احمد سجاد قاسمی
زیر نظر کتاب تذکرہ علمائے مئو ناتھ بھنجن ، مولانا مفتی سعید الحق قاسمی مدظلہ کی تصنیف کردہ ہے ۔ 27 جولائی 2026 کو اپنے مخلص دوست اور درسی ساتھی مولانا فضل احمد قاسمی کی دکان پر حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا میں پچھلے دنوں مئو گیا ہوا تھا تو سعید الحق نے اپنی تصنیف مجھے ہدیۃ پیش کیا ، میں اسے پڑھ چکا اور تمہیں مطالعہ کا ذوق ہے اس لیے اب میں تمہیں ہدیہ کرتاہوں ، کتاب پاکر مجھے بیحد خوشی ہوئی ۔ مولانا فضل احمد قاسمی ، مصنف کتاب مولانا سعید الحق قاسمی اور میں تینوں 1972 میں دارالعلوم دیوبند میں دورہ حدیث کے ساتھی اور ہمدرس رہے ہیں ، بلکہ مولانا فضل احمد صاحب تو دارالعلوم دیوبند جانے سے پہلے مدرسہ بشارت العلوم کھرایاں ضلع دربھنگہ میں بھی ہمدرس رہے ، اس کے علاوہ بھی والد محترم کا تعلق مولانا فضل احمد صاحب کے والد محترم جناب حاجی وصی احمد صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ سے استوار تھا اور اکثر والد محترم رات ہوجانے پر ان کے گھر قیام کرتے تھے ، بل کہ والد محترم کی غیر موجودگی میں ان کا گھرانہ میرے گھر کے لیے گارجین کی حیثیت رکھتا تھا ۔ اب تیسری نسل میں ہمارے بال بچے بھی اس رشتے کو بحسن وخوبی نبھاتے ہیں ۔
مولانا سعید الحق قاسمی صاحب بڑی عمدہ صلاحیتوں کے حامل اور صاحب قلم و قرطاس عالم دین اور علمی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں ، آپ کے والد محترم حضرت مولانا صفات اللّٰہ صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ شیخ الاسلام مولانا محمد حسین مدنی نوراللہ مرقدہ کے شاگرد اور خلیفہ ہیں ۔ مولانا مفتی سعید الحق قاسمی کو اردو اور عربی دونوں زبانوں پر دسترس حاصل ہے ۔ آپ بہت ساری کتابوں کے مصنف ہیں اور بہت سارے مسودے طباعت کے منتظر ہیں ۔
تذکرہ علمائے مئو ناتھ بھنجن میں 240 علماء کرام کا تذکرہ موجود ہے اور مصنف مدظلہ نے اپنے قیمتی حواشی میں بھی تقریباً 70 اہل علم و فضل کا عمدہ تعارف تحریر کیا ہے ۔ ساتھ ہی اپنے مبسوط علمی مقدمہ کتاب میں ضلع مئو ناتھ بھنجن کی تاریخی ، علمی ، ادبی ، جماعتی اور مسلکی حیثیت سے روشناس کرایا ہے ، مئو اور مضافات کے علمی اور مذہبی اداروں کا بھرپور تعارف بھی پیش کیا ہے ۔ بڑی بات یہ ہے کہ اس کتاب میں ہرمسلک کے علماء کرام کا تذکرہ موجود ہے جو مصنف کی وسیع الظرفی اور وسعت فکر و نظر کی دلیل ہے ، کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں حضرت گنگوھی کے شاگرد رشید بھی تھے ، اور مولانا فضل رحمن گنج مرادآبادی کے شاگرد و دست گرفتہ اہل علم بھی ، مولانا اسماعیل شہید رحمۃ اللّٰہ علیہ کے کاروان کے ہم سفر بھی اور خاندان ولی اللہی سے براہ راست استفادہ کرنے والے سعادت مند حضرات بھی ۔
مئو میرے والد محترم کی علمی ، ادبی ، قلمی اور سیاسی جولانگاہ رہ چکی ہے ، اس سرزمین سے انہیں حد سے زیادہ محبت و عقیدت تھی ، ان کے محبوب ترین اساتذہ کرام محدث کبیر ابوالمآثر حضرت مولانا حبیب الرحمٰن الاعظمی ، مجاہد ملت حضرت مولانا عبد اللطیف نعمانی ، مولانا عبد الجبار مئوی ، مولانا محمد یحییٰ صاحب اور مولانا شمس الدین صاحب مئوی ۔ اسی کی علمی فضاؤں میں قلم کے نوک و پلک سنوارے اور علمی مضامین لکھے ، یہیں آپ نے 1942 کی بھارت چھوڑو تحریک میں شعلہ بار تقریریں کیں اور انگریزی حکومت کے وارنٹ گا شکار ہوئے اور نتیجۃً گرفتاری سے بچنے کے لیے پاپیادہ مئو سے دربھنگہ تک کا سفر کیا ۔ جب تک ان کے ایک استاذ بھی حیات سے رہے سال میں ایک بار نہایت ہی شوق و عقیدت سے حاضر ہوا کرتے تھے ۔ اور اسی والہانہ محبت کی وجہ سے مجھے اپنے اساتذہ کرام سے خیر و برکت حاصل کرنے کے لیے مفتاح العلوم مئو میں داخل کیا جہاں تین سال رہ کر میں نے 1971 میں دورہ حدیث شریف پڑھا ۔ والد محترم کے اساتذہ میں حضرت مولانا حبیب الرحمٰن الاعظمی ، مولانا عبد اللطیف نعمانی اور مولانا عبد الجبار مئوی سے مجھے استفادہ کا موقع ملا ،۔
اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلا کہ حضرت ابوالمآثر مولانا حبیب الرحمٰن الاعظمی کے والد محترم حضرت مولانا محمد صابر صاحب نے حضرت مولانا عبد الغفار صاحب تلمیذ رشید حضرت مولانا رشید احمد گنگوھی سے مختلف علوم و فنون کے ساتھ ساتھ علم حدیث کی کتابیں پڑھیں اور سند فراغ حاصل کی ۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی سے بیعت تھے ، حضرت تھانوی کی خدمت میں اپنے لختِ جگر حضرت الاعظمی کے ذریعے ایک رومال ہدیۃ ارسال فرمایا تو حضرت تھانوی نے اسے اپنے سر پر رکھ کر فرمایا یہ ہدیہ نہیں آپ کے والد محترم کا تبرک ہے ۔ مولانا محمد صابر صاحب نے مولانا عبد الغفار صاحب امام الکل کے علاوہ ان کے بھائی حضرت مولانا ابوالبرکات صاحب سے بھی کسب فیض کیا تھا ، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن الاعظمی نے بھی حضرت مولانا عبد الغفار صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ سے مختلف علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں ۔ مولانا محمد صابر صاحب نوراللہ مرقدہ کے علم و فضل اور فیض و تربیت کے خواص وعوام قدردان اور ثنا خوان تھے ۔
حضرت مولانا حبیب الرحمٰن الاعظمی کے علاوہ حضرت مولانا عبد اللطیف نعمانی اور انکے خانوادے اور حضرت مولانا محمد ایوب صاحب سابق ناظم جامعہ مفتاح العلوم مئو و سابق شیخ الحدیث جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل ، ان کے صاحب زادگان حضرت مولانا حکیم عزیز الرحمن صاحب سابق استاذ جامعہ طبیہ دارالعلوم دیوبند دوسرے صاحبزادے حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی مہتمم ندوۃ العلماء لکھنؤ ، مولانا قاری ریاست علی سابق شیخ الحدیث دارالعلوم مئو ، مولانا شیخ محمد صاحب سابق شیخ الحدیث دارالعلوم مئو ، مولانا امام الدین پنجابی ، مولانا اسلام الحق صاحب سابق استاذ دارالعلوم دیوبند ، مولانا حبیب الرحمٰن خیرآبادی ، مولانا حبیب الرحمٰن نعمانی سابق وزیر حکومت ہند ، مفتی عبد الباری صاحب ، مولانا عبد الجبار صاحب ، مولانا شمس الدین صاحب ، مولانا صفات اللّٰہ صاحب ، مولانا ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی ، حضرت مولانا مفتی محمد نظام الدین صاحب سابق مفتی دارالعلوم دیوبند ، مولانا نظام الدین اسیر ادروی ان کے علاوہ بہت سارے صاحبان فضل وکمال علماء کرام کا تذکرہ ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس علمی و تحقیقی تصنیف کے لیے مصنف کتاب حضرت مولانا مفتی سعید الحق قاسمی مہتمم مدرسہ مدنی دارالقرآن مئو تبریک و تہنیت کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق جزاء خیر عطا فرمائیں اور کتاب کو حسن قبولیت سے نوازیں آمین یا رب العالمین ۔ اخیر میں اپنے بھائی اور دوست مولانا فضل احمد قاسمی کی خدمت میں اس عظیم الشان ہدیہ کے لیے تشکر و امتنان پیش کرتاہوں ۔
کتاب کے شروع میں حضرت مولانا سید اسعد مدنی ، والد محترم مولانا مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحی ، خلیفۂ شیخ الاسلام مولانا صفات اللّٰہ صاحب ، مولانا نظام الدین اسیر ادروی ، مولانا حکیم عزیز الرحمن اعظمی ، مولانا مفتی حبیب الرحمٰن خیرآبادی ، مولانا فضل الرحمن اعظمی ، مولانا نور عالم خلیل امینی ، مولانا محمد عثمان معروفی کی تقاریظ موجود ہیں





