Web Analytics Made Easy - StatCounter
Sham e Sahaba

شام صحابہ

آج تک ہمارے ہاں ایک مخصوص مکتبۂ فکر کے تناظر میں صرف “شامِ غریباں” کی اصطلاح ہی متعارف رہی ہے۔ اس اصطلاح کے نام سے موسوم ، اس دعویٰ کے ساتھ کہ “ایک شام اہلبیت کے غریبوں کے نام” جو مجالس منعقد کی جاتی ہیں، ان میں اُن “غریبوں” کا ذکر کیا جاتا ہے جن پر محرم کے مزعومہ دنوں میں “مظالم کے پہاڑ” توڑے گئے تھے۔

پھر ان مجالس میں اہل عرب کے شجاعوں کو اہل ہند کے غریب مظلوموں کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے جہاں عرب کی خود دار عورتوں کو اہل ہند کی دکھیاری گھونگھٹ ڈالی عورتوں کی تمثیل میں پیش کرکے ان کے ناک کان نوچوائے جاتے ہیں۔ یہ اصطلاح ہمارے ہاں اس قدر معروف رہی ہے کہ جانے پچھلی کتنی دہائیوں سے پاکستان کے ایک سرکاری چینل سے اس نام سے پروگرام ہر دس محرم کی رات کو دکھایا جاتا رہا ہے ، قطع نظر اس حقیقت کے کہ اس پروگرام میں بیان کردہ روایات میں جماعتِ صحابہؓ پر کس مخفی انداز سے تبّرا پڑھا جاتا ہے۔

اسی اصطلاح کے مفہومِ مخالف سے متاثر ہوکر مولانا علی احمد عباسی مرحوم نے ایک کتاب “شامِ صحابہؓ” لکھی اور کتابِ ہذا میں بالکل اسی پیرائے میں واقعات کو قلمبند کیا، جس تناظر میں اہل تشیع کے ہاں ان کا بیان ملتا ہے۔ تاہم مولانا علی احمد عباسی مرحوم کی منعقد کرنا “شامِ صحابہؓ” اور اہل تشیع کی بپا کردہ “شامِ غریباں” میں منطق کا فرق ہے۔ اہل تشیع کی شامِ غریباں جس قدر غیر منطقی استدلالات سے پُر ہوتی ہے، عباسی مرحوم نے اسی قدر اپنی “شامِ صحابہؓ” میں منقولات کی روشنی میں معقولیات و منطقیات سے بحث کی ہے اور اہل تشیع کی شامِ غریباں کی روشنی میں جو جو اعتراضات جماعتِ صحابہ پر وارد ہوتے ہیں، ان کا معقول و مدلل رد پیش کیا ہے۔

اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کتاب کم از کم اردو زبان کی حد تک اپنے طرزِ اسلوب میں نہایت منفرد اور اپنی طرز کی پہلی علمی و ادبی کاوش ہے۔

Home Cart Wishlist Login