سب سے آسان ترجمہ قرآن مجید حافظی
عبدالعلیم الاعظمی
قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ’’یقینا ہم نے قرآن کریم کو نصیحت کے لئے آسان کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے ؟ ‘‘قرآن کریم لوگوں کی ہدایت اور سیدھا راستہ دکھانے والی کتاب ہے ۔ قرآن سے ہدایت ، رہنمائی اور نصیحت اس وقت حاصل ہوسکتی ہے ، جب قرآن کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ قرآن کی آیتوں کے معانی و مفہوم سے واقفیت ہو۔ مسلم معاشرہ بطور خاص برصغیر کے معاشرے کا یہ افسوسناک پہلو رہا ہے کہ ہمارے یہاں قرآن کی ’صرف ‘ تلاوت پر غیر معمولی زور دیا گیا ہے، قرآن کو سمجھنے اور قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے پر کچھ خاص توجہ نہیں دی گئی ہے ؛ جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ معاشرہ قرآنی پیغام اور قرآنی واقعات و نصائح سے محروم رہا ہے ۔
علماء کرام نے ہمیشہ سے کسی نہ کسی سطح پر یہ کوشش کی ہے کہ قرآن کا پیغام عام ہے ، قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کی جائے ؛ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے تراجم اور تفسیر کا بھی ایک سلسلہ اسی مقصد سے شروع ہوا ہے ۔ اردو زبان میں اس حوالے سے دسیوں تفسیریں اور تراجم لکھے گئے ہیں ۔ ان میں دونوں طرح کی کاوشات موجود ہیں ۔ بعض تفسیریں تو خاص طور سے علماء کرام اور تعلیم یافتہ طبقہ کے لئے لکھی گئی ہیں ؛ جب کہ ایسی تفسیریں بھی موجود ہیں جو عام مسلمان کی نفسیات اور ذہن کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں ۔
تراجم قرآن کے حوالے سے بھی یہ کوشش رہی ہے کہ آسان اور سہل زبان میں بھی تراجم ہوں ؛ تاکہ عوام الناس بآسانی سمجھ سکیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو زبان پر عربی اور فارسی کا غیر معمولی اثر رہا ہے ؛ یہی وجہ ہے کہ ان تراجم میں بھی بسا اوقات عربی اور فارسی تعبیرات بھی در آتی ہیں ، بسا اوقات ایسے متروک الفاظ ،تعبیریں اور علاقائی محاورے نوک قلم پر آجاتے ہیں ، جس کو عام ذہن کے لئے سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ تراجم میں انہیں باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کئی علماء کرام نے آسان سے آسان ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ زیر نظر ڈاکٹر مفتی اشتیاق احمد قاسمی (استاذ دارالعلوم دیوبند ) کا ترجمہ ’ سب سے آسان ترجمہ قرآن مجید حافظی ‘ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے ۔
ایک سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ جب اتنے سارے تراجم قرآن موجود ہیں تو اس نئے ترجمہ قرآن کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ اس ترجمہ میں وہ کون سی خوبیاں ہیں جس کی وجہ سے اس کو دوسرے تراجم سے ممتاز قرار دیا جاسکتا ہے ۔ یہ ترجمہ مفتی سعید احمد پالن پوری کے حکم اور ان کے متعین کردہ خطوط کے مطابق کیا گیا ہے، فاضل مترجم نے اس کا پس منظر عرض مترجم میں ذکر کیا ہے، اس سے اس کی اہمیت و فادیت اور نئے ترجمہ کی ضرورت بھی اجاگر ہوتی ہے ۔ لکھتے ہیں :
’’ حضرت استاذ محترم مفتی سعید احمد پالن پوری شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیو بند سے بار با اہل علم وفضل نے خواہش کی کہ آپ ایک آسان ترین ترجمہ تیار کر دیجیے؛ اس لیے کہ اکابر کے قابل اعتماد تراجم پر ایک دو صدی گزر چکی ہے، ان میں عربی اور فارسی کے الفاظ بہت ہیں ، ترکیبیں قدیم ہیں، متروک اور غریب مفردات کی تعداد بھی بہت ہے، محاورات میں آج کا قاری اجنبیت محسوس کرتا ہے، اگر چہ اُس زمانے کی یہ صیح زبان ہے، جب فارسی کا چلن تھا، عربی مفردات سے عوام واقف تھے ؛ اب زبان بدل چکی ہے، مفردات نئے آگئے ہیں، ترکیبیں نیا روپ دھار چکی ہیں ؛ اس لیے ایسا ترجمہ کیجیے جوا کابر کے نیچ سے نہ ہٹنے پائے ، اس میں عربی اور فارسی کے مشکل الفاظ نہ ہوں ، ترکیبیں آج کی ہوں ، ایسے الفاظ بھی نہ ہوں جن سے ایک علاقہ مانوس اور دوسرا غیر مانوس ہو۔‘‘
اس ترجمہ قرآن کی خوبیاں یہ ہیں کہ یہ اکابر اہل السنۃ و الجماعۃ کے فارسی اور اردو تراجم کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے ۔ دوران ترجمہ عربی کی مستند تفسیروں سے استفادہ کیا گیا ہے ۔ یہ ترجمہ عوام الناس کی نفسیات اور فہم کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے ؛ یہی وجہ ہے اس میں آسان سے آسان الفاظ اور ایسی تعبیرات کا انتخاب کیا گیا ہے جس سے معمولی اردو پڑھنے والا بھی آسانی کے ساتھ استفادہ کرسکتا ہے اور مراد خداوندی کو سمجھ سکتا ہے ۔ عربی ، فارسی ، علاقائی مفردات ، متروک اور اجنبی الفاظ کے استعمال سے گریز کیا گیا ہے ۔ یہ ترجمہ حافظی قرآن مجید کی شکل میں ہے ، اس کے پیچھے فاضل مترجم کا مقصد یہ ہے کہ حفاظ کرام اور سمجھ کر تلاوت کرنے والوں کے لئے آسانی ہو ۔ مفتی ابولقاسم نعمانی (مہتمم دارالعلوم دیوبند ) اس ترجمہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ گذشتہ چند دہائیوں سے ترامہ قرآن پاک کو آسان سے آسان تر بنانے کی قابل قدر کوششیں ہورہی ہیں، جن کے نتیجے میں علمائے حق کے قلم سے کئی عمدہ تراجم وجود میں آگئے۔
اسی زریں سلسلہ کی ایک خوبصورت کڑی جناب مولانا اشتیاق احمد قاسمی در جهنگوی زید فضلہ، استاذ دارالعلوم دیوبند کا پیش نظر ترجمہ بھی ہے۔ یہ بات بندہ کے علم میں تھی کہ موصوف اکابر علماء کے تراجم او مستند تفسیروں کے دائرہ میں رہتے ہوئے ترجمہ قرآن پاک کو سہل سے سہل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ الحمد للہ وہ اپنی سعی میں کامیاب ہوئے اور ان کی محنت کا شمرہ موجودہ ترجمہ قرآن پاک کی شکل میں سامنے آگیا۔ اللہ تعالی اس محنت کو قبول فرمائیں اور امت کو اس سے استفادہ کی توفیق بخشیں ۔ ‘‘
امید ہے کہ اس ترجمہ قرآن کو طلبہ کے ساتھ ساتھ عوام الناس کے درمیان بھی پذیرائی ملے گی ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اردو کے ساتھ ساتھ یہ ترجمہ ہندی اور رومن میں بھی موجود ہے ۔ بلاشبہ آج ہندوستانی مسلم معاشرہ کا ایک بڑا طبقہ ہندی پڑھتا اور لکھتا ہے ، اسی طرح ناخواندہ مسلم طبقہ رومن ہی تک محدود ہے ، ہندی اور رومن ترجمہ قرآن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فاضل مترجم کا مقصد ہے کہ اس ترجمہ قرآن سے عوام کا ہر طبقہ حتی الامکان استفادہ کرے ۔ بلاشبہ یہ اردو ، ہندی اور رومن ترجمہ قرآن اسکول اور یونیورسٹی کے لئے طلباء کے لئے بھی قیمتی سوغات ہے ۔





