شورشی سحر
شورش کاشمیری کے قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ وہ کیا لکھتے ہیں اور کیسا لکھتے ہیں – جو شورش کے قاری نہ بھی ہوں ، وہ کم از کم شورش کی سحر انگیزی سے ناواقف نہیں ہیں ، ان کی تحریر کا طنطنہ ان کی کتابوں سے جھلکتا ہے ، ان کے جملوں کی ساخت ، نثر کی تسجیع ، پس منظر سے پیش منظر اور پیش منظر سے تہہ منظر کا ربط ، ان کی نثر کی ان خوبیوں میں سے ہے – جس کی وجہ سے ان کے قاری “شورشی سحر” میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ شورش کی تمام کتابیں پڑھنا ان کا ہدف ہو جاتا ہے اور غیر مطبوعہ کے لیے وہ بے چین ہو جاتے ہیں ۔
شورش کاشمیری کی جو کتابیں ہندوستان میں دستیاب نہیں تھی انہی میں ایک “یورپ میں چار ہفتے” ہے ، یہ بنیادی طور پر ان خطوط کا مجموعہ ہے جو یورپ سےانہوں نے اپنے اعزاء کو لکھے ، جس میں انہوں نے یورپ کو جیسا دیکھا ، جیسا برتا اور جیسا جانا ، بعینہٖ اسی روپ میں اتار دیا ۔ اپنے مشرقی قلم سے مغربی منظر کشی کرتے چلے گئے ۔ اسی لیے سفرنامے کی صنف – ان تحریروں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے ۔
شورش نے مخاطب کے لحاظ سے مغرب پر اپنے تاثرات لکھے ہیں کبھی وہ بتاتے ہیں ۔
“گناہ کی تعریف اہل یورپ نے بالکل بدل دی ہے ، عام حالتوں میں ہم لوگوں کے نزدیک جو چیز معصیت ہے ، وہ یہاں آرٹ ہے” (ص 89) ۔
ان کی بکھری ہوئی سیاہی بھی قول زریں کا درجہ رکھتی ہے ، لکھتے ہیں ؛
“فنون لطیفہ میں ڈوبی ہوئی قوم کا دل رقیق ، اور بازو کمزور ہی ہوتے ہیں” (ص 87) ۔
یورپ میں عورت کی آزادی کے متعلق لکھتے ہیں :
“یورپ کی عورت بالکل آزاد ہے ، لیکن آزادی کے معنی یہ نہیں کہ بگٹٹ ہے ، دونوں میں کچھ فاصلہ ہے ۔ ہمارے ہاں عورتیں چولهے کا ایندھن ہیں یا بچے پیدا کرنے کی روٹری ، یورپ میں عورت شریک محنت ہے” ۔
یہ شورش کا انوکھا اسلوب ہے جس سے وہ ہر قسم کی باتیں کہہ جاتے ہیں ، بظاہر کہیں ایسا لگتا ہے ، کہ مشرق پر تنقید ہے ، مگر مکمل کتاب آپ پڑھیں تو اندازہ ہوگا ، بات اور ہی کچھ تھی ۔ وہ کہتے ہیں کہ “میں یہاں ایک مصلح یا فلسفی کی آنکھ لے کر نہیں آیا ، اور نہ میرا یہ منصب ہی ہے ۔ چاہتا ہوں کہ یورپ کو حتی الامکان ایک شاعر اور ادیب کی آنکھ سے دیکھوں ۔ ظاہر ہے کہ ادیب اور شاعر کا نقطۂ نگاہ ہمیشہ ہمیشہ حسن و جمال سے شروع ہوکر حسن و جمال پر ختم ہوتا ہے”(ص28) ۔
جو رعنائیاں انہیں نظر آئی ، جو باتیں انہیں پسند آئی ، جو رویے انہیں بھا گئے – انہیں بیان کرنے میں انہوں نے کوئی سی کسر نہیں چھوڑی ۔ یورپیوں کی نشست و برخاست ، ان کا بولنے چالنے کا طریقہ ، مسکرانے کا ڈھنگ ، ان کا مزاج و مذاق ، ان کی بود و باش کے نہج ، ان کے نظام میں عورت کی شراکت ، ان کے بار میں لڑکیوں کی لطافت ، غرض وہ ساری چیزیں جو ایک اچھا ویلوگر ہمیں دکھا سکتا تھا ، شورش نے اپنے ساحرانہ قلم سے ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے ۔
مغرب کی انہوں نے جم کر تعریف کی ہے اور اتنی ہی تنقید بھی ، ایک جگہ کہتے ہیں کہ یورپ میں عورتیں بہت ہیں مگر ان میں عورت پن نہیں رہا ( میں نے مفہوم پیش کیا ہے ، الفاظ محفوظ نہیں رہے کہ بعینہ نقل کرتا) .
یورپ کی مذہبی کشمکش جو ہماری مجالس کا موضوع سخن ہوا کرتی ہے ، اور کئی myth جو ہمیں سنائی دیتی ہے ، شورش اس کا پردہ چاک کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں ؛ ” یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ یورپ محض مادی ہے اور اس نے مذہب کو طاق نسیاں پر رکھ دیا ہے” (ص108)۔
یورپی رعنائیاں کس بلندی پر ہیں ، انہیں کیا فوقیت ہے ، ان کی دلکشی کیا ہے ، یہ تمام مناظر ہمارے سامنے – شورش ایک اسکرین پر پلے کر دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ؛
“بہشت میں کیا ہوگا ، اللہ بہتر جانتا ہے ، لیکن یہ گوشہ ضرور بہشت ہے۔ کیا روشیں ہیں اور کیا سایہ کرتی ہوئی روشنی ۔ ایشیائی رند عمر بھر دو آتشہ شراب پر مرتے ہیں۔ یہاں شراب تو خیر شراب ہے۔ جو مرمریں ہاتھوں سے جوان ہونٹوں تک پہنچتے پہنچتے کئی آتشہ ہو جاتی ہے۔ ورنہ واقعہ یہ ہے کہ پورا ماحول ہی شراب ہے ، اور شراب بھی وہ کہ زہد صد سالہ کے حصہ میں تلچھٹ بھی آجائے تو مصلے کی جھریاں اور طبیعت کی افسردگیاں دھل جائیں۔ ادھر ایک زاویے میں چمٹی رخساروں پر بے الفاظ عبارتیں لکھی جا رہی ہیں ۔ ادھر پیالوں کی کھنک سے دل کا غبار چھٹ رہا ہے۔ پاس ہی نغمہ و رقص کے بول الفاظ کی منت پذیری کے بغیر کانوں میں رس گھول رہے ہیں
ع ساقیا مرنج از من عالم جوانی هاست
محمد عاطف




