حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ کی کتاب اسلامی تعلیمات اور مسیحی اقوام کا عربی ترجمہ منظر عام پر
حکیم الاسلام رحمہ اللہ کی یہ کتاب اپنے موضوع پر انتہائی نادر اور معرکہ آرا کتاب ہے، اسلام اور مسیحیت کا باہمی مطالعہ، عام طور سے افکار ونظریات کی بنیادوں پر ہوتا یے؛ جس میں مناظرانہ رنگ غالب ہوتا ہے؛ لیکن حضرت حکیم الاسلام نے، اپنی گفتگو کا محور ، دونوں مذاہب کے قومی اور تہذیبی اساسیات وخصائص، اور دونون کے باہمی تعلق کو بنایا ہے، عیسائی تہذیب کی موجودہ صورت حال اور دنیا پر اس کے تباہ کن اثرات پر ، انتہائی تحقیقی اور مدلل گفتگو کی گئی ہے، ثابت کیا گیا ہے کہ عیسائیت کی موجودہ تلبیسات کا منتہیٰ دجال ہے اور اس کی حقیقی تہذیب کا محور حضرت مسیح ابن مریم علیہما السلام کی ذات گرامی ہے۔
آخری دور کی جنگیں عیسائیت کی حقیقت (ترجمانی دین حنیف) اور عیسائیت کی مسخ شدہ صورت کے درمیان ہے۔
کتاب کے اخیر میں مسلمانوں کی ملی ترقیات کے سات نکاتی پروگرام کا مکمل نقشہ موجود ہے۔
اس لیے یہ کتاب ہر سنجیدہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، کتاب میں جابجا ایسے حکمت ریز مضامین آگئے ہیں، جہاں مؤلف کتاب کی ژرف نگاہی، نکتہ آفرینی اور دقت نظری کی داد دینی پڑتی ہے۔
حضرت حکیم الاسلام اپنی حکمت آفرینی کے ساتھ ساتھ، اپنے دل نشیں اسلوب نگارش میں بھی طبقۂ علماء میں امتیازی مقام رکھتے ہیں، یہ کتاب حضرت کی قوت تفکیر اور قوت تعبیر کی بہترین مثال ہے۔
اصل کتاب اردو زبان میں تھی، اس حقیر نے برادر گرامی جناب ڈاکٹر مولانا محمد شکیب صاحب قاسمی(استاذ حدیث ونائب مہتمم دار العلوم وقف دیوبند) کی فرمائش پر اسے عربی کا جامہ پہنایا ہے، جس کے لیے موصوف کا میں دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں۔
یہ کتاب حجہ الاسلام اکیڈمی دار العلوم وقف دیوبند کے اس جامع علمی منصوبے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد اکابرین دیوبند کی تصنیفات اور تحقیقات کو عالمی زبانوں میں منتقل کرنا ہے، اس سلسلہ کی متعدد تصانیف پہلے ہی زیور طبع سے آراستہ ہوکر اہل علم کے ہاتھوں میں پہونچ چکی ییں، اللہ تعالیٰ اس کاوش کو بھی قبول فرمائے اور اسے اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے آمین۔
محمد نوشاد نوری قاسمی
استاذ دارالعلوم وقف دیوبند






