Web Analytics Made Easy - StatCounter
Hadiya Mujaddidia

ہدیہ مجددیہ اردو

ہدیہ مجددیہ

تعارف

ہدیہ مجددیہ فارسی سے اردو ترجمہ

تالیف لطیف

مولوی وکیل احمد سکندر پوری

مترجم

پیر سید بدرمسعود شاہ گیلانی آستانہ عالیہ نوریہ چورہ شریف

امامِ ربانی، حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ

امامِ ربانی، حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ، ایک مردِ درویش جس کے پاس نہ تیر وتفنگ،نہ نیزہ و بھالا اور نہ تلوار اور نہ ہی لشکر و سپاہ تھے، جس کا کل سرمایہ ایک کچا حجرہ اور قرآن و حدیث کی کتابیں تھیں۔اُس نے سرہند شریف میں فرشِ زمین پر بیٹھ کر ہزاروں گمراہانِ راہ کو ہدایت بخشی اور لاکھوں انسانوں کو اپنے ربّ تعالیٰ کی معرفت عطا کی اورانھیں اپنے محبوب ﷺ کی سچی غلامی کی لڑی میں پرو کر شریعتِ محمدی ﷺ کا تابع فرمان بنا دیا۔ آپ کی شب و روز کی محنت سے کم وبیش اٹھارہ سال کی پُرامن جد و جہد کے نتیجے میں برصغیر میں اسلام کا پرچم ایک بار پھر پوری آب وتاب کے ساتھ لہرانے لگا۔ تمام کفریہ رسومات اور غیر شری اعمال و افعال کا خاتمہ ہو گیا۔

زیرِ نظر کتاب “ہدیۂ مجددیہ” شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے غلط فہمی پر مبنی حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کے مدلل جوابات پر مشتمل مستند تصنیف ہے، جسے مولوی وکیل احمد سکندر پوری رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا، اگرچہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے نہ صرف اپنے اعتراضات واپس لے لیے اور حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ سے کمال عقیدت کا اظہار فرمایا۔ اللہ رب العزت ان باکمال ہستیوں پر اپنی کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے، جن کی سعیِ جمیلہ سے دینِ اسلام کی روشنی ہم دور افتادہ غریبوں تک پہنچی۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے اعتراضات اور رُجوع

لیکن حضرت امام ربّانی رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اِسی دوران میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک مرید حسن خان افغان اپنے ایک دوسرے پیر بھائی سے ناراض ہو گیا اور اس نے اس ناراضی کا بدلہ اپنے مرشد حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے اس طرح لیا کہ حضرت امام ربّانی رضی اللہ عنہ کے چند مکتوبات شریف میں تحریفات کرکے مختلف علمائے کرام کو بھیج دیں اور خود افغانستان بھاگ گیا۔ ان علمائے کرام میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے۔چونکہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے جس کی وجہ سے ان میں حضرت امام ربّانی رحمۃ اللہ علیہ سے برابری کا ایک تصور بھی موجود تھا۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حقیقتِ حال کی تحقیق کئے بغیر صرف تحریف شدہ مکتوبات کو پیشِ نظر رکھ کر حضرت امام ربّانی رحمۃ اللہ علیہ کے ردّ میں ایک رسالہ لکھا۔ اس رسالہ کو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مخالفین و معاندین نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اس کی خوب تشہیر کی اور حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدین و محبین کو آپ سے بدظن کرنے کی کوشش کی۔ حضرت امام ربّانی اس وقت اپنی زندگی کے آخری ایّام میں تھے۔آپ پر بیماری کا غلبہ تھا، اس بیماری کی وجہ سے اور خود کو مکمل طور پر اپنے ربّ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے آپ دعوت و ارشاد کا کام اپنے بیٹوں اور خلفاء کے سپرد کرکے گوشہ نشین ہو چکے تھے، اس لیے آپ نے حضرت شیخ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کے اعتراضات کے جواب لکھنے کی بجائے صرف اس پر اکتفا کیا کہ تحریف شدہ مکتوبات کی اصل نقول حضرت شیخ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کی طرف بھجوا دیں کہ وہ خود ان کا مطالعہ کرکے حقیقتِ حال سے آگاہ ہو جائیں گے اور اپنے اعتراضات سے رُجوع کر لیں گے۔ ان مکتوبات شریف کے مطالعہ کے بعد حضرت محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو پچھتاوا ہوا اور اپنے کیے کا مداوا کرنے کی کوشش میں حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت حسام الدین رحمۃ اللہ علیہ کو ایک خط لکھا، جس میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ حقیقت سے واقف ہونے کے بعد اب میرا دل حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ کی طرف سے صاف ہو چکا ہے لیکن اِسی دوران میں دُنیائے اسلام کے آسمان کا یہ آفتاب اپنی روشنیاں بکھیرنے کے بعد اُفقِ آخرت میں غروب ہو چکا تھا۔

اگرچہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اعتراضات واپس لے لیے تھے

اگرچہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اعتراضات واپس لے لیے تھے لیکن حضرت امام ربّانی رحمۃ اللہ علیہ سے مخاصمت رکھنے والوں نے اس رسالہ کو اس طرح محفوظ رکھا جس طرح ان کے ہاتھ میں دُنیا و مافیہا کا خزانہ لگا ہو۔ انہوں نے اس رسالہ کو نسل در نسل منتقل کیا اور اس رسالہ میں لگائے گئے اعتراضات کو گاہے بگاہے دُہراتے چلے گئے اور حیرت و افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سلسلۂ عداوت ابھی تک تھما نہیں ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ حضرت مجدد الف ثانیرحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ عقیدت و محبت رکھنے والے جیّد علمائے کرام و مشائخ عظام نے اس رسالہ کا علمی رد لکھا اور تمام اعتراضات کے علمی و عقلی دلائل کے ساتھ جوابات دیئے۔

اس سلسلہ میں حضرت مولانا وکیل احمد سکندر پوریرحمۃ اللہ علیہ نے زیرِنظرکتاب ”ہدیہ مجددیہ“ تصنیف فرمائی، جس میں ان تمام اعتراضات کا بھرپور جواب لکھا گیا۔الحمدللہ! اس کتاب کا ترجمہ اور بعض مقامات کی شرح سیّد بدر مسعود شاہ گیلانی چورا شریف نے کی ہے تاکہ عوام تک حقائق پہنچائے جا سکیں۔ دُعا ہے کہ یہ ترجمہ بارگاہِ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ میں مقبول ہو کر توشۂ آخرت بنے۔

فہرست عنوانات کتاب ہدیۂ مجددیہ

انتساب

گزارشات (مترجم)

شیخ عبدالحق کے اعتراضات اور جوابات

پیر نصیرالدین کے اعتراضات اور جوابات

پروفیسر رفیق اختر کے اعتراضات اور جوابات

مولانا وکیل احمد سکندرپوری

از محمد افضال نقشبندی مجددی، فیصل آباد۔

آغاز کتاب، ہدیۂ مجددیہ (اردو)

پیش لفظ (مولانا وکیل احمد سکندرپوری رحمۃ اللہ علیہ)

مقدمہ (بعض ضروری امور کے بیان میں)

امر اوّل(علم حقیقت کی تعریف اور فضائل)

امرِدوم(علم تصوف کے وضع کرنے اور اس علم کی ترقی اور رواج کابیان)

امرِ سوم(علمِ تصوف کی تصنیفات اور خفیہ اشارات کے لکھنے کا رواج پانا)

امرِچہارم (ولی سے کرامت کا اظہار ضروری نہیں)

امرِ پنجم(اللہ تعالیٰ کی نعیمت کو بیان کرنا)

امر ششم(شطح کے بیان میں)

امرِ ہفتم (فضلِ کلی، فضلِ جزوی کا مخالف نہیں ہو سکتا)

امرِ ہشتم(انبیاء و اولیاء کو دُشمنو ں کی طرف سے اذِیتوں کا ملنا)

امر نہم(مختصر حالات حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ)

امردہم(حضرت شیخ عبدالحقرحمۃ اللہ علیہ کے اعتراض کی وجوہات اور رجوع کی کیفیت)

اہم سوالات اور جوابات

ااقوالِ حضرت مجدد الف ثانی اور ان کی شرح

اعتراضات اور جوابات

مختصر تذکرہ بزرگانِ سلسلہ طریقتِ نقشبندیہ

قصیدہ در شانِ بزرگانِ نقشبندیہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login