Hazara Saum Ki Qayamat e Sughra

ہزارہ سوم کی قیامت صغریٰ

زیر نظر باب میں ہم اس بحث کی عملی نوعیت واہمیت سے متعلق اس سوال کا جائزہ لیں گے کہ موجودہ حالات میں، جبکہ عالم اسلام بالعموم اور عالم عرب بالخصوص، یہود ونصاریٰ کی سیاسی ومعاشی چیرہ دستیوں کا شکار ہے اور فلسطینی قوم کی جدوجہد آزادی ایک بے حد نازک موڑ پر ہے، مسجد اقصیٰ کی تولیت کی بحث کو چھیڑنے کی ضرورت اور اس میں ایک ایسا نقطہ نظر اختیار کرنے کا فائدہ کیا ہے جو، بظاہر نظر، امت مسلمہ کے مفادات کے صریح منافی ہے۔
 
اس سوال سے تعرض کرتے ہوئے پہلے تو اس غلط فہمی کا ازالہ ضروری معلوم ہوتا ہے جو بعض حضرات کے ذہن میں اس بحث کی افادیت کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ احاطہ ہیکل کی تولیت کی بحث ایک مردہ بحث ہے جس کا آج کے عملی حالات سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا ا س پر زور قلم صرف کرنا ایک بے کار مشغلہ ہے۔ ١ ہمارے خیال میں یہ رائے معاصر عالمی مسائل اور حالات سے بالکل بے خبری کی دلیل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ بحث پوری طرح سے ایک زندہ بحث ہے اور اسے اگر اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مذہبی تنازع قرار دیا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ صدیوں کے سکوت کے بعد صہیونی تحریک کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مساعی کے نتیجے میں یہودیوں کے ہاں ہیکل کی تعمیر کا سوال پوری شدت کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس سے قبل اس کی حیثیت ایک نظری اعتقاد کی تھی، لیکن قیام اسرائیل اور بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے بعد اس نے ایک عملی مسئلے کا روپ دھار لیا ہے اور یہودی مذہبی حلقوں میں ہیکل کے محل وقوع کی تعیین، اس کی تعمیر کے نقشے، مذہبی وفقہی شرائط اور ممکنہ حکمت عملی پر زور وشور سے بحثیں جاری ہیں۔ ٢ یہود کے مذہبی حلقوں میں ہیکل کی تعمیر نو پر اصولی اختلاف تو نہ پہلے تھا اور نہ آج ہے، البتہ بعض مذہبی شرائط اور معروضی حالات کے تناظر میں یہ حلقے باہم مختلف الرائے ہیں:
 
١۔ قدامت پسند یہودی حلقوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ تیسرے ہیکل کی تعمیر صرف مسیح کے ہاتھوں ہوگی، اس سے قبل صرف دعا اور انتظار کیا جا سکتا ہے۔ نیز چونکہ سرخ بچھڑے کی غیر موجودگی میں اس وقت یہودی قوم رسمی طور پر ناپاکی کی حالت میں ہے، اس لیے ہیکل کے اصل مقام پران کا داخلہ ممنوع ہے۔ اور چونکہ ہیکل کے اصل مقام کی متعین نشان دہی سردست نہیں کی جا سکتی، اس لیے احتیاطاً پورے احاطہ ہیکل میں کسی بھی یہودی کا داخلہ جائز نہیں۔
 
٢۔ اس کے برعکس بعض انتہا پسند حلقوں کی رائے یہ ہے کہ ہیکل کی تعمیر فوری طور پر رو بہ عمل لائی جانی چاہیے، ورنہ کم از کم احاطہ ہیکل کو یہودیوں کے تصرف میں ضرور دے دیا جانا چاہیے۔
 
٣۔ یہودیوں کے مذہبی طبقات کا ایک بڑا حصہ اس بات کا قائل ہے کہ ہیکل کی فوری تعمیر کی شرائط تو پوری نہیں ہوتیں، لیکن اس وقت تک یہودیوں کو اس میں دعا اور عبادت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اسرائیل کی ٥٠ فی صد سے زائد رائے عامہ اس نقطہ نظر کے حق میں ہے اور اسرائیلی عدالتیں متعدد مواقع پر یہودی عبادت گزاروں کو احاطہ ہیکل میں داخل ہونے اور وہاں دعا کرنے کا حق دے چکی ہیں۔ ٣
 
اس تفصیل سے واضح ہے کہ احاطہ ہیکل کے ساتھ یہودی قوم کا مذہبی تعلق پوری شدت کے ساتھ قائم ہے۔ تیسرے ہیکل کی تعمیر کی مخالفت کا اظہار اگر ہوتا ہے تو یہودیوں کے مذہب بیزار طبقات اور سیکولر پریس کی جانب سے ہوتا ہے جن کی رائے میں یہ اقدام نہ صرف سنگین سیاسی نتائج کا حامل ہوگا جس سے عرب دنیا اور اسرائیل کے مابین اختلافات کی خلیج مزید بڑھنے کا حقیقی خطرہ موجود ہے، بلکہ وہ قربانی کی مختلف رسوم کو زمانہ قدیم کی یادگار قرار دیتے ہوئے جدید دور میں انھیں رجعت پسندی اور ‘primitivism‘ کا مظہر قرار دیتے ہیں۔ جہاں تک مذہبی لوگوں کا تعلق ہے تو تیسرے ہیکل کی تعمیر ان کے اعتقادکا جزو لاینفک ہے۔ ان میں باہمی اختلاف یہ نہیں کہ ہیکل تعمیر ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا فی الفور ہیکل کی تعمیر کے لیے مذہبی شرائط پائی جاتی ہیں یا نہیں اور کیا معروضی سیاسی حالات اس کے لیے سازگار ہیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ اس سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا اور نزاع بدستور باقی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باوجودیکہ اسرائیلی حکومتیں عالم اسلام کے دباؤ کی وجہ سے داخلی طور پر اس مطالبے کی حوصلہ شکنی کرتی رہی ہیں کہ احاطہ ہیکل کو یہودیوں کے تصرف میں دے دیا جائے، لیکن اسرائیلی رائے عامہ اور مذہبی حلقوں کے دباؤ پر ٢٠٠٠ء میں کیمپ ڈیوڈ مذاکرات میں جب بیت المقدس اور اس کے مقامات مقدسہ کی حتمی پوزیشن (Final Status) کا سوال زیر بحث آیا تو اسرائیلی وفد کی جانب سے یہ مطالبہ پورے اصرار کے ساتھ سامنے آیا کہ احاطہ ہیکل کا زیر زمین حصہ یہودیوں کے زیر تصرف دے دیا جائے اور اس کے ایک کونے میں یہودیوں کے لیے ایک عبادت گاہ قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔ ٤ابھی کچھ عرصہ قبل اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے ہیکل کی تعمیر کا جو اعلان کیا ، اس کا محرک بھی اسرائیلی رائے عامہ کے اسی عنصر کی سیاسی حمایت کا حصول تھا۔
 
اس وضاحت کے بعد اب ہم اصل سوال کا جائزہ لیں گے، یعنی یہ کہ اس بحث کو ان نازک حالات میں چھیڑنے کی آخر ضرورت کیا ہے؟ ہماری معروضات اس ضمن میں حسب ذیل ہیں:
 
١۔ ہمارے نزدیک اس معاملے میں سب سے نازک سوال امت مسلمہ کی اخلاقی پوزیشن کا ہے۔ باب چہارم میں ہم امت مسلمہ کے حالیہ نقطہ نظر کے اخلاقی مضمرات کو واضح کرتے ہوئے یہ گزارش کر چکے ہیں کہ امت مسلمہ کے سیاسی اور معاشرتی وجود کی بامقصد بقا کے لیے سب سے پہلے اس کے اخلاقی وجود کا تحفظ ضروری ہے۔ اگر امت کسی معاملے میں اجتماعی طور پر ایک غیراخلاقی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک نہایت سنگین صورت حال ہے جس کی اصلاح کی کوشش باقی تمام کوششوں سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔ کسی قوم کو داخلی احتساب پر آمادہ کرنا ویسے بھی کوئی آسان کام نہیں، لیکن اس کے ساتھ جب اجتماعی نفسیات میں یہ غرہ بھی ہو کہ ہم تو خدا کی آخری شریعت کے حامل اور افضل الرسل کی امت ہیں، جبکہ ہمارا مخالف گروہ ایک مغضوب و ملعون گروہ ہے تو عدل وانصاف اور غیر جانب داری کی دعوت، فی الواقع، کوئی آسانی سے ہضم ہونے والی چیز نہیں رہ جاتی۔ اس کا اندازہ، زیر بحث مسئلے میں، اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ امت مسلمہ کے مختلف علمی حلقوں میں سے کسی بھی جانب سے عالم عرب کے اس موقف کی تردید آج تک سامنے نہیں آئی، جس کی رو سے مسلمانوں کے زیر تصرف ‘الحرم الشریف’ کا سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ ‘ہیکل’ سے، جس کا ذکر قرآن مجید نے ‘المسجد الاقصیٰ’ کے نام سے کیا ہے، کوئی تعلق نہیں اور ‘مزعومہ ہیکل’ ماضی میں کبھی بھی اس احاطے کے اندر کسی جگہ واقع نہیں تھا۔ یہ دعویٰ تاریخی ومذہبی مسلمات کی کھلم کھلا تکذیب پر مبنی ہے، اور اگر امت مسلمہ کے ‘مفادات’ کے پیش نظر اس سے بھی ‘غض بصر’ کیا جا سکتا ہے تو پھر ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے بعد ‘اخلاقی حس’ کا کون سا درجہ باقی رہ جاتا ہے جسے اپیل کرنے کی کوشش کی جائے۔
 
٢۔ مسجد اقصیٰ کی تولیت کا معاملہ محض ایک مذہبی اور اخلاقی معاملہ نہیں، اس کا مسئلہ فلسطین کے سیاسی پہلو کے ساتھ بھی نہایت گہرا عملی تعلق ہے۔ قیام اسرائیل ان بے شمار جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیوں میں سے ایک ہے جو عالم اسلام کے طول وعرض میں یورپی طاقتوں کے غلبہ واستیلا کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوئیں۔ یہ تبدیلیاں معمولی نوعیت کی نہیں تھیں۔ انھوں نے عالم اسلام کے پورے سیاسی نقشے کو تلپٹ کر کے رکھ دیا۔ اس غلبے کے نتیجے میں عالم اسلام، جس کا بیش تر حصہ وقت کی دو عظیم سلطنتوں یعنی خلافت عثمانیہ اور مغلیہ سلطنت کے زیر سایہ سیاسی لحاظ سے متحد تھا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ ان میں سے سلطنت مغلیہ کے بیش تر رقبے پر اس وقت ایک بہت بڑی غیر مسلم ریاست قائم ہے، جبکہ سلطنت عثمانیہ کے زیادہ تر یورپی مقبوضات ‘عالم اسلام’ سے نکل کر غیر مسلم دنیا کا حصہ بن چکے ہیں۔ وسطی ایشیا کا مسلم اکثریت پر مشتمل خطہ عرصہ دراز تک ایک غیر مسلم سپر پاور کا حصہ بنا رہا۔ خود باقی ماندہ عالم اسلام میں لسانی، نسلی، مذہبی، سماجی اور معاشی بنیادوں پر کثیر الجہات تبدیلیوں کا جو غیر مختتم سلسلہ شروع ہوا، وہ اس پر مستزاد ہے۔ اس سے کئی صدیاں قبل یورپ کی انھی طاقتوں کے ہاتھوں اندلس کی عظیم الشان مسلم سلطنت کی تباہی کا زخم ہم سہہ چکے ہیں۔
 
سیاسی ومعاشی مغلوبیت کا یہ مظہر دراصل قاضی تقدیر کی مقرر کردہ وہ سزا ہے جو جرم ضعیفی کی مرتکب ہر قوم کو، بلا استثنا، اس دنیا میں مل کر رہتی ہے۔ یہ سزا جب نافذ ہوتی ہے تو کسی قوم کے لیے عظمت رفتہ کے خوابوں میں جینا ممکن نہیں رہتا۔ کوئی قوم اگر اس کے بعد ماضی میں جینا چاہتی ہے تو وہ اپنی سزا کی مدت میں محض اضافہ ہی کرتی ہے۔ اس کے بعد فیصلوں اور حکمت عملی کی درست بنیاد کی حیثیت معروضی حقائق کو حاصل ہو جاتی ہے نہ کہ خواہشات، امنگوں اور ماضی کے تاریخی حقائق کو۔ چنانچہ سیاست اور جغرافیہ میں رونما ہونے والی مذکورہ تمام تبدیلیوں کو، جو ظاہر ہے کہ یورپی طاقتوں کی جانب سے قانونی اور اخلاقی قدروں کی پامالی ہی کے نتیجے میں رونما ہوئی تھیں، عالم اسلام نے ‘معروضی حقائق’ کی منطق کی رو سے قبول کر لیا اور آج وہ کسی قسم کے موثر بہ ماضی مطالبات اور قانونی ونظری سوالات اٹھائے بغیر وضع موجود (Status-quo) ہی کے تناظر میں ان سب طاقتوں کے ساتھ معاملہ کر رہا ہے۔
 
فلسطین کا معاملہ بھی معروضی حالات کے اس جبر سے مستثنیٰ نہیں، اور صہیونیت سے قطع نظر کر لیجیے تو عرب ممالک اسی خطے میں زمینی حقائق کے ادراک کا عملی ثبوت بھی دے چکے ہیں، چنانچہ دوسری جنگ عظیم میں عربوں نے ترکوں کے اقتدار سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس شرط پر برطانوی حکومت کا ساتھ دیا تھا کہ جنگ کے اختتام پر ترکی کے تمام عرب مقبوضات کو ایک یا ایک سے زائد آزاد اور خود مختار عرب مملکتوں کی حیثیت دے دی جائے گی۔ تاہم برطانوی حکومت نے فرانس کے ساتھ اپنے ایک خفیہ معاہدہ (Sykes-Picot Agreement) کے تحت، جس سے عربوں کو قصداً بے خبر رکھا گیا تھا، ٥ جنگ کے اختتام پر فلسطین کا کنٹرول خود سنبھال لیا اور ١٩٢٠ء میں لیگ آف نیشنز نے فلسطین کو باقاعدہ برطانوی انتداب کے سپرد کر دیا۔ برطانوی حکومت کی اس دوغلی پالیسی کے باوجود اس کے بعد ١٩٤٨ء تک برطانوی انتداب ہی کو قانونی اتھارٹی تسلیم کرتے ہوئے خطے کے تمام عرب ملک اس کے ساتھ معاملات کرتے رہے۔ سلطنت برطانیہ کے ساتھ کیے جانے والے قانونی وسیاسی معاہدوں کی پاس داری کا حال یہ تھا کہ ١٩٣٨ء میں جب حکومت برطانیہ کی طرف سے ایک خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر، جس میں بتایا گیا تھا کہ سعودی حکومت فلسطین کے انقلاب پسندوں کے ساتھ مالی تعاون کرنے کے علاوہ یورپ سے اسلحہ خرید کر انھیں مہیا کر رہی ہے، سعودی حکمران شاہ عبد العزیز سے جواب طلبی کی گئی تو انھوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا:
 
”ہمارے مابین ایک سچی دوستی اور مشترک مفادات کے حوالے سے کئی معاہدات موجود ہیں۔ ہمیں اس کا پورا یقین ہے کہ عربوں کے موجودہ اور مستقبل کے مفادات کو محفوظ بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے برطانیہ کے ساتھ دوستی اختیار کر لیں۔ اگر اہل فلسطین میری بات مانتے تو برطانیہ سے اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے پر امن ذرائع کو ہی واحد حکمت عملی کے طور پر اختیار کرتے۔ حکومت برطانیہ کے علم میں اس بات کا آنا ضروری ہے کہ فلسطینی انقلاب کے لیے ہماری مدد کے حصول کی بہت سی کوششیں کی گئیں، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم کوئی ایسا اقدام کریں جس سے ہمارے اور برطانیہ کے مابین معاہدوں کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔” (جبران شامیہ: ‘آل سعود، ماضیہم ومستقبلہم’ ص ٢١٢)
 
جہاں تک معروضی حقائق کا تعلق ہے تو وہ صہیونی ریاست کے معاملے میں دنیا کے کسی بھی دوسرے سیاسی معاملے سے بڑھ کر واضح اور نمایاں ہیں۔ عربوں کے مقابلے میں یہودیوں کی ذہنی، تعلیمی، معاشی، سیاسی اور تدبیری فوقیت مسلم اور اپنے مشن کے ساتھ ان کی جذباتی وابستگی اور اس کے حصول کے لیے جانی ومالی قربانی کا جذبہ عدیم المثال ہے۔ اس کے ساتھ انھیں برطانیہ، روس اور امریکہ جیسی عالمی طاقتوں کی پشت پناہی بھی آغاز ہی سے واضح طور پر حاصل رہی ہے۔ یورپ میں صدیوں تک یہودی جس مذہبی اور معاشرتی ایذا رسانی (Persecution) کا نشانہ بنے رہے، اس کی بنا پر ہمدردی کی ایک عمومی فضا مغربی دنیا میں ان کے لیے پائی جاتی ہے اور اپنی غیر معمولی تدبیری کوششوں سے انھوں نے عالمی آئینی اداروں سے بھی ریاست اسرائیل کو فی نفسہ ایک جائز اور قانونی ریاست تسلیم کرا رکھا ہے۔ ریاست اسرائیل دنیا کے نقشے پر ان گوناگوں عوامل کے نتیجے میں، عربوں کی تمام تر مزاحمت کے باوجود، ظہور پذیر ہوئی اور جب تک ان عوامل میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، اس کا وجود باقی رہے گا۔ ان حالات میں صہیونی ریاست کے عملاً قائم ہو جانے کے بعد اسی حکمت عملی کو اپنائے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا جسے عالم اسلام کے طول وعرض بلکہ خود فلسطین میں حالات کے جبر کے تحت اختیار کیا گیا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ معروضیت اور عملیت پسندی کا یہ رویہ قیام اسرائیل کے حوالے سے یکسر غائب ہے۔ عرب ممالک اور عوام ایک عرصے تک تو طاقت کے توازن میں فرق کو ہی سمجھنے میں ناکام رہے، چنانچہ قیام اسرائیل کے بعد مسلسل ربع صدی تک اسرائیل کے ساتھ عسکری مخاصمت کے راستے پر چل کر ہر جنگ میں پہلے سے زیادہ رقبے سے ہاتھ دھونے اور لاکھوں فلسطینیوں کو گھر سے بے گھر کرانے کی پالیسی اختیار کی گئی۔ پھر جب نصف صدی کے تجربات ارد گرد کے عرب ملکوں اور فلسطین کی سیاسی قیادت کو زمینی حقائق سے کچھ آشنا کر دینے میں کامیاب ہوئے تو جہادی تنظیمیں اپنے خود کش حملوں کے ساتھ یہ بتانے کے لیے آن موجود ہوئیں کہ انھیں منزل سے نہیں، صرف سفر سے غرض ہے۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں فلسطینی قوم اپنے کسی ہدف کو پانے میں تو کامیاب نہیں ہو سکی، البتہ اس کے مسائل ومشکلات میں ہر گزرنے والے مرحلے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
 
اب اگر اسرائیل کے حوالے سے عرب دنیا کی اس جذباتی اور غیر حقیقت پسندانہ حکمت عملی کے نفسیاتی اسباب تلاش کیجیے تو ‘مسجد اقصیٰ’ کا معاملہ ان میں سرفہرست ہوگا۔ یہ حکمت عملی جس نفسیاتی فضا میں اختیار کی گئی، اس کی تشکیل میں اس تصور کا کردار غیر معمولی ہے کہ مسجد اقصیٰ صرف اور صرف مسلمانوں کی مقدس عبادت گاہ ہے اور اس خطے میں یہودیوں کے سیاسی اقتدار کو تسلیم کر لینے کے بعد اس عبادت گاہ سے ان کو دور رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حرمت کے فتوے کی بنیاد بھی اصلاً اسی مسئلے پر ہے۔ یہی مسئلہ عرب اور مسلم دنیا میں اس مذہبی جذباتیت کے فروغ کا سبب ہے جس کی بنیاد پر صدام اور ناصر جیسے قوم پرست اور سیکولر ڈکٹیٹروں کو صلاح الدین ایوبی جیسے عالی مرتبت جرنیل کے ساتھ تشبیہ دینا گوارا کیا گیا۔ امت مسلمہ کی یہی وہ ‘دکھتی رگ’ ہے جس کو چھیڑ کر ایریل شیرون جیسے امن دشمن یہودی اپنے سیاسی مفادات کی خاطر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مابین جاری امن مذاکرات کے سارے عمل کو برباد کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اور آج بھی اس خطے میں پائدار امن کے قیام میں جو مسائل بنیادی رکاوٹ کی حیثیت رکھتے ہیں، ان میں یروشلم اور اس کے مقامات مقدسہ کی تولیت کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ معروضی حالات کا ادراک کرنے کی صلاحیت پر یہ جذباتی مسئلہ کس درجے میں اثر انداز ہوا ہے، اس کا اندازہ کرنا ہو تو مولانا مودودی کا تجویز کردہ یہ ”سیدھا اور صاف حل” ملاحظہ فرما لیجیے:
 
”یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اصل مسئلہ محض مسجد اقصیٰ کی حفاظت کا نہیں ہے۔ مسجد اقصیٰ محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک بیت المقدس یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ اور خود بیت المقدس بھی محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک فلسطین پر یہودی قابض ہیں۔ اصل مسئلہ فلسطین کو یہودیوں کے غاصبانہ تسلط سے آزاد کرانے کا ہے۔ اور اس کا سیدھا اور صاف حل یہ ہے کہ اعلان بالفر سے پہلے جو یہودی فلسطین میں آباد تھے، صرف وہی وہاں رہنے کا حق رکھتے ہیں، باقی جتنے یہودی ١٩١٧ء کے بعد سے اب تک وہاں باہر سے آئے اور لائے گئے ہیں، انھیں واپس جانا چاہیے۔” (سانحہ مسجد اقصیٰ، ٩١، ٢٠)
 
ا سرائیل کے حوالے سے اس خاص امتیازی رویے کا جواز ثابت کرنے کے لیے پیش کی جانے والی دوسری توجیہات (Justifications)، مثلاً صہیونی حکما کے نام نہاد پروٹوکولز یا عظیم تر اسرائیل کا منصوبہ، زیادہ تر زیب داستاں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور بالفرض ان چیزوں کی کوئی واقعی حقیقت ہو بھی تو وہ اسرائیل کے ساتھ سیاسی سطح پر معاملہ کرنے میں مانع نہیں، کیونکہ اسرائیل اس مفروضہ ریاست کے قیام کے لیے اندھا دھند پیش قدمی کرنے کی پوزیشن میں بہرحال نہیں ہے، چنانچہ وہ اس مفروضہ عظیم تر ریاست کے بعض علاقوں پر قابض ہونے کے بعد عالمی سیاسی دباؤ اور عملی مصلحتوں کے پیش نظر صحراے سینا مصر کو اور بعض مقبوضہ علاقے لبنان کو واپس کر چکا ہے، گولان کی پہاڑیاں بعض تحفظات کے ساتھ شام کو واپس کرنے کے لیے تیار ہے اور مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر نہ صرف اصولی آمادگی ظاہر کر چکا ہے بلکہ غزہ سے اسرائیلی فوجوں کا انخلا مکمل ہونے کے بعد مغربی کنارے کے بعض حصوں سے یہودی آبادیوں (Settlements) کو ختم کرنے کی طرف پیش رفت کر رہا ہے۔ خود عرب دنیا اسرائیل کے مبینہ توسیع پسندانہ عزائم کے باوجود عملاً اسرائیل کے ساتھ پرامن تعلقات کے قیام کی ضرورت کا احساس کر چکی ہے۔ مصر اور اردن کب سے اس کے وجود کو جائز تسلیم کر چکے ہیں۔ سعودی عرب، لبنان اور شام ہم سایہ عرب ملکوں کے مقبوضہ علاقوں کی واپسی اور فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے قیام کی شرط پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عندیہ ظاہر کر چکے ہیں۔ ٦ فلسطین کی سیاسی لیڈر شپ عسکریت کا راستہ ترک کر کے گزشتہ ایک دہائی سے اسرائیلی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات اور معاہدوں کا ڈول ڈالے ہوئے ہے۔ اور تو اور، حماس کے ذمہ دار راہنما متعدد مواقع پر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ اسرائیل اگر مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی آزاد ریاست کو تسلیم کر لے تو حماس قیام امن کے عمل میں تعاون کرے گی۔ روزنامہ جنگ لاہور میں ٢٧ جنوری ٢٠٠٤ کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق:
 
”حماس کے سرکردہ رہنما عبد العزیز رانتیسی نے اپنی خفیہ کمین گاہ سے ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ اگر اسرائیل ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقے خالی کر دے تو حماس دس سالہ جنگ بندی پر تیار ہے۔ تنظیم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ موجودہ صورت حال میں ہم اپنی سرزمین کے پورے علاقے کو آزاد نہیں کر اسکتے لہٰذا فی الحال ہم مغربی کنارے، جس میں یروشلم اور غزہ کی پٹی بھی شامل ہو، پر مشتمل فلسطینی ریاست قبول کر لیں گے اور اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے انخلا اور فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں فائر بندی قبول کر لیں گے۔ حماس کے رہنما نے بتایا کہ اس پیش کش کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لے گی یا ا س سے اسرائیل فلسطینی جھگڑا ختم ہو جائے گا۔”
 
گویا ‘بعد از خرابی بسیار’ تمام متعلقہ فریق ان زمینی حقائق کو تسلیم کرنے اور ان کی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ معاملہ کرنے پر آمادہ ہو چکے ہیں جن کے واقعی ادراک سے، دیگر بہت سے عوامل کے ساتھ ساتھ، احاطہ ہیکل کے بارے میں یہ تصور بھی نفسیاتی طور پر مانع ہے کہ یہودی اس پر کسی قسم کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ اب اگر یہ تصور کوئی شرعی اور دینی بنیاد نہیں رکھتا تو کیا یہ ضروری نہیں ہو جاتا کہ معاملہ کی اصل حقیقت لوگوں کے سامنے لائی جائے اور ان بے بنیاد تصورات کی اصلاح کی کوشش کی جائے جو معروضی حقائق کو تسلیم کرنے اور کوئی نتیجہ رخی (Result-oriented) حکمت عملی اختیار کرنے کے حوالے سے امت مسلمہ، بالخصوص عالم عرب کو یکسو نہیں ہونے دے رہے؟
 
٣۔ اس مسئلے کا ایک تیسرا پہلو بھی ہے جو ہمارے لیے اس بحث کو ان نازک حالات میں چھیڑنے کا محرک بنا ہے۔ امت مسلمہ کی منصبی ذمہ داری، جیسا کہ اس بحث کے آغاز میں تفصیل سے بیان ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں اقوام عالم تک دین ابراہیمی کا ابلاغ ہے۔ جہاں تک جزیرہ عرب اور اس کے گردونواح کے علاقوں کا تعلق ہے، یہ ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ‘اتمام حجت’ کے درجے میں انجام دی۔ اس اتمام حجت میں دو عوامل تو تکوینی لحاظ سے عالم اسباب میں، معاون بنے: ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرہ عرب کے جن اہل کتاب کو اپنی دعوت کا مخاطب بنایا، وہ سرزمین عرب کے اندر مقیم ہونے کی وجہ سے اپنے مذہبی صحائف کی پیش گوئیوں اور سینہ بہ سینہ چلی آنے والی روایات سے پوری طرح واقف اور ان کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے منتظر تھے۔ دوسرے یہ کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت اور اس کے مختلف مراحل کو بتمامہا اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا اور غلبہ اسلام کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کی تکمیل خود ان کے سامنے ہوئی۔ ان تکوینی عوامل کے علاوہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی راہنمائی میں تدبیری لحاظ سے بھی ایسی حکمت عملی اختیار فرمائی کہ اہل کتاب میں مسلمانوں کے ساتھ قرب و اشتراک کا احساس پیدا ہو اور انبیاے بنی اسرائیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مابین اتحاد اور یگانگت کے پہلو اجاگر ہو جائیں۔ چنانچہ :
 
آپ نے اپنی دعوت کے لیے مشترک اساس ملت ابراہیمی کو قرار دیا اور اہل کتاب کے سامنے یہ بات مختلف پہلووں سے نمایاں کی کہ آپ کسی نئے دین کے داعی نہیں، بلکہ دین ابراہیمی کی انھی تعلیمات کے احیا کے لیے تشریف لائے ہیں جو اہل کتاب اور اہل اسلام کے لیے مشترک طور پر ماخذ ومصدر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ٧
 
مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ وہ اہل کتاب کو اپنی دعوت کا مخاطب بنانے میں حکمت اور موعظہ حسنہ سے کام لیں اور اگر کہیں بحث مباحثہ کی ضرورت پیش آجائے تو تہذیب اور شایستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ ٨
 
اسی ضمن میں انھیں یہ ہدایت بھی دی گئی کہ وہ اہل کتاب کی علمی ومذہبی خیانتوں سے محض ضرورت کی حد تک تعرض کریں اور اس کو مجادلہ ومباحثہ کا مستقل موضوع بنا کر ایک نفسیاتی وذہنی بعد پیدا کرنے کے بجائے ان کی اس قسم کی باتوں سے درگزر اور اعراض سے کام لیں۔ ٩
 
مسلمانوں کو اس بات کی تلقین کی گئی کہ وہ اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے پراپیگنڈا، بے ہودہ اعتراضات، گستاخی وبے ادبی اور زبانی اذیت کی دیگر ناگوار صورتوں کو حتی الامکان صبر اور تقویٰ کے ساتھ برداشت کریں۔ ١٠ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دعوتی حکمت عملی کے تحت یہود کے ناقابل برداشت حد تک گستاخانہ رویے پر بھی عام طور پر صبر واعراض اور عفو ودرگزر ہی سے کام لیا۔ ١١
 
اس کے ساتھ ساتھ آپ نے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی حوالوں سے اہل کتاب کے ساتھ موافقت و موانست اور دعوت ومکالمہ پر مبنی ایک نہایت پرامن، مثبت اور موافقانہ فضا قائم کی، جس کی ایک جھلک ذیل کے چند واقعات میں دیکھی جا سکتی ہے:
 
مکی عہد نبوت میں جب روم کے مسیحیوں اور فارس کے مجوسیوں کے مابین جنگ میں رومیوں کو شکست ہوئی تو مسلمان بہت غمگین ہوئے۔ رومیوں کے ساتھ اس ہمدردی کو قرآن مجید نے بنظر استحسان دیکھا اور مسلمانوں کی تسلی کے لیے یہ وعدہ فرمایا کہ عنقریب رومیوں کو ایرانیوں پر غلبہ حاصل ہوگا اور اس دن مسلمانوں کو خوشی حاصل ہوگی۔ ١٢
 
ہجرت کے بعد ایک مخصوص عرصے تک رسول اللہ ؐ یہود کی تالیف قلب کے لیے ان کے قبلہ یعنی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ ١٣
 
فرعون کی غلامی سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کی خوشی میں مدینہ منورہ کے یہود محرم کی دس تاریخ کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موافقت میں عاشورا کا روزہ رکھنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا۔ ١٤
 
ایک انصاری نے یہ جملہ زبان سے ادا کرنے پر ایک یہودی کو تھپڑ مار دیا کہ: والذی اصطفی موسی علی البشر (اس اللہ کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا کی ہے) اور کہا کہ تم موسیٰ علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل قرار دیتے ہو؟ یہودی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس کی شکایت سن کر انصاری سے شدید ناراض ہوئے اور یہود کے مذہبی جذبات کی رعایت سے صحابہ کو اس بات سے منع فرما دیا کہ وہ ان کے سامنے انبیا میں سے بعض کو بعض سے افضل قرار دیں۔ ١٥
 
٩ ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے انھیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ جب عصر کی نماز کا وقت آیا اور انھوں نے نماز پڑھنی چاہی تو صحابہ نے ان کو روک دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انھیں نماز پڑھنے دو۔ چنانچہ انھوں نے مسجد نبوی ہی میں مشرق کی سمت میں اپنے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔ ١٦
 
ایک شخص کا جنازہ گزرا تو آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ کہا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے، تو فرمایا: کیا وہ انسان نہیں ہے؟ ١٧
 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ان کے ساتھ معاشرتی اور قانونی معاملات میں ہر موقع پر عدل وانصاف کا رویہ اختیار فرمایا جس کی شہادت ایک موقع پر خود یہود نے یوں دی کہ: ‘هذا الحق وبه تقوم السماء والارض’ ”یہی وہ حق اور انصاف ہے جس کی وجہ سے زمین اور آسمان قائم ہیں۔” ١٨
 
جن معاملات میں آپ کو کوئی واضح ہدایت نہیں ملی ہوتی تھی، ان میں آپ اہل کتاب کے قوانین اور طریقوں کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔ ١٩
 
لباس اور وضع قطع سے متعلق امور میں بھی آپ مشرکین کے مقابلے میں اہل کتاب کے طریقے کی موافقت کو پسند فرماتے تھے۔٢٠
 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تدبیری کوششوں کی وجہ سے اہل کتاب کو تعصبات اور نفسیاتی الجھنوں سے صاف ماحول میں پوری ذہنی آزادی کے ساتھ آپ کی دعوت کو سمجھنے کا موقع ملا اور آپ کے دعواے نبوت کی حقانیت ان پر پوری طرح واضح ہو گئی، چنانچہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، ٢١ البتہ وہ آپ کو صرف بنی اسماعیل کا نبی قرار دیتے ہوئے خود کو آپ پر ایمان لانے کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیتے تھے۔ ٢٢ یہ اعتقاد عہد نبوی اور عہد صحابہ کے اہل کتاب تک محدود نہیں تھا، بلکہ ان علاقوں میں آباد ان کی آیندہ نسلیں بھی بالعموم اسی کی قائل رہیں۔ ٢٣
 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعوتی حکمت عملی کی اتباع، جس کے نتیجے میں دعوت حق کے مذکورہ نتائج حاصل ہوئے، زمان ومکان کی تبدیلیوں سے قطع نظر امت مسلمہ کے لیے ہر ماحول اور ہر زمانے میں ضروری ہے۔ اس کے بغیر نہ شہادت حق کی ذمہ داری ادا کی جا سکتی ہے اور نہ دعوت و تبلیغ سے ان نتائج کے حاصل ہونے کی کوئی توقع ہی کی جا سکتی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو اپنے زمانے میں حاصل ہوئے۔ لیکن اسے ایک بد قسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ مغربی یورپ اور اس کے زیر اثر دوسرے علاقوں کے باشندوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے کا عمل اس طرح کے موافق اور سازگار ماحول میں شروع نہ کیا جا سکا۔ اس خطے کی مسیحی طاقتوں سے مسلمانوں کا پہلا واسطہ صلیبی جنگوں میں پڑا اور ایک صدی پر محیط ان خون ریز جنگوں کی تلخ یادیں صدیوں کے لیے فریقین کے ذہنوں پر نقش ہو گئیں۔ یورپ کے عوام کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسلام اور مسلمانوں کی جو بھیانک اور مسخ شدہ تصویر قرون وسطیٰ میں پیش کی جاتی رہی، اس کے پس منظر میںجہالت، تعصب، جذبہ تحقیق کے فقدان اور عدم رواداری کے ساتھ ساتھ صلیبی جنگوں کی پیدا کردہ نفسیاتی فضا بھی پوری طرح کار فرما تھی۔ یہ تاریخ کا ایک جبر تھا، تاہم اس کا ازالہ تاریخ کے ایک دوسرے جبر کے ذریعے سے ممکن ہوا۔ علم وفکر پر اہل مذہب کی عائد کردہ غیر فطری پابندیوں سے جب اہل مغرب کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو انھوں نے مذہب کو ایک جوا قرار دے کر اس کو اپنے کندھوں سے اتار پھینکا۔ ریاست کی طرف سے ایک مخصوص مذہب کو اختیار کرنے کی پابندی کا خاتمہ کر دیا گیا اور اپنی رائے اور ضمیر کے مطابق کسی بھی مذہب کو اختیار کرنے کا حق ہر فرد کا بنیادی انسانی حق قرار پایا۔ آج مغرب اپنے تاریخی تجربات کی روشنی میں جس اخلاقی قدر کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور جس پر وہ گویا ‘ایمان’ لائے ہوئے ہے، وہ یہی مذہبی آزادی، رواداری اور باہمی احترام کی قدر ہے۔ یورپ میں مذہب اور ریاست کی علیحدگی کم از کم اس حوالے سے اپنے اندر خیر کا ایک نمایاں پہلو رکھتی ہے کہ اس نے مذہب اور ریاست، دونوں کو ایک دوسرے کی مجبوریوں سے چھٹکارا دلا دیا۔ ریاست، کلیسا کے مذہبی تعصبات سے بلند ہو کر لوگوں کی فلاح وبہبود پر توجہ دینے کے قابل ہوئی، اور اہل مذہب کی چشم تنگ انسانی زندگی کے بلند تر آدرشوں اور وسیع تر مقاصد کے ادراک کے لیے وا ہو گئی ۔ مستثنیات سے صرف نظر کر لیجیے تو آج یورپ میں مذہب اور ریاست، دونوں اس بنیادی قدر پر متفق ہیں۔ اس ضمن میں کاتھولک کلیسا کا انقلاب حال خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ اس کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ گزشتہ صدیوں میں روا رکھا جانے والا رویہ بھی سامنے رکھیے اور وٹیکن کی مجلس دوم (١٩٦٢۔١٩٦٥ء) کا یہ اعلان بھی ملاحظہ فرمائیے:
 
”کلیسیا اہل اسلام کو بھی عزت کی نظر سے دیکھتی ہے۔ یہ تو اس واحد خدا کی تعظیم کرتے ہیں جو انسان سے ہم کلام ہوا۔ یہ اسے واجب الحی اور واجب الوجود، رحمان ورحیم، قادر مطلق، آسمان اور زمین کا خالق تسلیم کرتے ہیں اور دیانت داری کے ساتھ اس کے وہ احکام عمل میں لاتے ہیں جو محض بشری فہم وادراک سے بالکل باہر ہیں۔ اس بات میں یہ حضرت ابراہیم کی سی اطاعت پیش کرتے ہیں جس سے اہل اسلام اپنے ایمان کے مطابق تعلق رکھتے ہیں۔اہل اسلام اگرچہ خداوند یسوع کی الوہیت سے منکر ہیں تاہم اسے نبی کا درجہ دیتے ہیں۔ وہ یسوع کی کنواری ماں کا بھی احترام کرتے ہیں اور اکثر عقیدت مندانہ طور پر اسے یاد کرتے ہیں۔ ان باتوں کے علاوہ وہ یوم قضا کے بھی منتظر ہیں جب خدا تمام بنی نوع انسان کو مردوں سے زندہ کر کے ان کے کاموں کے مطابق جزا دے گا۔ آخر کار یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ وہ اخلاقی زندگی کی قدر کرتے ہیں اور خصوصاً نماز، زکوٰۃ اور روزوں سے خدا کی پرستش کرتے ہیں۔ چونکہ گزشتہ صدیوں کے دوران میںمسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ وجدل اور عداوت برپا ہوتی رہی، اس لیے یہ مقدس مجلس سب کو یہ ترغیب دیتی ہے کہ ماضی کو بھول کر مخلصانہ طور پر ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور کل بنی آدم کے فائدے کے لیے معاشرتی انصاف، اخلاقی بھلائی، سلامتی اور آزادی کو محفوظ رکھیں اور ترقی دیں۔” (ویٹی کن مجلس دوم، مترجم: حمید ہنری ٥٦٢)
صلیبی جنگوں کی تلخ یادوں کو مغرب کی نفسیات سے مٹانے اور اسلام کی اصل دعوت کو ایک کھلے اور آزاد ماحول میں اہل مغرب تک پہنچانے کے حوالے سے یہ انقلاب حال یقینا ایک ‘خوش قسمتی’ قرار پاتا، لیکن بدقسمتی یہاں اس طرح آڑے آئی کہ جب تعصب اور جہالت کے خلاف خود یورپ نے بغاوت کا علم بلند کیا اور اس میں ادیان ومذاہب سمیت انسانی علم کے دائرے میں آنے والی ہر چیز کی آزادانہ تحقیق کا جذبہ پیدا ہوا تو مسلمان یورپی طاقتوں کے ہاتھوں اپنی سیاسی اور معاشی مغلوبیت کے غم میں مبتلا ہو کر اپنے دعوتی کردار سے غافل ہو چکے تھے۔ چنانچہ یورپ کے ذہنی اور فکری انقلاب نے دعوت اسلام کے حوالے سے جو امکانات پیدا کیے، مسلمان ان کو کسی بھی قابل ذکر درجے میں استعمال نہ کر سکے۔ یہ فضا اسلام کی دعوت کے فروغ کے لیے جس قدر ضروری اور مفید تھی، مسلمانوں نے اتنا ہی اس کی ناقدری کا ثبوت دیا۔ اور اب تو سیاسی اور معاشی محرومیوں کا احساس اتنا غالب آ چکا ہے کہ ہماری حکمت عملی میں نہ ‘دعوت اسلام’ کو کوئی مقام حاصل ہے اور نہ اپنے اقدامات اور پالیسیوں کا ہم اس زاویے سے جائزہ لینے کی کوئی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ اسلام کی دعوت پر وہ کس طرح سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ مغربی دنیا علمی، فکری اور سماجی سطح پر مذہبی رواداری کے حوالے سے جس قدر حساس ہوتی جا رہی ہے، مسلمانوں کی طرف سے اس قدر کی پامالی داخلی اور خارجی، دونوں دائروں میں اتنی ہی شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہے۔ حقیقت چاہے کچھ ہو، لیکن آج لگتا یہ ہے کہ مذہبی رواداری اصل میں مغرب کی قدر ہے، اس لیے کہ مسلمان عالمی سطح پر اپنے دین کا تعارف جس صورت میں پیش کر رہے ہیں، ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی، یہودی اور مسیحی عبادت گاہوں پر خود کش حملے، ہیکل سلیمانی کے بارے میں تاریخی مسلمات کی تکذیب اور نہایت کمزور دلائل کی بنیاد پر یہودیوں کے تاریخی و مذہبی حق کی نفی اس کے نمایاں مظاہر ہیں۔
 
تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
 
اس صورت حال کا تجزیہ تاریخی تناظر میں جو بھی کیا جائے اور اس کا ذمہ دار جن اسباب وعوامل کو بھی ٹھہرایا جائے، یہ بات طے شدہ ہے کہ اسلام کو اپنی اصل صورت میں مغربی اقوام تک پہنچانے کی ذمہ داری ان نفسیاتی اور ذہنی رکاوٹوں کو دور کیے بغیر پوری نہیں کی جا سکتی جن کو کھڑا کرنے میں خود ہماری کوتاہ نظری کا حصہ کم نہیں ہے۔ یہ اقوام مسیحیت کی پیروکار ہیں جو صدیوں سے دنیا کا سب سے بڑا مذہب چلا آ رہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیش گوئی کے مطابق قیامت کے برپا ہونے کے وقت بھی اسے یہی حیثیت حاصل ہوگی۔ ٢٤ گویا مغرب کی یہ مسیحی اقوام دعوت اسلام کا سب سے بڑا ہدف ہیں اور ان تک اس پیغام کو پہنچانے کے لیے مذہبی اساسات میں اشتراک کو اجاگر کرنا اور امن وبھائی چارے کی فضا کا قیام آج بھی دعوت اسلام کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں دیکھیے تو احاطہ ہیکل کے تنازع کا ایک منصفانہ اور معقول حل مسلمانوں کے بارے میں پائے جانے والے تشدد، جارحیت اور عدم رواداری کے منفی تاثر کے ازالے اور دعوت اسلام کے حوالے سے مثبت اور سازگار فضا کی تشکیل میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر امت مسلمہ کی قیادت سطحی جذباتیت سے بالاتر ہو کر اپنی بصیرت اور فراست کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا کا یہ سنگین ترین مذہبی تنازع حل کر سکے تو دعوت اسلام کے اس قدر لامحدود مواقع اور امکانات پیدا ہو سکتے ہیں کہ ان کا پیشگی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اس وقت کا انتظار کیے بغیر جب خارجی حالات کا دباؤ اس مسئلے کا کوئی ممکنہ طور پر ناپسندیدہ حل قبول کرنے پر ہمیں مجبور کر دے، یہ پیش کش خود امت مسلمہ کی جانب سے ایک بلند اخلاقی شعور اور داعیانہ بصیرت کے ساتھ سامنے آئے اور اس کے نتیجے میں دعوت اسلام کے لیے تیار ہونے والی (Responsive) فضا سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی پیشگی وضع کر لی گئی ہو۔
Share To All - شیر کریں سبسے
Read More

Leave a Reply

*