راہ صفا
افادات :حضرت مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم ، مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند
صفحات : 983
تعارف نگار : ڈاکٹر مفتی اشتیاق احمد قاسمی مدرس دار العلوم دیوبند
“تصوف” کو قرانِ کریم میں “تزکیۂ نفس ” اور حدیث شریف میں “احسان” سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ تصوف کے اشتقاق کے سلسلے میں متعدد اقوال ہیں : 1- تصوف “اصحابِ صفہ” کی صفت ہے ، انہیں کی طرف نسبت رکھنے والے کو “صوفی” کہا جاتا ہے ۔
2- یہ یونانی لفظ “سوفیا” سے بنا ہے ،جس کے معنی حکمت کے ہیں ، صوفی وہ ہے جس کا دل حکمت سے پُر ہو اور اطاعت کی اصل اللہ کی طرف دل کا مکمل طور پر متوجہ ہونا ہے ۔
3- تصوف “صوف” (اون) سے مشتق ہے، عام طور سے اللہ والے موٹا جھوٹا اونی کپڑا پہنتے اور دنیا کی لذتوں سے دور رہتے تھے ، اس لیے ان کو” صوفی” کہا جانے لگا ۔ اور غور کیا جائے تو تصوف درحقیقت “تصحیحِ نیت” کا نام ہے ، جب آدمی اپنے ہر عمل میں نیت خالص اللہ تعالی کے لیے کر لیتا ہے اور عبادت اس طرح سے انجام دینے لگتا ہے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے یا یہ تصور کرتا ہے کہ اللہ تعالی اسے دیکھ رہے ہیں تو اس کی یہ کیفیت “احسان “کہلاتی ہے ۔ تصوف اللہ تک پہنچنے کا راستہ ہے ، اس لیے اسے” طریقت” بھی کہتے ہیں ،”طریقت اور شریعت” دونوں الگ الگ نہیں ہیں ۔ خیر القرون کے بعد اور علمائے دیوبند سے پہلے (قرونِ متوسطہ میں) شریعت اور طریقت دونوں کو الگ الگ بتایا گیا تھا اور تصوف میں ملاوٹ بھی کی گئی ، لیکن علمائے دیوبند نے ان ساری ملاوٹوں کو یک لخت نکال دیا ، لہذا کوئی بھی عمل جو شرعی دلیل سے ثابت نہ ہو وہ تصوف میں قابلِ قبول نہیں ۔
“راہِ صفا “حضرت مفتی ابو القاسم نعمانی کے نئے اور پرانے بیانات اور دُروس کا مجموعہ ہے ، اکثر بیانات اعتکاف کے دوران اصلاحی مجالس میں ہوے ہیں ۔ ان کا انداز یہ ہے کہ حضرت مہتمم صاحب ایک حدیث شریف منتخب کرتے ہیں اور اس کا متن سنا کر ترجمہ کرتے ہیں پھر شرح کرتے ہیں اور نہایت ہی پر تاثیر انداز میں مضمون کو پورا کرتے ہیں، دراز نفَس بیانات کی انہیں عادت نہیں ،اس لیے سامعین پر اس کا جادوئی اثر بہت جلد مرتب ہوتا ہوا نظر آتا ہے ۔حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے :
” مولانا مفتی ابوالقاسم نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مسلسل حدیثِ نبوی کے ساتھ اشتغال رکھا ، اپنے وعظوں کا محور و مدار رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو بنایا ، کسی ایک حدیث کا انتخاب کرتے ، اس کا متن سناتے ، اس کا ترجمہ کرتے اس کی شرح کرتے ، شرح کے دوران اس مضمون کی اور بھی حدیثیں بیان کرتے ، شرحِ حدیث کے بیان نے آپ کے ہر وعظ کو نہایت پر تاثیر بنا دیا ہے ، ہر قسم کے حشو و زوائد سے پاک ، صرف مغز ہی مغز ، آپ نے ان احادیثِ مبارکہ سے اپنے وطن بنارس اور قرب و جوار کے علاقوں میں اصلاح کا عظیم کام کیا ، آپ کی شخصیت احادیث کا زندہ وجود ہے ۔ ” (راہِ صفا ص 32)
اس سے پہلے بہت سے مجموعے تیار ہو کر قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں ، جیسے:” خطباتِ نعمانی ، مواعظِ نعمانی اور اسباقِ حدیث ” وغیرہ
بعد میں حضرت مہتمم صاحب کے موفق خلف الرشید مولوی مصعب نعمانی سلمہ کو خیال ہوا کہ پرانے اور نئے سارے بیانات کی ترتیبِ جدید کا کام کیا جائے ، چنانچہ انہوں نے موضوع وار مجموعے تیار کرنے شروع کیے ، “اہل سنت و جماعت اہل حدیث کے مابین اختلافِ منہج و فکر، ذکرِ ماہ و نجوم، نبوی معاشرے کی تعمیر و تشکیل اور مواعظِ ختمِ نبوت” کے نام سے چند مجموعے تیار ہوئے ہیں ، “راہِ صفا “بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اس مجموعے میں احسان و سلوک یعنی تصوف سے متعلق مضامین جمع کیے گئے ہیں ،جلد اول میں 26 بیانات اور جلد ثانی میں 29 بیانات ہیں کل 55 بیانات کا مجموعہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے ، پہلی جلد میں اخلاص نیت ، دنیا اور مفاسد دنیا ، موت و آخرت ، تکبر ، غصہ ، اور اعضاء کے گناہ سے متعلق بیانات ہیں ۔
دوسری جلد میں دعا ، استغفار ،ذکر ، دل کی بیماریوں کا علاج ، کلمۂ تمجید کی فضیلت و اہمیت ، محاسبہ و مراقبہ ، تعبیرِ خواب ، خیر کی تاکیدی نصیحت، حصولِ مال، استقامت ،قربانی کا مقصد ، اس طرح کے عناوین کے ساتھ چھ تعزیتی بیانات بھی مفید ہونے کی وجہ سے اس جلد کے اخیر میں شامل کر دیے گئے ہیں ، سارے بیانات نہایت عمدہ اسلوب اور اچھی تعبیر میں ، دل نشیں پیرایۂ بیان کے ساتھ پیش ہیں، ان کی خوبیوں کو قارئین ہی زیادہ محسوس کریں گے ۔ راقمِ حروف کو چند خصوصیات نظر آئیں :
1- مضمون کا تسلسل ٹوٹتا نہیں ہے ۔ عام طور سے خطبات میں مضمون کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے ۔
2- اس میں مکررات نہیں ہیں خطبات میں مکررات کی وجہ سے قارئین کواکتاہٹ ہونے لگتی ہے ۔
3- اس میں حشو و زوائد نہیں ہیں ۔
4- دفاعِ اسلام کا موضوع جہاں پر بھی آتا ہے ، وہاں پر دلائل نہایت ہی معقول انداز میں پیش کرتے ہیں ،تاکہ مخاطب مطمئن ہو جائے ۔
5- اسلوبِ بیان بہت نمایاں ہے۔ جو حضرت مہتمم صاحب کے بیانات کو دوسروں کے بیانات سے ممتاز کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر دیکھیے ! قیامت کی نشانیوں کی منظر نگاری عصر حاضر کے ماحول میں بڑے اچھے انداز میں کی گئی ہے ۔
موبائل کو آفتوں کی پڑیا کہا ہے ۔ ( ص239) ، ماں پر بیوی کو ترجیح دینے کا مضمون ایسے انداز میں بیان کیا ہے کہ قاری متاثر ہوے بغیر نہ رہے ۔ آج کے ماحول میں آدمی بیوی کی بات مان کر ماں باپ کی نافرمانی کرنے لگا ہے ۔ راقم اس جگہ آبدیدہ ہو گیا ۔ (ص235) ، زکوۃ کے بیان میں دلائل سے وضاحت کی ہے کہ یہ ٹیکس نہیں ہے ۔ (ص233)، زلزلہ اللہ کے حکم سے آتا ہے ، سائنسی نظریہ محض ایک اٹکل ہے. (ص243) ، بہت سی نادر علمی تحقیقات سے بھی قارئین واقف ہوں گے ، مثال کے طور پر زبان ہمیشہ تر رہتی ہے ، اس کو اسی طرح ذکر اللہ سے تر رکھنا چاہیے اور اسی حال میں دنیا سے رخصت ہونا چاہیے ، زبان اگر خشک ہو جائے تو انسان سانس نہیں لے سکتا ، زبان حلق سے چپک جائے گی اور موت آجائے گی ۔ (ص: 199) جوار بھاٹا کی عمدہ تشریح بھی حضرت نے فرمائی ہے ۔ (ص:192) ۔
“غسیل الملائکہ “اور” نافَقَ حنظلة “دونوں کے راوی الگ الگ حنظلہ ہیں ،ایک نہیں،(ص:186 ) ۔
حضرت محترم صاحب کا بیان عمدہ تحقیقات کے ساتھ”از دل خیز بر دل ریز “کا مصداق ہے ۔ “راہِ صفا “ظاہری و معنوی دونوں لحاظ سے عمدہ ہے ، اچھے کاغذ ، دو رنگی طباعت سے آراستہ ہے ۔ کتابت ، جلد اور ٹائٹل دیدہ زیب ہے ۔ امید کہ قارئین اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔



