مولانا عبد الماجد دریاآبادیؒ کی شاہکار کتاب “حکیم الامت: نقوش و تاثرات” کے جدید ایڈیشن پر چند تاثرات
اسد اللہ خان پشاوری
دو تین سال پہلے کی بات ہے۔ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں تھیں۔ میری عادت ہے کہ تعطیلات میں علمی وتصنیفی کام کر تا ہوں۔ لیکن مسلسل علمی مشاغل میں مصروف رہنے کے باعث طبیعت پر ایک طرح کی یکسانیت طاری ہو گئی تو دل نے چاہا کہ کچھ دیر زہد و تصوف کی فضا میں سانس لیا جائے۔ اسی خیال سے کتابوں کی الماری کے سامنے کھڑا مختلف عناوین پر نظر ڈال رہا تھا کہ اچانک مولانا عبدالماجد دریاآبادی کی کتاب “حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی: نقوش و تاثرات” پر نگاہ ٹھہر گئی۔ یہ ملتان کا چھپا ہوا ایڈیشن تھا۔ اس سے پہلے کئی مرتبہ یہ کتاب سامنے آئی، مگر مطالعے کی نوبت نہ آسکی تھی۔ جوں ہی کتاب کھولی، اس کی دل آویز اسلوب نگاری اور روح پرور مضامین نے ایسا مسحور کیا کہ چند صفحات کے بعد اسے بند کرنا دشوار محسوس ہونے لگا۔ ابھی مطالعہ مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ تبلیغی جماعت کے سہ روزہ سفر میں تشکیل ہو گئی۔ میں نے کتاب کو بھی سامانِ سفر کا حصہ بنا لیا۔ جہاں کہیں چند لمحوں کی فراغت ملتی، یہی کتاب ہاتھ میں ہوتی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میں کتاب نہیں پڑھ رہا بلکہ ایک صاحبِ دل کی مجلس میں خاموشی سے بیٹھا ہوں۔
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی متعدد کتابیں پہلے بھی پڑھ چکا تھا، اس لیے ان کی علمی عظمت اور روحانی رفعت سے پہلے ہی قلبی تعلق قائم تھا۔ البتہ مولانا عبد الماجد دریاآبادیؒ کی تصانیف میں میری واقفیت زیادہ تر تفسیرِ ماجدی تک محدود تھی۔ تفسیر میں مصنف کی شخصیت پس منظر میں رہتی ہے، مگر اس کتاب میں تو گویا خود مولانا دریاآبادی اپنی پوری فکری اور روحانی زندگی کے ساتھ قاری کے سامنے موجود ہیں۔ مطالعہ ختم ہونے کے بعد کئی ہفتوں تک اس کتاب کی تاثیر میرے دل و دماغ پر قائم رہی۔
رمضان گزرا، نیا تعلیمی سال شروع ہوا اور میں دوبارہ اپنی علمی مصروفیات میں کھو گیا۔ اگلا رمضان آیا تو عجیب بےاختیار کیفیت کے ساتھ ہاتھ پھر اسی کتاب کی طرف بڑھ گئے۔ میں نے اسے دوبارہ پڑھنا شروع کیا، اور اتفاق دیکھیے کہ اسی دوران ایک مرتبہ پھر سہ روزہ سفر کی تشکیل ہو گئی۔ اس مرتبہ بھی کتاب میرے ساتھ تھی۔ رمضان کی روح پرور ساعتیں، تبلیغی سفر کی سادگی، دنیاوی مشاغل سے وقتی بےنیازی اور اس کتاب کا مطالعہ، یہ سب مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کر رہے تھے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا آسان نہیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کتاب سے نہیں، اس کے مصنف اور حضرت تھانویؒ سے براہِ راست سرگوشیاں ہو رہی ہوں۔
البتہ دونوں مرتبہ مطالعہ کرتے ہوئے ایک احساس شدت سے دل میں ابھرتا رہا کہ جس قدر یہ کتاب اپنے علمی اور روحانی سرمایہ کے اعتبار سے قیمتی ہے، اس کی سابقہ اشاعتیں اس معیار کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ بارہا خیال آتا کہ اس کتاب کی اشاعت بھی بیروت کی نفیس علمی کتابوں کے شایانِ شان ہونی چاہیے۔
پھر ایک دن فیس بک پر اچانک اس کتاب کے نئے ایڈیشن کا سرورق نظر سے گزرا۔ اس لمحے جو خوشی محسوس ہوئی، اسے بیان کرنا مشکل ہے۔ معلوم ہوا کہ تقریباً کئی برس کی مسلسل محنت کے بعد یہ نیا ایڈیشن شائع ہوا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس نے سابقہ تمام اشاعتوں کا معیار بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اردو دنیا میں اس درجے کی تحقیق، تدوین، تقابلِ نسخ اور فنی اہتمام کے ساتھ کتابوں کی اشاعت کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ صرف ایک جلیل القدر مفتی اور عظیم عالمِ دین ہی نہیں تھے بلکہ ایک بے مثال مربی اور روحانی معالج بھی تھے۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے فکری، عملی اور روحانی مسائل لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ مولانا عبد الماجد دریاآبادیؒ خود غیر معمولی مطالعے اور وسیع علمی پس منظر کے حامل تھے، لیکن زندگی کے ایک نازک مرحلے میں انہیں ایسے سوالات اور اشکالات نے گھیر لیا جن کے تسلی بخش جواب ان کے لیے ناگزیر تھے۔ بڑی جھجک اور احتیاط کے ساتھ انہوں نے حضرت تھانویؒ سے رابطہ کیا، مگر وہاں سے انہیں ایسی شفقت، وسعتِ قلب اور حکمت آمیز رہنمائی ملی کہ پھر انہوں نے اپنے دل کے سارے دریچے کھول دیے۔ یکے بعد دیگرے اپنے تمام اشکالات پیش کرتے گئے اور حضرت تھانویؒ نہایت حکمت، محبت اور بصیرت کے ساتھ ان کی رہنمائی فرماتے رہے۔ جن فکری الجھنوں کے حل کے لیے انہیں کسی افلاطون یا جالینوس کی تلاش تھی، وہ انہیں حضرت تھانویؒ کی صورت میں مل گیا۔ یہ ضخیم کتاب درحقیقت انہی سوالات، مکاتبات اور ان کے حکیمانہ جوابات کا ایک بیش قیمت ذخیرہ ہے۔
جہاں تک اس نئے ایڈیشن کا تعلق ہے تو ہر اعتبار سے قابلِ تحسین ہے۔ کتاب عام سائز سے بڑی ہے، عمدہ معیار کے کاغذ پر شائع ہوئی ہے اور اس کے ۵۳۶ صفحات دیدہ زیب طباعت کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر متن کی تحقیق، ضبط اور تصحیح میں غیر معمولی محنت صرف کی گئی ہے۔ محقق، مولانا محمد وقار اعظم صاحب (متخصص فی الحدیث) نے نہ صرف حضرت تھانویؒ اور مولانا عبد الماجد دریاآبادیؒ کی دیگر تصانیف کا وسیع مطالعہ کیا بلکہ سابقہ آٹھوں ایڈیشنوں اور مجلہ صدق میں شائع ہونے والی قدیم اشاعت کو بھی سامنے رکھ کر متن کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔ جہاں ضرورت محسوس ہوئی، وہاں نہایت باریک بینی کے ساتھ حوالہ جات کا اضافہ کیا گیا ہے، اور پروف ریڈنگ میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا۔

