروج پر اس وقت دکھائی دیتا ہے جب وہ ایک عام منظر کو بھی شاعرانہ استعاروں میں ڈھال دیتے ہیں۔ صفحہ 48 پر اٹلانٹک ہوٹل کی کھڑکی سے باہر کا منظر ملاحظہ کیجیے: “اٹلانٹک ہوٹل کی عظیم الشان بلڈنگ دریائے رائین کے کنارے واقع ہے۔ کمرے کی کھڑکیوں سے دریا کا پاٹ سہانا معلوم ہوتا ہے۔ اکثر دخانی کشتیاں اور بے بی جہاز مسافروں کی کھیپ لے جاتے ہوئے قہقہوں کے مرغولوں میں بہت سی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ کناروں پر قہقہوں کی قطاریں اور ادھر ادھر بجلی کے حروف کی جھالریں افق پر ستاروں کے جھومر کی طرح دلکش معلوم ہوتی ہیں۔
میرے کمرے کی کھڑکی بازار کے رخ پر ہے۔ مطلع اور مقطع میرے سامنے سے گزر رہے ہیں؛ بعض برجستہ ہیں، بعض فی البدیہہ۔ کچھ ایسے بھی ہیں جن میں آہنگ نہیں، لیکن آہنگ پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کہیں غزل سے دو غزلہ ہو رہا ہے۔ بعض قافیے ایطاء جلی اور ایطاء خفی کا شکار ہیں، کہیں قوافی سنگلاخ ہیں تو ردیفیں شگفتہ۔ کثرت خوبصورت زمینوں میں بولتے ہوئے قافیوں اور چہکتی ہوئی ردیفوں کی ہے۔”
موجودہ یورپ کو دیکھ کر بعض اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کہیں کہیں یورپ کی تعریف میں غلو کر گئے ہیں، لیکن قطعی طور پر ایسا کہنا مشکل ہے، کیونکہ ان کے اور ہمارے درمیان نصف صدی کا فاصلہ حائل ہے۔
کتاب کی مکمل قراءت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شورش کاشمیری نے یورپی تہذیب کی محض تعریف ہی نہیں کی، بلکہ طنز و تشنیع کے نشتر بھی پوری دیانت داری سے چلائے ہیں۔ ایک مقام پر لکھتے ہیں:
“گناہ و ثواب کی حدبندیوں سے قطع نظر ہر طرح کی باتیں ہوتی ہیں، لیکن قرینے اور سلیقے سے دریائے سین کے بعض مخفی و جلی گوشوں یا پارکوں کے قلب میں بوس و کنار کے چپ چاپ مظاہرے ہوتے ہیں، مگر دیکھنا جرم ہے، کرنا نہیں۔
ایک مقام پر ایشیائی اور یورپی ثقافت کا موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
“ہم ایشیائی لوگ، بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے انسانی مجسمے، مذہب کی غیبی طاقت کے نامعلوم الاسم خوف سے لرزتے ہیں۔ مگر ان لوگوں نے یہ سب قیود توڑ ڈالی ہیں۔ میکدہ میں کوئی شور و غل نہیں، نہ کہیں پگڑی اچھلتی ہے اور نہ وصل کی رات لانے کے لیے ہجر کی رات کاٹنی پڑتی ہے۔”
اسی ضمن میں ایک اور دو ٹوک تبصرہ یوں ملتا ہے:
“مغرب میں عفت کوئی چیز نہیں، حیا مشرق کی چیز ہے۔”
اور یورپ کے روزمرہ معمولات پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “دن چڑھے اخبار، شام چڑھے شراب، اور رات گئے عورت یورپ کے معمولات کا حصہ ہیں۔”
“یورپ میں چار ہفتے” پڑھتے ہوئے “شب جائے کہ من بودم” یا تحفظِ ختمِ نبوت کے علمبردار شورش کو تلاش نہ کیجیے گا، کیونکہ انہوں نے خود پیشگی انتباہ دے دیا ہے: “میں نے یورپ کو ایک شاعر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔” البتہ اگر آپ چاہیں تو “اس بازار میں” کے شورش کو تلاش کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
سفرِ بیروت کے احوال لکھتے ہوئے وہ اپنے ذاتی جذبات اور نفس کی کشمکش کو یوں بیان کرتے ہیں:
“طبیعت نے مچلنا چاہا اور دل بھی دیر تک دھائیں دھائیں کرتا رہا، لیکن اپنے نفس کی صحت کا اشتہار دینے کے بجائے یہ کہنا صحیح ہوگا:
کسی سے ربط بڑھانے کا حوصلہ نہ ہوا
یورپی عورت کے بارے میں سوال پر شورش نے پوری صراحت سے اظہار کیا۔ انہوں نے جرمن عورت کو تمام یورپ پر فوقیت دی، برطانوی عورت کی محنت کشی کا ذکر کیا، فرانس کی عورت کو ہم آغوشی کی چیز بتایا، سوئٹزرلینڈ کی عورت میں کوئی زائد خوبی نہ پائی، جنیوا کی عورتوں میں حیا کا تناسب دیکھا، روم کی لڑکیوں میں فربہی اور نکھار محسوس کیا، جبکہ ترک عورتوں میں انہیں یورپ کی اندرونی معاشرت نظر آئی—جہاں مشرقی و مغربی آب و ہوا کا امتزاج تھا اور وہ شاعری کے بجائے مصوری کی چیز معلوم ہوئیں۔
آخری خط میں دوستوں نے چٹکی لیتے ہوئے پوچھا:
کہو! کیسے رہے؟ یہاں کا مصنوعی زُہد وہاں غرقِ مے ناب ہوا؟ کسی ماہ رُو سے آنکھیں چار ہوئیں؟ کہیں گئے؟ کسی سے ہم نشینی ہوئی؟ قرطاسِ رُخسار پر کچھ لکھا؟ کسی سے کہا: گوش نزدیک لبم آر کہ آوازے ہست؟
اور شورش انہیں ریاض کا یہ شعر پڑھ پڑھ کر ٹالتے رہے:
ہے ریاض اک جوان مست خرام
نہ پیے اور جھومتا جائے
المختصر، “یورپ میں چار ہفتے” ایک ایسا البم ہے جس میں قاری کے لیے عہدِ قدیم کے یورپ کی پرانی تصاویر محفوظ ہیں۔ مزید یہ کتاب شورش کاشمیری کے قلم سے نکلنے والے نت نئے الفاظ اور تعبیرات سے گراں بار تجربات و مشاہدات کا ایک دلکش مرقع ہے۔




