Web Analytics Made Easy - StatCounter
Bal Ahya

Bal Ahya Abdul Aleem Aazmi

بیسویں صدی کے وسط میں عالم عرب کے قلب میں برطانیہ کے ذریعہ یہودی ریاست کا قیام اور اس کے فوراً بعد سے ہی وہاں صدیوں سے رہائش پذیر مسلمانوں اور غاصب صیہونی ریاست کے درمیان جاری مخاصمت عالم عرب، مسلم اُمّہ اور عیسائی دنیا کے درمیان جاری مختلف سیاسی اور معاشی تنازعات کا مرکزی نقطہ ہے۔ آج کی ترقی یافتہ اور مہذب کہی جانے والی دنیا نے پوری ایک صدی کے دوران اس مسئلے کو انسانیت اورحق و انصاف کی بنیاد پر پرکھنے کے بجائے صرف سیاست کی عینک سے دیکھا ہے اور وہاں کے عوام کے ساتھ جس طرح کی ظلم و زیادتی اور بر بریت کو روا رکھا جارہا ہے وہ عالم انسانیت پر ایک بدنما داغ کے سوا کچھ اور نہیں۔ عالمی طاقتوں کے مختلف گروہوں نے اپنے سطحی سیاسی مفادات کے تحفظ، عالمی سیاست میں طاقت کے توازن اور اسلحوں کی تجارت کے لئے جس طرح مغربی ایشیا میں تنازعات کو زندہ رکھا ہے اور فلسطین کے معصوم عوام سے جس طرح زندہ رہنے کا حق چھین لیا گیا ہے وہ ظلم اور نا انصافی کی ایک ناقابل بیان داستان بیاں کرتا ہے اور ظلم و جور کے یہ حقائق تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔

یوں تو غاصب ریاست کے قیام کے بعد سے ہی فلس طین کے عوام لگاتار اپنے حق زندگی اور حق شہریت کے لئے صیہونیوں سے برسر پیکار ہیں لیکن ح م ا س کے قیام کے بعد اس تنظیم نے فلسطین کے عوام پر روا رکھے جانے والے مظالم اور غاصب ریاست کے ذریعہ نافذ کردہ غیر انسانی سلوک اور قوانین کو زیادہ واضح انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ میں برپا ہونے والی جنگ طوفان الاقصی یوں تو فلسطینیوں کے قتل عام اور مظالم کی ناقابل بیان داستان کا ہی تسلسل ہے لیکن اس جنگ نے ایک بار پھر سے مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مسائل کو دنیا کے سامنے زندہ کردیا اور اس جنگ کے دوران خود یوروپ کے عوام نے صیہونیوں کے خلاف اور فلسطین کے حق میں بھر پور طاقت کے ساتھ آواز بلند کی۔

طوفان الاقصیٰ کی داستان جس میں ایک طرف ظلم اور بربریت کا برہنہ رقص ہے تو دوسری طرف اپنے مذہب، وطن اور اپنی آزادی کے لئے جان و تن نچھاور کرنے والوں کا ایک ایسا کردار بھی دنیا کے سامنے آیا جس سے دنیا اب تک ناواقف تھی۔ اس داستان دلربا کو اردو دنیا میں سب سے پہلے پیش کرنے کا سہرا جواں سال مصنف اور ابھرتے ہوئے قلم کار مولانا عبد العلیم الاعظمی کےسر سجا ہے۔ طوفان الاقصیٰ کے دوران ہی انہوں نے جنگ سے متعلق شواہد اور حقائق اکٹھا کرنا شروع کردیا تھا اور پچھلے سال ۲۰۲۵ میں ان کی کتاب “ حماس اسرائیل جنگ: حقائق و شواہد” منظر عام پر آگئی تھی جسے اہل علم نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور میرے خیال سے پورے برصغیر میں اس موضوع پر اب تک اتنی جامع اور تحقیقی کتاب اس کے علاوہ شائد دوسری اب تک شائع نہیں ہوئی ہے۔ اس کتاب میں انہوں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر صیہونیوں کے ظلم اور فلسطینی عوام کی قربانیوں کو دنیا سامنے نہایت واضح انداز میں پیش کیا۔ اس کتاب کی پذیرائی اور اہل علم کی حوصلہ افزائی نے مصنف کو ایک خاص علمی مقام عطا کیا جس سے حوصلہ پاکر ایک سال کے اندر اندر انہوں نے اس موضوع پر ایک دوسری نئی کتاب “ بل احیا” کے عنوان سے تصنیف کردی جو اس وقت اہل ذوق کے ہاتھوں میں ہے۔ کتاب اپنے موضوع پر ایک دستاویز ہے اور یہ موضوع اتنا اچھوتا اور دلپذیر ہے کہ پڑھتے وقت دماغ سن اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ اس کتاب میں مصنف نے طوفان الاقصی میں شہادت پانے والیے ح م ا س کے قائدین، مشہور شخصیات، ڈاکٹروں صحافیوں اور اسی طرح کی سرکردہ شخصیات کی سوانح اور ان کے کارنامے پیش کئے ہیں۔ ان شہیدوں کے کارناموں کو محفوظ کرنا اور حقائق اور شواہد کے ساتھ اتنی جلدی انہیں دنیا کے سامنے حاضر کردینا اگرچہ ہم جیسوں کے لئے تو ناقابل یقین لگتا ہے لیکن مولاناعبد العلیم اعظمی نے اسے کردکھایا اوراس کے لئے وہ داد اور تعریف کے مستحق ہیں۔ بل احیا عنوان ہی پڑھ میرے جیسے لوگوں کےدل میں ہلچل سی ہونے لگتی ہے کہ اللہ تعالی نے شہدائے بدر و احد کی تعریف میں قران میں یہ لفظ ارشاد فرمایاہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے انہیں اولین شہدا کی قربانیوں سے حو صلہ پاکر فلسطین کے بزرگوں،نوجوانوں، عورتوں اور بچوں نے جس طرح اپنی جانوں کا نذرانہ اللہ کے حضور پیش کیا اور لگاتار پیش کرتے جارہے ہیں وہ انہیں کا حصہ ہے ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ان کی قربانیوں کو شرف قبولیت عطا کرے ( آمین) اس کتاب میں کلُ باون شہدا کے حالات زندگی اور ان کے کارنامے پیش کئے گئے ہیں جس میں صرف تین شہداء عزالدین القسام ، شیخ احمد یاسین اور عبد العزیز رنتیسی ایسے ہیں جو طوفان الاقصیٰ سے پہلے اپنی جانوں کا نذرانہ اللہ کے یہاں پیش کر چکے تھے باقی وہ ہیں جو اس موجودہ جنگ کی راہ عزیمت میں ایک سے ایک کارہائے نمایاں انجام دیتے اور اپنے بزرگوں کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کے حضور پہنچ گئے۔ اس جنگ میں ان شہداء اور ان کے ساتھ ہی وہ ہزار ہا ہزارعورتیں بچے بوڑھے جوان جو اس راہ میں شہادت پاچکے ان سب کا نام تاریخ میں امر ہوگیا ہے لیکن مصنف کی اس کوشش کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ اس کتاب میں انہوں ان چنندہ شخصیات کے حالات زندگی قلم بند کئے ہیں جن کے نام ہم بار بار اخباروں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ سنتے تھے اور ان ناموں سے ایک طرح کی وابستگی اور انسیت پیدا ہوگئی تھی۔ مقدمہ کا عنوان بھی مصنف نے کیا خوب چنا ہے “کہ زمانہ ان کو بھلا نہ دے” اور واقعتاً یہ کوشش وہی ہے کہ یہ تاریخی دستاویز تیار ہوکر قارئین کے دلوں میں محفوظ ہوگئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف باون بلکہ ارض فلسطین کے مزید ہزاروں شہدا اس لائق ہیں کہ ان کے حالات کو جلد ازجلد دنیا کے سامنے لایا جائے۔

کتاب کا سرورق کتاب کے عنوان اور نفس مضمون کو واضح کرتے ہوئے ایک خاص پیغام بھی دے رہا ہے۔طباعت بہترین اور سیٹنگ عمدہ ہے ، کہیں کہیں پروف کی کچھ کمی نظر میں آگئی وہ بھی بس برائے نام۔ کتاب کا انتساب مشہور مصنف، محقق، شاعر استاد اور صحافی مرحوم ڈاکٹر تابش مہدی( رح) کے نام ہے جو مرحوم سے مصنف کی انسیت اور قلبی تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔ امید ہے کہ پچھلی کتاب کی طرح یہ کتاب بھی جلد از جلد قارئین کے ہاتھوں میں ہوگی اور شہداء فلسطین کے حالات زندگی اور ان کے کارناموں سے لوگ واقف ہو سکیں گے۔

محمد خالد اعظمی ، شعبۂ معاشیات شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login