Maulana Rabe hasani Nadwi

Muslim Masail Imkanat Aur Hal – مسلم مسائل: امکانات اور حل – مولانا رابع حسنی ندوی

دعوت کا کام مسلمانوں کا خصوصی فریضہ قرار دیا گیا ہے، اور اس کو اسلامی زندگی کے قیام اور اس کی اثر پذیری کا ذریعہ بنایا گیا ہے، چنانچہ دعوت اسلامی کے عمل کو جتنی حکمت اور مخلصانہ جذبہ سے انجام دیا گیا، اسی قدر اسلامی زندگی کو مقبولیت اور کامیابی حاصل ہوئی، ہم کو مسلمانوں کی تاریخ میں اس کی واضح مثالیں ملتی ہیں، آغاز اسلام کے مکی دور میں جس عزیمت اور اخلاص سے یہ کام لیا گیا اسی کے لحاظ سے مسلمانوں کو آگے کے لیے طاقت و عزت حاصل ہوئی۔اسلام میں دعوت کے کام میں جبر اور زور دستی سے پرہیز کی تلقین کی گئی ہے، اور نصیحت و ترغیب کے طریقوں کو اپنانے پر زور دیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ خود داعی کی حسن سیرت و اخلاق کی اہمیت بتائی گئی ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کی مقبولیت اور اثر انگیزی میں داعی کی سیرت اور حسن اخلاق کا عملی اظہار اور مخاطب کی نفسیات کا لحاظ مؤثر عامل رہا ہے، بعض وقت کسی ایک واقعہ سے پوری پوری جماعت راہ ہدایت پاگئی ہے، تاریخ میں اس کے متعدد واقعات ہیں، صلح حدیبیہ کے وقت سے دو سال تک جو آپس میں ملاقات اور میل جول کا موقع حاصل ہوا، اس میں غیر معمولی طریقہ سے دعوت کے کام کو کامیابی ملی، اس کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ غیروں کو مسلمانوں اور ان کے درمیان ملاقات و معاملات کے ذریعہ مسلمانوں کے اخلاق و حسن سیرت اور انسانیت نوازی سے واقف ہونے کا موقع ملا، اور ان کو اسلام اور مسلمانوں کے سلسلہ میں جو غلط فہمیاں تھی وہ دور ہوئیں۔

ہمارے ملک ہندوستان کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے، یہاں مسلمان بڑی تعداد میں ضرور ہیں، لیکن ان کے ہم وطن ان کے صحیح اسلامی کردار و اخلاق سے واقف نہیں ہوپاتے، جس کی بڑی وجہیں دو ہیں؛ ایک تو یہ کہ مسلمانوں کا بڑا طبقہ خود اسلامی اخلاق و کردار کو اختیار کرنے میں کوتاہ نظر آتا ہے، وہ اپنی اسلامی سیرت و کردار کا پوری طرح حامل نہیں دیکھا جاتا، دوسری وجہ یہ ہے کہ غیروں کے ساتھ میل جول میں مسلمان عموماً اس کی کوشش بھی نہیں کرتے کہ غیروں کو اسلامی اخلاق و معاملات سے واقف کرائیں اور ان کے ذہنوں میں جو غلط فہمیاں یا بدگمانیاں ہیں وہ دور کریں، ان کی یہ کوتاہی غالباً اس لیے بھی ہے کہ اکثر مسلمان امت دعوت ہونے کے باوجود امت دعوت ہونے کا احساس نہیں رکھتے، اگر ان کو یہ احساس ہو اور وہ اس کے تقاضے کو پورا کریں تو اس کے بہت اچھے نتائج سامنے آئیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس امت کی خصوصیت یہ بتائی ہے کہ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَاء عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْداً (البقرۃ: ۱۴۳)(اور ہم نے تم کو ایسی ایک جماعت بنادی ہے جو اعتدال والی (اور معیاری سطح) پر ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ (اور ان پر نظر رکھنے والے) ہو، اور تمہارے لیے رسول (ﷺ) گواہ ہوں) اور فرمایا کہ کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ (آل عمران: ۱۱۰)(تم لوگ اچھی جماعت ہو کہ جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی، تم نیک کاموں کو بتلاتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو)چنانچہ یہ امت معتدل و معیاری امت اور قوموں کی گواہ اور ان پر نظر رکھنے والی امت ہے، اپنے سامنے کی قوموں پر نظر رکھنے اور ان کی غلط کاریوں اور گمراہیوں کی نشان دہی کرنے والی امت ہے، اور جب اس کو یہ منصب دیا گیا ہے تو اب اس کا فرض بنتا ہے کہ اس منصب کا حق ادا کرے۔

دنیا کے وہ ممالک جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور وہاں اقتدار ان کے ہاتھوں میں ہے، وہاں اصلاح حال و اصلاح فکر کا یہ کام زیادہ تر حکومتی ذرائع سے کیا جاتا ہے، اور اس طرح ملک و قوم کے افراد کو غلط اور مضر کاموں سے روکا اور ان سے بچایا جاتا ہے اور اصلاح و دعوت کا کام عوامی پیمانہ پر بھی عوامی ذرائع سے کیا جاتا ہے، اور یہ ذمہ داری دانشوروں پر آتی ہے، اس سے تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ کی تعمیل ہوتی ہے، لیکن وہ ملک جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں، وہاں حکومتی پیمانہ پر تو یہ کام انجام نہیں دیا جاسکتا، لیکن’’أمر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کا عمل بہرحال ملک کے اہل شعور طبقہ کے ذمہ آتا ہے، اور اس طرح ’’شہداء علی الناس‘‘یعنی دوسروں کے نگراں اور رہنما ہونے کا جو منصب ہے اس کے تقاضوں کی تعمیل کی جاسکتی ہے۔

ہندوستان میں ہمارے سامنے یہی صورت حال ہے، ہم بحیثیت مسلمان کے یہاں کے اپنے ہم وطنوں کو ان سب باتوں سے آگاہ کرسکتے ہیں، جن سے یہ آگاہ نہیں ہیں کہ یہ عالم رنگ و بو تنہا اللہ رب العالمین کا بنایا ہوا ہے، اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہے، اور اسی نے اس میں بسنے والوں کی ضرورت اور حاجت کے لحاظ سے ہر طرح کا سامان مہیا کیا ہے، لیکن اس بات کی تاکید کی ہے کہ زندگی کو انسانیت کی صالح قدروں کو اختیار کرتے ہوئے گزارا جائے، اور اپنے مالک و محسن کے احسان کو مانا اور اس کا شکر گذار ہوا جائے، اور وہ اس ذات وحدہ لا شریک کی عبادت اور اس کے حکموں کی تابعداری کے ذریعہ ہی ہوسکتا ہے، جو وحی کے ذریعہ نبی() کے واسطہ سے معلوم ہوتے ہیں، امت اسلامیہ کا یہ فریضہ رکھا گیا ہے کہ وہ ان باتوں سے واقف کرائے اور خراب اور برے کاموں سے بچنے کی تلقین کرے، اور نیک باتوں پر عمل نہ کرنے والوں پر نظر رکھے کہ قیامت کے روز جب رب العالمین کے سامنے پیشی ہوگی تو کہہ سکے کہ رب العالمین! ہم نے کوشش کی اور ہم نے قوموں کا عمل دیکھا اور اس طرح وہ اپنے ارد گرد کی قوموں کے بارے میں گواہی دے سکیں گے۔

اور جواب دہی کے اسی عمل کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن رکھا ہے، اور حساب و کتاب کے انجام پاجانے پر دوبارہ راحت و تکلیف کی طویل ترین بلکہ نہ ختم ہونے والی زندگی رکھی ہے، وہ حساب کتاب سے حاصل ہونے والے نتیجہ کے مطابق ہوگی، غلط کاروں کو سزا اور نیکوکاروں کو جزا ملے گی۔

دعوتی عمل کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسانی زندگیوں میں استواری پیدا ہوتی ہے، اور نیکی و بدی کے فرق کا سمجھنا اور اس کے تحت اپنی زندگیوں کو انسان کے اعلیٰ منصب کے مطابق گذارنا آسان ہوجاتا ہے، اسلام نے زندگی کو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق گذارنے کی اہمیت و ضرورت کو بتانے کے لیے بار بار نبی بھیجے اور ان کو وحی کے ذریعہ اپنے احکام بتائے، اور آخر میں ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی مبعوث کیے گئے، انہوں نے جو تعلیمات ہم کو پہنچائیں، وہ انسانی زندگی کے لیے نہایت موزوں اور کارآمد تعلیمات ہیں، ان میں زندگی کی سہولتوں کی رعایت بھی رکھی گئی ہے، اور امن و آشتی، آپسی بھائی چارے اور خیر خواہی و ہمدردی کا پیغام بھی ہے، ان میں انسانوں کی سلامتی اور حسن کردار کو اہم جگہ دی گئی ہے، یہ اسلام کی ایسی صفت ہے کہ اس پر اس کا نام بھی’’سلم‘‘سے مشتق ہوا، جس کے معنی امن و آشتی کے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس پیغام امن و خیر پسندی سے دوسروں کو واقف کرائیں اور بغیر کسی زور دستی کے لوگوں کو اس کو سمجھنے پر آمادہ کریں، اس کے لیے جیسے ماحول اور جیسے حالات سے واسطہ اور تعلق ہو ان کا لحاظ کرتے ہوئے دعوت کا کام انجام دیں، اس میں انسانوں کی خیر خواہی بھی ہے اور عالمی سطح پر بھائی چارہ اور خیر پسندی بھی ہے۔

دعوت کے اس عظیم کام کے لیے ہم کو جن وسائل کی ضرورت ہے، ان میں اخلاقی وسائل بھی ہیں اور تدبیری وسائل بھی، تدبیری وسائل میں مخاطب کی زبان سے واقفیت اور ان کا استعمال بڑی اہمیت رکھتا ہے، دعوت کا کام جس ماحول میں کرنا ہو، اس ماحول کی مروجہ زبان کو اس کے دل نشیں اسلوب کے ساتھ اختیار کرتے ہوئے استعمال کرنا مؤثر ذریعہ ثابت ہوا ہے، اس کے لیے اس زبان میں مہارت پیدا کرنی ہوتی ہے، قرآن مجید میں اس کی طرف اس طرح اشارہ ملتا ہے، فرمایا گیا؛(وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہِ)(ابراہیم: ۴)(اور ہم نے تمام (پہلے) پیغمبروں کو (بھی) ان ہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بناکر بھیجا ہے تاکہ ان سے (وضاحت کے ساتھ) بیان کریں)

اور ہم جب ہندوستان میں ہیں تو یہاں کے اعتبار سے ہم کو کام کرنا ہوگا، اور ہمارا یہ ملک مختلف تہذیبوں، مختلف زبانوں اور مختلف مذہبوں کا ملک ہے، اور یہ اپنے رقبے کے اعتبار سے بھی بہت وسیع ہے، اور طبعی حالات کے لحاظ سے بھی تنوع رکھتا ہے، اسی تنوع کی وجہ سے یہاں کا دستور بنانے والوں نے اس کو جمہوری اور سیکولر دستور کا ملک طے کیا، جمہوری اس لیے کہ سب کو یکساں حقوق حاصل ہوں، اور سیکولر اس لیے کہ کسی ایک مذہب یا تہذیب والے کو دوسرے کے مذہب اور تہذیب کے ساتھ زبردستی اور زیادتی کرنے کا حق نہ ہو، اسی کی بنیاد پر یہاں مختلف مذاہب اور مختلف ثقافتوں والے آپس میں مل جل کر رہتے ہیں، اور ملک کی سلامتی اور وحدت کے لیے یہی بات ذریعہ بنی ہوئی ہے، یہاں رواداری کی صفت ہر فرقہ اور ہر گروہ کو اختیار کرنا ملک کے بنیادی مفاد میں ہے، اس بات کو ملک کے ہر طبقے کو خواہ وہ حکومتی ہو یا عوامی ہو، اور ہر فرقے، ہر تہذیب اور ہر مذہب، ہر زبان کے لوگوں کو سمجھنا ہے، اور رواداری کو نہ اختیار کرنے کی صورت میں ملک کے مختلف طبقات کی نوعیت شیشے کے ایسے گلاسوں کی مانند ہوسکتی ہے جو آپس میں ٹکرائیں، ظاہر ہے سب گلاس ٹوٹیں گے اور بیکار ہوجائیں گے۔

ملک کے ذمہ داروں اور دانشوروں کو اس بات کو اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ کسی طبقہ کا، خواہ کتنا با اثر ہو، دوسرے طبقہ پر جبر، کسی تہذیب کا دوسروں کی تہذیب پر جبر، کسی زبان کا دوسری زبان پر جبر، سوائے آپسی کشمکش اورٹکراؤ پیدا کرنے اور ملک کو نقصان پہنچانے کے کوئی اچھا نتیجہ نہیں پیدا کرسکتا، انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو دانائی اور حکمت کی جو صلاحیت ملی ہے، اس کو صحیح استعمال کرنے سے آپس میں قربت اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے، اور آپس کے میل جول اختیار کرنے سے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے اور پھر اپنے تجربات سے فائدہ پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔

اور اس کے نتیجہ میں خواہ تہذیبیں ہوں یا زبانیں، یا مذاہب، ان کے درمیان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے کا معاملہ چلتا ہے، ایک تہذیب دوسری تہذیب سے، ایک زبان دوسری زبان سے، حتی کہ مذہب کے معاملہ میں بھی بہتر اور مفید تر کو معلوم کرنے اور استفادہ و اخذ فیض کرنے کا فائدہ ہوتا ہے، اس غرض سے دنیا میں (Dialogue)ڈائیلاگ کا بھی تجربہ کیا گیا، یہ ڈائیلاگ یعنی آپس میں تبادلہ خیال اپنی افادیت رکھتا ہے، اس کے ذریعہ انسان جمود سے نکل کر وسیع تر دائرہ میں آتا ہے اور نیچے سے ابھر کر اوپر آتا ہے۔

اس کی سب سے اعلیٰ مثال ہمارے حضور حضرت محمد کا طریقہ کار تھا، ان کی رہنمائی وحی الٰہی کے ذریعہ ہوتی تھی، آپ نے جب وحی الٰہی سے ملی ہوئی ہدایات کو اپنی قوم کے سامنے رکھا، اور آپ کی قوم آپ کے خاندان ہی کی تھی، ان کے سامنے بڑے اور چھوٹے کا فرق و لحاظ رکھتے ہوئے جب آپ نے آسمانی رہنمائی والی بات رکھی تو یہ ان لوگوں کے لیے ایک طرح سے نئی بات تھی، لہٰذا انہوں نے سننے سے انکار کیا اور کہا کہ بس ہم جو کرتے آئے ہیں، ہم ان کے علاوہ کچھ سننے کے لیے تیار نہیں، اور جب ان کو مخاطب کیا گیا تو کان میں انگلی دے لیتے اور کہتے کہ ہم نہیں سنیں گے، نئی بات نہیں سنیں گے،لیکن آپ کی بات ایسی تھی کہ جس میں قوم کا فائدہ اور حالات کی بہتری اور ملک و قوم کی ترقی تھی، جب ان میں سے کسی کے کان میں ٹھیک سے پڑجاتی تو اس کا ذہن بدل جاتا، حضور  اخلاق و محبت اور خیرخواہانہ انداز سے وحی الٰہی سے حاصل کردہ بات ان کے سامنے رکھتے رہے، آپ ان کے نہ سننے پر ناراض نہیں ہوتے تھے، بلکہ ہمدردانہ رویہ کے ساتھ اپنے خیرخواہانہ جذبہ کا اظہار کرتے، اور قوم کے لوگوں کے غصہ و گرمی تک کو برداشت کرلیتے تھے، آپ کو اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی تھا کہ تم ان پر یہ خیرخواہانہ بات جبراً مسلط نہ کرو، مانیں تو مانیں، اور نہ مانیں تو یہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں، تم پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے کہ تم زبردستی منواؤ، آپ نے اس پر عمل کیا، اور اسی کو اسلام کا اصول بتایا کہ خیرخواہانہ انداز میں اچھی باتوں کی طرف بلایا جائے، اور منوانے کے لیے مجبور نہ کیا جائے، مگر اس میں اصل اصول یہ ہے کہ خیرخواہانہ جذبہ ہو کہ غلط رخ اختیار کرنے والوں اور مضر طور و طریق اپنانے والوں کے غلط راہوں پر چلنے سے دل دکھے کہ اپنے بھائی بند ہیں، یہ اپنا نقصان کر رہے ہیں اور یہ جذبہ پیدا ہو کہ ہم کس طرح ان کو صحیح راہ پر لے آئیں، خود بھی اچھے طور و طریق پر کاربند ہوں، اور دوسروں کو بھی بہتر راہ اختیار کرنے کے لیے دل میں تڑپ پیدا ہو، یہی وہ تڑپ ہے جو خیرخواہانہ جذبہ کے ساتھ دوسروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور اس کے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔

مسلمانوں کو امت دعوت کا وصف عطا کیا گیا ہے کہ وہ خیر کی طرف بلائے اور شر اختیار کرنے سے منع کرے، اس وصف کا تقاضا ہے کہ ہم دوسروں کو صحیح بات بتائیں اور ایسا انداز اختیار کریں کہ محبت اور خیر خواہانہ جذبہ کے ساتھ ہماری ہمدردی سامنے آئے، اس طرح ہماری بات اپنائیت کے ساتھ سنی جاسکتی ہے، اور جب ہم اچھی باتوں کی طرف دعوت دیتے ہیں تو یہ بھی ہماری بات کو وزن دیتی ہے، اور اس کے ذریعہ ہم خیر کو عام کرنے والے اور انسانیت کو صلاح و فلاح کی طرف لے جانے والے بنتے ہیں، یہ اس ملک میں ہمارا فرض بنتا ہے، کیونکہ یہاں مختلف مذاہب، مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے درمیان ہم رہتے ہیں، اور ہم امت وحدت ہیں، تو دعوت کے اسلامی اصولوں کو اپناتے ہوئے ہم لوگوں کو شر کے راستہ سے ہٹنے اور خیر کا راستہ اختیار کرنے کی طرف توجہ دلا سکتے ہیں، اور یہ ہم کو کرنا چاہیے، یہ اس ملک کے لیے بھی مفید ہے اور ہمارے وزن کو محسوس کرانے والی بات بھی ہے، اور انسانیت کی صلاح و فلاح کا بھی کام ہے، جس کی ذمہ داری بحیثیت ایک نیک سیرت اور انسانیت کے خیر خواہ کے ہم پر عائد ہوتی ہے کہ ہم خود بھی اچھے انسان بنیں اور اپنے مالک رب العالمین کے حکموں پر چلیں، اور دوسروں کو بھی اس کی طرف متوجہ کریں، اور یہ بات ہمارے دانشوروں کی طرف سے دانشوروں کے ساتھ اور ہمارے عوام کی طرف سے یہاں کے عوام کے ساتھ خیر خواہی اور داعیانہ رویہ اختیار کرنے سے انجام پاسکتی ہے۔

Share To All - شیر کریں سبسے
Read More
  1. ذاکرحسین لطیفی Reply

    ماشاء اللہ
    بھت خوب

Leave a Reply