Khanqah Aaliya Rashidiya Jaunpur

Khanqah Aaliya Rashidiya Jaunpur, Tarikh Aur Karname, خانقاہ عالیہ رشیدیہ جون پور تاریخ اورکارنامے

مصنف: ڈاکٹر محمد مجیب الرحمٰن

تعمیری اور دعوتی خدمات: مشائخ سے جو روحانی نعمتیں میسر آئیں، ان کی حفاظت کے ساتھ توسیع کی، ساتھ ہی خانقاہ رشیدیہ اور اس کے ماتحت دوسری خانقاہوں میں وسیع پیمانے پر تعمیری و توسیعی کام بھی کرایا۔ خانقاہ رشیدیہ کے تقریباً تمام مشائخ باضابطہ عالم و فاضل ہونے کے ساتھ شاعر، مدرس اور مصنف بھی ہوتے۔ شاہ معین الدین قطب الہند بھی باضابطہ عالم تھے، شعری ذوق بھی رکھتے تھے، ان کے کچھ اشعار بھی ملتے ہیں، مگر انہوں نے زیادہ توجہ افراد سازی اور خانقاہ کی توسیع و تعمیر پر صرف کی۔

مریدین و متوسلین کی تربیت و تزکیہ کے ساتھ انہوں نے کچھ ایسے افراد تیار کیے جو بعد کی نسلوں کے لیے عظیم مربی و مرشد ثابت ہوئے۔ آسی غازی پوری اور شاہد حسین راج گیری، محمد سجاد جعفری بہاری، واجد علی شاہ سبزپوش گورکھ پوری جیسے اشخاص ان کے خلفا میں پیدا ہوئے۔ سمات الاخیار کے مصنف نے دس خلفا کا مختصراً تذکرہ کیا ہے:

شاہ سراج الدین (پ: ۱۲۹۱ھ، م: ۷؍ ذی قعدہ ۱۳۱۴ھ): نام سراج الدین عرف محمد حسین ہے۔ قاضی باسط علی کے، جو قیام الحق کے نواسے تھے، حقیقی پوتے اور حکیم مولوی قاضی محمد ناصر کے بیٹے اور قصبہ نظام آباد، اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے۔ شاہ سراج الدین قطب الہند شاہ غلام معین الدین کے مرید و خلیفہ اور جانشین و متولی اوقاف اور سلسلہ رشیدیہ کے چھٹے سجادہ بھی ہوئے۔ ۱۳۱۴ھ میں انہوں نے اس دنیا کو خیرباد کہا اور خانقاہ رشیدیہ جون پور میں مدفون ہوئے۔

مزار اس سلسلے کے تمام سجادہ نشینوں شاعر، متبحر عالم اور زبر دست صاحب استغراق صوفی، سلسلۂ رشیدیہ کے ساتویں صاحب سجادہ تھے۔ دنیا انہیں بحیثیت صوفی شاعر اور آسی غازی پوری سے جانتی ہے۔ وہ ۱۹؍ شعبان ۱۲۵۱ھ سکندر پور میں پیدا ہوئے۔ تاریخی نام خلیل اشرف تھا۔ بچپن میں ہی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ نانا مفتی احسان علی قاضی پوری، شاہ آباد نے ان کی پرورش کی اور ابتدائی تعلیم سے بذات خود آراستہ کیا، پھر اپنے والد کے پیر خانہ خانقاہ رشیدیہ میں حاضر ہوئے اور صاحب سجادہ شاہ غلام معین الدین سے تعلیم حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں مولانا عبد الحلیم فرنگی محلی بھی ہیں۔ اساتذہ کو بھی ان کی ذکاوت اور شاگردی پر فخر تھا۔

حضرت آسی غازی پوری سلسلۂ قادریہ احمدیہ میں شاہ غلام معین الدین سے مرید ہوئے اور ایک مدت تک انہی کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے۔ سفر میں بھی وہ ساتھ رہتے۔ بالآخر مختلف اشغال و اذکار کی تعلیم کے ساتھ تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے نوازے گئے۔

اپنے وقت کے طبیب حاذق بھی تھے، حالاں کہ فن طبابت میں کوئی استاد نہ رکھتے تھے۔ سمات الاخیار کے مصنف لکھتے ہیں کہ شاہ سراج الدین کی جانشینی سات ہی برس میں ختم ہو گئی اور ضرورت نے یہ سہرا ان کے سر باندھا۔ سجادہ نشینی کے بعد جون پور میں مستقل قیام فرمایا۔ خانقاہ کے مشاغل اور اہل طلب کی کثرت کی وجہ سے رفتہ رفتہ طبابت چھوٹ گئی۔ (سمات الاخیار، ص ۲۵۴، ۲۵۵)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ جب تک سجادہ نشینی کی خدمت آپ کے متعلق نہیں ہوئی تھی تب تک باوجود تکمیل مراتب ظاہری و باطنی و تحصیل اجازت و خلافت کبھی کسی کو مرید نہیں کیا اور اپنے کو طبابت کے بھیس میں ایسا چھپا رکھا کہ بجز اہل نظر کوئی پہچان نہ سکااور ان کی درویشی کی طرف کسی کا وہم و گمان بھی نہ جاسکا۔ (سمات الاخیار، ص ۲۵۳)

ضبط و تحمل کا مادہ ان کی طبیعت میں اتنا تھا کہ مجال نہ تھی کہ کسی حالت میں کوئی راز کھل جائے۔ اواخر عمر میں چشتیت غالب آگئی تھی، بلا مزامیر کے سماع سنتے تھے۔ اس کی صورت یہ تھی کہ قاضی عبد البصیر معصوم پوری اور حافظ فرید الدین احمد غازی پوری ان کی غزلیں شب کو سوتے وقت خوش الحانی کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ ہاں منڈوا ڈیہہ کے عرس میں گاگر اٹھتے وقت جو باقاعدہ قوالی ہوتی ہے اس میں وہ شریک ہوتے تھے۔ وجد کی حالت میں صرف آنکھیں سرخ ہو جاتی تھیں اور بس۔ شادی ہوئی، اولاد ہوئیں مگر نسبی سلسلہ قائم نہ رہا۔ (سمات الاخیار، ص ۲۵۶، ۲۷۴، ۲۷۵)

اپنی زندگی ہی میں جانشینی کے لیے غور و فکر کیا اور اصحاب حل و عقد سے مشورہ اور روحانی اشارات کے بعد شاہ سید شاہد علی سبزپوش کو اپنا جانشیں بنایا۔ اس واقعہ کو سمات الاخیار کے مصنف نے تحریر کیا ہے کہ جانشینی کا معاملہ ایک اہم مسئلہ تھا جو اکثر مریدین یا احباب کبھی کبھی ان سے دریافت کرتے کہ جانشین کس کو تجویز فرمایا ہے، اس لیے کہ ان کے بعد اول تو انتخاب میں دقت پڑے گی دوسرے انتخاب صحیح ناممکن بھی ہے۔

اس وقت وہ یہی فرماتے تھے کہ میںنے شاہ سراج الدین اور مفتی غلام قادر دو لڑکوں کو منتخب کیا تھا لیکن خدا کی مشیت اور تھی اب میں اپنی رائے سے کچھ نہ کروں گا۔ اگرچہ اسی جواب سے وہ دوسروں کو ساکت و صامت فرما دیتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ خود بھی اس سوال کی اہمیت خوب سمجھتے تھے۔ جب وقت آیا تو انہوں نے قطب الاقطاب ابوالبرکات شمس الحق شیخ محمد رشید مصطفی کے خلیفۂ اجل و اکمل میر سید قیام الدین گورکھ پوری کی نسل سے جناب سید شاہد علی صاحب کا انتخاب فرمایا اور اپنی صحبت کیمیا ئے خاص میں رکھنے لگے۔

۱۳۲۹ھ میں ان کا لقب شہود الحق اور نام رشید الدین ارشاد ہوا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ نام و لقب میرے پیروں نے دل میں ڈالا ہے۔ اس کے بعد خلافت نامہ بھی زیب رقم فرمایا۔ (سمات الاخیار، ص ۲۷۶، ۲۷۷)

آسی غازی پوری کا آخری دور استغراقی دور تھا۔ غالباً پندرہ سولہ سالوں تک حالت استغراق میں رہے اور ۱۳۳۵ھ میں انتقال ہوگیا۔ سمات الاخیار کے مصنف تحریر کرتے ہیں، وفات سے قبل ان کی ہیبت بہت بڑھ گئی تھی۔ خلوت و جلوت میں ساتھ رہنے والے اور ہر وقت بات کرنے والے مقربین کو بھی لب کھولنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔

مریدان خوش اعتقاد روزانہ بعد نماز مغرب حاضر ہوتے مگر سلام یا قدم بوسی کی جرأت نہ ہوتی۔ آہستہ سے پلنگ کی پٹی چوم کر تخت پر بیٹھ جاتے۔ کبھی آپ آہٹ پاکر اگر پوچھ لیتے کہ کون؟ تو بتاکر سلام عرض کرتے اور اگر اس سے زیادہ متوجہ ہوتے تو جرأت کر کے قدم بوس ہو لیتے، ورنہ پٹی چوم کر واپس آجاتے۔ وفات کے وقت تک بجز افراط استغراق وغلبہ محویت کوئی مرض نہ تھا۔ (سمات الاخیار، ص ۲۷۹)

انتقال کے وقت قبلہ رو اس طرح آرام فرما تھے کہ دیکھنے والوں کو اس کا امتیاز بھی نہ ہوا کہ عاشق اپنے معشوق کو اشتیاق آمیز نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ آخر وہ قیامت خیز تاریخ ماہ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۵ھ کی دوسری پہنچ گئی اور وہ محشر انگیز روز اتوار آہی گیا، انہوں نے اپنے وابستگان دامن ارادت سے ہمیشہ کے لیے پردہ فرما لیا۔ وہ مستغرق دریائے شہود، غواص محیط، وحدۃ الوجود، فانی فی اللہ، باقی باللہ، قطب المشائخ و العالمین، شیخ الاسلام و المسلمین مولانا شاہ محمد عبد العلیم رشیدی پچاسی برس کی عمر میں اول وقت ظہر ایک بج کر بیس منٹ پر دنیائے عارضی سے رخصت ہوئے۔

آج آسی نے کرلیا پردہ

ہم غریبوں سے وہ کریم چھپا

وفات کے بعد ان کے جانشین سید شاہ شاہد علی سبز پوش نے جن رسومات کی ادائیگی کی ان کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں، جناب سید صاحب نے جون پور کی خانقاہ میں حسب معمول خاندان رشیدی سوم، دسواں، بیسواں، چالیسواں وغیرہ کیا، جس طرح انہوں نے اپنے پیر و مرشد کا سوم وغیرہ بمہن برہ سے آکر خانقاہ جون پور میں کیا تھا۔

ہرسال حسب آداب خاندان رشیدی غازی پور میں عرس کرتے ہیں اور مہمانوں کی میزبانی و راحت رسانی کو سعادت دارین سمجھتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جو اہل غازی پور کی خدمت میں روزانہ بلا ناغہ حاضر ہوا کرتے تھے، وہ اب بھی بعد نماز مغرب فاتحہ خوانی کو لازمی سمجھتے ہیں۔ ہر جمعرات کی شام، مزار پر قل ہوا کرتا ہے۔ (سمات الاخیار، ص ۲۸۲)

سلسلۂ رشیدیہ کے تقریباً تمام مشائخ کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ طالبین و سالکین کی تعلیم و تربیت کرتے اور اسی کے پردے میں مقامات تک پہنچانے کی کوشش کرتے یعنی علم و عمل کے پردے ہی میں سارا کام ہوجاتا۔ اسرار و معارف کی باتیں بہت کم ظاہر ہو پاتیں۔ اس سلسلے کے مشائخ اور ان کے اسلاف کا حلقہ بہت بڑا تھا۔

حضرت آسی غازی پوری کے خلفا میں زیادہ تر وہ اصحاب تھے جن کو ارادت بھی انہی سے تھی مگر بعض ایسے ہوتے جن کو صرف خلافت و اجازت ان سے تھی۔ وہ علما و مشائخ جن کو ارادت و خلافت دونوں ہوتی۔ ان میں سے سمات الاخیار کے مصنف نے ۹؍ کا تذکرہ کیا ہے، ان میں شاہ شاہد علی سبزپوش گورکھ پوری جو جانشین بھی ہوئے۔ ان کے علاوہ سید شاہ عبد العزیز بہاری، سید شاہ نذیر احمد بہاری، شاہ عبد الحق ظفر آبادی بھی شامل ہیں۔

جن مشائخ کو صرف خلافت میسر آئی، ان میں مولوی عبد السبحان غازی پوری بھی ہیں۔ بیعت و تعلیم انہیں مولانا عبد القادر شاہ غازی پوری سے حاصل ہوئی۔ ۲۴؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۴۳ھ بنگال میں انتقال ہوا، غازی پور میں دفن ہوئے۔ دوسرے مفتی محمد وحید قادری جو آسی صاحب کے ماموں زاد بھائی اور قاضی عنایت حسین چریاکوٹی کے مرید تھے۔ تیسرے شاہ محمد فصیح شیخ پوری، جو خواجہ محمد عیسیٰ تاج کے چھوٹے بھائی اور اپنے والد شاہ عنایت حسین بلیاوی کے مرید تھے۔ بعد میں حضرت آسی سے اجازت و خلافت میسر آئی۔

چوتھے شیخ محمد امیر معصوم پوری، بلیا کے رئیس اور شاہ علی حبیب سجادہ نشین خانقاہ مجیبیہ پھلواری کے مرید اور فیض یافتہ شاگرد تھے۔ چونکہ بزرگوں کو مشائخ خانقاہ رشیدیہ سے برابر بیعت رہی، اسی نسبت کو باقی رکھنے کے لیے آخر عمر میں حضرت آسی سے طالب ہوئے اور اجازت و خلافت حاصل کی۔ ان کے علاوہ شاہ محمد ادریس پھلواروی، شاہ ذاکر حسین چوکی قتال پوری، مولوی عبد الرحیم سیوانی، مولوی محب اللہ غازی پوری ، شاہ الفت حسین غازی پوری اور مولانا سید محمد فاخر بیخود اجملی الٰہ آبادی کو بھی حضرت آسی غازی پوری سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔

آسی غازی پوری کی علمی خدمات: سلسلۂ رشیدیہ کے تمام علما و مشائخ نے علمی اور دعوتی خدمات میں اپنی حصہ داری لی، مگر بعض وہ مشائخ جو علمی اور دعوتی خدمات کے اعتبار سے ممتاز حیثیت کے مالک ہوئے۔ ان میں ایک نام حضرت آسی غازی پوری کا بھی لیا جاتا ہے۔ انہوں نے خانقاہ رشیدیہ اور اس کے ماتحت چلنے والی خانقاہوں کی تعمیر و ترقی، رفاہ عام، خدمت خلق، درس و تدریس، تصنیف وتالیف، ارشاد و ہدایت اور دعوت و تبلیغ سارے میدانوں میں اپنے وجود کا احساس دلایا۔

ایک طرف علمی اور روحانی اعتبار سے انہوں نے اچھے اور مفید افراد تیار کیے، وہیں دوسری طرف تصنیف و تالیف اور صوفیانہ و عارفانہ شعر گوئی اور غزل گوئی میں ایک مثال قائم کی۔ تصنیفات میں سراج الصرف، فواید صدیقیہ اور قواعد جوہریہ کا ذکر ملتا ہے۔ شعر گوئی کے ذریعہ ناسخ جیسے شعرا نے زبان کی صفائی و شستگی میں جو سعی بلیغ تھی اسے حضرت آسی نے آگے بڑھایا اور مزید نئی راہیں ہموار کیں۔ حضرت آسی نے اس فن میں کمال حاصل کیا اور ایسے تلامذہ تیار کیے جن کی بنیاد پر وہ ناسخ وقت کہلائے۔ حضرت آسی کا کلام مجاز کے پردے میں حقیقت کا جلوہ دکھاتا ہے۔ فرماتے ہیں:

اگر بیان حقیقت نہ ہو مجاز کے ساتھ

وہ شعر لغو ہے آسی کلام ناکارا

سید شاہ شاہد علی نے ان کی وفات کے بعد ’’عین المعارف‘‘ کے نام سے مجموعۂ کلام تیار کیا اور عارف ہسوی نے ان کے کلام کا تنقیدی جائزہ لیا۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ حضرت آسی کے کلام میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو مذاق سلیم کسی غزل میں تلاش کرتا ہے۔ انداز بیان کی متانت و پختگی، مضامین کا علو، خیالات کی بلندی، جذبات کی پاکیزگی و لطافت، ان کے کلام کے مخصوص عناصر ہیں اور یہی وہ خوبیاں ہیں جو ان کے کلام کو نیرنگی و اعتبار کے بلند درجے پر پہنچا دیتی ہیں۔ ایک خاص خوبی حضرت آسی کے کلام کی یہ ہے کہ ان کی غزلوں میں بھرتی کے شعر بالکل نہیں ہوتے۔ سوقیت و عامیانہ مذاق سے کلام پاک ہے۔

نیز جرأت و داغ کی طرح ہوس ناکی، سفاہت بھی ان کے یہاں نہیںپائی جاتی۔ آسی ایک صاحب حال، صاحب دل، صاحب نسبت بزرگ تھے، اس لیے فطرتاً ان کا کلام تصوف کی چاشنی سے معمور ہے۔ وہ کبھی تو ایسے اشارات صوفیانہ کر جاتے ہیں جس سے کلام کی رنگینی و رعنائی حد درجہ دل پذیری کی شان اختیار کرلیتی ہے اور کبھی کسی خاص مسئلۂ تصوف پرشاعرانہ رنگ میں روشنی ڈال جاتے ہیں اور کبھی مجاز کے پردہ میں رموز و حقائق کی طلسم کشائی کر جاتے ہیں، چونکہ تصوف میں بھی حضرت آسی کا مذاق وحدۃ الوجود کاہے۔ اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس مسئلہ پر وہ مختلف والہانہ اور مستانہ انداز سے اپنے واردات قلب کو قالب شعر میں ڈھال کر پیش کرجاتے ہیں، جن کو سنتے ہی سامع پر ایک بے خودی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور مذاق سلیم پہروں سر دھنتا ہے‘‘۔ (سمات الاخیار، ص ۲۷۰)

آسی کی غزل اور رباعیوں کے حوالے سے فراق گورکھ پوری کہتے ہیں:

’’آسیؔ غازی پوری کے کلام کے بھی ہم دونوں عاشق تھے جسے لذت لے لے کر ایک دوسرے کو سناتے تھے اور جس پر دونوں مل کر تبصرے کیا کرتے تھے۔ کئی برس بعد ایسا ہوا کہ میں کانپور سناتن دھرم کالج میں پروفیسر ہوگیا اور مجنوں جو اب بی اے پاس کرچکے تھے گورکھ پور ہی میں تھے، ہم دونوں کے شعور اور وجدان کے باہمی ربط کا یہ کرشمہ تھا کہ بغیر ایک دوسرے کی خبر رکھے ہوئے ہم دونوں نے پچاس رباعیاں کہہ ڈالیں اور دونوں نے ایک دوسرے کو خط لکھا کہ آسی کی رباعیوں سے متاثر ہوکر یہ رباعیاں کہی گئی ہیں، ہم دونوں اب تک اس حسن اتفاق پر حیرت کرتے ہیں‘‘۔ (عین المعارف، ص ۳۳، ۳۴)

مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں:

’’ڈاکٹر صاحب (ڈاکٹر سید محمود مرحوم سابق وزیر خارجہ حکومت ہند) کو جون پور کی خانقاہ رشیدیہ سے بھی بڑا گہرا روحانی تعلق تھا۔ یہ تو یقینی طور پر معلوم نہیں کہ وہ اس سلسلے میں بیعت بھی تھے لیکن ان کو اسی سلسلے کے مشہور شیخ مولانا عبدالعلیم آسی غازی پوری سے ایسی عقیدت ووابستگی تھی کہ اس سے قیاس ہوتا ہے کہ وہ اپنی نوجوانی میں ان سے بیعت ہوگئے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری دور میں وہ ان کا کلام بڑے شغف اور جوش عقیدت کے ساتھ پڑھتے تھے اور اکثر ان کا تذکرہ فرماتے تھے‘‘۔ (عین المعارف، ص ۳۴)

ایسے ہی مولانا محمد علی جوہر تحریر کرتے ہیں:

’’اس سفر (بسلسلۂ مقدمۂ کراچی) میں رات کے طول طویل گھنٹے درود وسلام کی تسبیحیں پڑھتے پڑھتے گزار دیے اور آسی غازی پوری کا یہ شعر سارے سفر میں برابر ورد زبان رہا :

وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعد

تمہارے نام کی رٹ ہے خدا کے نام کے بعد‘‘ 

مجنوں گورکھ پوری لکھتے ہیں:

’’مشرق کے صوفی شاعروں میں صرف دو ہستیاں ایسی نظر آتی ہیں جنہوں نے مجاز کی حقیقت اور قدسیت کو کما حقہ تسلیم کیا ہے اور جن کے مسلک کو ’’مجازیت‘‘ کہا جاسکتا ہے۔ ایک تو حافظؔ دوسرے آسی‘‘۔ (عین المعارف، ص: ۲۰)

ان اقتباسات سے حضرت آسی کے کلام کی اثر انگیزی اور غزل کی شہرت کا اندازہ ہوتا ہے۔

شاہ شاہد علی سبزپوش (پ ۱۳۰۷ ھ /۱۸۸۸ء، م۱۳۷۲ھ/۱۹۵۳ء): نام شاہد علی اور لقب رشید الدین و شہود الحق، تخلص فانی تھا۔ آسی غازی پوری کے مرید و خلیفہ اور سلسلۂ رشیدیہ کے آٹھویں سجادہ نشیں تھے۔ والد کا انتقال پیدائش سے ۳ ماہ ۳ دن قبل ہوگیا۔ نسبی سلسلہ ۲۹؍ واسطوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔

اچھے شاعر اور متبحر عالم شریعت اور عارف باللہ تھے (۴) مخلوق خدا کے ساتھ وقت کے بڑے نامور شعرا سے بھی ان کے اچھے تعلقات تھے۔ ان میں حفیظ جون پوری، جگر مرادآبادی ، وصل بلگرامی وغیرہم ہیں۔ (دیوان فانی، ص ۱ تا ۳۰)

علما و شعرا مثلاً علمائے فرنگی محل، اصغر گونڈوی، ہادی مچھلی شہری ، حسرت موہانی، سیماب اکبرآبادی سے بھی ان کے خاص روابط تھے۔ (سمات الاخیار، ص ۳۰۱ تا ۳۰۳) انہوں نے دیوان فانی کے نام سے ایک شعری دیوان چھوڑا ہے جو عارفانہ اور صوفیانہ شاعری کا مجموعہ ہے۔ دعوت و تبلیغ کو جاری رکھتے ہوئے روحانی نعمتوں کو عام کرنے کے لیے رشد و ہدایت کا سلسلہ باقی رکھنے کی غرض سے انہوں نے کچھ افراد کی تعلیم و تربیت کرکے ان کو اجازت وخلافت سے بھی سرفراز فرمایا۔ ان میں سے چند جن کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے، وہ یہ ہیں: سید مصطفیٰ علی سبزپوش، سید شاہ ایوب ابدالی سجادہ نشیں خانقاہ اسلام پور پٹنہ، سید عبد الشکور سادات پوری، مولوی محمد یٰسین چمنی بازار پورنیہ، مولوی ذاکر حسین چوکی قتال پور سیوان، بہار، حکیم لطیف الرحمٰن چمنی بازار، پورنیہ بہار۔ (سمات الاخیار، ص ۳۰۸)

سید شاہ مصطفی علی سبزپوش (وفات ۱۸؍ ذی القعدہ ۱۳۸۵ھ؍ ۱۱؍ جولائی ۱۹۵۸ء): یہ سید شاہد علی سبزپوش کے بیٹے و جانشین اور خانقاہ رشیدیہ کے نویں سجادہ اور موجودہ سجادہ نشیں مفتی عبید الرحمٰن رشیدی کے شیخ ارادت تھے۔ مدرسیہ صولتیہ مکہ معظمہ کے سند یافتہ عالم اور صاحب تصوف صوفی تھے۔ بہار کے ضلع چمپارن میں جہاں غیر مسلک والوں کا زور تھا، انہوں نے زبردست دعوت و تبلیغ کی، جس کی وجہ سے ہزاروں مسلمانوں نے توبہ کی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ (سمات الاخیار، ص ۳۰۹)

۱۸؍ ذی القعدہ ۱۳۷۸ھ/۱۱؍ جولائی ۱۹۵۸ء کو گورکھپور میں شہادت کی موت پائی اور واصل بحق ہوئے۔ جون پور، رشید آباد میں مدفون ہوئے۔ ان کے بعد خانقاہ کا انتظام و انصرام کچھ دنوں تک سید ہاشم علی کے سپرد کیاگیا پھر رشد و ہدایت کا کام سید شاہد علی کے خلیفہ سید شاہ ایوب ابدالی جو شاہ مصطفیٰ علی شہید کے مرشد کامل ہوتے ہیں، ان کے حوالے کیا گیا۔ (سمات الاخیار، ص ۳۰۹ تا ۳۱۱ )

سلسلۂ رشیدیہ کی موجودہ علمی و دعوتی سرگرمیاں: بانی سلسلہ رشیدیہ شیخ محمد رشید جن کی عارفانہ حیثیت کوان کے ہم عصر مشائخ و صوفیہ نے تسلیم کیا اور جن کے تبحر علمی کی علامہ شبلی اور ان جیسے دیگر علما اور دانشوروں نے قصیدہ خوانی کی ہے۔ اس سلسلے کے مشائخ کی علمی اور روحانی حیثیتوں کو ملک العلما ظفرالدین بہاری جیسی عبقری شخصیات نے بھی تسلیم کیا اور ان کے ادبی اور شعری شہ پاروں کو دیکھ کر غالب اور ناسخ جیسے فن کار ان شعر و سخن نے رشک کیا ہے۔

اس عظیم خانقاہ کی علمی اور روحانی حیثیت آج بھی باقی ہے۔ اس وقت ایک صاحب سجادہ کی نگرانی میں اس سلسلے کی پانچ خانقاہیں مختلف مقامات پر چل رہی ہیں اور دعوت و تبلیغ اور خدمت خلق میں مصروف ہیںاور اپنے مشائخ کے نقش قدم پر عمل کرتے ہوئے ان سے اشاعت علم و معرفت کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں کے موجودہ سجادہ نشین مفتی عبیدالرحمٰن رشیدی کی لائق تعریف اور حکیمانہ قیادت میں مختلف مقامات پر اس سلسلے کے ترجمان مختلف معیاری علمی ادارے چل رہے ہیں، جہاں سینکڑوں کی تعداد میں طالبان علوم نبویہ اپنی علمی تشنگی بجھا رہے ہیں۔ ان اداروں کے نام ہیں: ۱۔ دارالعلوم مصطفائیہ، چمنی بازار، پورنیہ، بہار۔ ۲۔ دارالعلوم سرکار آسی، سکندر پور، بلیا۔ ۳۔ دارالعلوم طیبیہ معینیہ، بنارس۔ ۴۔ دارالعلوم رشیدیہ، جون پور۔ ۵۔ دارالعلوم حیدریہ معینیہ، سیوان۔ ۶۔ دارالعلوم علیمیہ شاہدیہ، غازی پور۔

مشائخ سلسلۂ رشیدیہ کا اعتقادی، فقہی اور صوفی مسلک: خانقاہ رشیدیہ ہندوستان کی قدیم روحانی اور علمی خانقاہ ہے۔ یہاں کے مشائخ نے اپنی علمی اور دعوتی دونوں حیثیتوں کو ثابت کیا اور ان دونوں میدانوں میں بے لوث خدمات انجام دیں۔ اس سلسلے کے مشائخ نے اعتقادی، فقہی اور سوانحی کتابیں بھی لکھی ہیں۔

خود بانی خانقاہ رشیدیہ شیخ محمد رشید نے فن مناظرہ کی مشہور کتاب شریفیہ کی رشیدیہ کے نام سے جو شرح کی ہے، وہ ان کے دینی افکار اور خیالات کو ثابت کرتی ہے۔ اس سلسلے کے مشائخ کی تصنیفات وتالیفات اور ملفوظات مثلاً: گنج رشیدی، گنج ارشدی، گنج فیاضی، کرامات فیاضی، مناقب العارفین، سمات الاخیار، عین المعارف، دیوان فانی وغیرہ کے مطالعہ سے واضح طور پر جن افکار و نظریات اور خیالات کا علم ہوتا ہے اس کو ذیل میں قلم بند کیا جاتا ہے:

اعتقادی مسلک: ہندوستان کی دیگر خانقاہوں اور خانوادوں کے علما و مشائخ کی طرح سلسلۂ رشیدیہ کے علما و مشائخ اعتقادی طور پر امام ابو منصور ما تریدی کے پیروکار رہے ہیں اور صدیوں سے متواتر طور پر چلے آرہے اہل سنت کے معتقدات ومعمولات خواہ وہ ضروری ہوں یا ظنی، ان کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔

فقہی مسلک: ہندوستان کی اکثر مسلم آبادی فقہ و فتاویٰ میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؓکی پیروی کرتی ہے۔ ہندوستانی علما و مشائخ نے فقہ حنفی کی صرف پیروی ہی نہ کی، بلکہ وسیع پیمانے پر اس مسلک و مذہب کی ترویج و اشاعت بھی کی ہے۔ سلسلۂ رشیدیہ کے علما و مشائخ نے بھی دعوت و تبلیغ اور درس و تدریس کے ساتھ اپنی تصنیفات و تالیفات کے ذریعہ فقہ حنفی اورمسلک امام اعظم ابوحنیفہؒ کی ترویج و اشاعت اور تبلیغ میں اپنے وجود کا احساس دلایا ہے۔

صوفی مسلک: خواجہ غریب نواز کی حکیمانہ دعوت و تبلیغ کی بنیاد پر چشتی نسبت نے قدیم ہندوستان کے اکثر حصوں کو اپنی روحانیت سے منور اور پرسکون بنادیا۔ بہت سے دوسرے مشائخ نے قادریت، نقش بندیت اور سہروردیت کی بھی ترویج و تبلیغ کی اور ان تمام روحانی چشموں سے خود بھی فیض یاب ہوئے اور دوسروں کو بھی فیض یاب کیا۔ البتہ چشتیہ اور قادریہ کا غلبہ ہندوستان میں زیادہ رہا۔ خانقاہ رشیدیہ جون پور بھی اصلاً چشتی خانقاہ ہے لیکن یہاں کے مشائخ کو دیگر مختلف سلاسل کی اجازت و خلافت شروع سے چلی آ رہی ہے۔ یہاں کے اکثر مشائخ نے زیادہ تر بیعت، سلسلۂ چشتیہ اور قادریہ میں کی ہے اور اجازت سے نوازا ہے۔

یہاں کے بعض مشائخ چشتی صوفی رسوم مثلاً رقص وسماع وغیرہ سے بھی خوب لطف اندوز ہوئے ہیں۔

تعلیقات : شیخ محمد رشید کے جد امجد شیخ عبدالحمید مخدوم سید اشرف جہاں گیر کچھوچھوی کے مرید و خلیفہ تھے۔ اس روایت کے تعلق سے نوجوان فاضل مولانا ابرار رضا مصباحی جو خانقاہ رشیدیہ سے روحانی رشتہ اور اس سلسلہ کے مشائخ کے تعلق سے معلومات رکھتے ہیں، لکھتے ہیں:

’’یہ روایت و عبارت بھی ناقابل تسلیم اور حقیقت سے بعید معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ خانوادۂ رشیدیہ کی تاریخ پر معتبر و مستند کتاب ’’گنج ارشدی شریف‘‘ اور دیگر کسی کتب تاریخ و سیرت میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ حضرت بندگی شیخ جمال الحق مصطفیٰ کے والد بزرگ وار امام العارفین حضرت شیخ عبدالحمید حضرت سید اشرف جہاںگیر سمنانی کے مرید و خلیفہ تھے اور پھر یہ کہ ان دونوں حضرات کے زمانے میں بھی کافی تفاوت اور بون بعید ہے۔

لہٰذا یہ روایت کسی بھی طریقے سے درست نہیں ہے۔ البتہ ’’گنج ارشدی شریف‘‘ میں یہ ہے کہ حضرت شیخ عبدالحمید کی شادی شیخ عبدالقادر کی دختر سے ہوئی اور شیخ عبدالقادر کے والد قاضی عبد الصمد شیرشاہ سوری کے لشکر کے قاضی تھے۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت قاضی محمد عرف متھن صدیقی سے ملتا ہے جو کہ حضرت مخدوم میر سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ کے خلیفہ اورحضرت معروف شبلی کی اولاد سے ہیں‘‘۔ (ماہ نامہ جام نور، نئی دہلی، فروری ۲۰۱۲ء، ص ۶۲)

شیخ محمد رشید کا نام عبد الرشید بھی ملتا ہے۔ ان کے پیر بھائی اور خلیفہ شیخ یٰسین جھونسوی ’’مناقب العارفین‘‘ میں اپنے شیخ ارادت مخدوم شاہ طیب بنارسی کے اولوالعزم خلفا کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’دوسری شخصیت استاذی واستاذ العالمین، ملاذی وملاذ الصالحین، زبدۃ الاحبار، عمدۃ الابرار، محبوب قلوب الشطار، صاحب الرشاد والسداد، والمتمکن فی مقام الارشاد، قدوۃ اہل التجرید و التفرید، بندگی میاں شیخ عبد الرشید ابد اللہ تعالیٰ ظلال عاطفہ علی رووس المعتقدین والمریدین کی ہے‘‘۔ (مناقب العارفین، ص ۸۶)

شیخ محمد رشید کے ہم عصر اور خواجہ تاش نے جن الفاظ و القاب میں ان کا ذکر کیا ہے، اس سے جہاں ان کی عظمت و رفعت اور مقام ولایت کا علم ہوتا ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کو عبد الرشید بھی کہا اور لکھا گیا۔ مآثر الکرام کے مصنف میر سید غلام علی آزاد بلگرامی نے انہیں عبد الرشید اور لقب شمس الحق لکھا ہے۔ (مآثر الکرام، ص ۳۱۱) حدائق الحنفیہ میں ان کا تعارف یوں کرایا ہے:

’’ مخدوم شیخ عبد الرشید بن شیخ مصطفیٰ عبد الحمید عثمان: پہلا نام آپ کا محمدرشید تھا اور اسی کو دوست رکھتے تھے اور مراسلات ومکاتبات میں لکھتے تھے۔ لقب آپ کا شمس الدین تھا ( حدائق الحنفیۃ ص ۴۲۹) حدائق الحنفیۃ میں آپ کی تاریخ وفات ۱۰۵۵ھ بتائی گئی ہے جو دیگر تمام مراجع سے مختلف ہے۔ اس کے علاوہ تمام مراجع ومصادر میں ۱۰۸۳ھ ہے اور یہی درست ہے۔ صاحب نزہۃ الخواطر نے بھی آپ کا نام محمد رشید اور گنج ارشدی کے حوالے سے تاریخ وصال ۹؍ رمضان ۱۰۸۳ھ لکھا ہے‘‘۔ (نزہۃ الخواطر، ج ۵، ص ۳۹۹، ۴۰۰)

مولوی رحمٰن علی صاحب تذکرہ علمائے ہند نے تحریر کیا ہے:

’’مولانا عبد الرشید جون پوری ابن شیخ مصطفیٰ بن عبد الحمید، ان کا لقب شمس الحق تھا، شمس تخلص کرتے تھے، شیخ فضل اللہ جون پوری کے شاگرد اور اپنے والد شیخ مصطفیٰ (مرید نظام الدین امیٹھوی) کے مرید تھے، جو اولیائے کبار اور علمائے کرام میں تھے‘‘۔ (تذکرہ علمائے ہند، ص ۲۹۷)

سمات الاخبار کے مصنف نے جو بات تحریر کی ہے وہ یہ ہے کہ نام محمد رشید ہے اور بعض تحریروں سے عبد الرشید بھی ثابت ہے مگر کم، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں محمد رشید زیادہ ومحبوب تھا۔ کنیت ابو البرکات اور لقب شمس الحق تھا۔ لوگ انہیں قطب الاقطاب اور دیوان جی کہا کرتے تھے۔ (سمات الاخیار، ص ۶۰) اب ان تفصیلات کے بعد ان کے نام ولقب کے متعلق مزید کچھ لکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

شیخ محمد رشید کے شیوخ میں مخدوم شاہ طیب بنارسی عبد القدوس قلندر، میر سید شمس الدین کا لپی اور راجی احمد مجتبیٰ مانک پوری جیسے مشائخ کا نام آتا ہے۔ اور شیخ نور الحق ابن شیخ عبد الحق محدث دہلوی شارح بخاری اور افضل العلماء شیخ محمد افضل جیسے متبحر علما اساتذہ میں ہیں۔ ملا عبد الحکیم سیالکوٹی (۱۲؍ ربیع الاول ۱۰۶۷ھ) ملا عصمت اللہ سہارن پوری (۱۰۳۹ھ) اور شیخ محب اللہ الٰہ آبادی جیسے نامور علما و مشایخ ہم عصر اور ملا محمود جون پوری جیسے منقولی اور معقولی عالم ہم سبق تھے۔ استاذ شیخ محمد افضل کہتے تھے کہ جس وقت علامہ تفتازانی اور جرجانی دنیا سے گئے اس وقت سے کسی نے بھی اتنے فاضلوں کو ایک شہر میں اکٹھا ہوتے نہیں دیکھا یعنی ملا محمود اور شیخ عبد الرشید۔ (مآثر الکرام، ص: ۳۶)

شیخ کے بارے میں خانقاہ رشیدیہ کے موجودہ سجادہ مفتی عبید الرحمٰن رشیدی تحریر کرتے ہیں:

’’حضرت سرکار آسی مولانا الشاہ محمد عبد العلیم کے مرید خاص اور خلیفۂ اول اور خانقاہ رشیدیہ جون پور کے سجادہ نشین رہے ہیں۔ آپ کی ذات والا صفات محتاج تعارف نہیں۔ حضرت ملک العلمامولانا ظفر الدین فاضل بہاری مصنف صحیح البہاریؒ نے اپنے رسالہ ’’موذن الاوقات‘‘ میں آپ کے جو آداب والقاب ذکر فرمائے ہیں وہ یہ ہیں ’’عارف باللہ، مقبول بارگاہ، ملحق الاصاغر بالاکابر، وارث العلم والفضل والمجد والشرف، کابراً عن کابرٍ، جامع شریعت وطریقت، حاوی اسرار حقیقت ومعرفت، عالی جناب، معلی القاب سید شاہد علی صاحب سبزپوش سجادہ نشین خانقاہ رشیدیہ علیمیہ، جونپور، دام بالفیض والسرورالی مر الدہور‘‘۔ (خطبات رشیدیہ ، ص ۳)

مفتی صاحب نے الاحسان کو دیے گئے اپنے تحریری انٹرویو میں یہ بات بھی کہی ہے کہ حضرت ملک العلما ظفر الدین بہاری، حضرت سید شاہ شاہدعلی سبزپوش کے خلیفہ شاہ ایوب ابدالی خانقاہ اسلام پور پٹنہ کے اجازت یافتہ بھی تھے اور یہ بھی کہا کہ ۱۹۴۶ء میں بنارس میں چار روزہ سنی کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی خلیفۂ اعلی حضرت امام احمد رضا نے خانقاہ رشیدیہ کے نویں سجادہ نشیں سید شاہ شاہد علی سبز پوش قدس سرہ سے ملاقات کی اور ان کو کانفرنس کے اغراض ومقاصد سے آگاہ کیا۔

سماع اور وجد وکیف اور رقص کے تعلق سے مناقب العارفین کے مصنف شیخ یٰسین جھونسوی اپنے شیخ ارادت مخدوم شاہ طیب بنارسی جو شیخ محمد رشید بانی سلسلۂ رشیدیہ کے شیخ اجازت اور شیخ تربیت ہیں، کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:

’’ابتدا میں آپ قدس سرہ کو سماع سے بہت شغف تھا اور وجد ورقص بہت فرماتے تھے اور اکثر صالح قسم کے قوال آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ کبھی کبھی سماع کے جوش میں جنگل کی طرف چلے جاتے، دور دراز جنگل میں رہتے اور کوئی نہ جانتا کہ آپ کہاں ہیں، لیکن جب قوال اس نواح میں جاتے اور گانا شروع کرتے تو اس کو سنتے ہی آپ کسی طرف سے ظاہر ہوجاتے اور رقص میں مشغول ہوجاتے۔

جب آپ پر حال طاری ہوتا اور آپ رقص فرماتے تو در و دیوار مست ہوجاتے اور ایسا معلوم ہونے لگتا کہ ہر چیز عالم رقص میں ہے۔ بہت سی راتیں اسی حال میں گزر جاتیں۔آخر وقت میں سماع سے پرہیز فرمایا اور اپنے اختیار سے نہیں سنتے تھے۔ فرمایا کرتے کہ اس دور میں سرود نہیں سننا چاہیے ،کیونکہ اس کی کوئی شرط باقی نہیں رہ گئی ہے، زمانہ فاسد ہوچکا ہے، یاران موافق نہیں رہ گئے ہیں اور قوالوں میں طمع جاگزیں ہوگئی ہے، اس لیے ایسے وقت میں سرود کا سننا فقرا کے طریقہ سے مناسبت نہیں رکھتا‘‘۔

شیخ محمد ارشد ابن شیخ محمد رشید کے بارے میں سمات الاخیار کے مصنف نے ایک واقعہ یوں بیان کیا ہے:

’’سماع کا سننا بعض روایتوں سے ثابت ہے۔ حضرت راجی سید احمد حلیم اللہ مانک پوری کا عرس تھا، بہت سے بزرگان دین مل کر گاگر بھرنے چلے، قوال ساتھ تھے،واپسی میں جب یہ شعر گایا:

شنیدہ ام کہ سگاںرا قلادہ می بندی

چرا بہ گردن حافظ نمی نہی رستے

آپ پر ایسی حالت طاری ہوگئی کہ دستار مبارک اتار کر قوال کو عطا فرمایا۔ پھر دوسروں نے بھی تبعاً اپنی اپنی دستار دے ڈالی۔ آپ کی حالت نے ایسی تاثیر پیدا کی کہ دیکھنے والوں کی بھی حالت متغیر ہوگئی۔ اسی طرح حضرت مخدوم طیب بنارسی کے عرس میں آپ کو حال آیا۔ پہلے آپ نے بہت کچھ ضبط کیا مگر ضبط نہ ہوسکا تو فرمایا کہ حضرت مخدوم کی روح (روحانیت)نے غلبہ کیا۔ بزرگان چشتیہ نے سماع کی تعریف یوں کی ہے کہ سماع ایک تازیانہ ہے جو محب کو محبوب کی طرف ہنکاتا ہے اور ایک وسیلہ ہے جو دلوں کو معشوق کے قریب پہنچاتا ہے۔ رموز رحمانی میں سے ایک رمز ہے جو بیان سے کھل نہیں سکتا اور زبان سے ادا نہیں ہوسکتا۔ شوریدگان محبت اس سے محظوظ ہوتے ہیں اور ہشیار وخود پرست اس سے بے بہرہ رہتے ہیں- سچ ہے ؎

حدیث عشق باخبار در نمی گنجد

بیان شوق بہ گفتار در نمی گنجد‘‘

معلوم ہوا کہ یہاں کے مشائخ نے سماع کے جو شرائط ہیں، ان کو ملحوظ رکھتے ہوئے،سماع کا لطف اٹھایا ہے۔ جب جب شرائط پائے گئے تو سماع کیا اور جب شرائط کا فقدان رہا تو پرہیز کیا۔ یہی صوفیہ کا طریقہ چلا آرہا ہے۔ آج بھی اگر شرائط یعنی زمان، مکان اور اخوان پائے جائیںتو اس کا لطف لیا جاسکتا ہے، ورنہ پرہیز بہتر ہے۔

اپنی رائے نیچے کمینٹ میں ضرور دیں

ڈاکٹر محمد مجیب الرحمٰن کے مزید مضامین سبسے پہلے پڑھنے کے لئے خریدیں معارف رسالہ

Share To All - شیر کریں سبسے
Read More

Leave a Reply