Web Analytics Made Easy - StatCounter
Crypto Currency

کرپٹو کرنسی مسائل

تاریخِ انسانی میں خرید و فروخت کے لئے مختلف چیزیں رائج رہی ہیں۔ کبھی لوگ کھانے پینے کی اشیاء سے تبادلہ کر کے دوسری چیزیں خریدتے، کبھی سونے کے سکے اس کا ذریعہ بنتے اور کبھی کسی مخصوص دھات کو ڈھال کر زر مبادلہ بنایا جاتا تھا۔ گردشِ زمانہ نے یہ رخ کرنسی کی طرف موڑا ، سونا چاندی ثمن اور قمیت بنے اور انہی کے متبادل عہد وثیقہ کے طور پر آج کے زمانے میں کاغذی نوٹوں کا چلن ہوا، جن کی قیمتیں حکومت طے کرتی ہیں اور حالات کی اتھل پتھل سے اس کی Value کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔

نوٹوں‌ اور روپیوں کے چلن کے ایک عرصے بعد سن 2008ء میں ایک نئی کرنسی وجود میں آئی جسے “ورچوئل کرنسی” کہا جاتا ہے۔ بٹ کوائن سے اس کی شروعات ہوئی ، وقت گزرتا رہا اور یہ کرنسی لوگوں میں مروج ہوتی چلی گئی، ساتھ ہی اس کی value جو ابتداء میں بہت کم تھی، بڑھتے بڑھتے ایک کثیر اور خطیر رقم تک پہنچ چکی ہے ۔ بڑے بڑے سرمایہ دار اس سے بیع کر رہے ہیں اور مختلف ممالک میں لوگ اس کی خرید و فروخت میں مصروف ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ :

کیا بٹ کوائن یا دیگر ورچوئل کرنسی سے بیع شرعی نقطۂ نظر سے جائز ہے؟

کیا یہ کرنسی بالکل محفوظ ہے ؟

کیا ورچوئل کرنسی کے اندر “زر” بننے کی صلاحیت موجود ہے ؟

ان اور ان جیسے مختلف سوالات پر سالم برجیس کی کتاب : کرپٹو کرنسی : حقیقت ، ماہیت ، احکام– روشنی ڈالتی نظر آتی ہے۔

یہ کتاب در حقیقت سالم برجیس کا تحقیقی مقالہ ہے جسے انھوں نے ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ میں رہتے ہوئے تصنیف کیا ہے اور 27/ نومبر 2025ء میں اس کی اشاعت عمل میں آئی ہے۔

کتاب بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے:

پہلے حصے میں تین مباحث ہیں ؛

1- کرپٹو نظام کا بنیادی ڈھانچہ

اس باب میں مصنف نے کرپٹو کرنسی کا تفصیلی تعارف کرایا ہے۔ کرپٹوگرافی اور اس کے متعلقات پر بحث کی ہے۔ بلاک چین سسٹم (جسے عام فہم میں حفاظتی نظام کہہ سکتے ہیں) پر سیر حاصل گفتگو کی ہے، اور مائننگ پر مختصر کلام کیا ہے۔

2- زر (مال) کی شرعی حیثیت

معاشی دنیا میں زر کسے کہا جاتا ہے؟ فقہ میں زر کی کیا تعریف ہے؟ کیا کرپٹو کرنسی زر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے ؟ یہ بحث انہی سوالات کے گرد گھومتی ہے ۔ پھر مصنف نے زر کی خصوصیات بیان کرنے کے بعد کرپٹو کرنسی کو زر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

3- کرپٹو کرنسی کی شرعی حیثیت کا جائزہ

اس باب کی ابتدا ان علماء کی آراء سے ہوتی ہے جو کرپٹو کرنسی کی بیع اور استعمال کو جائز سمجھتے ہیں۔ اس فہرست میں ڈاکٹر محمد داؤد بکر، مفتی محمد ابوبکر، مفتی اویس پراچہ، اور ’’شریعہ ریویو بحرین‘‘ کا فتویٰ شامل ہے۔

بعد ازاں ان فتاویٰ کا ذکر ہے جو عدم جواز کے حق میں ہیں، عدم جواز کے حق میں فتاویٰ کی تعداد کہیں زیادہ ہے ، اس میں مرکزی بینک مصر، دارالافتاء فلسطین، دارالافتاء دارالعلوم دیوبند اور جامعہ بنوری وغیرہ کے فتاویٰ نقل کیے گئے ہیں ،جب کہ مصنف خود جواز کے حق میں ہیں۔

مزید دو فتاویٰ ایسے ہیں جن میں توقف اختیار کیا گیا ہے—ان میں ہندوستان اور جدہ کی فقہ اکیڈمی شامل ہیں۔

تمام آراء اور فتاویٰ نقل کرنے کے بعد، مصنف نے عدم جواز کے دلائل اور اعتراضات کا ناقدانہ جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ کرپٹو کرنسی جائز ہے، لیکن وہ اسے مکمل طور پر غیر مشتبہ بھی نہیں سمجھتے۔ وہ لکھتے ہیں:

”کرپٹو کرنسی کے سلسلے میں راقم ہرگز یہ نہیں سمجھتا کہ یہ مکمل طور پر جائز ہے، البتہ زر کے تاریخی تسلسل، اس کے بیانیہ اور مسلسل عالمی پیش رفتوں کے پیشِ نظر یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے کہ اب اس کے زر ہونے میں کوئی دو رائے نہیں ہے“

دوسرے حصے میں دو بحثیں ہیں۔

1- کرپٹو مارکیٹ کی مروجہ کرنسیاں ؛

اس بحث میں مصنف نے واضح کیا ہے کہ مارکیٹ میں صرف کرپٹو کرنسیاں نہیں بلکہ کوائن، ٹوکن، منافع دار ٹوکن، ضمانتی ٹوکن وغیرہ بھی موجود ہیں۔ ان سب کی اقسام کا تعارف اور شرعی احکام بیان کیے گئے ہیں۔

2- کرپٹو مارکیٹ میں ٹریڈنگ

یہ بحث کرپٹو ٹریڈنگ کی مشہور قسموں کو محیط ہے۔ فیوچر ٹریڈنگ، آپشن ٹریڈنگ اور اسپاٹ ٹریڈنگ ۔ ان تفصیلی وضاحت کی گئی ہے، ساتھ ہی مشتقات مالیہ کی حقیقت، اس میں ہونے نقصان کے خدشات اور جدید تجارتی اصول پر ناقدانہ تبصرہ کیا ہے، پھر مذکورہ ٹریڈنگ کی تینوں شکلوں کے شرعی احکام بیان کیے ہیں۔

یہ مقالہ ایک تحقیقی ادارے کے تحت لکھا گیا ہے، مگر عوام و خواص دونوں کے لئے یکساں مفید ہے، اردو زبان میں چونکہ اس موضوع پر اب تک بہت زیادہ کام نہیں ہوا ہے، بایں لحاظ یہ کتاب عربی، انگریزی اور اردو میں موجود بہت سے مقالات و مضامین کا نچوڑ بھی ہے اور نئے مضامین کا مظہر بھی۔

کرپٹو کرنسی کا مفصل تعارف، اس کی حقیقت اور اس کے شرعی احکام کو یہ کتاب اپنے اندر بہت خوبصورتی سے سمیٹ لیتی ہے، زبان نہایت شگفتہ، سلیس اور آسان ہے، عربی و انگریزی کے نقل کردہ اقتباسات کا ترجمہ بہت معیاری ہے، مواد کے سلسلے میں ماہرین کی آراء دلچسپ ہیں۔

تقریظ میں مفتی محمد اویس پراچہ لکھتے ہیں:

“میں نے ایک بار اسے مکمل دیکھا اور کچھ جگہوں پر تبدیلی کی تجاویز دیں، میرے خیال میں اس مشکل موضوع پر جس قدر اختصار اور سادگی کے ساتھ مولانا نے یہ مقالہ تحریر فرمایا ہے، یہ قابل تعریف ہے۔”

پیشِ لفظ میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب لکھتے ہیں :

” کرپٹو کرنسی کے موضوع پر یہ مقالہ لکھا، جس میں اس کی حقیقت کا تعارف بھی کرایا گیا ہے، اور انہوں نے اپنی رائے کے مطابق اس کے احکام بھی بیان کیے ہیں۔ اس حقیر کو اب تک اس سے اتفاق نہیں ہو سکا، لیکن اس سلسلے میں عزیزی سلمہ کی کوشش لائقِ تحسین نظر آئی، انہوں نے محنت کے ساتھ اس موضوع کا مطالعہ کیا ہے۔”

ایک دقیق اور مشکل موضوع کو عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ حرفِ آخر نہیں، مگر کرپٹو کرنسی کی حقیقت، ماہیت، اقسام اور شرعی احکام کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب بہت مددگار ہے ، اور متعدد پہلوؤں سے اہمیت کی حامل ہے ، بر صغیر کے اکثر علماء کی رائے عدم جواز کی طرف ہوتے ہوئے بھی یہ تحقیق کئی لحاظ سے اہم ہے ۔

تعارف و تبصرہ : محمد عاطف

Home Cart Wishlist Login