قاری محمد مصروف رحیمی رائے پور خانقاہ والے مدرسہ کے ایک نہایت مخلص اور باکمال استاذ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں محبت اور اخلاص کی دولت سے مالامال فرمایا ہے۔ ابتدا میں ان کی محبت غائبانہ تعلق کی شکل میں تھی، لیکن جب ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی تو محبت میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔ چند دن قبل ملاقات پر انہوں نے مجھے ایک انمول تحفہ پیش کیا: علمائے سلف کا شوقِ علم۔
یہ کتاب مولانا محمد نعمان کراچی کی ترتیب دادہ ہے اور تقریباً چھ سو پچاس صفحات پر مشتمل ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب نہایت جامع اور وقیع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شوقِ علم پر اگر کوئی انسائیکلوپیڈیا ترتیب دیا جائے تو وہ یہی کتاب ہوگی۔
ہمارے بہت سے طلبہ اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ مطالعہ ذہن میں محفوظ نہیں رہتا۔ ایسے طلبہ کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ اس میں وہ نادر و نایاب واقعات درج ہیں جنہیں پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ علم کے طلبگار اکابر نے مطالعے کے کتنے حیرت انگیز کارنامے انجام دیے۔ غور کیجیے، وہ حضرات نہ صرف اہل اللہ تھے بلکہ شب و روز ذکر و شغل میں مصروف رہتے، اکثر اوقات تنگ دستی اور وسائل کی کمی میں مبتلا رہتے، اس کے باوجود کتابت شدہ اور مطبوعہ کتب کی کمی کے ماحول میں انہوں نے جس ذوق و شوق سے مطالعہ کیا، وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
مثال کے طور پر:
امام ابن العجمی شافعیؒ نے المہذب کا پچیس مرتبہ مطالعہ کیا اور درس بھی دیا۔
امام اسماعیل الفراء دمشقیؒ نے المقنع کا سو مرتبہ مطالعہ کیا۔
امام محمد السنجاویؒ نے الحاوی کا تیس مرتبہ مطالعہ کیا۔
امام عبدالقدیم بن حسینؒ نے العباب کا آٹھ سو مرتبہ درس دیا۔
امام عثمان بن محمدؒ نے صحیح بخاری کا تیس مرتبہ مطالعہ کیا۔
امام صالح بن عبداللہؒ نے زمخشری کی تفسیر الکشاف کا تحقیق و تدقیق اور غور و فکر کے ساتھ آٹھ مرتبہ مطالعہ کیا اور درس بھی دیا۔
امام یحییٰ بن بلالؒ روزانہ ظہر سے رات تک المدونۃ سنتے رہتے۔ ہر مہینے پوری کتاب کا سماع مکمل ہو جاتا اور یہ سلسلہ آخر عمر تک جاری رہا۔
امام ابو عبداللہ الطاردی فاسیؒ نے صحیح بخاری کا چالیس سے زائد مرتبہ مطالعہ کیا۔ رمضان المبارک میں ختمِ قرآن کے ساتھ صحیح بخاری بھی ختم کرتے۔ انہوں نے بخاری پر ذات المجد الساری کے نام سے حاشیہ لکھا، الفیہ ابن مالک کو تیس مرتبہ اور مختصر خلیل کو بھی تیس مرتبہ پڑھا۔
ابو نصر فارابیؒ نے ارسطو کی کتاب النفس کا دو سو مرتبہ اور الطبیعی کا چالیس مرتبہ مطالعہ کیا۔
ابنِ سینا نے ارسطو کی ما بعد الطبیعۃ کا چالیس مرتبہ مطالعہ کیا، یہاں تک کہ وہ ان کے حافظے میں نقش ہو گئی، مگر سمجھ نہ آئے۔
ابنِ سینا خود واقعہ بیان کرتے ہیں کہ:
“ایک دن عصر کے بعد کاغذ فروشوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے ایک کتاب بیچنے کی صدا لگائی۔ میں نے انکار کیا کہ اس علم میں کوئی فائدہ نہیں۔ مگر وہ شخص محض تین درہم میں کتاب دینے پر آمادہ ہو گیا۔ جب میں نے کتاب خریدی اور کھولی تو معلوم ہوا کہ یہ ابو نصر فارابی کی تالیف ہے، جس میں ما بعد الطبیعۃ کے مشکل ترین مباحث کی شرح و وضاحت کی گئی تھی۔ میں نے فوراً مطالعہ شروع کیا تو وہ سب عقدے کھل گئے جو اب تک میری سمجھ میں نہ آ سکے تھے۔ اس خوشی میں اگلے ہی دن میں نے فقراء پر کثیر صدقہ کیا۔”
یہ واقعات صرف داستان نہیں بلکہ ہمارے لیے سبق اور تحریک ہیں۔ کاش ہمارے طلبہ اس شوق و ذوق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، تبھی وہ علم کے حقیقی وارث کہلانے کے مستحق ہوں گے۔
ناصرالدین مظاہری



