Social Media Key Manfi Wa Musbat Pehlu – سوشل میڈیا کے منفی و مثبت پہلو

مصنف: مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

سوشل میڈیا کے نقصاندہ پہلو حسب ذیل ہیں:

(۱)یہ جھوٹی خبریں پھیلانے کا ایک بڑا نیٹ ورک بن گیا ہے، اور اکثر بہت سی ایسی باتیں کسی تحقیق کے بغیر ڈال دی جاتی ہیں، کیونکہ اس پر حکومت یا کسی ذمہ دار ادارہ کی گرفت نہیں ہے، جبکہ اسلام نے ہمیں جھوٹ تو جھوٹ ہر سنی ہوئی بات نقل کردینے اور بلا تحقیق کسی بات کو آگے بڑھانے سے بھی منع کیا ہے۔

(۲)عام جھوٹی خبروں کے علاوہ یہ لوگوں کی غیبت کرنے، ان کی کوتاہیوں کو طشت از بام کرنے، یہاں تک کہ لوگوں پر بہتان تراشی اور تہمت اندازی کے لیے بھی وسیلہ بن گیا ہے، اور انسان کی فطرت یہ ہے کہ جب کسی اچھے آدمی کے بارے میں کوئی بری بات کہی جائے، خواہ وہ بات کتنی ہی ناقابل اعتبار ہو تو لوگ اس کا آنکھ بند کرکے یقین کرلیتے ہیں۔

(۳)اس ذریعہ ابلاغ کو نفرت کی آگ لگانے اور تفرقہ پیدا کرنے کے لیے بھی بکثرت استعمال کیا جاتا ہے، فرقہ پرست عناصر تو یہ حرکت کرتے ہی ہیں، لیکن خود مسلمانوں کے درمیان مسلکی اختلافات کو بڑھاوادینے میں اس کا بڑا ہم رول رہا ہے، اس میڈیا پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسانیت دشمن جذباتی مقررین کی تقریریں بھی موجود ہیں اور مسلمانوں کے مختلف مسالک کے درمیان مناظروں کی شرمناک محفلیں بھی موجود ہیں جو بہت تیزی سے باہمی نفرت کو جنم دیتی اور فساد کی آگ بھڑکاتی ہیں۔

(۴)اس میڈیا کا دہشت گردی اور تشدد کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے، اور استعمال کرنے والوں میں مختلف مذاہب کے خود ساختہ نمائندے شامل ہیں، جنہوں نے لوگوں کی نگاہوں میں دھول جھونکنے کے لیے مذہب کا مقدس لباس پہن رکھا ہے۔

(۵)اس ذریعہ ابلاغ کا سب سے منفی پہلو’’فحشاء‘‘کی اشاعت اور بے حیائی کی تبلیغ ہے، جو چیز انسان کو اپنے خلوت کدہ میں گوارہ نہیں ہوسکتی، وہ یہاں ہر عام و خاص کے سامنے ہے، یہ اخلاقی اقدار کے لیے تباہ کن اور شرم و حیاء کے لیے زہر ہلاہل سے کم نہیں اور افسوس کہ حکومتیں ایسی سائٹوں کو روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتیں، ورنہ سماج بے حیائی کے اس سیلاب بلا خیز سے بچ سکتا تھا۔

ان منفی پہلوؤں کے ساتھ اس کے بہت سے مثبت اور مفید پہلو بھی ہیں، اور اس کا صحیح استعمال کرکے اسلامی اور انسانی نقطہ نظر سے بہت سے اچھے کام کیے جاسکتے ہیں؛

(۱)بچوں، جوانوں، عورتوں، بوڑھوں اور عام مسلمانوں میں ان کی ضرورت کے لحاظ سے دین کی تعلیم و اشاعت اور اخلاقی تربیت کے لیے اس کو آسانی کے ساتھ بہت مؤثر طریقہ پر استعمال کیا جاسکتا ہے،(۲)اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا کی جاتی ہیں اور زیادہ تر اسی راستہ سے کی جاتی ہیں، اسی میڈیا سے ان کا مؤثر طور پر رد کیا جاسکتا ہے،(۳)تعلیم کے لیے اب یہ ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے، اور جیسے ایک طالب کلاس روم میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتا ہے، یا اپنے ٹیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کلاس روم کی کمی کو پورا کرتا ہے، اسی طرح وہ اس ذریعہ ابلاغ سے بھی علم حاصل کرسکتا اور اپنی صلاحیت کو پروان چڑھا سکتا ہے، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی کوردہ دیہات میں بیٹھے ہوئے طالب علم کے لیے بھی اس کے ذریعہ مشرق و مغرب کے ماہر ترین اساتذہ سے کسب فیض کرنا ممکن ہے، ایسے تعلیمی مفادات کے لیے اس ذریعہ سے فائدہ اٹھانا چاہیے،(۴)صحت و علاج کے شعبہ میں بھی اس سے مدد لی جاسکتی ہے،بلکہ لی جارہی ہے، اس کے ذریعہ ماہر ترین معا لجین سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ ہندوستان میں ایک ڈاکٹر آپریشن کرتے ہوئے امریکہ کے کسی ڈاکٹر کے مشورہ سے مستفید ہوسکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کا اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے اور اس کی مضرتوں سے نئی نسل کو بچایا جائے، کیونکہ جن چیزوں میں نفع اور نقصان دونوں پہلو ہوں اور اس ذریعہ کو بالکل ختم کردینا ممکن نہ ہو تو اسلامی نقطہ نظر سے اس کے لیے یہی حکم ہے کہ اس کو مفید طریقہ پر استعمال کیا جائے اور نقصاندہ پہلوؤں سے بچا جائے، جس چاقو سے کسی جانور کو حلال کیا جاسکتا ہے، اور کسی بیمار کو نشتر لگایا جاسکتا ہے وہی چاقو کسی بے قصور کے سینہ میں پیوست بھی کیا جاسکتا ہے، تو ہمارے لیے یہی راستہ ہے کہ ہم چاقو کے صحیح استعمال کی تربیت کریں۔

Share To All - شیر کریں سبسے
Read More

Leave a Reply