زیر نظر کتاب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی سیرت پر اس لحاظ سے ایک منفرد کتاب ہے کہ اس میں عام سیرت کی کتابوں کے برعکس امام ابو حنیفہ کی سیرت کے سیاسی پہلو سے بحث کی گئی ہے اور کئی ایسی غلط فہمیوں کا فلسفہ و فہم تاریخ کے ذریعے ابطال کیا گیا ہے جو عموما بلا سوچے سمجھے امام ابو حنیفہ کے سیرت نگاروں نے بیان کردی ہیں۔ جیسے امام ابو حنیفہ کا امام جعفر صادق سے اکتساب علم جبکہ امام ابو حنیفہ امام جعفر کجا ان کے والد امام محمد الباقر کی زندگی میں صاحب مسند ہوچکے تھے اور فتاوی دیا کرتے تھے۔ امام ابن حزم اور امام ابن تیمیہ دونوں نے اس تاریخی لغو بیانی کا شدت سے انکار کیا ہے۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ پر بعض اہل تشیع ائمہ نے ان کے مسلک سے مستفید و متاثر ہونے کی تہمت لگائی ہے۔ اس غیر مصدقہ تہمت کا بھی صاحب کتاب نے نہایت مدلل رد کیا ہے۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ سے متعلق اس بات کا بھی شہرہ ہے کہ انہوں نے نفس ذکیہ کے خروج کو مثل غزوہ بدر قرار دے کر ہر خاص و عام کو اس میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن حیرت کی بات ہے کہ امام ابو حنیفہ نے خود کمال ہشیاری سے اس “غزوہ” میں عملی شرکت سے پہلو تہی کرلی۔ یہاں تک کہ محترم مولانا مناظر احسن گیلانی مرحوم نے تو اس موضوع پر باقاعدہ ایک تصنیف بنام “امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی” تک لکھ ڈالی۔ جبکہ حقیقت میں یہ بھی ایک بے اصل بات ہے جو امام ابو حنیفہ کے اپنے مسلک اطاعت ائمہ و حکمراں کے خلاف ہے۔ اس موضوع پر بھی صاحب کتاب نے نہایت مفصل و مدلل بحث کی ہے۔
المختصر کتاب ہذا کئی چونکا دینے والی معلومات بیان کرتی محسوس ہوتی ہے اور عموما یہ تمام معلومات ایسی ہیں، جن کی مثال سامنے کے اوجھل سچ کی سی ہے کہ جو اس وقت تک نظر نہیں آتا جب تک کوئی دوسرا آنکھوں پر پڑی غفلت کی دھول صاف نہ کردے۔ اور مولف کتاب مولانا علی احمد عباسی مرحوم نے یہ گرد اپنے مدلل مباحث سے بہت اچھے سے صاف کردی ہے۔






