Web Analytics Made Easy - StatCounter
Duroos Yawmiyah

موسوعة الدرر المنتقاة اردو

تبصرہ بر کتاب ’’دروس یومیہ‘‘

ترجمہ : الدرر المنتقاة للكلمات الملقاة

تبصره نگار : ابوالمرجان فیضی

وعظ و تقریر ، درس و تذکیر کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں. لیکن اس میدان میں تصنیفات کی تعداد کم تھی. اکثر خطیب علماء قرآن و حدیث کا بنظر غائر مطالعہ کرتے. اور اہنے ذوق و پبلک کی ضرورت کے لحاظ سے درس و خطبہ خود ہی تیار کرتے. یہاں تک کہ زمانہ گزرا، مسلمانوں کی آبادی کے حساب سے ان کی دینی ضرورتیں بڑھیں تو اس موضوع پر بھی بہت سی کتابیں لکھی گئیں.

چنانچہ وعظ و تذکیر کی بعض کتابیں اس طرح ترتیب دی گئیں کہ اس میں ایک عنوان پر اختصار کے ساتھ کلیدی آیات اور حدیثیں جمع کی گئیں جیسے امام نووی کی ریاض الصالحین. اور ابن رجب حنبلی کی لطائف المعارف فیما لمواسم العام من الوظائف وغیرہ…

نیز اس موضوع پر بعض مطول کتابیں بھی تصنیف کی گئیں. جیسے شیخ صالح بن حميد اور عبد الرحمن الملوح کے اشراف میں تیار کی گئی موسوعۃ نضرة النعيم من أخلاق سيد المرسلين وغیرہ.

وعظ و درس کے لئے مختصرات میں شيخ ابن باز رحمه الله کی الدروس المھمۃ لعامة الأمة کافی اہم ہے جو سال کے دنوں پر تقسیم یے. اور تحفة الواعظين کے نام سے اس کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا ہے.

ان کتابوں کی خصوصیت یہ ہے کہ عوام کی ضرورت کے مطابق عناوین ترتیب دئے گئے ہیں اور ایک موضوع کے تحت کلیدی آیات و احادیث درج ہیں. نیز ماہ وسال کی مناسبت سے مواد اکٹھا کئے گئے ہیں. ان کو واضح استنباط و استدلال سے مزین کیا گیا ہے. جس سے سامع پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے اور خطیب کو مواد ڈھونڈنے میں پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا. اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ایک خطیب اگر ان کتابوں کو اپنے پاس رکھے تو اسے موضوعات اور مواد ڈھونڈنے میں پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا …

اسی سلسلے میں ایک گرانقدر اضافہ شیخ أمين بن عبد اللہ شقاوی حفظہ اللہ نے کیا ہے. جو وزارۃ الشئون الاسلامیہ کے داعی رکن ہیں. انہوں نے الدرر المنتقاة للكلمات الملقاة کے نام سے قیمتی دروس پر مبنی ایک انسائیکلوپیڈیا ترتیب دیا ہے جو بارہ جلدوں پر مشتمل ہے. پہلی جلد میں 150 دروس ہیں. ہر عنوان پر سیر حاصل گفتگو کی ہے. اس لئے ان کو چھوٹا موٹا درس نہیں بلکہ پورا خطبہ سمجھنا چاہیے . یہ دروس چار صفحات سے کم ہیں اور نہ ہی سات صفحات سے زائد . ہر درس میں موضوع کا پورا حق ادا کیا گیا ہے. احادیث کی صحت کا بھرپور التزام ہے. موضوعات کی رنگا رنگی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے. یہ موسوعہ نضرۃ النعیم کے مقابلے میں خطبوں کا ایک متوسط مجموعہ ہے. جس میں نصوص پر انحصار، حسن ترتیب، اور استدلال کی گہرائی و لطافت صاف جھلکتی ہے. عقیدہ و احکام، ایمان وعمل، احسان وتزکیہ. تفسیر و تاویل کا خوبصورت مرصع ہے.

موضوعات اتنا عموم لئے ہوئے ہیں کہ اگر کسی امام و خطیب کے پاس اس موسوعہ کے علاوہ دوسری کتاب نہ ہو تو بھی اسے دروس و خطبات کے لئے کسی دوسری کتاب کی ضرورت نہ پڑے.

مذکورہ بالا خوبیوں کی وجہ سے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ ضروری سمجھا گیا. ترجمے کا کام ایک ٹیم نے انجام دیا ہے. جس میں شیخ ابو عبد الرحمن شبیر نورانی، شیخ ریاض الدین بن جمال الدین فیضی اور حافظ عبد الرحمن طاہر مدنی شامل ہیں.

شیخ ریاض الدین بن جمال الدین فیضی کو میں فیض عام مئو میں تعلیم کے زمانے سے جانتا ہوں. موصوف کا تعلق بیت نار سدھارتھ نگر کے مشہور علمی گھرانے سے ہے. اللہ نے ان کے خانوادے کو وافر علم، باصلاحیت افراد اور مال کی برکت سے نوازا ہے. وہ جذبہ دعوت وعمل سے سرشار ہیں. اور فی الحال المکتب التعاونی للدعوة والإرشاد وتوعية الجاليات جنوب بریدہ القصيم میں داعی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں. وہاں بھی مجھے ساتھ رہنے اور کام کرنے کا موقع ملا ہے. دروس و تقریر کے ساتھ ساتھ ان کو ترجمے و تصنیف کا بھی شوق ہے. ان کی ایک کتاب سیرت کوئز پر ہے جس کا نام نبی رحمت ہے اور جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی پر 250 سوالات پر مبنی ہے. یہ کتاب ہند و پاک میں بہت مقبول ہے. بعض جگہوں پر داخل نصاب ہے.

انہوں نے زیر تبصرہ کتاب دروس یومیہ بدست خود ہدیہ فرمایا. جس کو پڑھ کر افادہ عامہ کی غرض سے تبصرہ کرنے کا خیال ذہن میں آیا.

موسوعہ کی پہلی جلد کا ترجمہ میرے سامنے ہے.. اس کا نام دروس یومیہ رکھا گیا ہے. ترجمہ سلیس ہے. یوں لگتا ہے جیسے یہ اصل تصنیف ہو ترجمہ نہ ہو. مشکل تعبیرات کی بڑی چابکدستی سے ترجمانی کی گئی ہے. عربی اشعار حذف کرکے ترجمے پر اکتفا کیا گیا ہے. کاش کہ ان اشعار کو باقی رہنے دیا جاتا. تاکہ عربی زبان کے طلبہ اور زیادہ محظوظ ہوتے. اس کتاب کی شان یہ ہے کہ اس کے موضوعات بہت اہم اور نایاب ہیں. جو اس موضوع کی دوسری کتابوں میں نہیں ملتے. بلکہ واعظین کے علاوہ یہ کتاب عام آدمی کے مطالعے کے بھی لائق ہے. جس سے اس کی دینی تربیت ہوگی اور معلومات و ثقافت میں اضافہ ہوگا. اردو داں طبقہ کے لئے تو یہ بیش بہا خزانہ ہے. کیونکہ بر صغير کا ایک خاص مزاج ہے جس کی وجہ سے اردو تقریر کی کتابوں میں لفاظی زیادہ ہوتی ہے ، سجع اور قافیہ کا زور ہوتا ہے. شعلہ بیانی ہوتی ہے. ضعیف اور موضوع احادیث کی کثرت ہوتی ہے. یہ کتاب الحمد للہ ان عیوب سے پاک یے. مضبوط اور متوازن لہجے ایک مسلم کی صحیح تربیت کرتی ہے.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login