مرام الکلام فی عقائد الاسلام کی تحقیقی اشاعت کا تعارف
از قلم : ابو محمد عبد الواحد کبیری مدنی
الحمد للہ علی احسانہ!عمدة المتکلمین علامہ عبدالعزیز پرہاروی چشتی علیہ الرحمہ کے قلم کا ایک اور شاہکار جو ”مرام الکلام فی عقائد الاسلام“ کے نام سے مشہور ہے، عربی متن بمع ترجمہ و تخریج معزز قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
یہ کتاب بنیادی طور پر علمِ کلام کی مباحث پر مشتمل ہے مگر علامہ نے فلسفہ کی ان بعض ابحاث کو بھی اس کتاب میں ذکر کیا جو علمِ کلام میں معاون ہیں۔اس کتاب میں علامہ نے وہ نادر ابحاث بھی ثبت فرمائی ہیں جو عموما علم کلام کی درسی کتب میں نہیں پڑھائی جاتیں یا ان پر تفصیل نہیں ملتی ؛ مثلاً اس کتاب میں مصنف نے ایمانِ ابوین ،ایمان ابی طالب،خلافت راشدہ اور صحابہ کے فضائل ،جہنم کے عذاب پر انوکھی تحقیق اورایمانِ فرعون،رویتِ باری تعالی کی بحث پر سیر حاصل کلام اور ساتھ ہی روح پر کلام،عالم مثال کا ثبوت اور بہت سے مسائلِ کلامیہ کو زیر بحث لائے ہیں۔جن کو جاننا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا اور علم کلام کا طالب ان ابحاث سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔آپ کتاب کی فہرست پر ایک نظر ڈال کر دیکھیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کتنی نادر اور اہم ابحاث پر مشتمل ہے۔
اس کتاب کو پڑھنے والا یقینا اپنے علم میں اضافہ محسوس کرے گا اور اس کی علم ِکلام میں دلچسپی مزید بڑھے گی۔
یہ کتاب چار مقدمات اور پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔
اس کا پہلا مقدمہ علم ِکلام کی تعریف ،فضیلت اور اسلافِ کی مذمت کی تاویل، دوسرا بدعتی فرقوں ، تیسرا اہل سنت اور چوتھا صوفیاءکے بارے میں ہے۔پہلا باب امورِ عامہ ،دوسرا باب جواہر و اعراض ، تیسرا باب الہیات کی مباحث ، چوتھا باب نبوت ، امامت اور صحابہ کرام کے بیان پر مشتمل ہے جبکہ پانچواں باب ایمان و کفر اور امور آخرت سے متعلق ہے۔البتہ یہ کتاب مکمل نہیں ہے کیونکہ آخر میں علامہ نے کوئی اختتامی گفتگو نہیں کی جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل کتاب موجودہ سے کہیں بڑی اور ضخیم تھی۔
ترتیبِ فصول کی تبدیلی:
اس کتاب کے ابواب کی فصول فنی ترتیب کے مطابق نہ تھی، جس کو راقم نے درست کیا ہے۔مرام الکلام کے اب تک کے تمام مطبوعہ اور مخطوط نسخوں میں دوسرے باب کی تیسری فصل ؛تیسری باب میں موجود تھی جس کو دوسرے باب میں شامل کر دیا گیا۔ اسی طرح تیسرا باب جو الہیات سے متعلق تھا، اس میں جوہر فرد ،ہیولیٰ اور اجرامِ فلکیہ کی ابحاث شامل تھیں جو بدیہی طور پر الہیات کی ابحاث نہیں تھیں ؛ لہذا ان کو دوسرے باب میں شامل کر دیا گیا۔چوتھے باب کی دو فصلیں تھیں؛ اول نبوت اور ثانی امامت و صحابہ کرام کے فضائل پر مشتمل ہیں مگر فصل ثانی میں اعجازِ قرآن ،اعجاز پر ملحدین کے اعتراضات اور بقیہ معجزات کا بیان شامل تھا جو یقینا فصل اول یعنی نبوت و معجزہ کی ابحاث کے مناسب تھیں اسی لیے ان کو فصل اول میں شامل کر دیا گیا تاکہ کتاب حتی الامکان فنی ترتیب کے مطابق ہو جائے۔یوں ہی پانچواں باب جو ایمان و کفر اور احکام اخرویہ پر مشتمل تھا؛ اس میں مصنف نے فصول نہیں بنائیں لہذا آسانی کے لیے راقم نے انہیں تین فصلوں میں تقسیم کیا ہے۔پہلی فصل ایمان و کفر کی مباحث ،دوسری فصل احکامِ اخرویہ اور تیسری فصل عقائد کے ملحقات یعنی وہ مسائل جو فروعی تھے مگر بدعتی فرقوں کے اختلاف کے باعث کلامی مباحث بن گئے۔ یوں علامہ کی یہ ناقص کتاب ایصالِ ثواب کی بحث پر ختم ہو جاتی ہے۔
مرام الکلام کے مختلف نسخے:
اس کتاب کے راقم کو دو مخطوط نسخوں کی فوٹو کاپی اور دو مطبوع نسخے ملے ۔ایک مخطوط اجمیری کتب خانہ کا اور دوسرا مکتبہ سلفیہ قدیر آباد سے بہت پہلے شائع ہوا تھا۔تیسرا مطبوع نسخہ مکتبہ امدادیہ ملتان سے چھپا جبکہ چوتھا نسخہ مکتبہ زم زم کراچی سے برائے نام تخریج اور تحقیق کے ساتھ شائع ہوا۔جب راقم کا کام تقریبا مکمل ہونے کو تھا تو معلوم چلا کہ وسیم ماتریدی صاحب نے اس کا ترجمہ اور تحقیق کی ہے جو حال ہی میں چھپا ہے میں نے اس کو منگوایا اور دیکھا تو ” کھودا پہاڑ نکلا چوہا “ کا مصداق پایا۔مؤخر الذکردو نسخوں پر کچھ تفصیل آئندہ صفحات میں ذکر کی جائے گی۔
مرام الکلام پر کام کی تفصیل:
سب سے پہلے مختلف نسخوں سے تقابل کے بعد صحت کے قریب تر عربی متن کی کمپوزنگ کی گئی پھر اس کی تخریج اور ضروری حواشی کا کام کیا گیا۔اس کے بعد اس کا سلیس اردو ترجمہ کرنے کی سعادت ملی تاکہ استفادہ بہتر انداز میں ہو سکے۔ ابتدا میں مصنف کا تفصیلی تعارف شامل کیا گیا جو بہت سے فوائد پر مشتمل ہے اور آخر میں ماخذ ومراجع کی فہرست کو شامل کیا گیا ہے ۔ مصنف نے بعض ابحاث میں تشنگی باقی رکھی ،اس لیے راقم نے کتاب کے آخر میں ایک ضمیمہ کا اضافہ کیا جس میں ان ابحاث کی کچھ تفصیل ذکر کی گئی ہے۔ یوں یہ کتاب طباعت کے مراحل سے گزر کر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔اس کتاب کی تیاری میں عموما تمام احباب کا اور خصوصا مولانا نبیل احمد شاکر لودھروی،مولانا احمد رضا؛ احمد پور سیال،مولانا فراز سلیم چانڈیہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مفید مشوروں ،کمپوزنگ ،سیٹنگ وغیرہ میں راقم کے ساتھ تعاون کیا۔نیز علامہ پرہاروی کے محبین ان تمام بزرگوں اور احباب کا شکریہ جنہوں نے کلماتِ تحسین سے راقم کی حوصلہ افزائی کی اور ہمت دلائی جس سے یہ اہم کام منظر عام پرآسکا۔اللہ عزوجل اسے قبولِ عام دے اور علامہ پرہاروی کی تربت پر رحمتوں کی برکھا برسائے۔آمین



