علامہ محمد اقبال کی یہ کتاب ان کی تمام کتابوں میں سب سے زیادہ تخلیقی اور شعریت سے بھرپور ہے۔ یہ ایشیا کی ڈیوائن کامیڈی ہے۔ جس طرح دانتے اپنی تصنیف میں ورجل کو اپنا مرشد بنا کر ایک سفر کرتا ہے، ویسے ہی اس سفر میں اقبال نے مولانا روم کو اپنے مرشد اور رہنما بنایا ہے۔ وہ الگ الگ سیاروں پر مختلف فلسفیوں اور مفکروں سے ملاقات کرکے ان سے بات چیت کرتے ہیں۔ آخر کیا وجہ تھی کہ اقبال کے بیٹے نے ان سے ایک گراموفون دریافت کیا اور اقبال نے اس کے عوض ایک فلسفیانہ کتاب تخلیق کر دی؟