مولانا مصروف رحیمی صاحب کا آسان اسلامی فقہ و عقائد پر مختصر تبصرہ
مولانا کا شکریہ
دارالعلوم وقف دیوبند کے مایۂ ناز استاذ مولانا مفتی امانت علی قاسمی صاحب مدظلہ، بلکہ ڈاکٹر مفتی امانت علی قاسمی صاحب مدظلہ، کیونکہ مولانا نے پی ایچ ڈی بھی مکمل کر لی ہے، دورِ حاضر کے اچھے قلم کاروں میں شمار ہوتے ہیں اور بہت عمدہ لکھتے ہیں۔
میں نے ان کی کئی کتابیں پڑھی ہیں، جن میں امام ابوحنیفہؒ: سوانح و افکار اور آسان دینیات قابلِ ذکر ہیں۔ اس وقت بھی میرے مطالعہ کی میز پر ان کی تین کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔ دو کتابیں تو گزشتہ سال ہی سے میرے پاس موجود ہیں، جبکہ آسان اسلامی فقہ حصہ دوم گزشتہ ہفتے ہی موصول ہوئی ہے۔
مفتی صاحب نے یہ نصابی کتابیں جس معیار پر لکھی ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسی سوچ، فکر اور ایسا ذہن اللہ تعالیٰ سب کو عطا فرمائے۔ وہ طلبہ کی نفسیات اور ضرورتوں سے خوب واقف ہیں۔ مجھے خود ذاتی طور پر ان کی کتابوں سے بہت فائدہ ہوا ہے اور اس وقت بھی میں آسان اسلامی فقہ حصہ دوم سے استفادہ کر رہا ہوں۔
کتاب کی طباعت بھی بہت شاندار ہے۔ پیش لفظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کو قوم کے نونہالوں، بالخصوص صنفِ نازک کی تعلیم و تربیت کی کتنی فکر ہے۔ مولانا کی زیرِ نگرانی مکاتب بھی چلتے ہیں، جن کا نصاب بھی مولانا خود تیار کر رہے ہیں، اور اس طرح وہ ایک عمدہ علمی ذخیرہ تیار کرکے مدارس اور مکاتب کو فراہم کر رہے ہیں۔
میری مولانا سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، نہ ہی میں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے، سوائے فیس بک کے۔ فیس بک ہی پر ان کی کتابوں کا تعارف ہوا تھا، اور وہیں سے متاثر ہو کر میں نے ان کی یہ کتابیں خریدی ہیں۔
اسی طرح جامعہ دارالعلوم وقف دیوبند کے ایک اور استاذ، مولانا مفتی نوشاد نوری صاحب قاسمی مدظلہ، بلند اخلاق اور اعلیٰ کردار کے مالک ہیں۔ ایک مرتبہ عربی تعلیم کے سلسلے میں مجھے ان سے واٹس ایپ پر کچھ رہنمائی مطلوب تھی۔ انہوں نے نہ یہ پوچھا کہ آپ کون ہیں، نہ یہ کہ مجھے کیوں پیغام بھیج رہے ہیں، بلکہ فوراً نہایت مفید اور مخلصانہ مشورہ عطا فرمایا۔
میں مفتی صاحب کی کتاب تعلیم الانشاء اور تعلیم النحو سے بھی استفادہ کر رہا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ مفتی صاحب نے جس معیار پر یہ دونوں کتابیں تحریر کی ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ عربی زبان کو اس قدر آسان انداز میں سکھانا کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے۔
کئی روز سے تشکر کے چند کلمات لکھنے کا ارادہ تھا۔ آج بعد نمازِ عصر مصلیٰ پر بیٹھے بیٹھے یہ چند سطور قلم بند کر رہا ہوں۔
محمد مصروف رحیمی غفرلہ
رائے پور، ضلع سہارنپور، اتر پردیش




