Web Analytics Made Easy - StatCounter
Hakeem ul Ummat Nuqoosh o Tasurat

حکیم الامت نقوش و تاثرات

تاثرات بر “نقوش و تاثرات”
کتابیں چار طرح کی ہوتی ہیں:

بعض وہ کتابیں جنہیں دیکھ کر ہی رکھ دینے کو جی چاہتا ہے، پڑھی ہی نہیں جاتیں۔ کچھ وہ ہوتی ہیں جنہیں الٹ پلٹ کر کہیں سے چند سطریں اور کہیں سے چند صفحات پڑھ لیے جاتے ہیں؛ گویا کتاب کا مطالعہ نہیں کیا جاتا، بلکہ کتاب کی سیر کی جاتی ہے۔ کتابوں کی تیسری قسم وہ کتابیں ہیں جنہیں از ابتدا تا انتہا توجہ و انہماک کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، لیکن کتابوں کی ایک چوتھی قسم بھی ہے، اور یہی سب سے دل ربا مگر سب سے کمیاب قسم ہے۔ یہ وہ کتابیں ہیں جنہیں قاری پڑھتا نہیں، بلکہ وہ کتابیں خود قاری کو پڑھنے پر، بار بار پڑھنے پر، اور ہمزاد کی طرح اپنے ساتھ رکھنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

صاحبِ طرز ادیب مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ کی تصنیفِ لطیف ’’حکیم الامت: نقوش و تاثرات‘‘ کی حالیہ اشاعت، جو مولانا محمد وقار اعظم زید مجدہم کی تقدیم و تعلیق کے ساتھ منصّۂ شہود پر آئی ہے، اس کا شمار اسی چوتھی قسم کی کتابوں میں ہوتا ہے۔

     یہ کتاب چند دن قبل سامنے آئی تو ابتدا میں یہی خیال تھا کہ چند صفحات پڑھ کر رکھ دوں گا۔ آخر مطالعے کی وہ سابقہ عادت رہی ہی کہاں ہے کہ کتاب ہاتھ میں لیتے ہی بندہ دنیا و مافیہا سے یکسر بے خبر اور کاروبارِ جہاں سے یک قلم منقطع ہو، کتاب ہی کا ہو کر رہ جائے! کتاب کے چند صفحات پڑھے اور یہ خیال خود اپنی تردید کرنے لگا۔ صفحات پر صفحات پلٹنے لگے ،کتاب مکمل ہوئی تو یہ احساس گہرا ہو چکا تھا کہ مسئلہ ذوقِ مطالعہ کے ختم ہو جانے کا نہیں، اچھی کتاب کے ہاتھ نہ آنے کا تھا۔

مولانا عبدالماجد دریابادی کی تحریر کا اپنا ایک مزاج ہے۔ ان کے ہاں محض معلومات نہیں ہوتیں، مشاہدہ بھی ہوتا ہے؛ محض واقعات نہیں ہوتے، ان واقعات سے برآمد ہونے والے نتائج و اسباق بھی ہوتے ہیں۔ خصوصاً جب ماجدی قلم کسی شخصیت کے متعلق نقش کشی کرتا ہے تو صرف اس کے منصب، تصانیف اور مشہور کارناموں ہی کو بیان کرنے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ اس کے مزاج، طرزِ فکر، طرزِ عمل اور شخصیت کے ان گوشوں کو بھی بیان کرتا ہے جو عام نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں۔ یوں وہ نقش کشی، نقش آرائی بن جاتی ہے،جیسا کہ ان کی “آپ بیتی”اور “وفیاتِ ماجدی یا نثری مرثیے” کے مطالعے سے ہویدا ہے۔

چنانچہ حضرت حکیم الامت، مجدد الملّۃ والدّین، مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے بارے میں لکھتے ہوئے بھی ان کی نگاہ صرف ایک عالمِ دین، مصلح یا مصنف پر نہیں رکی، بلکہ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں تک گئی۔ چنانچہ وہ واضح کرتے ہیں کہ مرشدِ تھانوی عالم بھی تھے، مصلح بھی، مربی بھی، صاحبِ نظر بھی، صاحبِ ذوق بھی، انسانی نفسیات کے نبّاض بھی، ایک ہمدرد و بے تکلف دوست بھی، اور سب سے بڑھ کر دوسرے کے جذبات کی مبالغے کی حد تک رعایت رکھنے والے بہترین اور بلند اخلاق انسان بھی۔
وہ بار بار یہ شکوہ کرتے ہیں کہ حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کو بدنام کرنے والوں نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ حضرت خشک مزاج اور متشدد تھے حالانکہ وہ دوسروں کی راحت و سہولت کے لیے ایسی ایسی جزیات تک کی رعایت رکھتے تھے کہ دوسروں کی نظر بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی،البتہ اتنا ضرور ہے کہ اپنے مریدین و متوسلین اور طالبینِ اصلاح کی فلاح و اصلاح کی خاطر قواعد و ضوابط کے نفاذ میں وہ یقینا سخت تھے،باقی عام مہمانوں، دوستوں اور ملنے جلنے والوں کے حق میں تو خُلقِ مجسم تھے اور تنگی و خشونت کا شائبہ تک نہ تھا۔

اس کتاب سے حضرت حکیم الامت کی شانِ اصلاح و ارشاد نہایت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے ان کا طریقہ اصلاح محض واعظ و تلقین نہیں تھا، وہ انسان کو سمجھتے تھے اس کے مزاج کو پڑھتے تھے اس کی کمزوری کے اسباب تک پہنچتے تھے اور پھر اصلاح کی ایسی طرز اختیار کرتے تھے جس میں شریعت کی پابندی بھی ہوتی، حکمت بھی، تدریج بھی اور انسانی نفسیات کی رعایت بھی۔ مولانا دریابادی رحمہ اللہ نے مرشد تھانوی رحمہ اللہ کے جو جوابی خطوط نقل فرمائے ہیں ــــــ اور واقعہ یہ ہے کہ اس کتاب میں مندرج نقوش و تاثرات کی ساری عمارت انہی جوابی خطوط کی نیو ہی پر استوار ہےـــــ ان سے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی عظمت اور اصلاحی شان کے ساتھ ساتھ زبان و بیان پر بھی ان کی ایسی قدرت سامنے آتی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔وہ الفاظ کو محض استعمال نہیں کرتے بلکہ ان سے کام لیتے تھے یوں کہنا چاہیے کہ لفظ ان کے ہاں کسی مزدور کے ہاتھ میں موجود اینٹوں کی طرح نہیں تھے جنہیں بس ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیا جائے ،بلکہ ایک ماہر معمار کے ہاتھ میں تراشے ہوئے پتھر کی طرح تھے جنہیں وہ مناسب مقام پر جڑ دیا کرتے تھے۔قافیہ بندی ،لفظی رعایتیں اور مناسبتیں، تجنیس اور دیگر لفظی صنعتوں کا برمحل اور بے تکلف استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی علمی اور مصلح شخصیت کے اندر ایک نہایت بیدار ادبی ذوق بھی موجود تھا ۔
مولانا محمد وقار اعظم صاحب زید مجدھم نے اس اشاعت پر جو مقدمہ لکھا ہے اس نے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب طَابَ اللہُ ثَرَاہ کے مقدّموں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ عموما مقدمہ کتاب کے دروازے پر نصب ایک مختصر سا کتبہ ہوتا ہے جس سے قاری کو کتاب کے اندر داخل ہونے سے پہلے کتاب کے موضوع ،مزاج اور اہمیت کا کچھ اندازہ ہو جاتا ہے ،مگر یہ مقدمہ محض رسمی پیش لفظ نہیں ہے بلکہ بجائے خود ایک مستقل علمی و ادبی کاوش ہے۔مقدمہ نگار کی زبان دانی، ادبیت ،علمیت اور سلاستِ بیان نے اسے ایک ایسی تحریر بنا دیا ہے جو خزینۂ معلومات بھی ہے اور خِزانہ ادب بھی۔
مقدمہ نگار نے ایک دلچسپ ادبی انکشاف یہ فرمایا ہے کہ سوانحی کتب کے لیے “نقوش و تاثرات” کی تعبیر کے” ابو عُذر” مولانا عبدالماجد دریا ابادی رحمہ اللہ ہیں اور بعد ازاں یہ تعبیر اس قدر مقبول اور رائج ہوئی کہ متعدد سوانحی کتب اس عنوان سے معنون چلی گئیں۔
مقدمے کا ایک فکر انگیز مگر نہایت شگفتہ حصہ کاتبوں (آج کل کمپوزروں کہہ لیجیے) کی کارستانیوں سے متعلق ہے۔ کتابت کی معمولی سی لغزش لفظ کا حلیہ بگاڑنے، معنی کا رخ بدلنے اور مصنف کی عبارت کے مفہوم کو کچھ کا کچھ بنا دینے کے سلسلے میں جو ستم ڈھاتی ہے، اسے مقدمہ نگار نے مولانا دریابادی رح کی شگفتہ نثر میں بیان کیا ہے، جس سے قاری نہ صرف یہ کہ محظوظ ہوتا ہے، بلکہ فنِ تدوین و تحقیق کی اہمیت و ضرورت کا احساس بھی اس کے دل میں اجاگر ہو جاتا ہے۔
مقدمے میں فنِ تحقیق و تدوین کے بعض بنیادی پہلوؤں پر بھی مفید گفتگو ملتی ہے۔ مثلاً عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ تدوین، یعنی ایڈیٹنگ، کا سورج ’’مغرب‘‘ سے طلوع ہوا ہے اور اس میدان میں گوئے سبقت مستشرقین کے ہاتھوں میں ہے۔ فاضل مقدمہ نگار نے دلائل و براہین کے ساتھ اس غلط فہمی کا ازالہ فرمایا ہے اور ثابت کیا ہے کہ مسلمان اس خوانِ علم پر مستشرقین کے زلّہ ربا نہیں ہیں، بلکہ دورِ نبوی اور زمانۂ صحابہ و تابعین میں اس کے ثبوت ملتے ہیں۔
مقدمے کے مطالعے سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ کتاب کی تصحیح، متن کی حفاظت، مختلف نسخوں کے تقابل، کتابتی اغلاط کی نشان دہی اور درست عبارت تک رسائی میں فاضل محقق و مدوّن کو کیسے کیسے ہفت خواں طے کرنے پڑے ہیں۔
اس مقدمے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کتاب کے پہلے آٹھ ایڈیشنوں کا تعارف بھی کرایا گیا ہے۔ ہر ایڈیشن کے ظہور، اس کی خصوصیات اور اس کے حوالے سے ایک متوازن و معتدل تبصرہ پیش کیا گیا ہے، جس سے ایک طرف سابقہ اشاعتوں کا تعارف سامنے آجاتا ہے اور دوسری طرف جدید اشاعت کی ضرورت بھی واضح ہو جاتی ہے۔
الغرض، یہ مقدمہ اپنی ادبی چاشنی، علمی افادیت، تحقیقی بصیرت، تاریخی معلومات اور شگفتہ اسلوب کے باعث محض کتاب کے لیے ایک تمہید نہیں، بلکہ بجائے خود علم و ادب کا ایک شاہکار ہے۔

فاضل محقق نے اس کتاب پر جو حواشی لکھے ہیں، وہ اس کے حسن کا ایک مستقل باب ہیں۔ عام طور پر حاشیہ اصل عبارت کے قابلِ توضیح مقام پر لکھی جانے والی توضیحی عبارت ہوتی ہے، لیکن یہاں حواشی کا دائرہ اس قدر وسیع اور متنوع ہے کہ انہیں محض حواشی کہنا شاید ان کے ساتھ انصاف نہ ہو۔ کہیں کسی لفظ کی تصحیح ہے، کہیں کسی عبارت کی توضیح، کہیں کسی واقعے کا پس منظر، کہیں کسی شخصیت کا تعارف، کہیں کسی تاریخی یا علمی دعوے کی تحقیق، اور کہیں مختلف مصادر سے رجوع کرکے کسی مسئلے کی پوری علمی تصویر سامنے لانے کی کوشش۔ اب آپ ہی انصاف فرمائیں کہ ان کو محض حواشی قرار دینا ناانصافی ہے یا نہیں!

ان حواشی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ فاضل محقق نے مولانا عبدالماجد دریابادی کی شخصیت اور علمی مقام سے متاثر ہو کر علمی احتیاط کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ جہاں کہیں مولانا دریابادی کی رائے اکابر اہلِ علم کی آرا سے مختلف ہے، وہاں اس اختلاف کی نشان دہی بھی کی گئی ہے اور بقدرِ ضرورت علمی تنبیہ بھی۔ مثلاً مسئلۂ تکفیر میں ان کی رائے اکابر اہلِ علم کی آرا سے مختلف تھی، حتیٰ کہ قادیانیت کے متعلق بھی ان کا موقف امت کے معروف متفقہ موقف سے میل نہیں کھاتا۔ چنانچہ مولانا وقار اعظم زید مجدہم نے حواشی میں مولانا دریابادی کے موقف کی پادرہوائی اور لغزش کو واضح طور پر بیان کرکے حق و باطل کے معاملے میں اپنی حساسیت اور علمی امانت داری کا ثبوت دیا ہے۔

اس پورے کام میں ایک اور چیز خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، اور وہ ہے فاضل محقق کی کتب، شخصیات اور علمی مباحث پر گہری نظر۔ کسی عبارت کی ظاہری سطح سے گزر کر اس کے پیچھے موجود علمی مسئلے کو دیکھنا، مختلف مصادر سے اس کا تعلق دریافت کرنا، اور پھر اسے مختصر مگر واضح انداز میں قاری کے سامنے رکھ دینا، اس کے لیے وسیع مطالعہ، مسلسل تحقیق اور علمی بصیرت درکار ہوتی ہے۔ حواشی کا مطالعہ کرتے ہوئے بارہا محسوس ہوتا ہے کہ فاضل محقق نے کتاب کو صرف پڑھا ہی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایک محقق کی طرح مکالمہ کیا ہے، اور اس مکالمے کے نتیجے میں کتاب نے ’’ما فی الکتاب‘‘ مع اس کے مصادر کے محقق کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔

اس اشاعت کی ایک قابلِ ذکر اور لائقِ تحسین و تقلید خوبی یہ ہے کہ اس میں جدید ٹیکنالوجی سے خوب اور عمدہ استفادہ کیا گیا ہے۔ مقدمے اور حواشی میں جہاں کسی دوسری کتاب کا حوالہ آیا ہے، ان میں سے بہت سے مقامات پر اس کتاب کا ’’کتاب کشا رمزِ فوری رسائی‘‘ (کیو آر کوڈ) بھی دے دیا گیا ہے، جسے موبائل فون سے رمز خوانی (اسکین) کرنے پر متعلقہ کتاب براہِ راست کھل جاتی ہے۔

آج کے دور میں، جبکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ عام ہو چکا ہے، یہ سہولت ایک کتاب کے مطالعے کو کئی کتابوں کے مطالعے میں بدل دیتی ہے؛ کیونکہ قاری ایک کتاب کو پڑھتے ہوئے صرف اسی کتاب تک محدود نہیں رہتا، بلکہ زیرِ مطالعہ کتاب میں موجود حوالوں کے ذریعے کئی دوسری کتابوں تک بھی بآسانی رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ گویا ایک کتاب ہاتھ میں ہوتی ہے اور اس کے صفحات سے علم و مطالعے کی کئی دوسری راہیں وا ہوتی چلی جاتی ہیں۔

الغرض، تحقیق، ترتیب، تدوین اور تحشیہ کے اعتبار سے یہ اشاعت انتہائی قابلِ قدر ہے۔ پرانی کتابوں کی جدید اشاعت محض دوبارہ چھاپ دینے کا نام نہیں، بلکہ اس کے لیے متن کی صحت، مختلف نسخوں سے استفادہ، اغلاط کی اصلاح اور بعض مقامات پر ضروری توضیح درکار ہوتی ہے، اور اس کتاب کی یہ اشاعت ان تمام معیارات پر بوجوہِ احسن و اکمل پوری اترتی ہے۔

’’حکیم الامت: نقوش و تاثرات‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جس میں ایک صاحبِ نظر ادیب نے ایک باکمال شیخ کو دیکھا، اور پھر ایک صاحبِ علم محقق و مدوّن نے اس مشاہدے کو تحقیق، ترتیب اور تعلیق کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے۔ مولانا عبدالماجد دریابادی نے حضرت حکیم الامت کی حیاتِ طیبہ کے جو “نقوش” اور ان کے متعلق اپنے جو “تاثرات” محفوظ کیے، اور مولانا وقار اعظم صاحب زید مجدہم نے انہیں نئی نسل کے قاری تک پہنچانے کے لیے جو علمی محنت کی، اس کا نتیجہ ایک ایسی کتاب کی صورت میں سامنے آیا ہے جو بیک وقت مطالعے کا ذوق بھی پیدا کرتی ہے اور مطالعے کی پیاس بھی بڑھاتی ہے۔

اس شاہکارِ علم و ادب کی ایک دل نشیں جہت اس کی ظاہری آراستگی اور اشاعتی نفاست بھی ہے۔ معہد المعارف، لاہور نے اسے جس حسنِ ذوق، خوش سلیقگی اور معیارِ طباعت کے ساتھ زیورِ اشاعت سے آراستہ کیا ہے، وہ بجائے خود قابلِ داد ہے۔ عمدہ کاغذ، دل کش سرورق، مضبوط جلد بندی، نفیس کتابت، حسین صفحہ آرائی اور اشاعتی لوازمات کی دیدہ زیب ترتیب اس حقیقت کی شاہد ہے کہ ناشر نے محض ایک کتاب شائع نہیں کی بلکہ علم کی حرمت اور کتاب کی عظمت کا حق ادا کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login