Web Analytics Made Easy - StatCounter
Maulana Ubaid ur Rehman Talib Mazahiri Rahmani Mubarakpuri Naqoosh o Aasar

مولانا عبید الرحمٰن طالب مظاہری رحمانی

مولانا عبید الرحمن طالب مظاہری مبارکپوری رحمہ اللہ (ت: 1945ء) جو کہ حضرت مولانا محمد عبد السلام مبارکپوری رحمہ اللہ(ت: 1924ء) صاحب سیرت البخاری کے خلف اصغر اور حضرت شیخ الحدیث علامہ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری مرحوم (ت: 1994ء) صاحب مرعاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح کے برادر خورد تھے، مرحوم بحالت جوانی سفر آخرت کی طرف کوچ کرگئے، عمر نے وفا نہ کی ، اس وجہ سے ان کی وہ شہرت نہ ہو سکی جو ان کے مرتبہ علم پر فائز دیگر اربابِ علم کی ہوئی ، اللہ تعالی نے غیرمعمولی ذہانت وفطانت اور علمی گيرائی و گہرائی سے نوازا تھا، اور اس کم عمری میں فیاض ازل نے آپ کو علم و فضل کے ساتھ ساتھ تدین، تقوی شعاری، خداترسی، دنیا بیزاری اور تعلق مع اللہ جیسی ستوده صفات سے پوری فیاضی سے نوازا تھا، تحریر و تالیف میں کمال کے ساتھ تقریر و خطابت میں بھی دلچسپی تھی، جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو، مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور کے فیض یافتہ اور مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ ، دہلی کے فارغ التحصیل عالم دین تھے ، آپ کی علمی اٹھان اور بصیرت و پختگی کے پیش نظر فراغت کے فوراً بعد مدرسہ رحمانیہ میں تدریس کے لیے منتخب کر لیا گیا، آپ کی تحریر بڑی شگفتہ تھی، ملک کے مشاہیر مجلات میں آپ لکھتے رہتے تھے ، خاص طور پر مجلہ “محدث” دہلی جو دارالحدیث رحمانیہ سے نکلتا تھا اس میں تسلسل کے ساتھ لکھتے رہتے تھے، شعر وشاعری میں بھی بڑا کمال حاصل تھا، نظمیں اور غزلیں “محدث” دہلی کے صفحات پر آج بھی نقش ہیں اور ادب و شعور کی کرنیں بکھیر رہی ہیں۔

زير نظر کتاب کی ترتیب وتدوین کے طریقہْ کار سے متعلق چند باتیں عرض کر دینا مناسب ہے ، کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ، مقدمہ کے بعد سب سے پہلے ”مدخل اولیں“ کے عنوان سے ضروری تمہیدات ذکر کی گئی ہیں، اس میں مولانا مبارکپوری مرحوم کے مولد و منشا: مبارکپور ، اعظم گڑھ کی بابت تاریخی حوالوں سے گفتگو کی گئی ہے ، اس عہد میں مبارکپور کے اقتصادی و معاشی، دینی، مذہبی ، اور مسلکی ماحول پر روشنی ڈالی گئی ہے ، خاص طور پر اہل حدیثوں اور سلفی منہج فکر کے حاملین کو اپنے دعوتی کاز کے فروغ اور عمل بالکتاب والسنۃ کے حوالے سے جن مشکلات کا سامنا رہا انھیں یہاں باختصار تاریخی مراجع کی روشنی میں سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔

1️⃣ پہلے باب میں متعدد فصول کے تحت ولادت و نشوو نما اور مرحوم کے خاندانی حالات، نیز جن مدارس سے کسب فیض کیا ان سے متعلقہ تفصیلات درج ہیں۔

2️⃣ باب دوم میں فصل اول ”کارگہ حیات میں“ کے عنوان سے ان کی عملی زندگی ، اساتذہ و مشایخ، تدریسی خدمات، بیماری و وفات اور اخلاق و عادات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فصل دوم میں بعنوان : نقوش لوح و قلم : تحریر و تالیف ، اسلوب نگارش، اور شعر و سخن پر تجزیاتی گفتگو کی گئی ہے، فصل سوم میں : اخلاف وبرادران کے کوائف درج کیے گئے ہیں، اخیر میں چند اہل علم کے تاثرات مولانا کی جہود و خدمات اور تحریرات کی بابت پیش کیے گئے ہیں، میں ان تمام اہل علم کا صمیم قلب شکر گزار ہوں۔

3️⃣ باب سوم آثار و نقوش میں مرحوم کی محدث دہلی“، ”اخبار محمدی، دہلی “ اور ”اخبار اہل حدیث ، امرتسر “ میں شائع شدہ تحریرات و منظوم کلام کو جمع کیا گیا ہے ، ساتھ ہی حدیث و نصوص کی بقدر ضرورت تخریج بھی کر دی گئی ہے، اس باب کو بھی مختلف فصول میں تقسیم کیا گیا ہے، جیسے: تحقیقات و تنقیحات ، محاسن اسلام، سیرت نبوی صلی اللهم رجال و شخصیات، احوال امت اسلام متفرقات اور اخیر میں اشعار

Home Cart Wishlist Login