Quran Wa Hadees Aur Aurat Ka Daira Kar

قرآن و حدیث اور عورت کا دائرۂ کار – Part 1

آج کے عہد کا یہ ایک اہم سوال ہے کہ عورت کا دائرۂ عمل کیا ہے؟اس باب میں ایک عمومی راے پائی جاتی ہے کہ اس کا اصل مقام یہ ہے کہ وہ گھر میں رہے ۔لیکن یہ راے نصوص قرآن و حدیث کے بجاے محض علاقائی تصورات پر قائم ہے۔اگر کوئی نصوص اس میں استعمال بھی ہوئی ہیں تو وہ محض سرسری اور سیاق و سباق کے لحاظ رکھے بغیر استعمال ہوئی ہیں۔ اس مقالہ میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی ۱؂ میں اس موضوع پر بحث کریں گے اور دیکھیں گے کہ قرآن و سنت کے نصوص کیا کہتے ہیں۔ ان نصوص سے کیا بات اصل میں مراد ہے۔خاص طور پراحادیث میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں واقعات ایسے منتقل ہوئے ہیں جس سے عورت کے دائرۂ عمل کے بارے میں ہمارے موجودہ دینی تصورات کو حیرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہماری راے قرآن وسنت کے نصوص کے براہ راست اور گہرے مطالعہ سے یہ بنی ہے کہ قرآن وسنت عورت کے گھر سے باہر نکلنے کے آداب اور حدودو قیود ضرورمقرر کرتے ہیں، لیکن عورت کو نہ کام کرنے سے روکتے ہیں اور نہ گھر سے باہر نکلنے کو۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حدود وقیود ہی اس بات کاثبوت ہیں کہ انھیں گھر سے باہر نکلنے ، مردوں سے معاملات کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ کیونکہ اگر انھیں یہ آزادی حاصل نہیں ہوتی تو اس قانون کے دینے کا مقصد ہی کیا تھا؟
ہمارے پاس دو قسم کے نصوص قرآن مجید میں ہیں: ایک وہ جس میں مجھے عصر حاضر کی امت کے عمومی فہم سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔دوسرے وہ جن میں ہم عمومی مسلک سے یہاں اختلاف کریں گے۔ مثلاً سورۂ احزاب وہ سورہ ہے جس میں دورحاضر کے علما کے ایک طبقہ نے راے بنانے میں سیاق و سباق کا خیال نہیں رکھا۔۲؂ عرب وعجم کے ان علما کے ہاں ایک عمومی رجحان یہ پیدا ہوا ہے کہ قرآن مجید کے جملے اپنے سیاق و سباق سے کاٹ کر، بلکہ اپنے جملے سے بھی کاٹ کر استعمال کررہے ہیں۔ مثلاً (الشحود ۲۰۱۰) علی بن نایف نے اپنی کتاب ’’القرآن الکریم فی مواجہۃ الجاہلیۃ‘‘ میں ایک باب ’المرأۃ بین عفاف الإسلام ورجس الجاہلیۃ‘ (ص ۶۶) کے نام سے لکھا ہے۔ اس باب میں اسلام کی عفت کا اصول سورۂ احزاب کی درج ذیل آیت سے نکالا ہے:

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا.(۳۳: ۳۲۔۳۴)

اس میں جس ’تطہیر‘ کا تعلق ہے ، اس کا کوئی تعلق اس عمومی عفت سے نہیں ہے، یہ خاص ازواج مطہرات کا معاملہ ہے۔ اس سلسلۂ آیات کا آغاز ’یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ‘ سے ہوا ہے۔ان آیات کو عمومی معنی میں لینا ایسا ہی ہے، جیسے ازواج مطہرات والے اس قانون کو کہ وہ ہماری مائیں ہیں عام کردیا جائے۔جس کے معنی یہ بن جائیں گے کہ ہر مذہبی پیشوا کی ازواج اس کے مریدوں کے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہیں۔دوسرے یہ کہ یہاں تطہیر سے مراد عفت نہیں ہے،بلکہ منافقین کی ریشہ دوانیوں سے بچانا مراد ہے۔مذکورہ بالا تطہیرآیت ۳۳ میں بیان ہوئی ہے، جبکہ منافقین کا ذکر آیت ۳۲ میں ہے۔ یہاں ’تطہیر‘ اسی معنی میں آیا ہے جو سورۃ المائدہ کی درج ذیل آیت میں آیاہے:

اِذْ قَالَ اللّٰہُ یَا عِیْسَی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا…. (آل عمران۳: ۵۵)
’’یاد کرو، جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ، میں تمھیں متوفی کروں گااوراپنی طرف اٹھا لوں گا اورتمھیں کافروں سے مطہر کردوں گا(یعنی بچا لوں گا)‘‘ …۔

ویسے بھی قرآن مجید میں ’مُطَہِّر‘ کا لفظ کہیں بھی عفت کے معنی میں نہیں آیا قرآن مجید میں یہ میل کچیل اتارنے اور جسمانی ناپاکی دور کرنے کے معنی میں تو آیا ہے، مگر باطنی ناپاکی کی دوری کے لیے ’تَزْکِیَۃ‘ کا لفظ آیا ہے۔ جبکہ سورۂ احزاب کی آیت ۳۲ کے بنائے ہوئے سباق سے یہ بات واضح ہے کہ یہ یہاں بچانے کے معنی میں آیا ہے۔
اس مقالے میں ہمار اطریق کار یہ ہو گا کہ ہم متفقہ آیات سے معلوم ہونے والے احکام کو مختصراً نکات کی صورت میں بیان کریں گے۔جن مقامات پر ہم کوئی مختلف بات کریں گے وہاں ہم اپنا استدلال بھی عرض کردیں گے۔اس استدلال کی بنیاد لسانی ہوگی اور اسلاف کے حوالوں پربھی ہوگی۔

حدیث والے باب میں کسی تاویل سے کام نہیں لیا گیا۔جو سادہ مفہوم متبادرہورہا ہے، اسی سے استدلال کیا گیا ہے۔میں نے کوشش کی ہے کہ صاحبین بخاری و مسلم تک محدود رہوں تاکہ حدیث کی صحت و سقم کے بارے میں تردد پیدا نہ ہو۔اس مقالے کی ضرورت کے پیش نظر ان کتب کے حوالے جدید طرز پر دے دیے ہیں، یعنی حدیث کا نمبر بتا دیا ہے۔
عورت کے گھر سے باہر کے کاموں میں حصہ لینے کی یہ اجازت مطلق نہیں ،بلکہ مرد ہی کی طرح عورت، یعنی دونوں کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت اور اپنی ضرورت اور شوق کے کام پورا کرنے کے لیے تمام دینی احکام کی پابندی کرنا لازم ہے۔اسی طرح زندگی کے کاموں میں صحیح ترجیحات قائم ہونی چاہییں۔ بنیادی کاموں اور شوق و تفریح کے کاموں کا فرق ملحوظ رکھناہوگا۔ان میں سے چند امور کا اس مضمون میں ہم ذکر کریں گے۔

فصل اول

قرآن مجید کے احکام

لباس کا حکم

قرآن مجیدسے لباس سے متعلق ایک ہدایت سورۂ اعراف میں آئی ہے، اور اس کا تاریخی حوالہ حضرت آدم کے وقت سے جوڑا ہے۔ قرآن مجید کا فرمان ہے:

یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْشًا وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِیُرِیَھُمَا سَوْاٰتِھِمَا اِنَّہٗ یَرٰکُمْ ھُوَ وَقَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَھُمْ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ اٰبَآءَ نَا وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا قُلْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ.(الاعراف ۷: ۲۶۔۲۸)

’’اے اولاد آدم، ہم نے تمھیں لباس عطا کیا ہے تاکہ وہ تمھاری شرم گاہوں کو ڈھانپے،اور ہم نے (تمھیں لباس کی صورت میں) پر۳؂ دیے ہیں۔ اور تقویٰ والا لباس وہ تو سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی آیات ہیں تاکہ تم اچھی بات کی نصیحت حاصل کرو۔اے اولاد آدم، (ان حکموں کو اپناؤ تاکہ) شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کردے۔جیسے اس نے تمھارے ماں باپ (آدم و حوا)کو جنت سے نکلوا دیا تھا، ان کا لباس ان سے چھین کر، تاکہ ان پر ان کی شرم گاہ کوباہم دکھادے، شیطان اور اس کا ٹولہ تمھیں دیکھ رہا ہے، اس طرح سے کہ تم انھیں نہیں دیکھ سکتے، ہم نے شیاطین کو صرف ان کا دوست بنایا ہے، جو ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب یہ لوگ فحاشی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسا ہی کرتے پایا ہے اور اللہ ہی نے اس کا حکم دیا ہے۔ ان سے کہو کہ اللہ فحش کاموں کا حکم نہیں دیتا۔ اللہ سے وہ بات منسوب کرتے ہوجس کا تمھارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘‘

ان آیات کریمہ سے درج ذیل اہم امور معلوم ہورہے ہیں:
* لباس کے دو مقصد ہیں: اخلاقی اور طبعی، یعنی بالترتیب ۱۔ ستر پوشی اور ۲۲۔ زیبایش اور موسمی اثرات سے بچاؤ۔
* لباس کا اخلاقی مقصد جسم کی ستر پوشی ہے۔ ’یُوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ‘ کے الفاظ اسی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں۔ یہ بیان علت ہے۔ اور لباس کے حکم کا سبب یہ ہے کہ ان کے افشا سے بچا جائے۔ یہ حکم وضعی ہوا ۔۴؂
* لباس کے بارے میں بے احتیاطی جنت سے محرومی کا سبب ہے ، جسے یہاں قصۂ آدم و حوا کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔
* لباس کا تعلق ’فحشاء‘ کے روکنے سے ہے۔جسے آیت ۲۸۸ میں بیان کیا گیا ہے۔یہ لباس کے اخلاقی پہلو کی علت ہے۔یہ ترکِ لباس کا مانع ہے۔
* لباس کا دوسرا مقصد زیب و زینت، اور موسمی اثرات سے ذریعۂ نجات ہے۔ اس بات کو ’ریشا‘کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ پرندے کے پروں کے لیے ہے، جو زیبایش اورگرمایش دونوں کام دیتے ہیں۔ یہ لباس کے لیے طبعی اسباب ہیں۔
* زینت والے لباس پر تقوے کا پہرا بٹھایا جائے۔ اس بات کوقرآن مجید نے ’وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ‘ سے سمجھایا ہے۔ یہ مقصدِ لباس ہے۔ اس کے لیے حکم سورۂ نور میں آیا ہے۔
* لباس کے بارے میں بے احتیاطی شیطانی بہکاوا ہے ، اس کا شکار وہ لوگ ہوتے ہیں جو پکے ایمان سے محروم ہوں۔یہ بات آیت ۲۷ میں بیان کی گئی ہے۔ یہ لباس کے حکم کی سنجیدگی کو نمایا ں کرتی ہے۔
* یہ ہدایات تمام بنی آدم کے لیے ہیں، اس کی طرف اشارہ ’یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ‘ کے الفاظ سے کیا گیا ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ مرد و عورت ، جوان و بزرگ ، مسلم و غیر مسلم ہر کسی کے لیے ہیں۔
* آدم و حوا علیہما السلام کے جنت سے نکلوائے جانے کا عمل بھی کسی نہ کسی پہلو سے لباس ہی سے متعلق تھا۔یہ بھی لباس کی اہمیت کو یاددلاتا ہے۔
انھی آیات کے ذیل میں وہ احادیث بھی آئیں گی جن میں آپ نے ایسے لباس کو غلط قرار دیاہے، جو یاستر پوشی نہیں کرتا یا فحشاء کا سبب ہے۔ جیسے آپ کا فرمان ہے:

عَنْ عَاءِشَۃَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِيْ بَکْرٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہَا ثِیَابٌ شَامِیَّۃٌ رِقَاقٌ، فَأَعْرَضَ عَنْہَا ثُمَّ قَالَ: ’’مَا ہٰذَا یَا أَسْمَاءُ؟ إِنَّ الْمَرْأَۃَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِیْضَ لَمْ یَصْلُحْ أَنْ یُرٰی مِنْہَا إِلَّا ہٰذَا، وَہٰذَا‘‘ وَأَشَارَ إِلٰی وَجْہِہِ وَکَفَّیْہِ.
’’سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ (ان کی بہن) ابوبکر صدیق کی بیٹی اسماء رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو انھوں نے ایک باریک شامی لباس پہن رکھا تھا۔ جب آپ کی نظر پڑی تو آپ نے منہ دوسری طرف کرلیا۔ پھر گویا ہوئے: اسما ء یہ کیا پہن رکھا ہے؟ جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے لیے یہ درست نہیں کہ اس کے جسم کے اعضاء نظر آئیں سوائے ان دو کے، اورآپ نے چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا۔‘‘

خلاصہ

لباس اخلاقاً شرم گاہوں کو ڈھانپنے کے لیے ہے، تاکہ فحشا سے بچا جاسکے۔یہ ایمان اور تقویٰ کا لازمی تقاضا ہے، یہ پوری انسانیت کے لیے اللہ کا حکم ہے، لہٰذا یہی انسانی فطرت ہے۔اس کے قانونی پہلو سورۂ نور کی روشنی میں آگے زیر بحث آئیں گے۔
اس ہدایت میں عورت کے لیے گھر سے باہر نکلنے کے لیے کوئی مانع بیان نہیں ہوا۔

احکام

پہلا مقام

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ م بِمَا یَصْنَعُوْنَ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاٰبَآءِھِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اَخَوٰتِھِنَّ اَوْ نِسَآءِھِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِالتّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِالطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ.(۲۴: ۳۰۔۳۱)

* عورتوں اور مردو ں کو یہاں پہلا حکم غض بصر کا دیا گیا ہے۔صنف مخالف کے سراپے کا جائزہ لینے سے روکا گیا ہے۔ یعنی غیر مردو عورت کے حسن اور سراپے کو نہارنے سے روکا گیا ہے۔ اورنگاہ کو نگاہ سے چار کرنے سے منع کیا گیا ہے، جس میں صنف مخالف کے لیے پیغام رسانی ہو، کشش ہو یا شہوت ہو۔
* عورتوں اور مردوں کو دوسرا حکم حفاظتِ فرج کادیا گیا ہے، اسے بعض اوقات صرف بدن ڈھانپنے کے معنی میں لیا گیا ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے،کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو حفظِ فرج کے بجاے ستر فرج کا حکم ہوتا۔ یہ دراصل تمام صنفی تعلقات کو جامع ہے۔ یعنی اپنے عشوہ و اداسے پھسلانے سے لے کر اعضاے صنفی کو غیر پر ظاہر کرنے اور یہاں سے لے کر زنا تک تمام چیزیں اس میں آجاتی ہیں۔ یعنی لباس پہنے ہوئے ہونے کے باوجود شرم گاہوں کی طرف رغبت اور متوجہ کرنے والے امور سے رکنا۔ کپڑوں کا خیال رکھنا کہ وہ پہنے ہوئے ہونے کے باوجود برہنگی پیدا نہ کردیں، جیسے اٹھتے بیٹھتے ہوئے کپڑوں کا اپنے جگہ سے ہٹ جانا وغیرہ۔
اخفاے زینت: ۵؂؂ یہ حکم صرف عورتوں کے لیے ہے ۔ حسن وجمال کو عیاں نہ کرنا سوائے ان مقامات کے جو چلتے پھرتے کام کرتے نمایاں ہوتے ہی ہیں ، جیسے ہاتھ اورچہرہ، ۶؂ یہ دونوں عام طور پر (جبلۃً) کھلے ہی رہتے ہیں۔ علامہ الزمخشری (۱۴۰۷ھ) رقم فرما ہیں: ’وہذا معنی قولہ إِلَّا ما ظَہَرَ مِنْہا، یعني إلا ما جرت العادۃ والجبلۃ علی ظہورہ والأصل فیہ الظہور‘، اس قول الٰہی کہ ’اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْھَا‘ سے مراد یہ ہے کہ جو عادت اور جبلت کی رو سے کھلا ہی رہتا ہے، اور اس میں اصل صورت یہی ہے کہ وہ کھلا رہے۔ (۳/ ۲۳۱)
زینت ایک بہت جامع لفظ ہے، جس کے معنی میں حسن، اصل معنی کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ وہ فطری ہو یا غازہ کی کرامات ہو۔اسی سے یہ لفظ بعدمیں مجازاً ان چیزوں کے لیے بھی بولا جانے لگا، جو حسن و زیبایش کا سبب ہوتی ہیں، جبیے زیورات، سرخی پوڈر وغیرہ۔ لہٰذا یہ بات واضح رہے کہ یہ حکم لباس کا نہیں ہے۔بلکہ غیرمردوں پر اظہارِ زینت سے متعلق ہے۔یعنی اپنے حسن وجمال کی طرف نامحرموں کو ، اپنے لباس، سنگھار اورعشوہ و ادا سے نمایاں و ظاہر کرنا۔یعنی اظہارِ حسن تین طرح سے ہو سکتا ہے: لباس کی تراش خراش، بناؤ سنگھار، اور عشوہ و ادا۔ تینوں سے یہاں منع کیا گیا ہے۔ عشوہ و ادا کی ایک مثال کا ذکر پائل کی جھنکار کی صورت میں کیا گیا ہے۔
یعنی اپنے فطری حسن کو لباس، سنگھار اور اداؤں کی دل فریب حرکات سے ظاہر کرنے اور اس سے صنف مخالف کو باخبراور متوجہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ مثلاً محض جسم کے نشیب و فراز کو بغیر کسی زیور اور میک اَپ کے محض لباس کی کاریگری سے یا محض اداؤں کی فتنہ گری سے اس طرح پیش کرنا کہ اس میں کشش بڑھ جائے یہ بھی ابداے زینت ہوگا۔اور اس کو زیور وغازہ سے مزید مزین کرنا تو بدرجہ اولیٰ اس میں شامل ہے۔ لہٰذا خواتین کو حفظِ فروج کے ساتھ ساتھ اس باب میں بھی استعفاف کا حکم دیا گیا ہے کہ نامحرموں کے سامنے جب وہ آئیں تواظہار حسن وجمال سے بچیں، اس کے لیے دو علاج تجویز کیے گئے ہیں: ایک گریبان پر کپڑا رکھنا اور دوسرے چلتے ہوئے احتیاط سے چلناکہ مخفی زینت کا اظہار بھی نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے یہ تین حکم دیے گئے ہیں:
o بناؤ سنگھار کے چھپانے کے لیے اوڑھنی سے گریبان کو ڈھانپنا چاہیے۔
oo چند لوگوں کے سوا باقی سب سے بناؤ سنگھار کو چھپانا۔ یہ ان لوگوں کی فہرست ہے جن کے لیے اسلامی تہذیب میں لوگ بالعموم صنفی کشش اور میلان نہیں رکھتے ۔ان میں عورتیں بھی شامل ہیں۔
o بناؤ سنگھار کے لیے پہنے ہوئے زیورات وغیرہ سے پاؤ ں مار مار کر جھنکار پیدا نہ کرنا۔
اگر بنظر غائر تمام حکم کو دیکھا جائے تو یہ مردوں اور عورتوں کے اکٹھا ہونے کے وقت غلط رویوں سے بچنے کا حکم ہے۔یعنی نگاہیں چار کرنا، اپناحسن وجمال دکھاتے پھرنا وغیرہ۔یہاں لباس کے قانون کا مسئلہ بیان نہیں ہو رہا، یہی وجہ ہے کہ خواتین کو بھی زینت چھپانے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ یہاں پردہ اور لباس نہیں، بلکہ رویہ زیر بحث ہے۔
تین رویے ہیں، جو جنسی بے راہ روی کی راہ کھولتے ہیں:
ایک نگاہ بازی ، جس میں صنف مخالف کے سراپے کو نہارا جاتا اور یوں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والافریفتہ حسن و جمال ہے، تاکہ اس کو اپنی طرف مائل کرے۔اس کے سدباب کے لیے غض بصر کا حکم آیا ہے۔
دوسرے شرم گاہوں سے متعلق فحش حرکات وسکنات، حیلے بہانے سے شرم گاہ ظاہر کرنا وغیرہ۔ یہ صنف مخالف کو مائل بہ گناہ کرنے کاسریع ترین طریقہ ہے ۔ اس کے روکنے کے لیے حفظ فروج کا حکم آیا ہے۔
تیسرے بن ٹھن کر عشوہ و ادا دکھانا، اس کی برائی سے بچانے کے لیے اخفاے زینت کا حکم آیا ہے۔

دلیل و شاہد

ہمارے تھیسز کے حق میں یہ بات یہاں سے معلوم ہو رہی ہے کہ یہاں عورت کو گھر میں ٹکے رہنے کا نہیں کہا گیا ، بلکہ ان تین امور میں احتیاط برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔گویا اگر کوئی عورت ان امور کی پاس داری کرتے ہوئے معاشرے میں تعمیری و ملی کام کرسکتی ہے تو اسے کم ازکم ان آیات کے لحاظ سے شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔یعنی اس مقام میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جو عورت کے دائرۂ کار کو متعین کرتی ہو۔

معاشرے میں مردو عورت کے مابین تعلق میں خرابی کے پیدا ہونے کا امکا ن ان احکام کا سبب ہے، یہ حکم وضعی ہے۔اس حکم کا تعلق جس قدر گھر میں رہ کر ہے، اسی قدر گھر سے باہر ہے۔ لہٰذا اسے عورت کے گھر سے باہر نکلنے میں مانع نہیں مانا جاسکتا، مثلاً جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’الحمو الموت‘۷؂ (دیور موت ہے) تو اس کے معنی ہر گز یہ نہیں ہیں کہ دیور کو گھر سے نکال دیا جائے، حالاں کہ اس فرمان کا سبب بھی وہی ہے جو حجاب کا ہے۔اس لیے یہ مانع نہیں، بلکہ محض غایت احتیاط کا اسلوب ہے۔

عورت کے گھر سے باہر نکلنے کے لیے کوئی وضعی یا تکلیفی حکم یہاں موجود نہیں ہے۔یعنی یہاں کوئی ایسا مانع بیان نہیں ہو ا کہ جس کی وجہ سے ہم عورت کو منع کرسکیں۔

دوسرا مقام

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْھِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَھُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍ م بِزِیْنَۃٍ وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌلَّھُنَّ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّلَا عَآٰی اَنْفُسِکُمْ اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْم بُیُوْتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآءِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اُمَّھٰتِکُمْ اَوْبُُیُوْتِ اِخْوَانِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِکُمْ اَوْ مَا مَلَکْتُمْ مَّفَاتِحَہٓٗ اَوْ صَدِیْقِکُمْ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُےُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَآٰی اَنْفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ.(۲۴: ۶۰۔۶۱)

* نکاح کی توقع سے بڑی عمر والی خواتین، وہ دوپٹا یا چادر اتار سکتی ہیں، جو سینے پر زینت چھپانے کے لیے ڈالی گئی تھی، لیکن یہ بھی اس وقت کہ جب ’تبرج‘ پیش نظر نہ ہو ۔ یہاں ’یُبْدِیْنَ‘ کے بجاے ’متبرجات‘ کا لفظ آیا ہے۔ اس کے معنی دکھانے کے بھی ہیں اور مزین کرنے کے بھی، ’تبرج بزینۃ‘، کے اس صورت میں دومعنی ممکن ہیں: ایک دکھانے کے معنی میں یہ ’یبدین‘ سے زیادہ شدت اپنے اندر رکھتا ہے۔ یعنی حیا داری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اظہار زینت۔ التیفاشی (۱۹۸۰) نے لکھا ہے: ’وتبرج المرأۃ وہو تعرضہا لأن تظہرَ وتُریَ‘ (ص ۱۹۹)۔ اگر ایساارادہ نہ ہو تو یہ کپڑااتارنا منع نہیں ہے۔

دوسرے معنی سجنے کے ہیں، یعنی بناؤ سنگھار سے بن ٹھن جانا، یعنی اگر ان عورتوں نے بناؤ سنگھاریا زیبایش نہ کی ہو تو صرف اسی صورت میں گریبان سے دوپٹا ہٹا سکتی ہیں۔
* ’غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِیْنَۃٍ‘ کا لفظ قرینہ ہے اس بات کا کہ:
o ایک یہ حکم ’وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ‘ (النور ۲۴: ۳۱) میں تخفیف ہے، کیونکہ وہ بھی زینت سے متعلق تھا اور یہ یھی زینت سے متعلق کیا گیا ہے ۔اور
oo دوسرے یہ کہ زینت سے مراد جسم دکھانا نہیں ہے،محض حسن و جمال کا اظہار ہے۔ کیونکہ ’متبرج‘ برہنگی کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔
oo ’غیر متبرجات‘ اسم صفت ہے جو وصف یا طرز عمل پر دلالت کرتا ہے، اور شدتِ عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
* دوستوں کے گھروں میں جاکر مل کر یا الگ الگ کھانے کی اجازت ہے۔ یہ بات ان الفاظ میں کہی گئی ہے: ’صَدِیْقِکُمْ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا‘۔ قرینہ واضح ہے کہ مردو عورت کے اختلاط کی بات ہورہی ہے، لہٰذا اکٹھے اور الگ الگ کھانے کی مراد انھی صنفوں کا اجتماع و افتراق ہے۔

دلیل و شاہد

یہاں بھی کوئی ایسی بات موجود نہیں ہے جو دائرۂ کار کو متعین کرتی ہو۔ بلکہ یہاں مردو زن کے پاکیزہ اختلاط پر مزید تائیدی احکام ہیں، جیسے کہ مل کر دوستوں کے گھر کھانا کھانا وغیرہ۔
یہاں بھی کوئی وضعی و تکلیفی امور عورت کے لیے بیرونی دائرۂ عمل کے لیے مانع نہیں بنتا۔ اگر کوئی مانع یہاں بیان ہوا ہے تو وہ ’تبرج الجاہلیت‘ ہے۔ جس کا تعلق ’وضع ثیاب‘ سے ہے نہ کہ گھر سے نکلنے سے۔

ماہنامہ اشراق

قرآن و حدیث اور عورت کا دائرۂ کار (2/3)

قرآن و حدیث اور عورت کا دائرۂ کار (3/3)

_______________________________________
۱؂؂ واضح رہے کہ ان نصوص کے فہم میں استاذِ گرامی کی کتاب ’’میزان‘‘ میں موجود بحث ’’مرد و زن کا اختلاط‘‘ پر انحصار کیا گیا ہے۔
۲؂ علمی تنقیح کے لیے دیکھیے ’’میزان‘‘ اور ’’البیان‘‘ از جاوید احمد صاحب غامدی۔
۳؂؂ پر اور بال جانوروں کے لیے وہی کام کرتے ہیں، جو ہمارے لیے لباس کرتا ہے۔ ہماری جلد کو بالوں اور پروں سے جب صاف کیا گیا تو ہمیں لباس کا حکم دیا گیا، اور اس کے لباس بنانے کی چیزیں بھی پیدا کی گئیں۔
۴؂ اس طرح کے مباحث کانفرنس کی ضرورت کے پیش نظر ڈالے گئے ہیں۔
۵؂؂ بعض مفسرین و فقہانے زینت سے مراد اعضاے بدن لیا ہے۔یہ درست نہیں ہے۔ آگے کا ایک حکم جس میں پائل وغیرہ کی چھنکار کو زینت کے ابداء کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ جس کا کوئی تعلق کسی عضو سے نہیں ہے۔ دل چسپی کی بات یہ ہے کہ اس میں دیکھنے کا عمل بھی نہیں ہوتا۔ بس آواز پیدا کرنے سے روکا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ پرانے زمانے میں خواتین سینہ کو ننگا رکھتی تھیں۔ اس کو ڈھانپنے کا حکم ہے۔یہ بھی درست نہیں ہے۔اس لیے کہ زینت کا لفظ اس معنی میں عربی میں نہیں ہے، اور اس مجاز کا یہاں کوئی قرینہ نہیں ہے۔ جبکہ زیورات کے لیے آگے پاؤں کی ضرب سے مخفی زینت کا واضح قرینہ موجود ہے۔مزید یہ بات کہ اس زینت کو باپ ، سسر اور بعض رشتے داروں پر ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ہے، یقیناً ان پر ان اعضا کا ظاہر کرنا کسی طور مناسب نہیں ہے۔
۶؂؂ ہاتھ اور چہرے کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے، لیکن اسے حدیث کی روشنی میں یہاں لکھا گیا ہے۔ وہ حدیث ذیل میں ہے:

عَنْ عَاءِشَۃَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِيْ بَکْرٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہَا ثِیَابٌ شَامِیَّۃٌ رِقَاقٌ، فَأَعْرَضَ عَنْہَا ثُمَّ قَالَ: ’’مَا ہٰذَا یَا أَسْمَاءُ؟ إِنَّ الْمَرْأَۃَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِیْضَ لَمْ یَصْلُحْ أَنْ یُرٰی مِنْہَا إِلَّا ہٰذَا، وَہٰذَا‘‘ وَأَشَارَ إِلٰی وَجْہِہِ وَکَفَّیْہِ.

۷؂ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’إِیاکمْ وَالدُّخُوْلَ عَلَی النِّسَاءِ‘‘ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: یا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَفَرَأَیتَ الحَمْوَ؟ قَالَ: ’’الحَمْوُ المَوْتُ‘‘.(مسلم، رقم ۵۲۳۲)

Share To All - شیر کریں سبسے
Read More