اسلامی خلفاء و ملوک اور تاریخِ اسلام سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ : حارث پبلی کیشنز کی نئی پیش کش
زیرِ نظر کتاب کا عنوان کتاب کے مندرجات سے متعلق کافی کچھ رہنمائی فراہم کردیتا ہے۔ اس کتاب میں ہم نے پانچ اہلِ علم کے مضامین کو شامل کیا ہے جن کے نام ترتیب وار کچھ یوں ہیں:
۱۔ حافظ صلاح الدین یوسف ؒ
۲۔ مولانا حسین احمد مدنیؒ
۳۔ مولانا عبدالعلی فاروقی
۴۔ مولانا ابوریحان عبدالغفور سیالکوٹیؒ
۵۔ مولانا مطلوب الرحمن ندوی نگرامی ؒ
ساتھ ہی آخر میں چند قریبی احباب کے اصرار پر اپنے چند مضامین جو زیرِ نظر کتاب کے موضوع سے مناسبت رکھتے تھے اور مختلف اوقات میں لکھے گئے تھے، تہذیب و ترتیب دے کر ان کو بھی شاملِ کتاب کردیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے اول جو مضمون شاملِ کتاب کیا گیا ہے وہ محقق العصر حافظ صلاح الدین یوسفؒ کا ایک مختصر رسالہ “اسلامی خلفاء و ملوک اور تاریخِ اسلام سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ” ہے ۔ چونکہ درحقیقت اس کتاب کی ترتیب و اشاعت کا محرک ِ اوّل حافظ صلاح الدین یوسفؒ کا یہی رسالہ بنا تھا، اسی سبب سے اس کتاب کا نام بھی حافظ صاحب کے رسالے کے نام پر موسوم کیا گیا ہے۔
دوسرے نمبر پر شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی مرحوم کا مضمون “حضرت معاویہؓ اور یزید کی ولیعہدی” شاملِ کتاب کیا گیا ہے۔ یہ مضمون مولانا حسین احمد مدنی مرحوم کی نگارشات پر مشتمل ہے جو ایک سائل کااستفسار کہ “حضرت امیر معاویہؓ کا یہ فعل کیا غیر مستحسن نہیں کہ انہوں نے یزید جیسے فاسق و فاجر کو خلافت کے لئے نامزد فرمایا”کے جواب کے طور پر آپ نے رقم کیا تھا۔ اولاً یہ مضمون مولانا حسین احمد مدنی مرحوم کے مجموعہ مکتوبات کی جلد اول میں شائع ہوچکا ہے۔ تاہم شیخ الحدیث علامہ عطاء اللہ حنیف بھوجیانیؒ نے اپنے زیرِ ادارت نکلنے والے مجلّہ “رحیق” جون ۱۹۵۸ء کی اشاعت میں اس مضمون کی افادیت کے پیشِ نظر اس کو مختصر تعلیقات و حواشی کے ساتھ دوبارہ شائع کیا تھا۔ اس مضمون پر علامہ عطاء اللہ حنیف بھوجیانیؒ کے حواشی نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا ہے اور مضمون کے ساتھ ان حواشی کے مطالعہ سے یزید بن معاویہ کی ولایتِ عہد سے متعلق خارزار و پیچیدہ مبحث نہایت آسانی سے قاری کے ذہن میں پیدا ہونے والے شبہات کا ازالہ کردیتا ہے ۔
تیسرے نمبر پر امام اہلسنت مولانا محمد عبدالشکور فاروقی مرحوم کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالعلی فاروقی کا مضمون “حضرت معاویہؓ اور یزید کی ولیعہدی” اپنے سے ماقبل مضمون سے مشابہت کے ضمن اور اس کے تکملہ کے طور پر شاملِ کتاب کیا جارہا ہے۔ یہ مضمون دراصل مولانا عبدالعلی فاروقی کی کتاب “تاریخ کی مظلوم شخصیات” سے ماخوذ ہے۔
چوتھے نمبر پر مولانا ابو ریحان عبدالغفور سیالکوٹی کے دو مضامین بنام ” حضرت حسینؓ کے کربلائی خروج کی بنیاد کیا تھی؟ ” اور “خط بنام مولانا امین صفدر اوکاڑوی ” بذیل کردارِ یزید شاملِ کتاب کئے گئے ہیں۔ یہ دونوں مضامین فضیلۃ الشیخ حافظ عبیداللہ ؒ کی اجازت سے ان کے والد کی کتاب “دفاعِ سیدنا معاویہؓ” سے اخذ کئے گیے ہیں اور ان کو جوں کا توں مع مرتب کے حواشی کے شاملِ کتاب کردیا گیا ہے۔
زیرِ نظر کتاب میں چھٹا مضمون جلیل القدر عالم و مصنف مولانا مطلوب الرحمٰن ندوی نگرامی کے قلم سے ہے جو آج سے نصف صدی سے زائد عرصہ قبل مولانا مناظر احسن گیلانی مرحوم کے بنو امیہ کے حوالہ سے ایک تنقیدی مقالہ کے جواب میں “تصویر کا دوسرا رخ” کے عنوان سے رقم کیا گیا تھا۔قصہ کچھ یوں تھا کہ مولانا مناظر احسن گیلانی نے ایک سلسلۂ مضامین بنام “امام ابو حنیفہؓ کی سیاسی زندگی” کے عنوان سے الفرقان میں لکھنا شروع کیا تھا جس میں بنو امیہ کی حکومت کے بارے میں مولانا مرحوم کا قلم بہت تیز چلا ۔ شبلی اسکول کے فاضل مولانا مطلوب الرحمٰن ندوی نگرامی مرحوم نے اس پر “تصویر کا دوسرا رخ” کے عنوان سے تعاقب فرمایا کہ مولانا نے بنو امیہ کی یک رخی تصویر پیش کی ہے اور وہ بھی جذباتی مبالغے کے ساتھ۔ مولانا مطلوب الرحمٰن مرحوم کا یہ مضمون اپنے مدلل مندرجات اور آسان فہم طرزِ استدلال کے سبب خاصے کی تحریر ہے جو تاریخِ اسلامی سے متعلق کئی اہم گوشوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اسی سبب مناسب خیال کیا گیا کہ اس وقیع مضمون کو بھی اس کتاب کا حصہ بنا دیا جائے۔
ان پانچ اہل علم کے وقیع مضامین کے بعد اس احقر کے چند مضامین بھی موضوع سے مناسبت رکھنے کے سبب شاملِ کتاب کیے گیے ہیں جن کے عنوانات قارئین فہرست میں اور تفصیلات کتاب میں ملاحظہ کرلیں گے ان شاءاللہ۔ ان کی بابت مقدمہ میں کچھ عرض کرنا موجبِ طوالت و اضاعتِ وقت سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔ پس ان چند مضامین کے مجموعہ کی صورت میں یوں یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں آج موجود ہے۔






