امام ابو حنیفہؒ اور زید بن علی بن حسینؒ کا خروج
=========
امام ابو بکر جصاص الرازی نے اپنی تفسیر کی جلد اول صفحہ ۸۱ پر دعویٰ کیا ہے کہ زید بن علی بن حسین نے جب ۱۲۲ ہجری میں ہشام بن عبدالملک کے خلاف خروج کیا تو امام ابو حنیفہؒ کی پوری ہمدردی ان کے ساتھ تھی، انہوں نے زید کو مالی مدد بھی دی اور لوگوں کو ان کا ساتھ دینے کی تلقین بھی کی (احکام القرآن جلد ۱ صفحہ ۸۱)
یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے صرف مالی مدد اور تلقین پر ہی کیوں اکتفاء کیا، زید بن علی کے ساتھ مل کر حکومتِ وقت کے خلاف بھرپور طریقے سے مسلح جہاد کیوں نہ کیا ؟ یہاں تک کہ سید مودودی نے تو “خلافت و ملوکیت صفحہ ۲۶۷” میں یہاں تک لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے امیر ہشام بن عبدالملک ؒکے خلاف خروج کو جنگِ بدر میں نبی ﷺ کے خروج سے تشبیہہ دی۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کی جانب اس خروج کی حمایت کی نسبت ہی سخت غیر معتبر ہے۔ علامہ شبلی نعمانی نے “سیرۃ النعمان” میں اس واقعہ کو من گھڑت قرار دیا ہے جبکہ شاہ عبدالعزیز صاحب بھی “تحفۂ اثنا عشریہ” میں اس حکایت کو غیر صحیح اور خلافِ واقعہ قرار دیتے ہیں۔ شبلی نعمانی لکھتے ہیں:
“جس قدر تاریخی اور رجال کی کتابیں ہمارے سامنے ہیں، ان میں کہیں اس کا ذکر نہیں حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو ایک قابلِ ذکر واقعہ تھا۔ زید بن علی نے ۱۲۱ ہجری میں بغاوت کی تھی، اس وقت ہشام بن عبدالملک تختِ خلافت پر متمکن تھا۔ ہشام اگرچہ کفایت شعار اور بعض امور میں نہایت جزرس تھا لیکن اس کی سلطنت نہایت امن و امان کی سلطنت تھی۔ ملک میں ہر طرف امن و سکون کا سکہ بیٹھا ہوا تھا ، رعایا عموماً رضامند تھی۔ بیت المال میں ناجائز آمدنیاں نہیں داخل ہوسکتی تھیں، اس حالت میں امام ابو حنیفہؒ کی مخالفت کی کوئی وجہ نہ تھی۔” (سیرۃ النعمان صفحہ ۴۰)
ساتھ ہی یہ بات بھی قابلِ غور اور اس روایت کے من گھڑت ہونے پر دلالت کرتی ہے کہ ائمہ احناف بشمول امام ابو حنیفہؒ بلکہ جمہور ائمہ مجتہدین کا مسلک اس روایت کے خلاف ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کا مسلک جو تواتر کے ساتھ ان سے منقول ہے اور جو صرف ان کا نہیں بلکہ ائمہ اربعہ اور جملہ مجتہدین فقہاء و محدثین علماء اہلسنت کا مسلک ہے عقیدۃ الطحاویہ میں اس طرح مذکور ہے:
یعنی “اور ہم اپنے ائمہ (سربراہانِ مملکت) اور حکام کے خلاف خروج کو جائز نہیں سمجھتے اگرچہ وہ ظلم کریں اور ہم انہیں بددعا دینا ( بھی جائز نہیں سمجھتے) اور ان کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لینا بھی جائز نہیں سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کے تقاضے سے ہم ان کی اطاعت کو اس وقت تک فرض سمجھتے ہیں جب تک وہ کسی معصیت کا حکم نہ دیں اور ہم ان کے لئے صلاح اور معافاۃ کی دعا کرتے ہیں۔” (صفحہ ۵۰)
یہ ہے امام ابو حنیفہؒ اور جمہور اہلسنت کا مسلک جو تواتر کے ساتھ ان سے منقول اور کتبِ فقہ و عقائد میں مسطور ہے۔ فقہ حنفی کی مشہور و معتبر کتاب رد المختار المعروف بہٖ شامی باب البغاۃ میں علامہ ابن عابدین شامی مسلکِ احناف نقل کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
و اذا ولی عدلاً ثم جار و فسق لا ینعزل و لکن یستحق العزل ان لم یستلزم فتنۃ
یعنی “اگر کسی عادل کو خلیفہ بنایا گیا پھر وہ ظلم و فسق کا مرتکب ہوا تو معزول نہیں ہوجاتا لیکن عزل کا مستحق ہوجاتا ہے بشرطیکہ اس کا معزول کرنا کسی فتنہ کا سبب نہ بنے۔”
سلطان ابو المظفر عیسیٰ بن ایوب الملک امام ابو حنیفہؒ کا اس متعلق امام ابو حنیفہؒ کا مسلک و مذہب بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:
لا نری الخروج علیٰ ائمتا و ولاۃ امورنا ان جارود ا علینا (السھم المصیب فی الرد علی الخطیب صفحہ ۴۷)
یعنی ” ہم اپنے ائمہ اور حاکموں کے خلاف خروج و بغاوت کو جائز نہیں سمجھتے اگرچہ وہ ہم پر ظلم ہی کیوں نہ کریں۔”
اس کے بعد سلطان ابو المظفر فرماتے ہیں فمن یکون ھٰذا رایہ کیف یری الخروج علی الائمۃ یعنی جس شخص کا نظریہ یہ ہوگا وہ خلفاء کے خلاف خروج کو کب جائز سمجھے گا۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب مواقفِ صحابہؓ پر مبنی تھا جس کی تعلیم آپﷺ نے صحابہ اور امت کو دی تھی۔ صحیح مسلم کتاب الامارۃ کی روایت ہے:
سیدنا وائل بن حجرؓسے روایت ہے کہ سلمہ بن یزید حجفی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: “اے اللہ کے نبی ﷺ ! اگر ہم پر ایسے امیر مسلط ہوں جو ہم سے اپنا حق تو مانگیں لیکن ہمیں ہمارا حق نہ دیں تو ایسی صورت میں ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا: “انکی بات سنو اور اطاعت کرو۔ انکی ذمہ داری کا وبال ان پر ہے اور تمہاری ذمہ داری (سمع و اطاعت) کا تم پر۔”
نیز فرمایا:
“جو شخص اپنے امیر میں ناپسندیدہ فعل دیکھے تو چاہئے کہ صبر کرے کیونکہ جو کوئی جماعت سے بالشت بھر بھی جدا ہوا اور مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔”(متفق علیہ) (بخاری۔ کتاب الاحکام)
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اے اللہ کے نبی ﷺ ! اگر ہم پر ایسے امیر مسلط ہوں جو ہم سے اپنا حق تو مانگیں لیکن ہمیں ہمارا حق نہ دیں تو ایسی صورت میں ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا: “انکی بات سنو اور اطاعت کرو۔ انکی ذمہ داری کا وبال ان پر ہے اور تمہاری ذمہ داری (سمع و اطاعت) کا تم پر۔”(مسلم۔ کتاب الامارۃ)
اسی طرح جنادہ بن ابی امیہ سے روایت ہے کہ ہم عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے ، وہ ( اس وقت ) بیمار تھے ، ہم نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے ، ہم کو ایسی حدیث سنائیے جس سے ہمیں فائدہ ہوا اور جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، ( سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا ، اور ہم سے بیعت لی۔ آپﷺ نے جن امور پر بیعت لی وہ یہ تھے کہ ہم حکام کا حکم سنیں اور اطاعت کریں خواہ ہمیں پسند ہو یا نہ ہو، اس سے تنگی ہوتی ہو یا فراخی یا ہمیں ایثار سے کام لینا پڑے اور یہ کہ ہم حاکموں سے نزاع نہ کریں سوائے اس کے کہ تم ایسا کفر بواح دیکھو (جس سے خون حلال ہوجاتا ہے) اور اللہ کی طرف سے تمہارے پاس اس بارے میں حجت ہو۔ (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ حدیث ۴۸۸۱)
ان روایات اور ان جیسی تمام روایات جن کو طوالت کے خوف سے ہم نے یہاں نقل نہیں کیا، کی موجودگی میں امام ابو حنیفہؒ کے لئے یہ کیونکر ممکن تھا کہ وہ ہشام بن عبدالملک کے خلاف زید بن علی کے خروج میں ان کی حمایت کرکے معصیت کبیرہ کے مرتکب ہوتے۔ پھر عجیب تر بات یہ کہ وضعی تواریخ میں بیان کیا جاتا ہے کہ زید بن علی نے امام ابو حنیفہ ؒ کے پاس قاصد بھیج کر ان کو خروج میں اپنی تائید کرنے کو کہا جب کہ یہ بات معروف ہے کہ زید بن علی کے خروج کے وقت تک امام ابو حنیفہؒ کو فقیہ اہل مشرق ہونے کا مرتبہ اور اثر و رسوخ حاصل نہ ہوا تھا اور ۱۲۰ ہجری میں جس وقت زید اپنے خروج کی تیاریاں شروع کررہے تھے اس وقت امام ابو حنیفہؒ کی حیثیت امام حماد کے ایک شاگرد کی تھی۔ پھر کیا وجہ ہوئی کہ زید بن علی نے امام حماد کو چھوڑ کر ان کے شاگرد کو خروج میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ زید بن علی فقیہ اہل مشرق امام حماد کو قاصد بھیج کر خود کے ساتھ شریک ہونے کی دعوت دیتے۔ لیکن اس روایت کو وضع کرنے والے راویوں کے حاشیۂ خیال میں یہ بات نہ آئی اور انہوں نے امام حماد کی جگہ امام ابو حنیفہؒ کا نام لے لیا وہ بھی ایسے وقت میں جب امام صاحب کو نہ فقیہ اہل مشرق ہونے کا مرتبہ حاصل ہوا تھا اور نہ ان کا کوئی اثرو رسوخ تھا۔ پھر اگر واقعی ایسا ہوا بھی ہوتا تو امام ابو حنیفہؒ جب کہ ابھی امت میں ان کو وہ مقام حاصل نہ ہوا تھا جو بعد میں ان کو مل سکا تو زید کے خروج کی حمایت میں ان کی رائے کس کام کی ہوتی ۔
پھر مقامِ حیرت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے منہ سے زید بن علی کے خروج کو جنگِ بدر کے مماثل قرار دیا جاتا ہے، استغفراللہ۔ زید بن علی کی اس بغاوت کو جس کو شرعاً کسی طور سے جائز نہیں کہا جاسکتا ، جو کہ مسلمانوں کے اس وقت کے متفق علیہ خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے خلاف برپا کی گئی اور جس کا مقصد صرف حصولِ اقتدار کے سوا اور کچھ نہ تھا، غزوۂ بدر سے تشبیہہ دینا جس کا واحد مقصد اعلاء کلمۃ اللہ تھا جو کافروں کے مقابلے میں تھا، جہاد فی سبیل اللہ کی توہین اور شریعت اسلامیہ کی تضحیک ہے۔ اس تشبیہہ کا دوسرا مکروہ پہلو یہ ہے کہ جس مبارک جنگ کے شرکاء امت کے افضل ترین افراد اور اللہ تعالیٰ کے وہ عباد مخلصین تھے جن کا مقبول عنداللہ ہونا قطعی و یقینی ہو اور جس جنگ کےسپہ سالار افضل الخلائق سید الانبیاء نبی ﷺ ہوں، اس کی برابری کوئی جنگ نہیں کرسکتی ،جناب زید بن علی کے خروج کو اس کے برابر و مشابہ قرار دینا سخت بے ادبی اور گستاخی ہے جس کا تصور بھی امام ابو حنیفہؒ جیسی ذی علم و متقی شخصیت سے کرنا محال ہے۔ اگر ہم زید بن علی کو ولی کامل بھی تسلیم کرلیں تو بھی ان کے ایسے سینکڑوں مل کر بھی کسی ادنیٰ صحابی کی خاکِ پاء کی برابری نہیں کرسکتے چہ جائیکہ ان کے خروج کو اس جنگ سے تشبیہہ دینا جس میں نبی ﷺ بنفس نفیس شریک ہوں اور امت کی افضل ترین جماعت یعنی جماعتِ صحابہ رضوان اللہ اجمعین شاملِ جہاد ہو۔ یہ صرف صحابہ کرامؓ کی شان میں نہیں بلکہ خود نبی ﷺ کی شان میں بھی صریح گستاخی اور توہین ہے۔ امام ابو حنیفہؒ اس شنیع قول سے قطعی بری ہیں اور ان کی جانب اس قول کی نسبت ان پر افتراء و بہتان ہے۔ اور اگر یہ قول امام ابو حنیفہؒ سے درست ثابت ہو تو خود امام صاحب کی وثاقت و مرتبہ کو صفر کرنے کو کافی ہے۔ اگر نعوذ باللہ من ذالک امام ابو حنیفہؒ نے زید بن علی کے خروج کو غزوۂ بدر کا مماثل سمجھا تھا اور وہ انہیں امامِ حق سمجھتے تھے تو دو باتوں میں سے ایک بات انہیں کرنی چاہیئے تھی۔ یا تو زید کا ساتھ دے کر بزعم خویش سیدنا ابو بکرؓ و عمرؓ کی سی فضیلت ھاصل کرلیتے یا انہیں سمجھاتے کہ اوّل وسائل مہیا کریں، رائے عامہ کی حمایت حاصل کریں اور مناسب وقت کا انتظار کرکے خروج کریں جب کامیابی یقینی نظر آئے۔ ان دونوں باتوں میں سے امام صاحب نے کسی بھی بات پر عمل نہ کیا تو یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ لوگوں کو زید کا ساتھ دینے کی تلقین کرتے تھے اور روپیہ سے زید کی مدد کرتے تھے۔ جن احباب کو اس متعلق تفصیلی ادلہ مطلوب ہوں ان کو چاہیئے کہ مولانا علی احمد عباسی ؒ کی کتاب “سیرت امام ابو حنیفہ ( اتہام شیعیت کی حقیقت)” یا مفکرِ اسلام علامہ اسحٰق صدیقی سندیلوی کی کتاب “اظہار حقیقت جلد سوم” مطالعہ کرے۔
تحریر: محمد فھد حارث






