مصنف: مفتی شکیل احمد منصور قاسمی
ناشر: مرکز البحوث الاسلامیہ
صفحات: 680
تبصرہ نگار : مفتی ناصرالدین صاحب مظاہری
استاذ جامعہ مظاہرعلوم وقف سہارنپور
صفحات سو دو سو نہیں، پورے چھ سو اسی! موضوع کوئی عام فہم نہیں، خالص علمی! سائز اچھا خاصا بڑا، کاغذ تو واہ واہ اور جلد ایسی پرکشش کہ نظر ہٹنے نہ پائے۔
فہرست کتاب دیکھی تو پورے پچاس صفحات پر پھیلی ہوئی! ہر عنوان سے مصنف کی فقہی بصیرت، وسعت مطالعہ، اصول فقہ پر گہری نظر اور مذاہب اربعہ، بالخصوص فقہ حنفی پر عبور و مہارت کی ایسی گواہی ملتی ہے کہ کاش آج فقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفر حسین صاحب حیات ہوتے تو اپنے اس بچے کی اس کتاب کو داد و تحسین سے نوازتے۔
فقیہ العصر حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ہوتے تو شاید کہتے:
“شکیل! تم تو میرے ہم شکل ہو”۔
فقیہ و محدث حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری ہوتے تو کہتے:
“شکیل تو شکیل بھی ہے اور سعید بھی”۔
ایسی ایسی علمی بحثیں، نادر و نایاب موضوعات، قیمتی و کمیاب فقہی اصطلاحات، ایسی کمال بلاغت و جامعیت کے ساتھ اس کتاب میں ودیعت کی گئی ہیں کہ قاری، جس کو فقہ و فتاویٰ سے مناسبت ہو، شریعت اور احکام شریعت سے علاقہ ہو، اصول و فروع سے مصاحبت رہی ہو اور کتاب و صاحب کتاب سے واقفیت ہو، وہ بے اختیار کہے گا:ع
آفتاب آمد دلیل آفتاب
مصنف نے پہلے ’’اجماع امت‘‘ پر اپنی قلمی توانائیاں صرف کیں اور کیا خوب صرف کیں، پھر اب کچھ ہی عرصے میں یہ کتاب وجود باجود میں لاکر علمی حلقوں میں ایک خوش گوار سنسنی پھیلا دی۔
میں تو یہی سوچتا ہوں کہ مصنف کو دور، بہت دور، سات سمندر پار اتنے زبردست مصادر کیونکر ہاتھ لگے! وہاں نہ تو دارالعلوم مظاہرعلوم کی طرح لاکھوں کتابیں ہیں، نہ وہ علمی ماحول ہے، نہ علم و کتاب کی پذیرائی کرنے والے اپنے ہیں۔ جو ہیں بھی، وہ مادیت کے پیچھے بھاگے چلے جارہے ہیں۔ تو پھر اتنی شاندار، جاندار اور بے مثال کتاب کیسے لکھ دی؟
لیکن جن لوگوں نے مصنف کی کتاب ’’اجماع امت‘‘ پڑھی ہے، وہ گواہی دیں گے کہ مصنف کے پاس بے شک بے شمار کتابیں ہیں، ان کے پاس جدید ترین وسائل ہیں، وہ نئی دنیا میں رہتے ہیں، جہاں مسائل کو وسائل سے حل کرنا چٹکیوں کا کام ہے۔
میں ان کی اس کتاب پر اکیلا حیرت زدہ نہیں ہوں۔ آپ کتاب کی فہرست کھولیے تو مشہور عالم و مقرر حضرت مفتی محمد عفان منصورپوری مصنف کی شان میں قصیدہ خواں نظر آتے ہیں۔ مولانا محمد صابر نظامی کی علمی شہادت اور مولانا مفتی شمشیر حیدر کی قلمی گواہی کیا کم تھی کہ مفتی محمد صالح مظاہری بھی ستائش کنندگان کی طویل صف میں آکھڑے ہوئے۔
ابھی حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری کی فقہی نظر ارباب نظر کی نذر ہوئی، اور بحر العلوم حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی مدظلہ کی حوصلہ افزائی بھی پڑھنے کو ملی۔
اور حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، جو بیک وقت مدیر و مدبر ہیں، فقیہ و محدث ہیں، عالم و مربی ہیں، جہاندیدہ اور سرد و گرم چشیدہ ہیں، مفتی شکیل احمد منصور قاسمی کی اس کتاب میں رطب اللسان ہوگئے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ’’اجتہاد و قیاس‘‘ جیسے خشک موضوع کو مفتی شکیل احمد منصور نے اپنے اسلوب نگارش، فکری تراوش اور قلمی آرائش و زیبائش سے خشک نہیں رہنے دیا۔
اتنی کم عمری میں اتنی معیاری کتابیں ارباب بصیرت، قسمت کے دھنی اور قلم کے غنی افراد ہی لکھ سکتے ہیں۔
سچ کہوں تو اس کتاب نے دارالعلوم دیوبند اور مظاہرعلوم سہارنپور کا فرض کفایہ ادا کیا ہے۔
ان شاء اللہ تفصیلی تبصرے کے ساتھ عنقریب حاضر خدمت ہوں گا۔
ناصرالدین مظاہری
مظاہرعلوم وقف سہارنپور





