مزاحمت
عمر فراہی
کتاب مزاحمت کا چرچہ سنا تو مجھے اسے پڑھنے کی اس لئے دلچسپی ہوئی کیوں کہ اس کتاب کا مصنف ایک فلسطینی ہے اور اس نے یہ کتاب جیل کے اندر لکھی تھی اور رہا ہوا تو فلسطین کی آزادی کی جدوجہد اور مزاحمت کرتے ہوۓ شہید ہو گیا ۔دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ میں خود بھی پچھلے مہینے تک اسی موضوع کے تحت “مزاحمت فریب اور فلسطین کے عنوان سے سترہ قسطیں لکھ چکا تھا ۔
یہ کتاب دراصل یحی ابراہیم السنوار کی عربی ناول الشوک القرنفل کا اردو ترجمہ ہے جس میں مصنف نے 1948 کے بعد سے ہجرت کرکے غزہ اور مغربی کنارے میں آۓ کیمپوں میں رہ رہے فلسطینی باشندوں کی عام زندگی اور تحریک آزادی کا جائزہ پیش کیا ہے ۔1967 تک غزہ اور مغربی کنارے کے یہ علاقے مصری حکومت کے ماتحت رہے اور فلسطینوں کو امید تھی کہ ایک دن وہ اپنے عرب بھائیوں کی مدد سے اپنے علاقوں میں دوبارہ لوٹ سکیں گے لیکن 67 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا اور جب اسرائیل نے ان علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا اور عرب حکومتوں نے بھی انہیں تنہا چھوڑ دیا تو فلسطینی باشندے جو ایک خونخوار دشمن کے شکنجے میں یوں پھنس گئے تھے جیسے کہ کسی خار دار جھاڑی میں کوئی اچھی نسل کا شاہیں صفت پرندہ اپنے پروں کے ساتھ ایسے الجھ جاۓ کہ اس کا نکلنا محال ہو مگر پھر بھی اس خار دار جھاڑی سے نکلنے کے لئے پھڑپھڑاتا رہا ہو یا اس نے اس جھاڑی سے نکلنے کی اپنی مزاحمت ترک نہ کی ہو ۔الشوک القرنفل دراصل اسی کانٹے دار جھاڑی میں مزاحمت کرتے ہوۓ ایک بہادر پرندے کا ایک معنی خیز استعاری جملہ ہے جسے مصنف نے کتاب کا عنوان دے دیا ہے ۔
کتاب ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہے اور دلچسپ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ مصنف نے جیل کے اندر انتظامیہ کی پابندی کے باوجود اپنی یادداشت کے حقیقی واقعات کو ناول کی شکل میں تھوڑا تھوڑا لکھ کر جیل کے باہر اپنے عزیز و اقارب تک پہنچانے کی زحمت کی ۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اسکے باوجود بھی کتاب کا تسلسل کسی حد تک برقرار نظر آتا ہے اور مصنف نے کوشش کی ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں بس گئے فلسطینی باشندوں کی معاشی معاشرتی اور مزاحمتی تحریک کا احاطہ ہو سکے ۔میں نے جب کتاب پڑھنا شروع کیا تو مجھے اس کتاب میں منشی پریم چندر کی ناول گئو دان کا رنگ نظر آیا جس میں پریم چندر نے ہریا اس کے کھیت اور اس کی گاۓ کے علاوہ اس وقت کے سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوۓ ایک زمیندار اور زمینداروں کے چمچوں کا بھی کردار پیش کیا ہے ۔اس کے علاوہ ہریا کا لڑکا کیسے اپنی معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لئے گاؤں سے شہر کا رخ کرتا ہے اور وہاں ایک چاۓ کی دکان کرتا ہے تاکہ وہ اپنے گاؤں میں ایک اچھا مکان بنا سکے ۔حالانکہ مجھے منشی پریم چندر کی اس کتاب کا مطالعہ کئے ہوۓ کافی وقت گزر چکا ہے اس لئے بہت کچھ یادداشت میں نہیں لیکن یحیی السنوار کی یہ کتاب غزہ اور مغربی کنارے کے کیمپوں میں رہ رہے فلسطینی آبادی پر کچھ اسی طرح روشنی ڈالی ہے کہ کیسے فلسطینی باشندے جھکی جھونپڑیوں میں رہتے ہوۓ نہ صرف اپنی تعلیم اور معاشی ذمہ داریوں کو پوری کرنے کی جدوجہد بھی کرتے ہیں اور اسرائیلی قبضے سے اپنی مزاحمت کو جدید سے جدید رنگ دے کر اس تحریک کو پتھر سے میزائلوں کے مرحلے میں داخل کردیا۔

