نامِ کتاب: نبوی معاشرے کی تعمیر و تشکیل؛ چند رہنما اصول
افادات: حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم، مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند
صفحات : ۴۳۰
تعارف نگار: اشتیاق احمد قاسمی، مدرس دارالعلوم دیوبند
معاشرہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی اجتماعی زندگی گزارنے کے ہیں۔ باہمی طور پر زندگی بسر کرنے والے ایسے افراد، جو اصولی طور پر مشترک مفادات پر متفق ہوں، اور جن کا رہن سہن، زبان، عقیدہ، ثقافت اور جغرافیائی حدود ایک ہوں، اسے معاشرہ کہا جاتا ہے۔ اسلامی معاشرے کی بنیاد ایک خدا پر ایمان، پیغمبروں پر ایمان، کتابِ الٰہی پر ایمان اور آخرت پر ایمان جیسے عقائد میں اتحاد سے قائم ہوتی ہے۔
اسلامی معاشرے کی اصلاح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے ہوتی ہے، اور یہ دین کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔مصلحینِ امت مسلمانوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف، گناہ سے نیکی کی طرف، جہالت سے علم کی طرف، بداخلاقی سے حسنِ اخلاق کی طرف، من چاہی زندگی سے رب چاہی زندگی کی طرف، حرص و ہوس سے بچا کر سخاوت کی طرف، فتنوں سے بچا کر امن و امان کی طرف، اور بے خوفی سے خوفِ خدا کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مخلوقِ خدا کے حقوق بھی ادا کرے۔
سب سے اہم حق والدین کا ہے، پھر رشتہ داروں کا۔ معاشرے میں امانت داری، عبادت گزاری، معاملات اور اخلاق کی درستگی کی دعوت دی جاتی ہے۔ ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے سلام کا طریقہ سکھایا جاتا ہے، مسافر کے حقوق بتائے جاتے ہیں، مریض کی عیادت کی ترغیب دی جاتی ہے، اور معاملات میں باہمی مشورے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اسی طرح، دین کی تعلیمات کے مطابق باہمی میل جول، حسنِ معاشرت اور علمِ دین کی طرف رجوع کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہ بھی رہنمائی کی جاتی ہے کہ پرآشوب حالات میں مسلمان کا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے، اور موجودہ دور میں مسلمانوں کی ذلت و پستی کے اسباب کیا ہیں۔
غرض یہ کہ مصلحینِ امت ہمیشہ امت کو روحانیت کی طرف بلانے میں اپنے اوقات صرف کرتے ہیں۔ حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم کی اصلاحی مجالس نہایت مؤثر ہوتی ہیں۔ آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں بندگانِ خدا کی اصلاح کی کوششوں میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں؛ خصوصاً ماہِ رمضان المبارک میں اس مشغلے میں مزید انہماک ہوتا ہے۔ حضرت کے دروس، تقاریر، مواعظ اور نصائح کو آپ کے خدام نے جمع کیا ہے۔
زیرِ نظر کتاب حضرت کے افادات کا مجموعہ ہے، جس میں ۲۲؍دروس، افادات اور مجالس کو یکجا کیا گیا ہے۔ ان افادات کو تین مرکزی عناوین کے تحت مرتب کیا گیا ہے:
پہلا عنوان:تشکیلِ شخصیت ہے، جس میں فرد کی اصلاح کو معاشرے کی اصلاح کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، اور اس ضمن میں آٹھ بیانات شامل ہیں۔
دوسرا مرکزی عنوان:تعمیرِ اجتماعیت ہے، جس میں مسلمانوں کو عہدِ نبوی ﷺ کی معاشرت یاد دلائی گئی ہے، اور متعدد مقامات پر عصری تطبیقات پیش کرتے ہوئے یہ ترغیب دی گئی ہے کہ ہم کن اسباب کو اختیار کریں کہ ہمارا معاشرہ عہدِ رسالت ﷺ کے معاشرے سے مشابہ ہو جائے۔
تیسرا اور آخری عنوان: کلید ِ انقلاب ہے، جس کے تحت حضرت کے چار بیانات شاملِ اشاعت ہیں۔ ان میں دنیا بھر میں مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال پر گفتگو کی گئی ہے۔ بعض بیانات قومی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کیے گئے، جنہیں عام قارئین کے استفادے کے لیے شامل کیا گیا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حضرت کے بیانات پہلے مختصر رسائل کی صورت میں، اور قدرے غیر مرتب انداز میں شائع ہوتے تھے؛ لیکن اب انہیں نہایت عمدہ ترتیب، تحقیق اور طباعت کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔
اب تک تقریباً آٹھ مجموعے شائع ہو کر قارئین سے داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو شرفِ قبولیت سے نوازے، اور صاحبِ افادات اور مرتبین کو جزائے خیر عطا فرمائے۔





