دارالعلوم دیوبند وقف کے مؤقر استاذ،باصلاحیت عالم دین ،محب و محترم مفتی محمد امانت علی صاحب قاسمی بھاگلپوری کی علمی اور قلمی فتوحات کا سلسلہ بڑی تیزی کے ساتھ رواں دواں ہے، حضرت کی تصانیف میں سے یہ دوسری تصنیف ہے جس کے مطالعہ کی سعادت میسر ہوئی اور ان کی گراں قدر علمی تصنیف بطور تحفہ ہم دست ہوئی ،جس سے دل کا دبستانِ شوق خوشیوں سے مہک اٹھا اور علمی ذخیرے میں ایک عظیم نعمت کا اضافہ ہوا۔فجزاہ اللہ خیرًا واحسن الجزاء۔”امام ابو حنیفہ سوانح و افکار” یہ محض ایک تحریر نہیں ،بلکہ امام صاحب کی حیات کے مختلف پہلوں پر ایک جامع کتاب ہے،یوں تو امام صاحب کی حیات و خدمات پر ہر زبان میں بہت کچھ لکھا گیا اور ان کی زندگی کے مختلف گوشوں اور بے مثال کارناموں کو موضوع بنایا گیا ۔مثلاً: علامہ شبلی نعمانی علیہ الرحمہ کی کتاب“سیرۃ النعمان”جس میں علامہ نے امام صاحب کی عام حالات زندگی کو موضوعِ سخن بنانے کے ساتھ ساتھ امام صاحب کی طرز اجتہاد و اصول و استنباط پر بے مثال محققانہ بحث کی ہےاور انوکھے اسلوب بیان میں مبسوط ،جامع اور اور مستند کتاب لکھ کر اردو و عربی دفاترِ کتب پر اپنی فتح کا جھنڈا لہرا دیا،اسی طرح مولانا مناظر احسن گیلانی علیہ الرحمہ کی کتاب “امام ابو حنیفہ اور ان کی سیاسی زندگی”جو حقیقت میں امام اعظم کی سیاسی زندگی کا ترجمان ہے،اور علامہ گیلانی نے سیاسی پہلو کو لے کر “سیرۃ النعمان”پر ایک قیمتی اضافہ کردیا …….زیر نظر کتاب “امام ابو حنیفہ سوانح و افکار”جس میں امام کی سوانح و افکار کو مرتب اور شگفتہ اسلوب میں بیان کیا گیا ہے اور جو مباحث دوسری کتابوں میں مستقل طور پر زیر بحث نہیں آئے ہیں ان کو مستقل موضوع بنایا گیا ہے ۔مثلاً :امام ابو حنیفہ کی معاشی زندگی ،امام ابو حنیفہ اور تصوف ،امام ابو حنیفہ اہل حدیث علماء کی نظر میں ،وغیرہ ایسے موضوعات ہیں جن پر بہت کم قلم کو جنبش دی گئی ہے،اس کتاب کو جس قدر پڑھا اس سے معلوم ہوتاہے کہ مؤلف محترم نے علامہ شبلی و گیلانی کے جلائے ہوئے چراغ کی لو سے فانوس مزید روشن کردیا،واقعتاً یہ کتاب پڑھ کے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک عظیم شخصیت کی شایانِ شان سوانح و افکار پڑھ رہے ہیں،یہ مؤلف کے قلم کا اختصاص ہے جو میری نظر میں قابل صد ستائش اور لائق رشک ہے۔
اس کتاب کے تین ابواب ہیں :پہلا باب حیات و افکار پر مشتمل ہے جس میں حسب ذیل پانچ فصلیں ہیں: (۱)امام ابوحنیفہ کی سیرت کے چند نقوش(۲) امام ابو حنیفہ اور تصوف (۳)امام صاحب کی معاشی سرگرمیاں (۴)امام صاحب کے سیاسی افکار(۵) امام صاحب کی فراست۔دوسرا باب علمی خدمات پر محیط ہے ،جس میں ترتیب وار تین فصلیں ہیں :(۱)امام ابو حنیفہ بحیثتِ محدث(۲) امام ابو حنیفہ اور ان کا فقہی منہج(۳)فقہ حنفی کی تدوین کا شورائی نظام۔تیسرا باب ہے امام ابو حنیفہ اہل علم کی نظر میں ،اس میں بھی ترتیب وار تین فصلیں ہیں:(۱)امام ابو حنیفہ محدثین اور ائمہ جرح و ترسیل کی نظر میں (۲)امام ابوحنیفہ عبد اللہ ابن مبارک کی نظر میں(۳)امام ابو حنیفہ اہل حدیث علماء کی نظر میں۔
اس طرح یہ کتاب 270/صفحات پر مشتمل حسین معلومات اور امام اعظم کی زندگی و افکار کا جامع و مفصل گلدستہ ہے،جسے مرکز الفکر الاسلامی دیوبند نے انتہائی شاندار، جاذب نظر ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا،جس کا ایک ایک ورق باطنی خوبیوں کے ساتھ ظاہری خوبصورتی کا حسین مرقع ہے،ورق ورق مؤلف کے اعلی ذوق اور معیاری انتخاب کا غماز ہے،تحریر میں بڑی نفاست ،بڑا تنوع،بڑی ہمہ رنگی اور بڑی جامعت ہے،جگہ جگہ حوالہ جات نے کتاب کی قدرو قیمت کو بامِ عروج تک پہونچا دیا ہے،میرا احساس ہے کہ اگر آج شبلی و گیلانی رحمہا اللہ زندہ ہوتے تو اس اہم اور وقیع کاوش پر خوش ہوتےاورمؤلف کو داد دئے بغیر نہیں رہتے۔ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب زیادہ سے زیادہ پڑھی جائے گی اور اس عظیم شخصیت کے علم و فضل کے فیضان سے استفادہ کیا جائے گا۔مؤلف محترم کو دلی مبارک باد۔






