Sir Syed Ahmed Khan

Agar Sir Syed Na Hote? – اگر سر سید نہ ہو تے؟ سلسلہ ١

 مصنف: صغیر احمد افراہیم

سرسید کی اہمیت

مشرق کی پروردہ مگر مغرب کی نبض شناس، سر سید احمد خاں کی ذات، قدیم و جدید کا سنگم تھی۔ وہ مشرق و مغرب کی تابناک جہتوں کو یکجا کرکے ایک ایسا مینارۂ نور تعمیر کر گئے ہیں جس کی ضو پاش کرنوں سے آج بھی آنکھیں منوّر ہیں۔ وہ نواب شاہجہاں بیگم اور مولوی ضیاء الدین سے متاثر اور مولوی مملوک علی کے شاگرد خاص ہونے کی وجہ سے ایک طرف ماضی کے اُس علم کے نگہبان تھے جو مسلمانوں کی شناخت ہے اور دوسری طرف وہ نئے علوم و فنون کو برِ صغیر ہندو پاک میں عام کرنا چاہتے تھے جس کے لیے سید والا گہر نے اپنے رفیقوں کے تعاون سے کاروباری اور روز مرہ کی زبان کو فروغ دیتے ہوئے اردو نثر کو ایک نیا انداز عطا کیا۔انھوں نے محسوس کر لیا تھا کہ یہ وقت تشدد کا نہیں، امن اور بھائی چارے کا ہے اور قوم کو ہر اعتبار سے مضبوط بنانے کے لیے حصولِ علم لازمی ہے۔ وہ یہ بھی سمجھ گئے تھے کہ ترقی کی بیش تر راہیں سائنسی و استدلالی نظریات سے ہوکر گزرتی ہیں لہٰذا بے حد معتدل اور متوازن انداز میں انھوں نے اپنے لائحۂ عمل کو مرتب کیا۔ سر سید کی طرح ان کے احباب کو بھی مشرق کی علمی روایات بہت عزیز تھیں اس لیے سبھی نے اپنے مضامین، مقالات، خطبات اور مکتوبات میں مسلمانوں کے گزشتہ علوم و فنون کی عظمت کا احساس دلایا اور یہ بھی واضح کیا کہ اُن کی توقیر کا اصل سبب یہ تھا کہ وہ اپنے زمانے کے لحاظ سے جدید طرزِ تعلیم کے حامل تھے۔ بانیانِ علی گڑھ نے قوم کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ آج کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اپنے عصر کے تناظر میں جدید طرزِ تعلیم سے مستفید ہونے کی کوشش کریں اور ایک بار پھر ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوں۔

محدود ذرائع اور تھوڑے سے وسائل میں ہمارے بزرگوں نے کیا کچھ ایسے کارنامے کر دکھائے جو ہمارے لیے آج بھی باعثِ حیرت ہیں۔ وہ بزرگ روز مرہ کے کاموں میں مشغول رہ کر بھی تصنیفی ذوق اور تعمیری شوق کے لیے وقت نکال لیتے تھے۔ اُن میں کوئی ایسی کشش ضرور تھی کہ وہ جاہ و منصب کے لالچ کے بغیر مختلف مزاج و درجات کے لوگ اُن کے گرد جمع ہوکر، کاندھے سے کاندھا ملا کر ملّی و قومی خدمات میں شریک ہوتے رہے۔ اس طرح سر سید اور رفقائے سر سید نے ’’جنّت نشاں‘‘ کے انتہائی حسّاس منظر نامہ کو سمجھتے ہوئے کئی محاذوں پر توجہ دی۔ انھوں نے قوم کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کا جتن کیا۔ مغربی فکر و فلسفہ کی اِفادیت بیان کی، اور مشرق کی تابندہ روایات کی بازیافت بھی کی۔ انھوں نے ذرائع ابلاغ کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اخبار و رسائل کو اپنی تعلیمی ، تصنیفی، قومی ، ملّی، صحافتی، سیاسی اور ادبی خدمت کا طاقت ور ذریعہ بنایا۔ نثر کے اس مضبوط وسیلے کے توسط سے بلا تامل کہا جا سکتا ہے کہ آج کا ترقی یافتہ مُعاشرہ ہی نہیں بلکہ ادب بھی سر سید تحریک کا رہینِ منّت اور اُن کی عقلیت، مادیت اور حقائق نگاری کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ بلا شبہ آج کا منظر نامہ بدلا ہوا ہے۔صارفیت کے اِس دور میں ہر شخص ذاتی ترقی اور خوش حالی کو مقدم رکھ رہا ہے اور قدروں کی باتیں از کار رفتہ بنتی جا رہی ہیں۔ ہماری نئی نسل جو بے حد ذہین، سند یافتہ اور متحرک ہے نہ جانے کیوں اپنی تاریخ، تہذیب اور اردو رسم الخط سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ہم کس طرح اُنھیں اپنے بیش قیمت تہذیبی اور ثقافتی ورثہ سے منسلک رکھیں، یہ ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ چمک دمک کے جس جال میں وہ گرفتارہو رہے ہیں اُس کی گرہیں اتنی مضبوط ہوتی جا رہی ہیں کہ نجات کے ذرائع اپنی بے بسی پر اشک بار ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ بزرگ خاموش بیٹھے ہوئے ہوں۔ وہ امکانی جتن کر رہے ہیں مگر کامیابی ہر پل دور ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ آخر کیوں؟اس کی ایک وجہ تو ذمہ داران کی چشم پوشی قرار دی جاسکتی ہے لیکن دوسری اہم وجہ خود پر اعتبار و اعتماد کی کمی ہے۔ دراصل یہ جوہر ہی مشکل گھڑی میں کامیابی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اسی جذبۂ حرکت و عمل کو بیدار کرنے کا نام علی گڑھ تحریک قرار پایا ہے۔ ہم سب کو رفقائے سر سید کی طرح اس بابت سوچنا ہی نہیں
بلکہ عمل بھی کرنا چاہیے کہ—

۱۔نئی نسل کو کس طرح قدروں کی اہمیت، افادیت اور معنویت کا احساس دلایا جائے۔

۲۔تہذیب الاخلاق جیسے رسائل و جرائد سے نئی نسل کو کس طرح متعارف کرایا جائے اور مستفید ہونے کی طرف اسے کیسے راغب کیا جائے۔

۳۔انسانیت، محبت، مروت اور در گزر کے جذبہ کو کیسے فروغ دیا جائے۔

۴۔نئی ایجادات اور معلومات سے کس طرح مثبت نتائج اخذ کیے جانے کا رجحان عام کیا جائے۔

۵۔اکیسویں صدی میں جو عالمی معیار وضع ہو رہے ہیں، اُن کی پاسداری کے لیے خود کو کس طرح تیار کیا جائے۔

۶۔فنونِ لطیفہ کو کیسے اپنے لیے مفید اور کارآمد بناتے ہوئے روحانی غذا کے طور پر استعمال کیا جائے۔

۷۔مادری زبان سے کس طرح رغبت اور انسیت پیدا کی جائے کہ وہ زندگی کا لازمی حصہ بن جائے۔
اِس جانب بھی بھر پور توجہ دینی ہے کہ کسی بھی صورتِ حال میں مثبت سوچ کو فروغ حاصل ہو ، اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے باہمی اتحاد برتا جائے۔

بنیادی امر یہ ہے کہ ذاتی اختلاف ہونا یا افراد سے اختلاف ہونا ممکنات میں تو شامل ہے لیکن وسیع النظری کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بڑے مقصد یا مشن سے اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ آج کے حساس اور حبس زدہ ماحول میں اِس جانب اور بھی توجہ کی ضرورت ہے۔نئی نسل ادیبوں کو استفہامیہ انداز میں دیکھ رہی ہے کہ انتہائی مشقت سے آئی مثبت تبدیلی کے اثرات کیوں زائل ہو رہے ہیں۔ کل رفقائے سر سید نے قوم کو ڈھارس بندھائی تھی، محبت، مساوات اور انسانی فلاح و بہبود کے جذبہ کو فروغ دیا تھا۔

آج کا ادب یہ فریضہ انجام دینے سے کیوں قاصر ہے؟ مسدس میں حالیؔ نے جو قوم کی زبوں حالی کا مرثیہ پڑھا تھا ۔ کیا عالمِ اسلام کے تناظر میں اُس کے پھر سے محاسبہ کی ضرورت ہے؟

جُزوی اختلافات آج بھی برقرار ہیں مگر ہم سر سید اور رفقائے سر سید کے عظیم الشان مشن کو آگے بڑھانے میں تساہلی کیوں برت رہے ہیں! ہمارے سامنے تو یہی نصب العین ہونا چاہیے کہ جس طرح ماضی میں علی گڑھ تحریک سے وابستہ افراد سر سید کے ہم نوا بن کر پوری تَن دہی سے فلاح و بہبود اور تعمیر و تشکیل کی ڈگر پر چلتے رہے، اُسی طرح ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے۔ رفقائے سر سید کا بنیادی مقصد اپنے ہم وطنوں اور اُن کے توسط سے عالمی برادری کو قدامت پرستی کے خار زار سے نکالنا اور جدید علوم و فنون سے واقف کرانا تھا مگر اس کے لیے وہ سب بہت احتیاط کے ساتھ چلے جس میں یہ ملحوظ رکھا گیا کہ ردّ و قبول کے دُشوار گزار مرحلہ میں قدیم تہذیب کی صحت مند روایات کا بھر پور احترام ہو اور نئی چیزوں کو بُرائیوں سے محفوظ رکھا جائے۔ دو دھاری تلوار جیسی راہ سے ہم آج بھی گزر رہے ہیں لہٰذا ہمیں عصر حاضر کے تبدیل ہوتے ہوئے معاشرتی منظر نامے کی تاریک راہوں کو روشن کرنے کے لیے سرسید اور اُن کے معاصرین کے افکار و نظریات اور عملی جدو جہد کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

اپنی رائے نیچے کمینٹ مے ضرور دے

سرسید احمد خان پر مزید مضامین سبسے پہلے پڑھنے کے لئے خریدے ادب سلسلہ سہماہی صرف ٥٠٠ سالانہ

Share To All - شیر کریں سبسے
Read More

Leave a Reply