Web Analytics Made Easy - StatCounter
Khilafat e Banu Umayya Tareekh o Haqaiq

خلافت بنو امیہ

خلافتِ بنو امیہ-تاریخ و حقائق

تالیف:دکتور حمدی شاہین،

ترجمہ: حافظ قمر حسن،

نظر ثانی و مراجعت: محمد فہد حارث،

عہدِ بنو اُمیہ (41ھ تا 132ھ / 661ء تا 750ء) خلافتِ راشدہ کے بعد اسلامی تاریخ کا نہایت اہم مگر حساس اور نازک ترین دور ہے۔ اسی عہد میں اسلامی سلطنت نے غیر معمولی وسعت اختیار کی اور فتوحات کا دائرہ اندلس (اسپین)، شمالی افریقہ، ماوراء النہر اور برصغیر(سندھ) تک پھیل گیا۔ بنو اُمیہ نے عربی زبان کو سرکاری زبان قرار دے کر امت میں لسانی وحدت پیدا کی، ایک منظم انتظامی ڈھانچہ قائم کیا، ڈاک اور عدالتی نظام کو منضبط کیا، اور ریاستی نظم و نسق میں وحدت و استحکام پیدا کیا۔اگرچہ یہ دور داخلی اختلافات، قبائلی تعصبات اور بعض مخالف سیاسی تحریکوں—خصوصاً عباسی دعوت—کے باعث کئی چیلنجز سے دوچار رہا، تاہم علمی، تمدنی اور عسکری ترقی کے اعتبار سے یہ عہد اسلامی تاریخ کا درخشاں باب شمار ہوتا ہے۔

عہدِ بنو اُمیہ پر متنوع نوعیت کی تصانیف سامنے آ چکی ہیں، مگر افسوس کہ بیشتر تحریروں میں اس دور کے حقیقی کارناموں کو پسِ پشت ڈالنے اور بعض کردہ اور ناکردہ غلطیوں/ جرائم کو مبالغہ آمیز اور معاندانہ رنگ میں پیش کرنے کا رجحان غالب رہا۔ جب کہ تاریخ کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا مطالعہ تحقیق، توازن اور غیر جانب داری کے ساتھ کیا جائے، تاکہ ماضی کی تصویر تعصب و جذباتیت سے پاک ہو کر سامنے آئے۔

پیشِ نظر کتاب “خلافتِ بنو امیہ- تاریخ و حقائق” پروفیسر ڈاکٹر حمدی شاہین کی ایک اہم تاریخی تحقیق “الدولۃ الامویۃ المفتری علیھا: دراسۃ الشبھات ورد المفتریات” (دار القاہرہ للنشر، 2001ء) کا مستند اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں فاضل مولف نے اموی خلافت پر عائد کیے گئے الزامات و شبہات کا نہایت مدلل، عالمانہ اور تحقیقی انداز میں جائزہ لیا ہے۔اور یہ واضح کیا ہے کہ بنو امیہ کی تاریخ کو مختلف سیاسی اور مذہبی وجوہات کی بنا پر مسخ کیا گیا ہے۔ انھوں نے تاریخی مصادر کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اموی حکمرانوں پر لگائے گئے بہت سے الزامات بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ کتاب میں مصنف نے اموی دور کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے اور اس دور کی علمی ، تمدنی اور سیاسی ترقیوں کو بیان کیا ہے۔

خود ڈاکٹر حمدی شاہین رقم طراز ہیں: ” اس کتاب کا موضوعِ بحث اموی سلطنت کی تاریخ ہے۔اس میں اموی سلطنت کے بنیادی خدو خال کی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ یہ جستجو ان عوامل کے اثرات سے پاک رہے جنھوں نے مختلف ادوار میں اموی سلطنت کی تاریخ کا حلیہ بگاڑا، اس کے کارناموں کو سبوتاژ کیا اور اس کے رجالِ کار کا چہرہ مسخ کیا۔ اس مقصد کے لیے ان تاریخی روایات کا کچا چٹھا کھول کر ان کی اصلی حیثیت بتائی گئی ہے جو امویوں سے متعلق اس جارحانہ نقطہ نظر کی بنیاد بنیں ـــــ اموی تاریخ دراصل عباسی دور میں لکھی گئی تھی۔ یہ دور بنوامیہ کے خلاف نفرت و عداوت کے جذبات سے معمور تھا۔ نیز اموی تاریخ جن لکھاریوں کے ہاتھوں سپردِ قرطاس ہوئی، وہ مختلف فکری رجحانات کے مالک تھے۔ ان کی سیاسی وابستگیاں بھی جدا جدا تھیں۔ ان کے فکری رجحانات اور سیاسی وابستگیوں نے اس اہم اور حساس دورِ تاریخ کی وقائع نویسی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یوں ان تاریخی ماخذوں میں بنو امیہ کے متعلق جو موقف اختیار کیا گیا گیاتھا ، اس کا تحلیل و تجزیہ اور ان مورخین کے فکری رجحانات کا جائزہ اس بحث و تحقیق کا بنیادی موضوع بن کر سامنے آتا ہے۔”

کتاب میں جن اہم موضوعات کو موضوعِ بحث بنایاگیا ہے ان میں: اموی خلفاء پر لگائے گئے الزامات کا تجزیہ اور ان کا رد،دعوتِ اسلامیہ کے آغاز میں اسلام کے متعلق امویوں کا حقیقی رویہ، خلافت تک رسائی کے وسائل وذرائع، شوریٰ اور ولی عہدی کے متعلق رائے، سیاسی مخالفین سے نمٹنے کا طریقہ، امویوں کے خلاف نمایاں بغاوتوں کی تفصیل، اہلِ مدینہ کی بغاوت، حضرت ابن زبیر اور حضرت امام حسین کی معارضانہ تحریک، اہلِ بیت کے تعلق سے امویوں کا موقف، نیزامویوں کے متعلق قبائلی تعصب، مالی بدعنوانی اور موالی پر ظلم و ستم کے الزامات کا محاکمہ، امویوں کے تہذیبی و تمدنی کارناموں کا مطالعہ شامل ہیں۔

اس علمی و تحقیقی کتاب کا نہایت رواں اور شستہ اردو ترجمہ حافظ قمر حسن نے کیا ہے جو ایک ماہر اور کہنہ مشق مترجم ہیں۔ انھیں اس سلسلے میں براہِ راست مصنف کی رہنمائی بھی حاصل رہی ہے۔ جب کہ اس پر نظرِ ثانی اور مراجعت کا فریضہ محمد فہد حارث نے انجام دیا ہے۔

فاضل مصنف کی پیش کردہ تمام آرا و نتائج سے اگرچہ کلی اتفاق ممکن نہیں، تاہم یہ تصنیف اپنی نوعیت کے اعتبار سے خلافتِ امویہ کے تاریخی و فکری پس منظر کو نئے زاویۂ نظر سے سمجھنے کی ایک وقیع اور قابلِ اعتنا علمی کاوش ہے۔ اس میں پیش کردہ استدلالات و تجزیات نہ صرف تحقیقی مباحث کو تازگی عطا کرتے ہیں بلکہ طلبہ، محققین اور اسلامی تاریخ کے سنجیدہ قارئین کے لیے بھی غور و فکر کے نئے در وا کرتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login