Ishtiyaq Ahmad Zilli

Maarif Shazarat August 2018, معارف شذرات اگست ٢٠١٨

مصنف:   اشتیاق احمد ظلی

گذشتہ دنوں ایک سیمینار میں شرکت کے لیے ملیشیا جانے کا اتفاق ہوا۔ انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی، کوالالمپور نے وقف کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”’History and Governance of Awqaf in South and Southeast Asia: Colonial Intervention and the Modern States“. یہ سیمینار بنیادی طورپر IRCICA، استانبول کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اس کے انعقاد میں جاپان کی Toyo Bunko اور کیرالہ کی Madin Academy کا تعاون بھی شامل تھا۔ IRCICA علم و تحقیق اور تہذیب و ثقافت کے میدان میں او۔ آئی۔ سی کے تحت کام کرنے والا سب سے اہم ادارہ ہے اور اس کی علمی خدمات کا دائرہ وسیع ہے۔ یہ سیمینار ۴۔۵؍ جولائی کو یونیورسٹی کے سینٹ ہال میں منعقد ہوا۔ ہر لحاظ سے یہ ایک کامیاب سیمینار تھا۔

اس کی کامیابی ڈاکٹر ارشد اسلام اور ان کی ٹیم کی منظم اور انتھک کوشش اور محنت کا نتیجہ تھی۔ اس سیمینار میں ہندوستان، پاکستان، فلپائن، انڈونیشیا، ملیشیا، بنگلہ دیش، ترکی، جاپان اور زنجبار کے اسکالرس نے حصہ لیا اور اس میں تیس تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔ اوقاف کے نظم و انصرام میں استعماری مداخلت بھی موضوع کا ایک حصہ تھی۔ اس مناسبت سے راقم حروف نے برصغیر میں برطانوی حکومت کے ذریعہ وقف علی الاولاد کی معطلی کے خلاف علامہ شبلی کی قیادت میں چلائی جانے والی عدیم المثال تحریک پر کلیدی خطبہ پیش کیا۔ اس تحریک کے نتیجہ میں ۱۹۱۳ء میں حکومت نے ایک ایکٹ پاس کرکے اس سلسلہ میں مسلمانوں کے حق کو تسلیم کیا۔ اُن حالات میں یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔

علامہ شبلی نے آخر عمر کے پانچ سال اس جد و جہد میں صرف کیے۔ ان کے عزم و حوصلہ نے اس تحریک کو برصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی آواز بنادیا اور برطانوی حکومت کو اصلاح احوال کے لیے مجبور کردیا۔ اس واقعہ پر اب سو سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے۔ اس حق کی بازیافت کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے علامہ شبلی کی قیادت میں جو عدیم المثال جد و جہد کی تھی اس سے اب کتنے لوگ واقف ہیں۔

ملیشیا میں آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ چینی نسل کے باشندے اور ہندو بھی وہاں معتد بہ تعداد میں آباد ہیں۔ یہ سب باہمی اعتماد اور خیر سگالی کے ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ ملیشیا نے ۱۹۵۷ء میں برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی۔ معاشی طور پر بدحالی کا شکار یہ ملک بیسویں صدی کے آخری دوعشروں میں انقلابی تبدیلیوں سے دوچار ہوا۔ ۱۹۸۱ء سے ۲۰۰۳ء کے مختصر عرصہ میں ڈاکٹر مہاتیر محمد کی قیادت میں ملیشیا بے مثال اقتصادی اور سیاسی استحکام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس مختصر مدت میں ملک کا نقشہ ہی بدل گیا۔ وہ ترقی پذیر ملکوں کے لیے ایک مثال اور ماڈل کے طور پر ابھر کر سامنے آیا اور عالمی برادری میں ایک باوقار مقام حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کی تیز رفتار معاشی ترقی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد کی وزارت عظمیٰ کے یہ بائیس سال ملیشیا کی تاریخ میں ایک یادگار کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کو بجا طورپر نئے ملیشیا کا معمار تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس اعتماد اور اطمینان کے ساتھ کہ ملک کی خدمت کا حق انہوں نے اپنی استطاعت کی حدتک ادا کردیا ہے، ڈاکٹر مہاتیر ۲۰۰۳ء میں وزارت عظمیٰ سے دست کش ہوگئے اور نئی نسل کے لیے جگہ خالی کردی۔ یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا اور اس کے لیے وہ کسی طرح بھی مجبور نہیں تھے۔ یہ فیصلہ انہوں نے اس وقت کیا جب اقتدار پر ان کی گرفت مکمل تھی۔ سیاست کی دنیا میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ البتہ اہل نظر سے یہ بات پوشیدہ نہیں تھی کہ ملک کے مستقبل کے لیے انہوں نے جو منصوبہ بندی کی تھی اس میں انور ابراہیم کی عدم موجودگی ایک بڑے سوالیہ نشان کی حیثیت رکھتی تھی۔

انور ابراہیم ملیشیا کی تعمیر و ترقی میں ڈاکٹر مہاتیر محمد کے دست راست رہے تھے۔ ان کی حکومت میں انہوں نے کئی اہم وزارتیں سنبھالیں اور بالآخر نائب وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ دسمبر ۱۹۹۳ء سے ستمبر ۱۹۹۸ء کے طویل عرصہ میں وہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کے سب سے قریبی معتمد تھے اور انہوں نے اس اہم عہدہ کی ذمہ داریوں کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا۔ اس دوران وزارت مالیات کا کلیدی عہدہ بھی ان کے پاس رہا۔ اس وقت ایشیا جس شدید مالی بحران سے دوچار تھا اس کے پیش نظر اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دونوں لیڈروں کے درمیان پوری ہم آہنگی تھی۔ انور ابراہیم انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اپنے دینی مزاج اور فکر کے لیے بھی معروف تھے۔

انہیں ڈاکٹر مہاتیر محمد کا جانشین تصور کیا جاتا تھا اور عام طور پر یہ اطمینان محسوس کیا جاتا تھا کہ ملیشیا کی تعمیر و ترقی کا جو غیر معمولی کام ان کی نگرانی میں شروع ہوا تھا وہ ان کے لائق جانشین کے عہد میں جاری رہے گا۔ بڑی حسرت سے یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ اگر ۲۰۰۳ء میں ڈاکٹر مہاتیر محمد نے عنان اقتدار انور ابراہیم کے ہاتھ میں دی ہوتی تو ملیشیا کی ترقی کا سفر بھی جاری رہا ہوتا اور وہ منصوبے اور پالیسیاں بھی باقی رہی ہوتیں جن کو انہوں نے شروع کیا تھا اور جو ملیشیا کی تعمیر و ترقی کی ضامن تھیں اور ملک پندرہ سال کے طویل عرصہ پر محیط رجعت قہقری سے بچ گیا ہوتا۔ لیکن سیاست کے معاملات بھی عجیب ہوتے ہیں۔

ان دونوں لیڈروں کی طویل رفاقت اور باہمی اعتماد اور یکجہتی شدید عناد اور عداوت میں بدل گئی۔ اس دردناک داستان کو بیان کرنے کا یہ موقع نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ ملیشیا کی بڑی بدقسمتی تھی۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو ملیشیا پندرہ سال پر محیط لاحاصل اور بے ثمر ماہ و سال سے بچ گیا ہوتا اور اس وقت ترقی کے بام عروج پر ہوتا۔ پہلے ان کو نائب وزیر اعظم کے عہدہ سے ہٹایا گیا اور پھر انہیں پارٹی سے بھی نکال دیا گیا۔ ۱۹۹۹ء میں ایسے الزامات کے تحت ان کو جیل میں ڈال دیا گیا جن کو دنیا بھر میں شک و شبہہ کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اس وقت سے مئی میں شاہی معافی ملنے تک ان کو خاصی مدت جیل میں گذارنی پڑی۔ جب بھی وہ باہر رہے ان الزامات سے اپنی برأت اور اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑتے رہے۔ ان کی عدم موجودگی میں ان کی بیگم ڈاکٹر وان عزیزہ نے نہ صرف نہایت کامیابی سے یہ جنگ لڑی بلکہ ملیشیا کی سیاسی زندگی میں ایک اہم مقام حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہیں۔

انور ابراہیم کے بعد ڈاکٹر مہاتیر محمد نے عبداللہ احمد بداوی کو نائب وزیر اعظم مقرر کیا اور بعد میں ملک کی زمام اقتدار انہی کے سپرد کردی اور خود وزارت عظمیٰ سے دست کش ہوگئے۔ ۲۰۰۳ء سے ۲۰۰۹ء تک بداوی نے وزیر اعظم کی حیثیت سے کام کیا لیکن ان سے وہ توقعات پوری نہ ہوسکیں جو ان کے ساتھ وابستہ کی گئی تھیں۔ اس کے بعد ڈاکٹرمہاتیر ہی کے ایما پر نجیب رزاق کو وزیر اعظم مقرر کیا گیا جن کی سیاسی تربیت انہی کی نگرانی میں ہوئی تھی۔ ان کا عہد اقتدار مئی ۲۰۱۸ء تک رہا۔

یہ عہد ملیشیا کے لیے کسی سانحہ سے کم نہ تھا۔ ترقی کی رفتار جو ڈاکٹر مہاتیر کے وزارت عظمیٰ سے سبک دوش ہونے کے بعد سست ہوچکی تھی نجیب رزاق کے عہد میں اس زوال کی رفتار بہت بڑھ گئی۔ نجیب رزاق خود سنگین مالی بدعنوانی میں ملوث ہوئے اور ان کی قیادت میں پورا حکمراں ٹولہ اسی رنگ میں رنگ گیا۔ جو ملک ابھی کچھ دن ہی پہلے ایشین ٹائیگر کے طور پر ابھرا تھا اور اقتصادی اور سیاسی استحکام کی ایک مثال بن گیا تھا، کرپشن، بدانتظامی اور مالی عدم استحکام کی علامت بن گیا۔ فطری طور پر ڈاکٹر مہاتیر اس صورت حال سے سخت آزردہ تھے لیکن اصلاحِ احوال کی ان کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں اور ملک کرپشن کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔

جدید ملیشیا کے معمار کی حیثیت سے بھی اور اس وجہ سے بھی کہ نجیب رزاق انہی کا انتخاب تھے اور انہی سے سیاسی تربیت حاصل کی تھی، ملک کی بگڑتی ہوئی صورت حال ڈاکٹر مہاتیر کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی۔ ملک کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے نجیب رزاق کی حکومت کا خاتمہ ضروری تھا، لیکن یہ کام آسان نہیں تھا۔ ناجائز ذرائع سے حاصل کی ہوئے بے اندازہ دولت کے ذریعہ نجیب رزاق نے حکمراں طبقے پر اپنی گرفت بہت مضبوط کرلی تھی۔ مالے قومیت کے افسوں کے زیر اثر ملیشیا کی اکثریتی آبادی بھی بہت حدتک ان کے سحر میں گرفتار تھی۔

نجیب رزاق کی حکومت ختم کرنے کی ایک ہی صورت تھی کہ انور ابراہیم کو اس مہم میں شریک کیا جائے جو تمام تر مصائب و مشکلات کے باوجود ملکی سطح پر موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کی غیر موجودگی میں ان کی اہلیہ ڈاکٹر وان عزیزہ نہ صرف اچھی طرح عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات کی پیروی کرتی رہی تھیں بلکہ ملکی سیاست میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ اس کے لیے غیر معمولی اخلاقی جرأت کی ضرورت تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد اس امتحان میں پورے اترے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خود انور ابراہیم نے ماضی کی تمام تلخیوں کو فراموش کرتے ہوئے اور ان تمام تکالیف اور اذیتوں کو نظر انداز کرتے جو ان کو ڈاکٹر مہاتیر کی وجہ سے پہنچی تھیں، ملک کے وسیع تر مفاد میں ان کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھام لیا۔ دونوں ہی قائدین کی طرف سے اس سلسلہ میں بڑی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ ہوا اور شخصی تحفظات سے اوپر اٹھ کر دونوں نے ایک مثال قائم کی۔

اس اتحاد کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ نجیب رزاق کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بظاہر ایک ناممکن منصوبہ تھا لیکن وہ کامیابی سے ہم کنار ہوا۔ آزادی کے بعد پہلی بار حکمراں اتحاد شکست سے دوچار ہوا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے ۹۳ سال کی عمر میں ایک بار پھر بحیثیت وزیر اعظم زمام حکومت سنبھال چکے ہیں۔ ڈاکٹر وان عزیزہ ان کی نائب ہیں۔ انور ابراہیم کو بادشاہ کی طرف سے معافی اور اس کے نتیجہ میں قید و بند سے رہائی مل چکی ہے۔ نجیب رزاق جیل میں ہیں اور ان کا احتساب شروع ہوچکا ہے۔ پندرہ سال کے طویل وقفہ کے بعد ملیشیا کی تعمیر و ترقی کا سفر پھر شروع ہوچکا ہے۔ کچھ دنوں بعد ڈاکٹر مہاتیر محمد وزارت عظمیٰ سے دست کش ہوجائیں گے اور انور ابراہیم ان کی جگہ عنانِ اقتدار سنبھال لیں گے۔ پہلے بھی یہی منصوبہ تھا۔ ملک خوش ہے کہ دیر ہی سے سہی اس پر عمل درآمد کے اسباب مہیا ہوگئے ہیں۔

اپنی رائے نیچے کمینٹ میں ضرور دیں
 اشتیاق احمد ظلی  کے مزید مضامین سبسے پہلے پڑھنے کے لئے خریدیں معارف رسالہ

Share To All - شیر کریں سبسے
Read More

Leave a Reply