Web Analytics Made Easy - StatCounter
Muhammad Abdul Ghazi Azeezi Hayat o Khidmat

محمد عبدالغنی عزیزی حیات و خدمات

کتاب کا نام: محمد عبدالغنی عزیزی حیات و خدمات
مصنف: ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی

اردو کے بیشتر طلبا رسالہ ‘کرن’ یا اس کے مدیر سے ناواقف ہیں۔ حالانکہ جس زمانے میں یہ رسالہ شائع ہو رہا تھا اس وقت اس کے قارئین ہندوستان کے علاوہ مشرقی اور مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان اور بنگہ دیش) میں بھی موجود تھے۔ لہٰذا اس کے اشاعتی حلقے کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اس کی مقبولیت اور ہر دلعزیزی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چوں کہ رسالہ ‘کرن’ اور اس کے مدیر پر اب تک کوئی خاطر خواہ کام سامنے نہ آ سکا تھا اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ مولانا عبدالغنی کی حیات وخدمات کا احاطہ کیا جائے۔
اس کتاب کا پہلا باب مولانا عبدالغنی کی سوانح وشخصیت پر مشتمل ہے۔ اس باب کے ذیل میں مولانا عبدالغنی کی پیدائش، خاندان، گھریلو معاملات، تعلیم وتربیت، سیاسی وسماجی سرگرمیاں، شخصی خوبیاں، کاروبار اور وفات تک کے حالات قلم بند کیے گئے ہیں۔

دوسرا باب مکتوب نگاری کے عنوان سے شامل ہے۔ اس باب کے ضمن میں ان کے ذاتی خطوط جو انھوں نے اپنی اولاد اور جماعتِ اسلامی کے کارکنان کو لکھے تھے، کے تحت ان کی مکتوب نگاری کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مولانا عبدالغنی کی شخصیت کتنی پُر بہار تھی، اصولوں کی پابندی کو کس حد تک انھوں نے اپنے او پر لازم کر رکھا تھا۔ تنگ دستی اور مصائب سے گھرے ہونے کے باوجود اعتدال اور توازن کا دامن کس طرح تھامے رکھا۔ ان تمام باتوں سے آپ اس باب کے ذریعہ آشنا ہوں گے۔

تیسرے باب کا عنوان ‘رسالہ کرن کا تجزیاتی مطالعہ’ ہے۔ اس باب کو سات ذیلی عنوانات کے تحت تقسیم کرکے جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس باب میں قارئین رسالے کے مقاصد اور اس کی نوعیت سے پوری طرح واقف ہو سکیں گے۔ علاوہ ازیں رسالے میں شائع ہونے والی نظمیں، غزلیں، رباعیات، قطعات، اداریے اور رپورٹس وخبروں پر تفصیلی گفتگو موجود ہے۔

چوتھا باب مولانا عبدالغنی کی زبان دانی پر مشتمل ہے۔ اس باب میں باقاعدگی کے ساتھ ان کے انداز بیان اور اسلوب نگارش کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسلوب کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے ادار یے اور مکاتیب کو خاص طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اگر چہ مولانا نے زیادہ نہیں لکھا لیکن اگر لکھتے تو یقیناً ان کی تحریریں اردو ادب کے سرمایے میں مثبت اضافے کا سبب بنتیں۔ ‘کرن’ کی بندش کے بعد ادبی اعتبار سے انھوں نے گوشہ نشینی اختیار کرلی تھی۔ ایمرجنسی میں قید کے دوران انھوں نے اپنے حالات کسی حد تک قلم بند کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بھی دست برد زمانہ کی نذر ہو گئے۔

مذکورہ ابواب کے بعد ان مشاہیر کی آرا کو بھی شامل کیا گیا ہے جنھوں نے رسالہ ‘کرن’ کی اشاعت پر مولانا عبدالغنی کو مبارک باد پیش کیے اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی ہر اعتبار سے مولانا اور ان کے رسالے کی مدد کی خواہش ظاہر کی۔ بعد ازیں مولانا کے علمی خطوط اور چند تصاویر کو بھی کتاب میں جگہ دی گئی ہے۔ آخر میں کتابیات شامل ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Home Cart Wishlist Login