لفظ عقیدہ عَقَدَ سے ماخوذ ہے جس کے معنی باندھنے اور مضبوط گرہ لگانے کے ہیں۔ عقیدہ ایک ایسے پختہ ایمان اور قطعی حکم اور فیصلہ کا نام ہے جس میں شک کی گنجائش نہ ہو، چنانچہ جس پر انسان ایمان رکھتا اور اس پر اپنے قلب و ضمیر سے پوری طرح مطمئن ہوتاہے، نیز اسے لائق اتباع دین ومذہب سمجھتا ہے، وہی اس کا عقیدہ کہلاتا ہے۔
عقیدہ کی توضیح کے باب میں زیر نظر کتاب:
“میزان الاعتقاد” علامہ غلام مصطفی ظہیر محدث امن پوری حفظہ اللہ کی تصنیف لطیف ہے.
724 صفحات کی اس ضخیم کتاب میں عقیدہ اہل سنت والجماعت کو قرآن و حدیث، اجماع امت اور فہم سلف صالحین کے دلائل سے مزین کر کے سمجھانے کی بہترین کاوش ہے۔
شیخ کا اسلوبِ تحریر یہ ہے غیر ضروری تمہید، مضمون کی طوالت، طبیعت کی نقاہت، تقریظات اور تصدیقات کی بجائے براہ راست اپنے موضوع پر بات کرتے ہیں اور اس موضوع کے تحت آنے والی قرآنی آیات، احادیثِ نبویہ اسلاف امت، آئمہ کرام کے اقوال جمع کر دیتے ہیں اور فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیتے ہیں کہ:
میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر
بندۂ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
زیر نظر کتاب میں بیس مرکزی موضوعات اور ان کے تحت آنے والی مباحث کو موضوع سخن بنایا ہے۔
1:- کلمہ توحید 2:-شرک اکبر اور شرک کی اقسام۔
3:- الذبح لغير الله۔4:-بشریت نبوی ﷺ اور نورِ محمدﷺ کی تخلیق۔ 5:-حدیثِ نور اور الجزء المفقود کی حقیقت 6:-استغاثہ اور نذر و نیاز 7:-قبر پرستی تعظیمی سجدہ 8:-عالم الغیب کون 9:-رسول اللہ صلی ﷺ کا سایہ 10:-مختار کل کون؟ 11:-عقیدہ حاضر و ناظر 12:-حدیث نجد 13:-کیا مردے سنتے ہیں سماعِ موتٰی 14:-اہل علم اور عقیدہ حیات النبی، کیا رسول اللّٰہ ﷺ درود سنتے ہیں؟
15:- غنیۃ الطالبین اور شیخ عبدالقادر جیلانی۔16:-احناف اور غیر اللہ کی نذر و نیاز 17:-عرب میں توہم پرستی 18:-ابدال کی حقیقت 19:-كنت نبيا واعظم بين الروح والجسد روایت کا درست معنی و مفہوم 20:-واعبد ربك حتى ياتيك اليقين۔
استغاثہ اور نذر ونیاز کے باب میں فرماتے ہیں:
“بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہی جانور حرام ہے جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا جائے جبکہ وہ جانور حرام نہیں جسے غیر اللہ کی نذر ونیاز کے لیے ذبح کیا جائے یہ باطل ہے۔ جس جانور کو اللہ کے علاوہ کسی کے لیے منسوب کر دیا جائے اسے کھانا حرام ہے اگرچہ ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے”(کتاب ھٰذا ص:50)
بشریت نبوی صفحہ 52 تا صفحہ 126:
اس باب میں 11 قرآنی آیات،19 احادیث، 11 آثار صحابہ اور فہم امت کے عنوان کے تحت بڑے بڑے فقہاء کے 20 اقوال لائے ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ:
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار اہل سنت میں سے کسی نے نہیں کیا بلکہ یہ عقیدہ کسی اور طرف سے مسلمانوں میں داخل ہو گیا ہے۔۔۔۔ آئمہ اہل سنت والجماعت کے اجتماعی و اتفاقی عقیدہ کے خلاف کوئی دلیل نہیں سنی جائے گی کیونکہ حق وہی ہے جسے آئمہ اہل سنت نے اختیار کیا ان کا ہر عقیدہ و عمل کتاب و سنت کے دلائل پر قائم ہے”۔(کتاب ھٰذا ص 113)
اس باب کے آخر میں نور محمد ﷺ کی تخلیق کے بارے میں مشہور روایات پر مفصل جرح کے ساتھ ساتھ مفتی احمد یار خان نعیمی”مصنف جاءالحق” کے دلائل پیش کردہ دلائل کا رد اور فقہائے احناف کی تصریحات سے موضوع کی وضاحت کی گئی ہے۔
عقیدہ علم غیب۔صفحہ 158–248:
اس باب میں 8 قرآنی آیات،26 احادیث، فہم صحابہ اور اجماع امت کے عنوانات سے دلائل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ مثلاً صفحہ 247پر علامہ ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کیا ہے:
“حاصل کلام یہ کہ انبیاء کرام علیہم السلام پوشیدہ چیزوں کو نہیں جانتے صرف وہی وہ جانتے ہیں جس کا علم انہیں اللہ نے دیا ہو۔ علمائے احناف نے اس شخص کی صراحت کے ساتھ تکفیر کی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے لیے علم غیب کا دعوی کرتا ہے کیونکہ یہ دعوی اللہ کے اس فرمان کے معارض ہے اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ زمین و اسمان کے غیب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا”
دین تصوف کے حاملین نے اولیاء اللہ کی مختلف اقسام وضع کر رکھی ہیں۔جیسے غوث، قطب، ابدال، نقباء، نجباء، اوتاد وغیرہ جبکہ قرآن کریم یا فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں کچھ بھی منقول نہیں۔
فاضل مصنف نے اس موضوع پر مشہور 16 احادیث کی اسنادی حیثیت کو خوب واضح کرتے ہوئے صفحہ 677 پر علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول فیصل نقل کیا ہے، فرماتے ہیں:
” ابدال، اقطاب، اغواث،نقباء، نجباء اور اوتاد کے بارے میں تمام کی تمام احادیث خود گھڑ کر رسول اللہ ﷺکے ذمے لگائی گئی ہیں” ….
(بحوالہ:المنار المنیف:136)
کتاب کے آخر میں صوفیوں کے ایک غلط عقیدے کی خوب خبر لی ہے۔ صوفیوں کا یقین کی منزل پر پہنچنے پر عبادات کے ساقط ہونے کے گمراہ کن دعویٰ کو قرآن و حدیث کے دلائل اور آئمہ حدیث کی تصریحات سے واضح کیا ہے کہ یقین سے مراد موت ہے۔ انسان کے لیے موت تک عبادت کرنا لازم ہے۔
آخر میں علامہ ملا علی قاری حنفی کا ایک قول نقل کیا ہے فرماتے ہیں:
” غالی صوفیاء کا کہنا ہے کہ بندہ جب محبت الہیہ کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو وہ شرعی احکام کا پابند نہیں رہتا اس کے بعد اس کی عبادت محض تفکر غور و خوض ہو جاتی ہے یہ گروہ سب سے برا ہے. انہوں نے اپنے اس عقیدے کی بنیاد اس فرمان باری تعالی پر ڈالی ہے۔”وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ”… اللہ کی عبادت کریں یہاں تک کہ موت آجائے”. (سورۃ الحجر:99)
مفسرین کا اجماع ہے کہ یہاں یقین سے مراد موت ہے”۔
(شرح شفا 2/513)
اگر آپ عقیدہ کے سمندر میں غواصی کرکے عقیدہ کے باب میں پھیلائی گئی بہت سی گمراہیوں سے باخبر ہونا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔
اللہ تعالی شیخ محترم کی اس محنت کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے لوگوں کے لیے رشد و ہدایت کا ذریعہ بنائے آمین ثم آمین۔
عبـــدالرحمٰـــن سعیــدی





