تفسیر”انعام الرحمٰن” کی اشاعت
تصنیف: مولانا کمال الدین المسترشد، استاذالحدیث و رئیس دارالافتاء، جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی
تبصرہ نگار: ڈاکٹر عبدالستار آزاد، بیت الحکمت سوات
10مئی 2026ء
اعجازِ قرآنی اور فصاحت و بلاغتِ قرآنی کے دل آویز مباحث پر مشتمل مولانا کمال الدین المسترشد،استاذ الحدیث و رئیس دار الافتاء جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی،کی مایۂ ناز تفسیر”انعام الرحمٰن” کی پہلی جلد مئی 2026ء میں منظرِ عام پر آچکی ہے۔ اس گراں قدر علمی سرمائے کو شعبۂ تصنیف و تالیف، جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی نے نہایت اہتمام اور حسنِ ترتیب کے ساتھ شائع کیا ہے جس کی طباعت آرٹ پیپر پر بڑی نفاست اور جاذبِ نظر انداز میں کی گئی ہے۔ پہلی جلد 800 صفحات پر مشتمل ہے جس میں سورۂ فاتحہ سے لے کر سورۂ نساء کی آیت 147 تک کی تفسیر پیش کی گئی ہے۔ اس تفسیر کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قرآنی اعجاز، بلاغت اور فصاحت کے دقیق پہلوؤں کو نہایت سلیس اردو زبان میں اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ عام قاری بھی اس کے علمی نکات سے مستفید ہو سکے، جبکہ اہلِ علم کے لیے تو یہ ایک بیش بہا خزانہ ہے۔ “انعام الرحمٰن”محض ایک تفسیر نہیں بلکہ اردو زبان میں قرآنی علوم کی ایک منفرد اور وقیع کاوش ہے جو کلاسیکی اور عصری تقاضوں کے حسین امتزاج کی عکاس ہے۔ اس کی بقیہ پانچ جلدیں بھی ان شاء اللہ بتدریج شائع ہو کر اس عظیم علمی منصوبے کو مکمل کریں گی۔
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا آخری اور مکمل پیغامِ ہدایت ہے۔ اس کا مخاطب کسی خاص قوم یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت ہے۔ یہ وہ عظیم کتاب ہے جو بندوں کا رشتہ ان کے خالق سے جوڑتی ہے اور جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لی ہے۔ قرآن علم و حکمت کا ایسا سرچشمہ ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے اور فطری اصولوں کے مطابق زندگی کی تشکیل و ترتیب کا جامع نظام پیش کرتا ہے۔ تاریخِ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قرآنِ مجید سے وابستگی اور اس کی اطاعت نے ہمیشہ مسلمانوں کے اذہان کو وسعت اور روشنی عطا کی ہے۔ قرآن خود چیلنج کرتا ہے کہ اگر کوئی اس جیسا کلام پیش کر سکتا ہے تو سامنے لائے، مگر آج تک کوئی اس کا مقابلہ نہ کر سکا۔
اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اُس کے دور کے حالات اور تقاضوں کے مطابق معجزات عطا فرمائے، جبکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیگر معجزات کے علاوہ جو عظیم اور دائمی معجزہ عطا ہوا، وہ قرآنِ مجید ہے۔ قرآنِ حکیم اپنی بے مثال فصاحت و بلاغت، دل نشین اسلوب اور غیبی حقائق کی بنا پر قیامت تک رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی روشن دلیل بنا رہے گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے زمانے میں عرب زبان و بیان کے امام سمجھے جاتے تھے، مگر جب قرآنِ مجید نے ان کے سامنے اپنے مثل کلام لانے کا چیلنج رکھا تو بڑے بڑے شعراء اور خطباء بھی عاجز آ گئے۔ قرآنِ حکیم کی اعجازی شان آج بھی اسی طرح قائم ہے اور وہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے ہدایت، فکر اور حقانیت کا سرچشمہ بنا رہے گا۔
قرآنِ مجید کی بے مثال فصاحت، دل نشین بلاغت اور روح پرور تاثیر کے سامنے عرب کے کسی شہسوارِ زبان و بیان کو اس کے مقابل کھڑے ہونے کی جرأت نہ ہو سکی۔ یہی قرآنِ حکیم آج بھی اپنی اعجازی شان کے ساتھ انسانیت کو دعوتِ فکر دے رہا ہے اور رہتی دنیا تک معجزۂ الٰہی کے طور پر قائم رہے گا۔ عربوں کی زبان دانی اور فصاحت کا یہ عالم تھا کہ وہ میدانِ جنگ میں بھی برجستہ اشعار کہتے، مدح میں مبالغہ آرائی کرتے اور ہجو میں کسی کو پستی کی انتہا تک پہنچا دیتے تھے۔ ان کی زبان میں ایسا اثر تھا کہ وہ بزدل کو بہادر اور بخیل کو سخی بنا دیتے تھے۔ مگر جب قرآن نے اپنے منفرد اسلوب اور دلنشیں انداز میں انہیں چیلنج کیا تو وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ قرآن نے نظم و نثر کے درمیان ایک ایسا معتدل اور دلکش اسلوب اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی کے تصور میں بھی نہ تھا۔
ڈاکٹر محمد طاہر مصطفیٰ نے اپنی کتاب “تاریخِ تفسیر و اصولِ تفسیر” میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی”الفوز الکبیر” کے حوالے سے لکھا ہے کہ قرآن کا اندازِ بیان دیگر تمام کلام سے یکسر مختلف ہے۔ اس کے فواصل، تراکیب، جملوں کی بندش اور الفاظ کا انتخاب ایسا منفرد ہے کہ کوئی انسان ابتدا سے انتہا تک اس اسلوب کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔
قرآنِ حکیم کا ایک اہم اعجاز اس کی بلاغت ہے، جس کی حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنا بعد کے ادوار کے لوگوں کے لیے ممکن نہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ جس سادگی، لطافت اور اثر انگیزی کے ساتھ قرآن الفاظ و معانی کو پیش کرتا ہے، وہ کسی اور ادبی تخلیق میں نہیں ملتی۔ یہی وہ خصوصیت ہے جس نے عربوں کے دل و دماغ کو مسخر کر لیا۔ شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں کہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ علم تذکیر اور مناظرہ مخاصمہ جہاں کہیں معانی کو الفاظ کا دوسرا لباس سورت کے اسلوب خاص کے موافق پہناتے ہیں وہیں اس میں ایک عجیب کیفیت اور ندرت ہوتی ہے کہ ہماری عقل محدود وہاں تک نہیں پہنچ سکی۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآنِ مجید کے اولین شارح اور مفسر ہیں۔ آپؐ نے قرآن کی تعلیمات کو مختلف اقوام تک ان کی زبانوں میں پہنچایا۔ عہدِ صحابہ سے ہی قرآن کے ترجمے اور تفاسیر کا سلسلہ شروع ہو گیا، جو تابعین، تبع تابعین اور بعد کے ادوار میں بھی جاری رہا۔ ہر دور کے علماء نے اپنے علمی ذوق، اپنے دور کے حالات اور تقاضوں کے مطابق قرآن کی تشریح و توضیح کی ۔
تفسیرِ قرآن کے میدان میں بے شمار کام ہوا ہے، مگر کوئی بھی تفسیر حتمی یا حرفِ آخر قرار نہیں دی جا سکتی، کیونکہ قرآن کا اصل مفہوم وہی مکمل طور پر سمجھ سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔ ہر مفسر نے اپنی علمی استعداد، رجحان اور مسلک کے مطابق قرآن کی تشریح کی۔ کسی نے احادیث کو بنیاد بنایا، کسی نے فقہ، کسی نے فلسفہ و کلام، اور کسی نے تصوف کے زاویے سے قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی۔ جو مفسر جس ذوق و رجحان اور استعداد و مسلک کا تھا، اُس کی تفسیر اس کی آئینہ دار بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ تفسیری ادب میں بڑا تنوع پایا جاتا ہے ۔
جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، یہاں قرآن و سنت کے باقاعدہ دروس کو فروغ ایک ہزار سال کے بعد (گیارہویں صدی ہجری کے آغاز ہی سے) ملا۔ اس سے قبل دینی علوم کی تدریس محدود دائرے تک تھی، اور بالخصوص حدیث کی تعلیم میں زیادہ تر “مشارقُ الانوار” اور “مشکوٰۃُ المصابیح” جیسی کتب پڑھی اور پڑھائی جاتی تھیں جو بالترتیب ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کی اہم تصانیف شمار ہوتی ہیں۔ مذکوہ دونوں کتابوں کی احادیث بغیر اسانید کی لکھی ہوئی ہیں ، اس لیے یہاں راویانِ حدیث پر جرح و تعدیل کا کام نہ ہونے کے برابر تھا۔اس سے پہلے یہ خطہ دینی علوم کے اعتبار سے بڑی حد تک تشنۂ تکمیل رہا، اگرچہ دیگر فنون اور علوم یہاں خاصی ترقی کر چکے تھے۔ ابتدائی دور میں عرب تاجروں اور مبلغین نے زیادہ تر گجرات کے ساحلی علاقوں میں دعوت و تبلیغ اور اشاعتِ اسلام کا کام انجام دیا۔
ہندوستان میں اس سلسلے کو باضابطہ طور پر شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ایک نئی جہت دی۔ انہوں نے نہ صرف قرآن کا فارسی ترجمہ کیا بلکہ اصولِ تفسیر پر بھی گراں قدر کام کیا۔ ان کے بعد ان کے فرزندوں اور دیگر علماء نے اس مشن کو آگے بڑھایا اور اردو زبان میں قرآن کے ترجمے اور تفاسیر کو فروغ دیا۔ ان کے بعد مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے دینی علوم کی ترویج کے ساتھ ساتھ عملی جدوجہد میں بھی حصہ لیا اور قرآنی علوم کی ترویج و اشاعت کے لیے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد بھی رکھی۔ بعد کے علماء نے بھی اسی روایت کو جاری رکھا اور قرآن فہمی کو عام کرنے کے لیے مدارس اور مکاتب قائم کیے۔
مولانا کمال الدین المسترشد کی زیرِ تبصرہ تفسیر”انعام الرحمٰن”بھی اسی سلسلۃ الذہب کی ایک اہم کڑی ہے۔انہوں نے اس تفسیر کی ترتیب و تالیف میں جس محنتِ شاقہ، غیر معمولی صبر و استقلال اور علمی دیانت کا مظاہرہ کیا ہے اس کا حقیقی اندازہ صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب اس تفسیر کا مطالعہ کیا جائے۔اس کا ہر صفحہ ان کی عرق ریزی،تدبر اور علمی ذوق کا آئینہ دار نظر آتا ہے۔
مولانا کمال الدین المسترشد
مولانا کمال الدین المسترشد عہدِ حاضر کےایک ممتاز عالمِ دین ہیں جن کی شخصیت علم و تحقیق اور تدریس و تصنیف کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ وہ ایک جید مفسرِ قرآن، وسیع النظر محدث، علومِ عقلیہ و نقلیہ کے جامع، صاحبِ قلم مصنف اور ایک کامیاب و باکمال مدرس کی حیثیت سے اہلِ علم میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عربی، فارسی، پشتو اور اردو زبانوں پر ان کی گہری دسترس ہے، جبکہ تفسیر و حدیث، حکمت و فلسفہ، منطق، جغرافیہ اور فلکیات جیسے متنوع علوم سے انہیں خاص شغف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان علوم کی تدریس بھی نہایت مہارت اور دل نشینی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ ان کا شمار ان اکابر علماء میں ہوتا ہے جن کے علم و فضل پر اہلِ علم بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔
مولانا کمال الدین المسترشد بن مولانا جمیل الرحمٰن صدیقی 25 اگست1961ء(مطابق 12 ربیع الاول1381ھ) بروز جمعہ، صبح صادق کے وقت، خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے مارتونگ(منز کلے) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا محترم مولانا انعام اللہ صاحب رحمہ اللہ ریاستِ سوات کے دور میں تحصیل مارتونگ کے قاضی رہے اور اپنے زمانے کے جید عالم اور فنون کے ماہر استاد تھے۔ اس علمی و دینی ماحول نے مولانا المسترشد کی ابتدائی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے اسکول اور مدرسہ نشرالعلوم سے حاصل کی۔ ساتویں جماعت تک عصری تعلیم حاصل کی، جبکہ اس سے قبل اور بعد مسجد میں اور گھر پر اپنے والد محترم سے دینی علوم کی تحصیل جاری رکھی۔ اسی دور میں انہوں نے خلاصہ کیدانی، منیۃ المصلی، میزان الصرف، میزان منشعب، صرف بہائی، زرادی، زنجانی اور مراح الارواح جیسی بنیادی کتب پڑھیں۔
بعد ازاں ساتویں جماعت کے بعد آپ ضلع مانسہرہ کے علاقے کالا ڈھاکہ کے گاؤں کھنڈرو تشریف لے گئے جہاں انہوں نے دینی علوم کی مزید تکمیل کے لیے شمہ وغیرہ کتب کا درس لیا۔ 1977ء میں تقریباً 16 سال کی عمر میں کراچی کا رخ کیا اور جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی میں درجہ اولیٰ میں داخلہ لیا۔ پھر درجہ ثانیہ اور ثالثہ جامعہ حمادیہ شاہ فیصل کالونی کراچی میں مکمل کیے۔ اس کے بعد سوات واپس آکر منگورہ کے معروف مدرسہ مظہر العلوم میں داخلہ لیا اور تین سال تک جید اساتذہ سے اکتسابِ فیض کیا۔
اس کے بعد تین سال تک مارتونگ میں ماہر اساتذہ سے منطق و فلسفہ کی اعلیٰ کتب پڑھیں۔ اس دوران انہوں نے اقلیدوس (جیومیٹری)، خلاصۃ الحساب، تصریح (علم ہیئت)، جغرافیہ، فلکیات اور دیگر سائنسی علوم کے اصول و مبادی بھی سیکھے اور ان میں مہارت حاصل کی۔ انہوں نے دورہ حدیث اور موقوف علیہ کی تکمیل جامعۃ العلوم الاسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن کراچی سے کی اور 1987ء/مطابق1407ھ میں درسِ نظامی کی تکمیل کرکے سندِ فراغت حاصل کی۔
“شعاعی تصویرکی شرعی حیثیت”کی تالیف اور دوسرے جدیدسائنسی کلیات ومبادی کی تحصیل کی غرض سے فراغت کے بعد بھی اٹامک انرجی کمیشن چشمہ میانوالی کا متعدد بار سفر کیا ہے اور اس حوالے سے بالخصوص انجنیئر جناب سراج الحق صاحب سے زیادہ استفادہ کر چکے ہیں ۔
سندِ فراغت کے حصول کے بعد سے لے کر 10 مئی2026ء تک، الحمدللہ، آپ کا تدریسی سفر بلا انقطاع جاری ہے، جو تقریباً چالیس سال پر محیط ہے۔ اس طویل عرصے میں انہوں نے ہر فن اور ہر درجے کی کتب کی تدریس نہایت احسن انداز میں انجام دی۔ تدریس کا آغاز ہی منطق، فلسفہ اور عقائد کی اعلیٰ کتب سے ہوا، جن میں قاضی، ملا حسن، میر زاہد، ملا جلال، مطول، خیالی، میبذی اور صدری بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
ایامِ تدریس کے علاوہ تعطیلات میں بھی آپ علمی خدمات میں مصروف رہتے ہیں۔ خصوصاً سالانہ چھٹیوں میں دورہ تفسیر کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں مکمل قرآن مجید کی تفسیر کے ساتھ اصولِ تفسیر بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ انہی اصولوں کو انہوں نے “الزاد الیسیر فی علوم التفسیر” کے نام سے مرتب کرکے کتابی صورت میں شائع کیا ہے۔ آپ نے درجاتِ عالیہ کے تمام فنون، بشمول صحاحِ ستہ، کی تدریس کا فریضہ بھی انجام دیا ہے اور مختلف علمی و تربیتی کورسز بھی کروائے ہیں۔
آپ نے مختلف ممتاز دینی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دی ہیں، جن میں دارالعلوم اسلامیہ لکی مروت، جامعہ اسلامیہ اضاخیل نوشہرہ، مخزن العلوم کراچی، جامعہ حمادیہ شاہ فیصل کالونی کراچی اور جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی شامل ہیں۔ اس وقت بھی آپ جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی میں استاذ الحدیث و رئیس دارالافتاء کے منصب پر فائز ہیں اور قرآن و حدیث کی خدمت میں مصروف ہیں۔
مفتی احتشام الحق آسیا آبادی رحمہ اللہ نے آپ کی علمی صلاحیتوں اور تدریسی ذوق کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے متعدد مواقع پر آپ کو اپنے مدرسہ واقع آسیا آباد(تربت) میں بھی اس مقصد کے پیشِ نظر مدعو کیا کہ آپ تخصص کے طلبہ کو علمی و فنی رہنمائی فراہم کریں اور ان طلبہ کی علمی تربیت اور ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔وہاں کے تخصص کے طلبہ کو کئی بار آپ جیسے صاحبِ علم و فن سے استفادہ کا موقع ملا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو تدریسی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ غیر معمولی تصنیفی ملکہ بھی عطا فرمایا ہے۔ آپ کا رجحان خاص طور پر علمی و تحقیقی میدان کی طرف ہے، اور آپ جامعہ اسلامیہ کلفٹن کے دارالتصنیف سے بھی وابستہ ہیں۔ آپ نے قرآن، حدیث، فقہ، فلسفہ، منطق، جغرافیہ، فلکیات، اصولِ حدیث و فقہ اور علم کلام سمیت مختلف موضوعات پر گراں قدر کتب تصنیف کی ہیں۔
آپ کی مطبوعہ کتب میں تشریحات ترمذی، الزاد الیسیر فی علوم التفسیر، نقش قدم، نقش اخلاق، راہ معرفت، تجدد پسندوں کے افکار کا جائزہ، قیاس اور تقلید کی حقیقت اور شرعی حیثیت، شعاعی تصویر کی حقیقت اور شرعی حیثیت، حج و عمرہ کے مسائل، الدلائل الکمالیۃ العقلیہ فی الرد علی الدہریہ، عقل و نقل کی کشمکش اور جامع منصوبہ بندی، اسلامی عقائد و نظریات اور برصغیر کے مختلف ادوار کا علمی و عملی جائزہ، نیز منطق و فلسفہ، جغرافیہ اور فلکیات جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ “تفسیر انعام الرحمٰن” ان کی اہم علمی کاوش ہے، جبکہ متعدد مسودات اشاعت کے منتظر ہیں۔
آپ کے مضامین و مقالات مختلف علمی و دینی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں، جن میں ماہنامہ ایوانِ اسلام، الفاروق، ندوۃ العلم، التبشیر (جس میں”عِبر و عَبر”کے عنوان سے سلسلہ وار مضامین شائع ہوتے رہے)، الفیض، روزنامہ اسلام اور ہفت روزہ ضربِ مومن شامل ہیں۔
مزید برآں، 7مارچ 2014ء سے 27جون 2014ء تک آپ نے ریڈیو پاکستان کے پروگرام “ہماری دنیا”میں ہفتہ وار پندرہ پروگرام کیے۔
جامعہ بنوریہ کراچی کے ایف ایم ریڈیو پر بھی متعدد بار مدعو ہوئے۔
مجلس صوت الاسلام کے “تربیۃ العلماء”اور”تربیۃ الخطباء” کورسز کے تحت پشاور اور اسلام آباد میں فضلاء و خطباء کو مختلف موضوعات پر تربیت دی، جبکہ کراچی میں یہ سلسلہ مستقل طور پر جاری رہا۔
بلاشبہ، مولانا کمال الدین المسترشد عصرِ حاضر کے ان جید علماء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو علم کی خدمت، تدریس اور دین کی ترویج کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ان کی علمی خدمات، تدریسی کاوشیں اور تصنیفی آثار آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
“انعام الرحمٰن” کا پس منظر
مولانا کمال الدین المسترشد نے 1999ء میں جامعہ اسلامیہ کلفٹن میں باقاعدہ دورۂ تفسیر کا آغاز کیا۔ دورانِ مطالعہ جب بھی قرآنِ مجید کی بلاغت اور اسلوبِ بیان سے متعلق کوئی نکتہ سامنے آتا تو اسے اپنے ذاتی بیاض میں قلم بند کر لیتے۔ ابتدا میں ان کا ارادہ صرف یہ تھا کہ یہ نکات یکجا ہو جائیں تو اہلِ ذوق کے ساتھ فوٹو کاپی کی صورت میں شیئر کر دیے جائیں گے یا اگر ممکن ہو تو انہیں شائع کر دیا جائے گا۔ 2004ء میں ایک واقعہ نے اس کام کو مزید مہمیز دی جب ایک صاحب نے انہیں ایک عربی تحریر کے چند اوراق فراہم کیے اور بتایا کہ اس مضمون نگار نے قرآن کی بلاغت کا مقابلہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس واقعے نے قرآن کے اعجازِ بیانی کو واضح کرنے کی ضرورت کو اور زیادہ نمایاں کر دیا۔
ان کے پاس بیاض میں جب یہ نکات خاصی تعداد میں جمع ہو گئے تو قریبی اہلِ علم احباب نے ان کو تجویز دی کہ انہیں ایک مختصر تفسیر کی شکل میں ترتیب دیا جائے۔ اس تجویز نے مولانا کو باقاعدہ تفسیر کی طرف مائل کیا، چنانچہ انہوں نے 2016ء کے آواخر میں اس تفسیر کی تحریر کا باقاعدہ آغاز کیا۔
سورۂ فاتحہ کی تکمیل کے بعد جنوری2017ء میں وہ عمرہ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ ان کی خواہش تھی کہ سورۂ بقرہ کی تفسیر کا آغاز حرمِ مکہ میں کریں، لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ چنانچہ مدینہ منورہ میں، منبرِ رسولﷺ اور روضۂ رسولﷺ کے درمیان، مغرب کی نماز کے بعد تیسری صف میں بیٹھ کر سورہ بقرہ کی تفسیر کا آغاز کیا۔ اس میں ایک لطیف حکمت بھی سمجھی جا سکتی ہے کیونکہ سورۂ بقرہ کا نزول مدینہ منورہ ہی میں ہوا تھا، گویا اس کی تفسیر کا آغاز بھی اسی سرزمین پر ہونا مقدر ہوا۔ اس کے بعد سے وہ ایک منظم نظام الاوقات کے تحت اس تفسیر کو بلا ناغہ لکھ رہے ہیں اور اب تک سورۂ سبأ کی آیت 20 تک اس کی تکمیل ہو چکی ہے۔ ان شاء اللہ یہ علمی و ادبی شاہکار چھ جلدوں میں مکمل ہو کر منظرِ عام پر آئے گا اور قرآنِ کریم کے فہم میں ایک گراں قدر اضافہ ثابت ہوگا۔
تفسیر کی تصنیف و تدوین کے سلسلے میں مولاناالمسترشد 20جنوری 2024ء سے وقتاً فوقتاً، بالخصوص مدارس کی تعطیلات کے دوران، ندوہ لائبریری اسلام آباد میں بھی باقاعدگی سے تشریف لاتے ہیں جہاں یکسوئی کے ساتھ مطالعہ، مراجعت اور تحریر کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔مفتی سعید خان صاحب نہایت خلوص اور فراخدلی کے ساتھ ان کی میزبانی کرتے ہیں اور ضروری علمی و عملی سہولیات فراہم کرتے ہیں، جس سے مولانا کو اپنے کام میں مزید انہماک اور تسلسل میسر آتا ہے۔ یوں الندہ لائبریری اور اس کے ذمہ داران اس عظیم علمی خدمت میں ایک خاموش مگر مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں جو بلاشبہ لائقِ تحسین ہے۔
“انعام الرحمٰن” کی خصوصیات
تفسیر”انعام الرحمٰن” کے ابتدا میں صفحہ1 تا 2 پر مصنف کا پیش لفظ شامل ہے۔ اس کے بعد صفحہ3 سے صفحہ 84 تک”الزاد الیسیر”کے عنوان سے ایک مفصل اور جامع مقدمۃ التفسیر پیش کیا گیا ہے جو قاری کو علمِ تفسیر کے اصول، اہمیت اور بنیادی مباحث سے روشناس کراتا ہے۔
صفحہ 85 سے باقاعدہ سورۂ فاتحہ کی تفسیر کا آغاز ہوتا ہے جو صفحہ109 تک محیط ہے۔ اس کے بعد صفحہ110سے لے کر صفحہ492 تک سورۂ بقرہ کی تفسیر ہے، صفحہ493 سے صفحہ 650 تک سورۂ آل عمران کی تفسیر بیان کی گئی ہے، جبکہ صفحہ651 سے سورۂ نساء کی تفسیر کا آغاز ہوتا ہے جو اس جلد کے اختتام یعنی صفحہ 800 تک جاری رہتی ہے اور سورۂ نساء کی آیت نمبر 147 تک پہنچتی ہے۔ سورۂ نساء کی بقیہ تفسیر یعنی آیت نمبر 148 سے آگے کا حصہ دوسری جلد میں شامل کیا گیا ہے۔
تفسیر کا اسلوب نہایت منظم، جامع اور علمی ذوق کا آئینہ دار ہے۔ مولانا المسترشد ہر سورت کے آغاز میں سب سے پہلے اس کا ایک جامع خلاصہ پیش کرتے ہیں جس سے سورت کے مرکزی مضامین، بنیادی نکات اور اس کے عمومی پیغام کا واضح تصور حاصل ہو جاتا ہے۔ خلاصے کے بعد وہ تفسیر کو ایک نہایت عمدہ اور قابلِ فہم ترتیب کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ایک کالم میں متعلقہ آیات درج کی جاتی ہیں جبکہ اس کے بالمقابل دوسرے کالم میں ان آیات کا بامحاورہ اور سلیس ترجمہ پیش کیا جاتا ہے جس سے پڑھنے والا بیک وقت اصل متن اور اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔
اس کے بعد مولانا صاحب بڑی باریک بینی اور دقتِ نظر کے ساتھ لغوی تشریح میں اہم لغات اور تراکیب کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ صرف لغات کے معانی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ موقع و محل کے لحاظ سے ان کے دقیق اور بلیغ مفاہیم کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ اس ضمن میں جہاں ضرورت محسوس ہو وہاں علمِ بلاغت کے اصول، عقائدِ کی توضیح، فلسفیانہ مباحث، منطقی استدلال اور علمِ کلام کے نکات بھی شامل کرتے ہیں۔ ان کی یہ خصوصیت بھی قابلِ ذکر ہے کہ وہ ہر موضوع کو اس کی اہمیت کے مطابق اجمال یا تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ جہاں اختصار کافی ہوتا ہے وہاں جامع انداز میں بات مکمل کر دیتے ہیں اور جہاں وضاحت کی ضرورت ہو وہاں مدلل اور مفصل گفتگو سے قاری کی تشفی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔
مولانا المسترشد کو عربی زبان کی لطافتوں، نزاکتوں اور اسالیبِ بیان پر عبور حاصل ہے جس کی جھلک ان کی تفسیر کے مختلف مقامات پر نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ قرآنِ حکیم کی تعبیر و تشریح میں انہوں نے عربی ادب، بلاغت اور لسانی دقائق سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے آیاتِ قرآنیہ کے دقیق مطالب کو خوبصورتی سے واضح کیا ہے۔
حدیث، فقہ، لغت، صرف و نحو، فلسفہ، منطق اور تاریخ جیسے متنوع علوم پر ان کی گہری نظر اور وسیع مطالعہ نے مشکلاتِ قرآنی کی تفہیم میں بڑی معاونت فراہم کی۔
تفسیر کی تدوین کے دوران انہوں نے معتبر تفاسیر سے بھرپور استفادہ کیا جن میں خصوصیت کے ساتھ تفسیر بالرّوایت کے باب میں تفسیر ابن کثیر، جبکہ تفسیر بالدرایہ کے ضمن میں کشاف، ابی السعود، روح المعانی، مدارک التنزیل اور اپنے ذاتی بیاض کو پیشِ نظر رکھا ہے۔
ترجمے کے سلسلے میں بیان القرآن، تفسیر عثمانی، ترجمۂ فتح محمد جالندھریؒ اور ترجمۂ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ (قرآن عزیز) سے استفادہ کیا ہے۔
بعض مقامات پر وہ ان کے علاوہ دیگر تفاسیر کی طرف بھی رجوع کرتے ہیں، اور کہیں کہیں اپنے ذوقِ علمی کے مطابق مستقل تعبیر و توضیح بھی پیش کرتے ہیں۔
ان تفاسیر کے علاوہ لغت، تاریخ، اصولِ فقہ، فلسفہ، تصوف اور علمِ کلام کی متعدد مستند کتب کے حوالے بھی جابجا ملتے ہیں۔
اگر کسی مسئلے یا کسی لفظ کی ترکیب یا علمی نکتے میں انہوں نے اکابر اہلِ علم سے اختلاف بھی کیا ہے تو ادب، احتیاط اور احترام کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ وہ اپنی رائے کو عموماً “المسترشد کہتا ہے” کے عنوان سے ذکر کرتے ہیں اور پھر دلائل کی بنیاد پر راجح و مرجوح کے اصول کے مطابق اپنی تحقیق بیان کرتے ہیں۔
تفسیر انعام الرحمٰن کا تعارف اگر ایک جملے میں کیا جائے تو اسے بجا طور پر “اردو کی کشّاف”کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس میں قرآنِ کریم کے فصاحت و بلاغت کے دقیق پہلو نہایت بلیغ اور محققانہ انداز میں سامنے لائے گئے ہیں۔
مصنف کا اصل ہدف یہ ہے کہ یہ تفسیر زیادہ سے زیادہ اہلِ علم تک پہنچے اور وہ اس سے مستفید ہوں۔ اسی مقصد کے پیش نظر انہوں نے اسے عام قاری کے لیے آسان اور کم خرچ بنانے کی حتی المقدور کوشش کی ہے۔ چنانچہ طباعت میں غیر ضروری طوالت سے بچنے کے لیے پیراگراف بندی اور مفصل فہرست جیسے امور کو ترک کیا گیا ہے تاکہ خریدار پر مالی بوجھ کم سے کم پڑے۔
“انعام الرحمٰن” محض آیاتِ قرآنیہ کی روایتی تشریح نہیں، بلکہ عصرِ حاضر کے فکری فتنوں، اعتقادی لغزشوں اور ذہنی انتشار کے مقابل ایک مضبوط علمی و ایمانی قلعہ ہے۔ یہ تفسیر قاری کو قرآنِ حکیم سے جڑنے کا ایک ایسا محفوظ اور متوازن راستہ دکھاتی ہے جس میں عقل کو وحی کے تابع رکھا گیا ہے، نہ کہ وحی کو عقل کے پیمانوں پر پرکھا گیا ہے۔
یہ قاری میں یہ شعور بیدار کرتی ہے کہ قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے محض ذہانت، وسعتِ مطالعہ یا جدید علوم کا علم کافی نہیں بلکہ منہجِ اسلاف، اصولِ اہلِ السنۃ والجماعۃ اور سلفِ صالحین کی فہم کو اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
اس تفسیر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قرآنِ کریم کے اعجازِ بیان، اس کے بلیغ اسلوب، رموز و اسرار اور زبانِ عربی کے دقیق نکات کو نہایت سادہ مگر عالمانہ انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی قدیم و جدید ادوار کے اہلِ زیغ کی طرف سے پیدا کیے گئے شبہات کا نہ صرف مدلل رد کیا گیا ہے بلکہ ان کے فکری پس منظر، اسباب اور محرکات کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔ خصوصاً وہ افراد جو جدید فکری یلغار، سائنسی تعبیرات کے غلط استعمال یا خود ساختہ اصولوں کے زیرِ اثر قرآن و سنت کو پرکھنے لگے ہیں، ان کے لیے “انعامُ الرحمن” ایک رہنما چراغ کی حیثیت رکھتی ہے۔
“انعام الرحمٰن” اپنے قاری کو شک سے یقین، اضطراب سے اطمینان اور فکری انتشار سے اعتدال و توازن کی طرف لے آتی ہے۔ یہ دل کو ایمان کی حرارت سے، عقل کو نورِ وحی سے اور انسان کو منہجِ سلف کی مضبوط بنیادوں سے جوڑ دیتی ہے۔
قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس گراں قدر علمی کاوش سے ضرور استفادہ کریں۔
یہ تفسیر محض روایتی اندازِ بیان تک محدود نہیں بلکہ اس میں قدیم و جدید علوم کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ مولانا کمال الدین المسترشد نے قرآنِ مجید کے دقیق مضامین کو نہایت سادہ، بامعنی اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے، جس سے قاری نہ صرف آیات کے ظاہری مفہوم کو سمجھتا ہے بلکہ ان کے پس منظر، حکمت اور عصری تقاضوں سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔
یہ تفسیر بالخصوص اُن طلبہ، علماء اور عام قارئین کے لیے نہایت مفید ہے جو قرآنِ حکیم کو گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ اس میں جہاں عربی زبان کی لطافتوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے، وہیں جدید فکری مسائل کے تناظر میں بھی آیات کی وضاحت کی گئی ہے، جو اسے دیگر تفاسیر سے ممتاز بناتی ہے۔
جو حضرات قرآن مجید کے پیغام کو بہتر انداز میں سمجھنا اور اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، ان کے لیے “انعام الرحمٰن” کا مطالعہ ایک نہایت مفید اور بامقصد انتخاب ثابت ہوگا۔
پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی!
یہ گراں قدر تفسیر انتہائی مناسب قیمت پر دستیاب ہے۔






