بلکہ وہ زندہ ہیں –
محمد رضی الاسلام ندوی
عزیزی عبد العلیم الاعظمی نے اپنی تازہ تصنیف ‘بل احیاء’ پیش کی تو اسے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی – کتاب کا نام بہت معنیٰ خیز ہے – سورہ البقرۃ کی آیت 154 اور سورۂ آل عمران کی آیت 169 میں کہا گیا ہے : ” جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ہوں انھیں مردہ نہ کہو/نہ سمجھو ، بلکہ وہ زندہ ہیں -“ “ مصنّف نے اس کتاب میں معرکۂ فلس=طین میں جامِ شہادت نوش کرنے والی چند اہم شخصیات کا تذکرہ جمع کیا ہے – ظاہر بیں نگاہیں تو انھیں مردہ سمجھتی ہیں ، لیکن مصنف کہنا چاہتے ہیں کہ حقیقت میں وہ زندہ ہیں –
یوں تو مسئلہ فلس=طین ایک ناسور بن گیا ہے ، جو گزشتہ پون صدی سے برابر رِس رہا ہے ، لیکن اکتوبر 2023 میں برپا ہونے والے ‘طوفان الأق=صى’ نے اسے وقت کا اہم ترین عالمی مسئلہ بنا دیا ہے – اس موقع پر صھ=یونی ریاست نے جس سفّاکی ، درندگی ، ظلم و جور اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا مظاہرہ کیا ہے وہ اظہر من الشمس ہے – اس نسل کشی میں 70 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں ، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے – دشمن سمجھتا تھا کہ ایسا کرکے وہ پورے علاقے کو خالی کروالے گا ، پھر اسے اپنی مرضی کے مطابق بستیاں بسانے کا موقع مل جائے گا ، لیکن اس کی مراد پوری نہیں ہوسکی – مسلسل بم باری اور بُھک مری کے باوجود اہل فلس=طین اپنے علاقوں میں ثابت رہے ، ان کے پائے استقلال میں ذرا بھی لرزش پیدا نہیں ہوئی اور وہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ڈٹے رہے –
عزیزی عبد العلیم الاعظمی کو فلس=طین کے موضوع سے دل چسپی ہے – اس سے قبل وہ ‘فلس=طین اسرا=ئیل جنگ :حقائق و شواہد ‘ کے نام سے ایک کتاب لکھ چکے ہیں ، جسے بہت پزیرائی ملی ہے – اب ان کے قلم سے یہ دوسری کتاب منظر عام پر آئی ہے – اس میں 52 شخصیات کا تذکرہ جمع کیا گیا ہے ، جو حالیہ جنگ میں شہید ہوئی ہیں (سوائے ابتدائی تین شخصیات کے : عزّ الدین قسّ=ام، شیخ احمد یا=سین اور عبد العزیز الرن=تیسی کے ، جو پہلے کے شہدا ہیں ) یہ شخصیات زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق ہیں – ان میں ڈاکٹر بھی ہیں ، انجینیئر بھی ، سائنس دان بھی ، آئی ٹی کے ماہرین بھی ، صحافی بھی اور عسکری شخصیات بھی – ان حضرات نے ثابت کردیا کہ وہ سر کٹاسکتے ہیں ، لیکن اسے جھکا نہیں سکتے –
فاضل مصنف مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ان شخصیات کا تذکرۂ جمیل اکٹھا کردیا ہے – انھوں نے معتبر اور مستند مآخذ کی روشنی میں یہ تذکرے لکھے ہیں – زبان و بیان بہت سلیس اور شستہ ہے – امید ہے ، یہ کتاب بھی ان کی سابق کتابوں کی طرح مقبول ہوگی – اسے مولانا عبد الرحمن قاسمی نے اپنے اشاعتی ادارے ‘نگارشات بک ڈپو’ دیوبند سے شائع کیا ہے –





