اجتہاد و قیاس ( مؤلفہ مفتی شکیل منصور قاسمی)
نظر و تبصرہ
بقلم: محمد توصیف قاسمی
اصول وقواعد کسی بھی فن اور علم کی روح اور بنیاد ہوتے ہیں، اصل و قاعدہ کے معانی بھی یہی ہیں، اور جس علم و فن کے اصول و قواعد کو جتنا برتا جائے گا جتنی ان کی تذکیر تدریس و مزاولت ہوگی اتنا وہ نکھرے گا، تعلیم وتدریس، افتاء و استنتاج میں وہ علم اتنا ہی برگ و بار آور ثابت ہوگا۔
فقہ وفتاویٰ جو کتاب اللہ و سنت نبویہ کا عطر ہے،فقہ کی ضرورت، اور نت نئے مسائل وحوادث کے چلتے اس کے مقتضیات روز افزوں ہیں، نہ انسانی انقلابات و تغیرات میں کبھی ٹھہرائو آسکتا ہے اور نہ ہی کتاب و سنت کے اصول تشریع فقہ اور اصول فقہ کی ضرورت و اجتہادات و مستنبطات رک سکتے ہیں، اس میں سب سے زیادہ حصہ انہی کا ہے جنھیں اصول و قواعد سے ربط و مزاولت ہے، اور جتنی زیادہ ہے۔
اصول فقہ عربی زبان میں ہی ایک مظلوم فن ہے، فقہاء متقدمین نے تو خوب توجہ دی، خوب لکھا ، مگر اب اس پر توجہ نہیں رہی، مگر اردو میں تو اصول فقہ مظلوم ترین باب اور داستان بن چکا ہے، درسیات کے علاوہ اس کا علم و مطالعہ تحقیق و تنقیح ، تصنیف و تنقید کا شوق و جذبہ ہی نادر ہے، الا ماشاء اللہ!
اور اس کے بڑے برے اور بھیانک نتائج علمی و تحقیقی حلقوں میں ہیں، اور المیہ یہ ہے کہ ان نتائج کو بھی اصل وجوہ و اسباب سے جوڑ کر نہیں دیکھاجاتا کہ اصلاح و تبدیلی کا امکان ہو، اور اس علم کی اہمیت و ضرورت پر نظرثانی کرنے کی توفیق ہو۔ فالی اللہ المشتکیٰ!
اصول فقہ اور قواعد فقہیہ پرخاطر خواہ توجہ نہ ہونے کے اثرات نوجوان فضلاء و اہل فتویٰ ہی پر نہیں، بلکہ اس سے اوپری طبقے پر ہیں، لکھنے کا دل نہیںچاہتا مگر مشاہدات مجبور کرتے ہیں،اور اس نیت سے پیش ہیں کہ کسی کے دل کو لگ جائے اور اس کی ترمیم و اصلاح کی کوئی سبیل ہوجائے،معاملہ اس حد تک پہنچا ہوا ہے کہ بعض فقہی و تحقیقی سوالناموں میں اس طرح کی تحدید نظر سے گزری کہ اس مسئلہ کا جواب علماء دیوبند کے فتاویٰ کی روشنی میں دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔بات علماء دیوبند کے علمی مقام اور ان کے تحقیقی مرتبے کی نہیں، جہاں ہماری مدح و توصیف ختم ہوگی وہاں سے ان کی ابتداء ہوگی، سوال یہ ہے کہ یہ کون سی فقہ ہے کہ اِن اِن علماء کے فتاویٰ سے خروج نہیں کیاجاسکتا؟اصول و قواعد جو فقہاء احناف نے کتابوں میں جمع ومرتب کئے ہیں کیا ان کے ضمن میں ایسی کوئی تحدید و جمود کی گنجائش ملتی ہے؟ اگر کسی مفتی کی رائے اکابر دیوبند سے خلاف ہو؛ لیکن حنفی اصول و قواعد سے بالکل درست ہو، تو وہ کیونکر غلط ہوسکتی ہے؟
یہ میں صرف فقہی مسائل کی بات کررہا ہوں، عقیدہ کی نہیں،نیز کسی دارالافتاء کو، متعدد مفتیوں کو ایک رائے یا قول کا پابند بنانے کی شرط کی بھی کسی قدر گنجائش ہے جیسا کہ قاضی لئے اس طرح کا اشتراط ملتاہےاور تاکہ ایک ہی دارالافتاء سےمتعدد فتوٰی بھی سبب انتشار ہیں، لیکن یہ سمجھنا کہ ساری دنیا ایک دارالافتاء کی پابند ہو، اور اس سے اختلاف کرنے والے کی اختلاف کے سبب نقد و تشنیع ناروا بات ہے۔
نوجوان نہیں، بلکہ بڑے علماء سے اس طرح کے کلمات صادر ہوتے ہیں کہ’’ ہم پکے دیوبندی ہیں ، دیوبند کے فتویٰ کے ذرا خلاف نہیں جاسکتے‘‘، یعنی ایک فقہی مسئلہ دیوبندیت کا معیار بن گیا، اور اس سے کسی نے اختلاف کرلیا تو کوئی وہ دیوبندیت سے باہر نکل گیا؟ یہ دیوبندیت تو اکابر دیوبند کی تعریف سے بالکل بھٹکی ہوئی ہوئی، بلکہ حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمد طیب صاحبؒ نے تو فقہ کے ساتھ ساتھ مسائل کلامیہ میں بھی علماء دیوبند کا مسلک ’’ تقلید مع التحقیق‘‘ تحریر فرمایا ہے، جس کا صاف اور سیدھامطلب یہ ہے کہ اگر کسی مسئلہ میں اختلاف تحقیق ہو، جو اصول و قواعد سے متصادم نہیں، اور دیگر شرائط کو پورا کرتی ہے تو وہ قابل قبول ہے، اختلاف کی وسعت و گنجائش رکھتی ہے۔
ایک فقہی مجلس کا اپناہی لطیفہ عرض کروں کہ ایک مسئلہ میں اپنی بات رکھتے ہوئے بندہ نے علامہ عبدالحئی فرنگی محلیؒ کی رائے کو پیش کیا،تومجھ سے کافی سینئر ایک مفتی صاحب نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا: علامہ عبدالحئی فرنگی محلیؒ کی بہت سی آراء سے علماء دیوبند اختلاف کرتے ہیں، اس لئے ان کی رائے معتبر نہیں، لیکن چونکہ بعینہٖ وہی رائے فلان دیوبندی مفتی کی ہے، اس لئے یہ رائے لینا درست ہے،اھ ۔
سمجھ میں نہیں آیا ، اس جواب پرہنساجائے یا رویا جائے ،یہ جمود کی باتیں ہوئیں، مگر فقہ میں اصول و قواعد سے آزادی کی بھی مثالیں اورمشاہدات ہیں،جواس سے بھی المناک ہیں، تفصیل کا یہ موقع نہیں ، بطور نمونہ یہ باتیں لکھی دیں،لیکن سب میں مشترک القدر بات اصول و قواعد سے بے اعتنائی ہے،اور اس کا حق ادا نہ کرنا ہے۔
حضرت مولانا مفتی شکیل احمد قاسمی دامت برکاتہم علم و تحقیق کے دھنی،میدانِ قلم و قرطاس کے شہسوار، فقہی ذوق اور متوازن فکرکی حامل شخصیت ہیں، بلکہ میری ان سے مناسبت و محبت کا سبب ہی یہی باتیں ہیں، تحقیق و مطالعہ، جستجوئے حق و صواب ، مسئلہ و تحریر میں متعلقہ خدوخال، اقوال مختلفہ پر نظر و تجزیہ،کمال استدلال و مناقشہ، صواب کی تنقیح ان کی خصوصیت اور امتیاز ہے، ان کی مختصر تحریروں اور فتاویٰ میں بعض مرتبہ پورے باب اور مکمل کتاب کا نقشہ آجاتاہے۔
جانشین امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالعلیم فاروقی ؒ کے حکم پر آپ نے اجماع امت کے عنوان پر قلم اٹھایا، اور اچھا خاصاقیمتی مواد جمع کردیا، اسی دوران یہ بات بھی آئی کہ قیاس کے مباحث بھی اسی میں شامل کرلئے جائیں، تو میری رائے یہ تھی کہ ایسا بالکل نہ ہو، ورنہ قیاس کی اہم بحث ضمنی ہوکر رہ جائے گی، اور مستقل تصنیف و تحریر کی صورت میں گفتگو اطمینان بخش ہوگی۔
لیکن اجتہاد وقیاس پر جب مفتی صاحب لکھنے بیٹھے تو انھوں نے قیاس اور اس کے متعلقہ مباحث تو لکھے ہی، مگر فقہ اور اصول فقہ، فتویٰ اور اس کے متعلقات کا ایسا احاطہ کرلیا ہے کہ مجھے کتاب کا نام ’’اجتہاد و قیاس‘‘ ادھورا اور ناقص معلوم ہورہا ہے،غلط تو کہا ہی نہیں جاسکتا کہ تسمیۃ الکل ببعض جزءہ ہے، نیز اصول فقہ کا ثمرہ ہی یہی ہے کہ اخذ واستنباط ( اجتہاد وقیاس ) کی صلاحیت میں نکھار آئے ، مگر میری رائے میں ایسا نام ہونا چاہئے تھا جو جامع مضامین ہوتا اور مواد کو حاوی ہوتا، مگر کتاب پر اکابر کی تقاریظ آچکی تھیں، نیز کتاب پریس میں بھی جاچکی تھی، اس لئے مشورہ سے رک گیا،اس افشاء ضمیر کا مقصد ناظرین و قارئین کو یہ بتانا ہے کہ یہ کتاب ایک اچھا خاصا اصولی موسوعہ بن گئی ہے، اسے صرف اجتہاد و قیاس کے مضامین تک محدود نہ سمجھیں۔
کیا نہیں ہے اس کتاب میں؟۔۔۔۔ فقہی مدارس کی ابتداء وارتقاء، مذاہب ائمہ کی تدوین، مناہج اور امتیازات، ائمہ اربعہ، ائمۂ احناف اور فقہاء اعلام کا ضروری تعارف منہج اور کارنامے، قواعد ترجیح، علامات افتاء، اصول فقہ کی ضروری تقسیمات اور اقسام، اصول اربعہ، مختلف فیہ اصول؛ استحسان، مصالح مرسلہ، وغیرہ، اجتہاد و تقلید، افتاء و آداب، کلمہ و کلام کے دوسرے ضروری اصولی مباحث، حتیٰ کہ قواعد فقہ کے بھی ضروری مباحث واساسی مصادر وقواعد کا احاطہ کرلیا گیا ہے ؛ غرضیکہ اصول فقہ کے سارے ضروری مباحث اس میں آچکے ہیں، ایسے میں یہ کتاب صرف اجتہاد و قیاس کے مضامین تک محدود سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔
کتاب میرے سامنے ہے، اسے دیکھ کراس کے ادب و سلالت، حسن تفہیم و تعبیر اور مضامین کی جامعیت کے لحاظ سے میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب طلبہ اصول و افتاء، علماء و باذوق عوام ناظرین سب کے لئے یکساں مفید ہے،کتاب اپنے انداز ومواد کے سبب ممدہ و معاونہ میں شمار کی جانے کے لائق ہے، جو کسی ایک کتاب یا مضمون نہیں بلکہ اپنے فن اور علم کو حل کرنے والی اور فہم و تدبر پیدا کرنے والی ہے،البتہ اصول فقہ اور افتاء کے طلبہ کو اس کتاب کا مطالعہ بطور خاص کرنا چاہئے، ان کے لئے یہ کتاب وسیع تر اور متنوع فوائد کی حامل ہے، ایسا جامع اصولی مجموعہ اردو میں ہماری نظر سے نہیں گزرا، بعض اردو کتابیں ہیں، مگر وہ درسی شان کی ہیں، فہم و مطالعہ کی نہیں،یہ کتاب ایک عام مطالعہ مگر خاص اور متنوع ثمرات کی ہے،جسے فن سے مناسبت نہیں اسے اس کتاب کے سبب مناسبت پیدا ہوجائے گی، اور درسی فہم و تدبر ان شاء اللہ آسان ہوگا۔
اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے مفتی شکیل صاحب کو یہ انھوں نے یہ قیمتی سوغات اور علمی خزانہ جمع کردیا اور اردو کتب خانے میں ایک وقیع اضافہ فرمایا، اورباری تعالیٰ کتاب کو قبول خاص و عام فرمائے، ان کے لئے اجر و ذخر بنائے، قارئین کے لئے علم نافع کا سبب بنے۔ آمین!



