کتاب: درخشاں نقوش فیض یافتگان کشمیری
مصنف: حضرت مولانا سید فضیل احمد ناصری صاحب
تبصرہ: محمد رضوان الدین حسینی
شریکِ دورۂ حدیث دارالعلوم وقف دیوبند
زندگی کے اس سفر میں بے شمار لوگوں سے ملاقات ہوئی اور ہو رہی ہے، لاتعداد انسانوں سے سامنا ہوتا ہے اور بہت سے افراد سے شناسائی کی منزلیں طے ہوتی ہیں۔ ان افراد کی روشنی میں بہت سے وہ ہوتے ہیں جو دل و دماغ پر اپنے نقوش قائم کرتے، اپنے علم، کمال اور فضل کی مہر ثبت کرتے اور اپنے تعلق و ارادت سے روح میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ انہی حضرات کی زندگی درسِ محبت اور درسِ مہر و وفا بنتی ہے۔ انہی اہلِ علم و قلم میں حضرت مولانا سید فضیل احمد ناصری صاحب بھی ایک رخشندہ ستارے کی مانند ہیں۔
اپنے خیالات، تاثرات، مشاہدات اور تجربات کو بیان کرنے یا دوسروں تک پہنچانے کے دو قدیم اور معروف طریقے رہے ہیں: ایک زبان ہے جس کے ذریعہ آدمی اپنے دل کی بات ادا کرتا ہے، اور ایک قلم ہے جس کے سہارے اپنے فکر و خیال کو حروف و الفاظ کا جامہ پہنا کر سامنے لایا جاتا ہے۔ اول الذکر ذریعہ آسان بھی ہے اور سہل بھی۔ ادائیگی کا اسلوب جتنا خوب صورت اور لہجہ دل کش ہوگا، اسی قدر مخاطب متاثر ہوگا، مگر اس ذریعہ کے اثرات خاص حالات کو چھوڑ کر عموماً وقتی اور عارضی ہوتے ہیں۔ پھر اس کا کوئی ریکارڈ بھی سامنے نہیں ہوتا کہ اپنی بات اسی انداز اور دل نشیں پیرائے میں دوبارہ بھی ادا کی جا سکے۔ جتنی بار کوشش کی جائے گی اتنی ہی اسلوب و ادائیگی میں تبدیلیاں ہوتی چلی جائیں گی۔ اس کے علی الرغم قلم سے ایک بار جو لکھ دیا اور تراش خراش کے بعد اسے آخری صورت دے دی، تو جب تک کاغذ کی رگوں میں زندگی کی سیاہی دوڑتی رہے گی اور حروف روشن اور اجلے رہیں گے، اس وقت تک یہ پیغام اور فکر زندہ رہے گی، یا جب تک کاغذ کا پیراہن چاک نہیں ہوگا، اس وقت تک یہ گنجہائے گراں مایہ محفوظ رہے گا اور ذی لباؤں کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہے گا۔
قلم! عطیۂ ایزدی ہے اور اس کی تخلیق کے تار انسانی تخلیق سے جڑے ہوئے ہیں، بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا کہ قلم کی تخلیق سب سے پہلے ہوئی۔ خداوندِ عالم نے اس کو بڑی فضیلت عطا کی ہے۔ یہ قلم ہے جو ماضی کی آغوش میں سوئی داستانوں کو زندگی کی حرارت دیتا ہے۔ یہ قلم ہی ہے جو مختلف ادوار، زمانوں، قوموں، مذاہب اور ادیان کے مناظر ہمیں دکھاتا ہے۔ یہ قلم کا ہی کرشمہ ہے جو انسانی تہذیب اور تمدن کی تصویریں کاغذ پر بناتا اور ہمارے علم اور معلومات میں اضافہ کرتا ہے۔ قلم کی توانائی اور حکمرانی کا انکار نہیں کیا جا سکتا؛ اس نے بے شمار معرکے جیتے اور ایسی جنگوں میں فتح یاب ہوا جہاں تلواروں کی سنسناہٹ اور نیزوں کی بوچھاڑ کے خدشات اور خطرات بڑھتے چلے جا رہے تھے۔
قلم جس کے ہاتھ میں ہے، اس ہاتھ کی تخلیق بھی عطائے الٰہی ہے، اور جس کو قلم کے استعمال کا سلیقہ ہے وہ بھی خداوندی نعمتوں سے بہرہ ور ہے۔ اور اللہ نے حضرت مولانا سید فضیل احمد ناصری صاحب کو اس نعمت سے سرفراز فرمایا ہے۔ آپ کے قلم میں اللہ نے وہ توانائی عطا کی ہے کہ اپنے اور بیگانے سب عش عش کرتے ہیں۔
دارالعلوم دیوبند نے کیسے کیسے لوگ پیدا کیے! اس کی آغوش میں تعلیم و تربیت کی دولت پانے والے فکر و نظر کی وسعتوں، خیال و تصور کی نکہتوں، زبان و بیان کی لذتوں کے ساتھ اس دنیا میں قدم رنجہ ہوئے، جہاں ان کی قدر دانی اور پذیرائی کا ایک زمانہ گواہ بنا۔ آپ بھی دارالعلوم کے وہ فاضلِ جلیل ہیں جن پر دارالعلوم کو ناز ہے۔
حضرت مولانا سید فضیل احمد ناصری صاحب کی تصنیف درخشاں نقوش، فیض یافتگانِ کشمیری ایک ایسا علمی خزانہ ہے جس میں انہوں نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ علامہ کشمیری کے فیض یافتگان کا معنی خیز تذکرہ کیا ہے۔ اس کتاب میں حضرت نے علامہ کشمیری کی علمی و فکری خدمات کو نہ صرف سراہا ہے بلکہ ان کے شاگردوں اور ان کی تعلیمات کے اثرات کا احاطہ بھی کیا ہے۔ حضرت کی اس تصنیف میں اس قدر گہرائی اور فنی مہارت ہے کہ ہر لفظ میں ایک نئی روشنی نظر آتی ہے، اور ہر جملہ پڑھتے وقت علم کا ایک نیا دروازہ کھلتا ہے۔
مولانا ناصری صاحب نے اس کتاب میں علامہ کشمیری کے شاگردوں کے علمی، فکری اور روحانی اثرات کو اس طرح پیش کیا ہے کہ نہ صرف موجودہ وقت کے علما اور محققین بلکہ آئندہ نسلیں بھی ان سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔ حضرت نے ایک ایک شاگرد کے علمی کارناموں کو بیان کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ کیسے علامہ کشمیری کی تعلیمات نے ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔
کتاب کی ہر سطر کشمیری کے فیض کی گواہی ہے جو علم کی روشنی سے ہر دل کو منور کرتی ہے۔ بقولِ شاعر:
*ز فرق تا بہ قدم ہر کجا کہ می نگرم*
*کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا ایں جاست*
حضرت مولانا کا اس تصنیف میں جو تجزیہ اور تذکرہ ہے، وہ نہ صرف علامہ کشمیری کی شخصیت کا عمیق مطالعہ پیش کرتا ہے بلکہ ان کے شاگردوں کی علمی خدمات کو بھی اُجاگر کرتا ہے۔ یہ کتاب اس بات کا بھی پتا دیتی ہے کہ علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، اور ہر ایک طالبِ علم اپنے استاد سے وہ جواہر لیتا ہے جو بعد میں دنیا بھر میں پھیل کر روشنی کا سبب بنتے ہیں۔
اس سے قبل فقیر نے آپ کا ایک مقدمہ، جو ورق ورق درخشاں نامی کتاب پر آپ نے لکھا تھا، پڑھا۔ پڑھتے ہی اندازہ ہو گیا کہ اللہ نے آپ کو کلکِ معارف ریز عطا کیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے مقدمے میں لکھے گئے شروعاتی چند سطور کو حوالۂ قلم کروں:
قلم پروری اور لوح نوازی کی کرامت دیکھیے، اس نے نہ جانے کن کن ادیبوں سے ملاقات کروائی۔ بڑے بڑے انشا پردازوں اور سخن ورانِ روزگار تک رسائی اسی جنونِ پرخلوص کے صدقے ہو پائی۔ یہی ذوقِ لطیف اور شوقِ بے پرواہ تھا جس نے یوسف سلیم چشمی کا تعارف کرایا۔ ابنِ صفی سے ہم کناری ہوئی، نسیم حجازی اور عنایت اللہ التمش سے روبرو ہونے کا موقع ملا۔ ادیب علما کی بات کیجیے تو علامہ شبلی نعمانی، علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا علی میاں ندوی، مولانا ابو الاعلیٰ مودودی، مولانا سید مناظر احسن گیلانی، مولانا سید انظر شاہ کشمیری، مولانا عبد الماجد دریا آبادی جیسے مسیحائے اردو سے رسم و راہ اسی زبان کی مرہونِ منت ہے۔ ان سارے سرآمدِ روزگار ادیبوں اور ہم دوشِ ثریا قلم کاروں کی تخلیقات چاٹ ڈالیں۔
(تفصیل کے لیے: ورق ورق درخشاں، صفحہ 16)
دیکھیے یہ پرشکوہ اسلوب کس دل نشیں پیرائے میں اپنی بات کو صفحۂ کتاب پر بکھیرتے ہیں۔ آپ کے مضامین میں وہ جاذبیت و دل کشی ہے جس میں ادب کے دل دادہ پرندے عمداً پھنس جانا چاہتے ہیں۔ زبان میں سلاست، تعبیر میں سلیقہ، الفاظ کا حسنِ انتخاب اس معیار کا کہ ہمہ شما پڑھے تو حل نہ ہو پائے۔
دیکھیے حضرت شاہ صاحب کے بابت جو نجوم و کواکب کی ضیا افگنی کی ہے، اسے آپ بھی دیکھیے اور نگاہوں کو روشن کیجیے:
امام العصر علامہ کشمیری یہ نام نہیں، ایک مدرسہ ہے، ایک اکیڈمی ہے، ایک اتھارٹی ہے، ایک دائرۃ المعارف ہے۔ ایسا سرچشمہ جہاں سے جس کسی نے بھی جرعہ نوشی کی، وہ اپنے وقت کا بحرِ ذخار کہلایا؛ کثیر الجہات، ہشت پہلو اور بوقلمونی شخصیت، ایسی فقید المثال کہ اخیر کی چھ صدیوں میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ عرب و عجم نے انہیں امامِ وقت کہا، بلند و بالا الفاظ میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیے اور وقیع و جلیل پیرائے میں ان کے قصیدے لکھے۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ تخصص اور اختصاص کی ہر زمانے میں ایک اہمیت رہی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ انسان اگر متنوع استعداد کا حامل ہو بھی جائے تو ہر ایک شعبے میں وہ کامل و مکمل نہیں ہوتا؛ ایک فن میں ہی پختہ و صاحبِ درک ہوتا ہے اور اسی میں اپنی مہارت و ہنر کی نمائش کرتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ ہر فن میں اولیٰ ہو اور ہر شعبۂ کمال میں اسے یدِ طولیٰ حاصل ہو، لیکن امام کشمیری کی شان سب سے الگ، سب سے جدا تھی۔ علومِ عقلیہ ہوں یا نقلیہ، دونوں پر انہیں اس طرح عبور تھا گویا انہوں نے سب پر تخصص کر رکھا ہو۔ ایسی خداداد ذہانت اور معرفت کہ جب چاہتے، جہاں چاہتے، جس موضوع پر چاہتے بے تکلف بات کر لیتے تھے، اور صرف نقل ہی نہیں بلکہ اپنی مبصرانہ رائے کا خوب صورت اظہار بھی کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کا دماغ کوئی وسیع ترین اور عظیم ترین لائبریری ہے جس میں ہر نوع اور ہر فن کی ہزاروں، لاکھوں کتابیں رکھی ہیں، اور شاہ صاحب جب چاہتے ہیں جہاں سے چاہتے ہیں اسے اٹھا کر اسی وقت کھول کر پڑھ دیتے ہیں۔ امام صاحب کی جامعیت پر بہت سے شاگردوں نے اور شاگردوں کے شاگردوں نے لکھا، لکھ رہے ہیں، لکھتے رہیں گے۔ علومِ کشمیری سے استفادے کا سلسلہ صدیوں تک چلتا رہے گا۔
امام کشمیری کے ان کمالات میں ایک کمال وہ بھی ہے جسے رجال سازی کہا جاتا ہے۔ شیخ الہند کے بعد اس بابت کسی کا قد سب سے اونچا ہے تو وہ یہی امام العصر ہیں۔ یوں بھی وہ شیخ الہند کے جانشین و وارث ٹھہرے تھے، سو انہوں نے اس بارے میں حقِ جانشینی ادا کیا۔ ان کے تلامذہ و مستفیدین پر نظر ڈالیے تو آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ بیشتر تو فضل و کمال کی ایسی بلندی پر ہیں کہ دیکھنے والوں کی ٹوپیاں بھی سلامت نہیں رہتیں، ہمالیہ بھی اس کے سامنے بالشتیہ نظر آئے۔ دارالعلوم ان کی وجہ سے شہرت کے ثریا پر پہنچا۔ علم کے پیاسے اقطاعِ عالم سے افتاں و خیزاں یہ کہتے ہوئے ان تک پہنچے:
*آناں کہ خاک را بہ نظر کیمیا کنند*
*آیا بود کہ گوشۂ چشمی بہ مانند*
(علامہ کشمیری کے درخشاں نقوش: صفحہ 23-24)
دیکھیے کس البیلے انداز میں اپنے تاثرات کو صفحۂ قرطاس پر بکھیر دیا۔ میں آپ کے ہی الفاظ کو بطورِ استعارہ لے کر کہتا ہوں کہ آپ سیاہیوں پر صرف نقوش بنانے کے قائل نہیں بلکہ قاری کو الفاظ کے خوب صورت جام میں آتشِ سیال دینے کے خوگر ہیں۔
ہر شخصیت کا بطورِ تمہید دل کش تذکرہ، ذیلی عناوین، مآخذ و مراجع کی وضاحت، متنوع تعبیرات و تشبیہات، سب سے اہم بات یہ کہ آپ نے اس کتاب میں ہمیشہ کی طرح شستہ اور سلیس زبان میں احوالِ اکابر کو آشکار کیا اور ساتھ میں مناسبت سے اشعار بھی نقل کر دیے ہیں۔
یہ کتاب در حقیقت ایک ایسی منفرد اور قیمتی کاوش ہے جو ادب کی دنیا میں ایک انفرادیت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ان شخصیات کی داستانوں کا احاطہ کرتی ہے جنہوں نے ہمارے معاشرتی، ثقافتی اور فکری ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ علامہ کشمیری کے فیض یافتگان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ہر ایک پر بے شمار اہلِ قلم نے لکھا ہے اور عمدہ لکھا ہے، مگر اس کتاب میں ان تمام شخصیات کے احوال اکٹھا کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے وہ نہ صرف نادر بلکہ نایاب ہے۔
جب آپ اس کتاب کو پڑھنا شروع کریں گے تو آپ فوراً محسوس کریں گے کہ یہ محض ایک سادہ کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا دستاویز ہے جو ان شخصیات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے جو علامہ کے افکار سے متاثر ہو کر اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائے اور اپنے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لائیں۔ اس میں صرف افکار کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ ان شخصیات کی عملی جدوجہد اور کامیابیوں کو بھی بیان کیا گیا ہے جو قاری کو نہ صرف متاثر کرتی ہیں بلکہ ایک نئی سوچ کی طرف بھی راغب کرتی ہیں۔ اس کے دیگر فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ شخصیات نگار اور مؤرخین کے لیے یہ کتاب ممد ثابت ہوگی، کیوں کہ فیض یافتگانِ کشمیری کی زندگی کے وہ نقوش جو مختلف کتابوں میں ملیں گے، وہ اس ایک کتاب کے مطالعے سے حاصل ہو جائیں گے۔
آخر میں بس یہی کہوں گا کہ حضرت استاذِ مکرم کے شگفتہ قلم نے اس موضوع کو نئی زندگی اور تازگی سے آشنا کیا ہے۔ آپ کی تحریر کی بنیاد شگفتگی اور شائستگی کے ساتھ خوب صورت اسلوب اور دل کش زبان پر ہے۔ انہوں نے خشک لب و لہجہ اور سوتے ہوئے الفاظ و عبارتوں سے اپنی کتابوں کو محفوظ رکھا ہے۔ نوکِ قلم پر جملے اس طرح آتے ہیں اور عبارتیں یوں نمایاں ہوتی ہیں کہ جیسے آسمان پر بادل گھر کر آتے ہوں اور ٹوٹ کر برس رہے ہوں۔ ان کی کتابوں سے تحقیق اور معلومات کی خوشبو ہی نہیں آتی بلکہ زبان و بیان کا نور اور روشنی بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ لفظوں کا نزول ہوتا ہے اور عبارتیں دروازے سے داخل ہونے کی اجازت چاہتی ہیں۔




