رد عقائد بدعیہ
صفحات مجلد 440
حضرت علامہ نذیر احمد رحمانی املوی رحمہ اللہ ( ۱۹۰۶ء-۱۹۶۵) کی یادگار تحریر ہے، یہ رضا خانی عقائد کی تردید میں آپ کے مقالات کا مجموعہ ہے جو دار الحدیث دہلی کے ماہنامہ” محدث” میں مئی ۱۹۴۶ء سے ستمبر ۱۹۴۷ء تک سترہ ماہ تک مسلسل شائع ہوتے رہے۔ حضرت العلام نے اس سلسلہ کے لیے جو خاکہ تیار کیا تھا وہ حالات کی ناسازی کے باعث اس انداز میں پائیہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا ۔ اسی لیے فاضل مولف نے جو حصہ “محدث” میں شائع ہو چکا تھا اسے ہی کتابی شکل میں مرتب کر دیا۔ رد عقائد بدعیہ کے دو حصے ہیں:
حصہ اول نسبتًا تفصیلی ہے اور عقیدہ علم غیب پر مشتمل ہے جس کے آغاز میں مولف رحمہ اللہ نے مخالفین کے دعویٰ کے بعد اختصار کے ساتھ اپنے عقیدہ کی وضاحت کی ہے۔ اس کے بعد مخالفین کی اپنی تائید میں پیش کردہ احادیث کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا ہے اور اہل بدعت کے پیش کردہ دلائل کے مسکت جوابات دیے ہیں۔
حصہ دوم مسئلہ نور و بشر، سایہ رسول ﷺ اور عقیدہ حاضر و ناظر پر مشتمل ہے، افسوس! مسئلہ حاضر و ناظر میں مخالفین کی پہلی دلیل کا جواب دیا گیا ہے جس کے بعد حضرت العلام رحمہ اللہ کو مزید لکھنے کا موقع نہ مل سکا اور آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اس کمی کو کسی حد تک پورا کرنے کے لیے آپ ہی کے شاگرد خطیب الہند علامہ عبد الرؤف رحمانی جھنڈانگری رحمہ اللہ کا رسالہ “تردید حاضر و ناظر “اس تحریر کے آخر میں# شامل کر دیا گیا ہے۔ چوں کہ یہ رسالہ بھی کافی عرصہ قبل اشاعت پذیر ہوا تھا اور اب اوراقِ گم گشتہ کا حصہ بنتا جا رہا تھا اس لیے موضوع اور وقت کی مناسبت کو دیکھتے ہوئے دوبارہ افادۂ عام کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
تردید حاضر و ناظر
فرقہ بریلویہ کی طرف سے مولوی عتیق الرحمان اکرہری نے ایک رسالہ “خیر الانبیاء “اپنے عقیدہ حاضر و ناظر کے اثبات میں شائع کیا تھا جس کا جواب انتہائی مختصر عرصہ میں خطیب الہند حضرت مولانا عبدالرؤف رحمانی جھنڈانگری رحمہ اللہ نے” تردید حاضر و ناظر ” کے نام سے لکھ دیا تھا لیکن بعض وجوہات کی بنا پر یہ جواب ذرا تاخیر کے ساتھ پہلی بار ۱۹۴۸ء میں شائع ہوا۔ رسالے کے دو حصے ہیں: پہلے حصے میں بریلوی مولوی کے پیش کردہ دلائل، در اصل مغالطوں کا جواب ہے جس میں چھ (۶) آیات اور گیارہ (۱۱) احادیث پر بحث ہے جب کہ دوسرے حصہ میں مولف رحمہ اللہ نے اس رسالے سے قبل لکھی ہوئی اس موضوع پر اپنی ایک تحریر”جوابات حاضر و ناظر” میں پیش کردہ دلائل پر مولوی عتیق الرحمان کی طرف سے وارد اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ رسالہ کا اصل موضوع عقیدۂ حاضر و ناظر و علم غیب ہے لیکن اس میں عرس، حیات النبی، قیام تعظیم وغیرہ کے مسائل کا بھی ضمنًا جواب ہے، کیوں کہ مولوی عتیق الرحمن نے اصل موضوع سے ہٹ کر ان موضوعات کو بھی اپنے رسالہ میں چھیڑ رکھا ہے۔رضا خانی فرقہ کی طرف سے علم غیب کی خود ساختہ اور لغو تقسیم ” ذاتی و عطائی” پر بھی لطیف گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف نے قرآن و حدیث کے علاوہ منطق سے بھی بھرپور استفادہ کیا ہے جو ان کی اس فن میں کمال مہارت کی دلیل ہے۔
محمد صالح حسن






