Web Analytics Made Easy - StatCounter
Shain e Hind

شیعیان ہند جان نارمن ہالسٹر

شیعیان ہند

مصنف:جان نارمن ہالسٹر،مترجم:ریحان عمر

نظر ثانی و تہذیب: محمد فہد حارث

ناشر: حارث پبلی کیشنز کراچی

صفحات:416

تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد سہیل شفیق

پیشِ نظر کتاب: “شیعیانِ ہند” دراصل معروف مستشرق جان نارمن ہالسٹر (John Norman Hollister) کے پی ایچ ڈی کے مقالے “The Shi’a of India” کا اردو ترجمہ ہے، جو انہوں نے 1946ء میں مکمل کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب وہ حکومتِ برطانیہ کی جانب سے لکھنؤ (ہندوستان) میں بطور مشنری تعینات تھے۔ ہالسٹر کا یہ مقالہ نہ صرف ہندوستان میں شیعیت کے ارتقا کا ایک جامع اور محققانہ مطالعہ پیش کرتا ہے بلکہ اپنی معروضیت اور غیر جانبداری کے سبب بھی ایک مستند ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔

مصنف نے ہندوستانی شیعہ عقائد، رسومات، تہذیبی زندگی، سیاسی اثرات، اور مذہبی رجحانات کو جس تحقیقی بصیرت اور مشاہداتی گہرائی سے بیان کیا ہے، وہ لائقِ تحسین ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ہالسٹر نے کسی تعصب یا عقائدی جھکاؤ کے بغیر جو کچھ دیکھا، پڑھا اور محسوس کیا، وہی اپنے اس مقالے میں سادہ، صاف اور علمی انداز میں پیش کر دیا ہے۔ ہندوستان میں اہلِ تشیع کی تاریخی موجودگی، ان کی مذہبی و سماجی زندگی، نیز اسماعیلی فرقوں مثلاً داؤدی بوہرہ، آغا خانی اور خوجہ جماعتوں کا تذکرہ بھی کتاب میں مفصل طور پر شامل ہے۔

جان نارمن ہالسٹر نے اس تحقیقی مقالے میں علمی ذرائع کے ساتھ ساتھ اپنے مشاہدات کو بھی بنیاد بنایا ہے۔ اگرچہ مقالے میں زیادہ تر ثانوی ماخذات کا سہارا لیا گیا ہے، تاہم ان کی تائید بنیادی شیعی متون و مراجع سے بھی ہوجاتی ہے۔ خود مصنف کے الفاظ میں:

“وسیع حوالہ جات کے ساتھ ساتھ، حقائق و واقعات کے لیے جو اقتباسات منتخب کیے گئے ہیں، ان کے لیے حتی الامکان ہندوستانی مصنفین کا انتخاب کیا گیا ہے، کیونکہ انہی کی تحریریں ان کی اپنی جماعت کے حقیقی، پوشیدہ رجحانات اور فکری زاویوں کو سب سے بہتر انداز میں ظاہر کرتی ہیں۔”

کتاب کی علمی وسعت اور موضوعاتی جامعیت کا اندازہ اس کےدرجِ ذیل 26 ابواب سے لگایا جا سکتا ہے:

1۔ اسلام میں فرقوں کی ابتدا اور شیعیت کا ظہور، 2۔ حضرت علی “الامام”، 3۔ اثنا عشریہ کا دین(اعتزال، صوفیت، شیعیت کی بنیادیں، قرآن، سنت، امامت، اجماع، قیاس)، 4۔ اثنا عشریہ کا دین (عقائد و نظریات، دینی ارکان و فرائض)، 5۔ اثنا عشریہ کے امام(حسن بن علی، حسین بن علی، علی زین العابدین، محمد الباقر، جعفر صادق)، 6۔ اثنا عشریہ کے امام (موسیٰ کاظم، علی رضا، محمد تقی، علی نقی، حسن عسکری، محمد منتظر)، 7۔ اثنا عشریہ کی ہندوستان آمد(بہمنی سلطنت اور مابعد حکومتیں)، 8۔ اثنا عشریہ کی ہندوستان آمد (مغلیہ دور)،9۔ اثنا عشریہ کی ہندوستان آمد (کشمیر)، 10۔ اثنا عشریہ کی ہندوستان آمد (سلطنت اودھ)، 11۔محرم ، 12۔ آج کی شیعہ کمیونٹی، 13۔ اسماعیلیت کی ابتدا، 14۔ فاطمی آئمہ، 15۔ فاطمیوں کے عقائد و افکار، 16۔ مستعلی اسماعیلیوں کی ہندوستان میں آمد، 17۔ بوہرہ کا مذہب، 18۔ آج کی بوہرہ جماعت، 19۔ قلعہ الموت کے نزاری آئمہ، 20۔ نزاریہ کا مذہب، 21۔ فارسی دور کے نزاری آئمہ، 22۔ نزاری اسماعیلیہ کی ہندوستان آمد، 23۔ نزاری اسماعیلیہ کی ہندوستان آمد، 24۔ آغا خانی، 25۔ خوجہ کا مذہب، 26۔ آج کی خوجہ جماعت۔

کتاب کا اردو ترجمہ جناب ریحان عمر نے نہایت مہارت، روانی اورعلمی دیانت کے ساتھ کیا ہے۔ ریحان عمر ایک کہنہ مشق مترجم ہیں اور اس سے پہلے بھی متعدد علمی و تحقیقی کتب کو اردو کے قالب میں ڈھال چکے ہیں۔ پیش نظر کتاب کی اہمیت کے بارے میں فاضل مترجم لکھتے ہیں :

“یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شیعی تاریخ میں ہندوستان کو خاص اہمیت حاصل ہے کہ یہاں اسلامی عہد کے آغاز سے ہی ہمیں انفرادی دعوتی سرگرمیوں سے بڑھ کر مختلف ادوار میں دربار سرکار میں وسیع اثرو رسوخ کے علاوہ باقاعدہ شیعی حکومتیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ چنانچہ چوتھی صدہی ہجری میں ہی ہمیں ملتان میں اسماعیلی قرامطہ برسرقتدار نظر آتے ہیں۔ پھر جنوبی ہند میں مغلوں سے بھی پہلے، بہمنی سلطنت (1307ء۔ 1527ء) اور اسی سلطنت کے حصوں بخروں پر ، بعد ازاں بیجاپور (1490ء۔1686ء)، گولکنڈہ (1496ء۔ 1687ء) اور بیدر (1489ء۔ 1619ء) کی شیعی ریاستیں قائم ہوئیں۔ جب کہ کشمیر میں ْسلاطینٗ کے نام سے 1339ء سے 1588ء تک مختلف شیعی خاندان حکمران رہے۔ اور اخیر میں، مغلیہ عہدِ زوال میں نوابانِ اودھ کی شیعی ریاست (1722ء۔ 1859ء) سے تو سبھی واقف ہیں۔ لہٰذا ہند میں تشیع کا مطالعہ بذات خود ایک اہم موضوع تھا اور اب تک ہے، جس پر سب سے پہلے قلم اٹھانے والا ہمارا فاضل مصنف جان نارمن ہالسٹر ہی ہوا۔”

“شیعیانِ ہند” نہ صرف ہندوستان میں شیعہ تاریخ و عقائد پر ایک جامع تحقیقی تصنیف ہے، بلکہ برصغیر کی مذہبی، سماجی اور تہذیبی تاریخ کو ایک نئے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کا مؤثر وسیلہ بھی فراہم کرتی ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ اہلِ علم و تحقیق کے لیے ایک وقیع اور گراں قدر اضافہ ہے۔ توقع ہے کہ یہ ترجمہ مطالعاتِ شیعیت کے فروغ اور ہندوستانی تشیع کے فکری و تمدنی پہلوؤں کے ادراک میں نئی راہیں ہموار کرے گا۔

کتاب کے ناشر جناب محمد فہد حارث لائقِ تحسین ہیں کہ انہوں نے تمام تر فکری و اعتقادی اختلافات کے باوجود اہلِ تشیع کے عقائد و نظریات پر کسی مقام پر بھی تنقیدی حاشیہ آرائی سے گریز کیا، تاکہ متن کی علمی غیر جانب داری اور معروضیت متاثر نہ ہو، اور اس ترجمے کا بنیادی مقصد — یعنی ہندوستانی شیعیت کا غیر جانبدارانہ اور تحقیقی مطالعہ اردو قارئین تک پہنچانا — پوری طرح حاصل ہو سکے۔

Home Cart Wishlist Login